ہندوستان

مودی حکومت کی ناقص پالیسی کے سبب کشمیر آتش فشاں کے ڈھیر پر!

نہال صغیر

کشمیر پچھلے ایک عشرہ سے سلگ اٹھا ہے۔ چالیس کے قریب انسانی جانوں کا نقصان ہو چکا ہے۔ کرفیو نافذ ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے ذارائع ابلاغ کے سارے ذرائع مسدود کردئے ہیں۔ویسے بھی کشمیر میں ذرا ذرا سی بات میں انٹرنیٹ اور برقی پیغامات پر پابندی عائد ہو جاتی ہے۔ اب اخبارات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔غالباًمودی بھی اندرا گاندھی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایمر جنسی کی تاریخ دوہرانا چاہتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ ماہ قبل گجرات میں ہاردک پٹیل کی تحریک کے دور میں بھی ہوا تھا۔ جب حکومت نے انٹر نیٹ اور موبائل خدمات کو بند کردیا تھا۔ ہاردک پٹیل رہا ہو کر آگئے ہیں اور آتے ہی مودی حکومت کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہا کہ ہمیں 56 ؍انچ سینہ نہیں ہمارا حق چاہئے۔کشمیری بھی باتیں نہیں جو وعدہ ان سے کیا گیاتھا اس کا ایفا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں خوف سے نکالا جائے۔ آئے دن کی فائرنگ انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے وہ اوب کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔کشمیر سمیت کوئی بھی معاملہ اس لئے بے قابو ہوتا ہے کہ ہماری حکومتوں کا مزاج حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ وہ عوام کو نام نہاد دیش بھکتی کی مکر جال میں پھانس کر مسئلہ کو الجھا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب حکومت کسی بڑے معاملہ میں پھنس جاتی ہے اور اس کے سامنے کوئی چارہ کار نہیں بچتا جس کے ذریعہ وہ اس مسئلہ سے نکل سکے تب اسے حب الوطنی کا نسخہ زیادہ یاد آتا ہے۔ یہ وہ نسخہ ہے جو کینسر زدہ معاشرہ کو افیم کھلا کر یہ احساس کرانے جیساہے کہ تمہیں کینسر نہیں ہے۔ تم بالکل صحت مند ہو۔ کشمیر کی بھارت میں شمولیت کے وقت سے ہی وہ ایک مسئلہ ہے اور اسے سلجھانے کے بجائے الجھانے میں حکومتوں کی زیادہ دلچسپی رہی ہے۔ یہ مسئلہ حکمراں طبقہ کے حب الوطنی کے میٹر کی قوت کو دکھاتا ہے۔  کشمیر میں جس طرح سلامتی دستوں نے بندوق کی گولیوں کا استعمال کیا ہے۔ ویسی چابکدستی اور گولیوں کا ویسا استعمال دوسری جگہوں پر نظر نہیں آتا۔ مثال کے طور پر جاٹوں کی تحریک نے جس میں ہریانہ راجستھان وغیرہ میں بدترین تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ جاٹوں نے تھانوں میں آگ لگادئے اور اسلحے لوٹ لئے۔ خواتین پولس والوں کے ساتھ جنسی دست درازی تک کا معاملہ آیا لیکن پولس نے کوئی سخت رویہ نہیں اپنایا۔ کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ ہریانہ اور راجستھان میں ہندو تھے اور کشمیر میں مزاحمت کار یا تحریک چلانے والے مسلمان ہیں اس لئے کشمیر میں سختی اور ہریانہ میں نرمی برتی گئی۔ کیا یہ ملکی سلامتی پر سوالیہ نشان نہیں ہے؟

