مولانا انظر شاہ کی رہائی: لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی

مولانا سید احمد ومیض ندوی

(استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد)

بنگلور کے معروف عالم دین مولانا انظر شاہ قاسمی کو بالآخر عدالت سے انصاف مل ہی گیا، گذشتہ دنوں 17؍ اکتوبر 2017 کو دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت نے ممنوعہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزامات کے تحت گرفتار مشہور عالم دین مولانا انظر شاہ قاسمی کو دہشت گردی کی مقدمہ سے باعزت بری کردیا،مقدمہ کی پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے گذشتہ دنوں مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا تھا کہ این آئی اے نے ملزم کو القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، جب کہ اس تنظیم سے ملزم کا کوئی تعلق نہیں تھا، نیز ملزم کے قبضہ سے تحقیقاتی دستوں کو کچھ حاصل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اس نے اس معاملہ میں کوئی اقبالی بیان دیا ہے، عدالت کے روبرو مزید وضاحت کرتے ہوئے ایم ایس خان نے کہا کہ جس سرکاری گواہ نے انظر شاہ کے خلاف بیان درج کرایا تھا وہ اپنے سابقہ بیان سے منحرف ہوچکا ہے اور اس معاملہ میں دیگر ملزمین محمد آصف اور عبد السمیع نے بھی انظر شاہ کے تعلق سے کوئی بیان نہیں دیا ہے، خصوصی این آئی اے عدالت کے جج سدھارتھ شرما نے مولانا انظر شاہ