یوں تو مودی حکومت اور ان کے احباب یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ اسمارٹ ہیں اور وہ ہر مسئلہ کو حل کرنے کی پوری قوت رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی دو سالہ حکومت پر جن لوگوں نے نظر رکھی ہوئی ہے ان کو پتہ ہے کہ مودی حکومت آزاد ہندوستان کی تاریخ کی سب سے نکمی اور سیاسی سوجھ بوجھ سے عاری حکومت ہے۔ جس کو سیاسی شعور چھو کر بھی نہیں گزرا ہے۔ اس کی اب تک سینکڑوں مثالیں موجود ہیں لیکن ہم کشمیر کے تعلق سے ہی دو مثال ایسی پیش کریں گے جو اس کے پرجوش لیکن سیاسی شعور سے عاری ہونے کا ثبوت ہے۔  پہلی مثال فروری میں دہلی میں اٹھنے والے کنہیا کمار کے طوفان کی ہے۔ جس کو یہ کہہ کر اٹھایا گیا کہ ایک اجلاس جس میں کنہیا شامل تھے وہاں افضل گروکی اور پاکستان کی حمایت میں نعرے لگائے گئے۔ حالانکہ یہ سب فرضی تھا۔ لیکن مان بھی لیا جائے کہ وہ اصلی تھا تب بھی حکمت کا تقاضہ یہ تھا کہ حکومت اسے نظر انداز کردیتی اور اس معاملہ کو منظر عام پر لانے والے لوگوں پر قابو پاتی۔ کیوں کہ کشمیر کے بارے میں پوری دنیا جانتی ہے کہ وہ ایک متنازعہ خطہ ہے۔ ہندوستان اس کو اپنا اٹوٹ حصہ کہتا ہے جبکہ پاکستان کا اس پر دعویٰ ہے۔ کشمیر میں ایک بڑا طبقہ وہ بھی ہے جو کشمیر کی آزادی چاہتا ہے۔ وہ نہ تو پاکستان کے ساتھ جانا چاہتا ہے اور نہ ہی ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ کئی سال قبل ایک ٹی وی ڈیبیٹ میں بھی کشمیر کے ایک علیحدگی پسند لیڈر نے کہا تھا کہ ’’ہم آزادی چاہتے ہیں ،ہمیں آزادی دو ہمارے لئے تم دونوں آپس میں مت لڑو‘‘۔ایسی پوزیشن میں ہندوستان کے حق میں صرف ایک بات ہی جاسکتی ہے کہ کشمیر میں امن رہے اور جہاں تک ممکن ہو سکے وہ وہاں کے عوام کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرتا رہے۔ لیکن جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے معمولی واقعہ کو حکومت کے اشارے پر اس حد تک اشتعال انگیز بنا کر پیش کیا گیا کہ پوری دنیا میں یہ پیغام گیا کہ کشمیر پرسکون نہیں اور کشمیری ہندوستان کے جبر میں زندگی گزار رہے ہیں جس سے وہ لوگ آزادی چاہتے ہیں۔ بہر حال کنہیا کمار کی آڑ لے کر حکومت نے جو نا عاقبت اندیشانہ حرکت کی اس نے اپنا اثر دکھایا کہ پاکستان کو بین الاقوامی فورم پر کشمیر کا معاملہ اٹھانے کا موقعہ خود حکومت ہند کی غیر دانشمندانہ پالیسی نے فراہم کیا۔ خیر وہ معاملہ آیا گیا ہو گیا۔

دوسری مثال اس حکومت کی غیر دانشمندانہ پالیسی کا موجودہ خلفشار ہے۔ یوں تو ہماری حکومت انٹیلی جنس پر بہت خرچ کرتی ہے۔ اس کو پارلیمنٹ میں جوابدہی سے بھی الگ رکھا گیا ہے۔ اس نے مسلم نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر ٹارگیٹ کیا اور انہیں فرضی معاملات میں پھنساکر انکی زندگی کے پانچ سے تئیس سال تک برباد کئے۔ لیکن اتنی سہولیات چھوٹ اور قومی خزانہ سے اربوں کے اخراجات کے بعد بھی اگر اسے یہ نہیں پتہ کہ یہ برہان وانی عوام میں کتنی مقبولیت رکھتا ہے تو یہ ملکی خزانہ کا بیجا خرچ ہی ہے۔لیکن برا ہو اندھی وطن پرستی کے جوش کا کہ اس میں انسان حکمت کے تقاضے بھول جاتا ہے۔ جوش تھا کہ ایک علیحدگی پسند جنگجو کو انکاؤنٹر میں مارڈالنا ہے۔ خواہ اس کا ردعمل کتنا ہی خطرناک ہو اور اس سے پوری ریاست کی فضا کیسی بھی بنے۔خواہ اس سے علیحدگی پسندوں کو اپنے عزائم کی تکمیل میں کامیابی ملے۔ اگر خفیہ محکمہ کو پتہ نہیں تھا کہ برہان وانی کی عوام میں کیا حیثیت ہے تو یہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہو ئی اور اگر معلومات رہتے ہوئے محض دیش بھکتی اور فوجیوں کی میڈل سجانے کی خواہش نے یہ سب کیا ہے تو یہ ملک کی سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ جس برہان وانی کو عام طور پر صحافی بھی نہیں جانتے تھے آج اس کا نام بچہ بچہ جان گیا۔ یہی نہیں بیرون ملک بھی اس کے تذکرے ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر ایک بار پھر پاکستان نے ہندوستان کو پیچھے کرتے ہوئے اسے عالمی فورم پر لانے کا جواز ڈھونڈ لیا۔ ویسے اغلب خیال یہی ہے کہ یہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے کہ بغیر کچھ جانے بوجھے ایک جنگجو کو ہلاک کرکے آگ پر پیٹرول ڈالنے کا کام ہو گیا۔ کشمیر میں اس سے قبل بھی بہت سے انکاؤنٹر ہوئے ہیں۔ ان کے جنازے کے جلوس بھی نکلے ہیں۔ لیکن جس طرح برہان وانی کے جنازے کے جلوس میں عوام کا جم غفیر امڈ آیا وہ کشمیر کی تحریک مزاحمت کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ یہی نہیں اس کے بعد جس طرح وادی میں ہڑتال اور سلامتی دستوں کے ساتھ مزاحمت کا دور شروع ہوا ہے۔ اور جس میں چالیس سے زائد انسانی جانوں کا اتلاف ہوا ہے اس نے یقیناًحکومت کے لئے پریشانی کے دروازے کھول دئیے ہیں۔ حکومت خواہ کتنا ہی اپنے آپ کو معمول پر دکھائے لیکن حالات یہ بتارہے ہیں کہ سب خیریت نہیں ہے۔

کشمیر میں موجودہی حکومت کی پریشانی اس سے بھی جھلکتی ہے کہ اس نے بد حواسی میں سارے ذرائع ابلاغ کو مسدود کردیا ہے۔انٹر نیٹ اور برقی پیغامات تک بند ہیں۔ شاید حکومت اس طرح سلامتی دستوں کی لامحدود اختیارات کے استعمال کے ذریعے جو عوام پر جبر و ظلم کا پہاڑ توڑتی ہیں اس کی خبر باہری دنیا میں لانے سے روکناچاہتی ہے۔  لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ہفتہ دس دن یا پندرہ دن اور ایک ماہ بھی انٹر نیٹ خدمات کو بند کرکے اپنے مظالم پر پردہ ڈال لیں۔ یہ ناممکن ہے۔ اگر آپ مکمل طور پر ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرلیں اور کسی کو آنے جانے نہ دیں جب بھی کہیں نہ کہیں سے اس کو دوسری جگہ بھیجنے سے روکنا آج ممکن نہیں ہے۔آج ہر ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے۔جلد یا دیر سے ہی سہی جب بھی ظلم کی منھ بولتی تصویر دنیا میں جائے گی تب بھی حکومت ہند کے لئے بری خبر اور پاکستان کے لئے اچھی خبر ہو گی۔ خبریں ویڈیو کلپ کے ذریعہ آنی بھی شروع ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سنگھی ذہنیت کے بھکت کشمیر میں انسانی جانوں کی ہلاکت اور زخمیوں کی بڑھتی تعداد پر کریکیٹ کی طرح اسکور بتائے جارہے ہیں۔ مودی کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مودی اس ہنگامہ آرائی اور انسانی جانوں کے اتلاف پر رنجیدہ ہوں لیکن ان کے بھکت ان کی کچھ اور ہی تصویر دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ لیکن وہیں کچھ ایسے واقعات کی ویڈیو کلپ واٹس ایپ پر وائرل ہو رہا ہے جس میں بیرون ریاست سے آنے والے امرناتھ یاتریوں کے ساتھ کشمیری عوام کے حسن سلوک اور انسانی ہمدردی کا باہرکی دنیا میں تعارف کرارہے ہیں۔ جبکہ حکومت اور اس کے کارندوں کی کوشش جہاں ایک طرف کشمیری عوام کو مکمل طور سے پابند کرنے کی ہوتی ہے وہیں یہ بھی کوشش کی جارہی ہے کہ انہیں فرقہ پرست اور تنگ نظر بنا کر باہری دنیامیں متعارف کرایا جائے۔  حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلم دشمنی اور اندھی دیش بھکتی کے بجائے حکمت و دانشمندی سے کام لے کر عوام کا دل جیتنے کی کوشش کرے۔ طاقت کے بل پر کشمیر کو آزاد ہونے سے روک پانا مشکل ہے۔ اس سے آزادی کی آگ اور بھڑک سکتی ہے۔ جس کا نظارہ موجودہ وقت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ برہان وانی کے والد سے ہندوستان ٹائمز کے لئے ہریندر باویجہ نے انٹر ویو لیا اس دو ڈھائی منٹ کے ویڈیو انٹر ویو میں حکومت کے لئے پیغام ہے اگر وہ سمجھ سکے۔ برہان وانی کے والد کہتے ہیں کہ ’’ہمیں معلوم ہے کہ ہندوستانی فوج بہت طاقتور ہے۔ اور اس سے جنگ لڑ کر ہم جیت نہیں سکتے لیکن ہم ہندوستان سے اپنے وطن کی آزادی چاہتے ہیں۔ ہم مر کر شہید ہوتے ہیں۔ ہمیں موت کا خوف نہیں ہے۔ کشمیر کا بچہ بچہ آزادی چاہتا ہے ‘‘۔ایسے ماحول میں اس کے سوا اور کیا چارہ کار ہے کہ پرامن ماحول بنایا جائے اور حالات کو بد امنی کی جانب جانے سے روکا جائے۔ اور عوام کے دل جیتنے کی کوشش کی جائے۔ دوسال قبل پرشانت بھوشن نے بھی یہی سب کچھ کہا تھا جس پر انہیں ان کے آفس میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اگرکسی کو حب الوطنی کا جذبہ کچھ زیادہ ہی جوش ماررہا ہے تو اس کو ادھر ادھر ماراماری کرنے سے بہتر ہے کہ وہ سرحد پر جاکر اپنی حب الوطنی اور بہادری کا ثبوت فراہم کرے تاکہ اسے بھی پرم ویر چکر وغیرہ جیسے انعامات کا حقدارسمجھ کر اس سے سرفراز کیا جائے۔ لب لباب یہ کہ کشمیر کا موجودہ بحران مودی حکومت کی ناقص پالیسی کی منھ بولتی تصویر ہے۔ کانگریس کے طعنوں کہ ایک سر کے لیے پاکستانیوں کے دس سر لائیں گے سے شاید موجودہ حکومت کچھ زیادہ پریشانی محسوس کررہی ہے۔ اسی پریشانی میں وہ پاکستانی فوجوں کو تو کوئی جواب نہیں دے سکی یا چائنا کو سرحد پھر جارحیت کرنے سے بھی نہیں روک سکی تو اس کا خمیازہ اپنے ہی شہریوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ اس وقت ہمیں ایک سال پہلے اڈوانی کی وہ بات یاد اآرہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک میں ایمرجنسی کا خطرہ نہیں ٹلا ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ وہ خطرہ بہت قریب آگیا ہے۔ ممکن ہے کشمیر کی طرح ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کو پابند کیا جائے۔ اس کے کئی اسباب ہیں۔ حکومت یوپی انتخاب ہر حال میں جیت کر مشن 2019 کی تکمیل کرنا چاہتی ہے لیکن اس کی راہوں میں کئی ہمالیائی روکاوٹیں ہیں۔ اروند کیجریوال پہلے سے ہی موجودہ حکومت کی راہوں میں روکاوٹ ہیں۔ اس کے علاوہ اب کنہیا اور ہاردک پٹیل جیسے نوجوان ان کا پسینہ چھڑانے کے لئے میدان میں ہیں۔ ایسی صورت میں اس کے سوا اور کیا صورت بچتی ہے کہ کشمیر جیسے حالات پورے ملک میں پیدا کرکے ایمرجنسی کی نشاۃ ثانیہ کی جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close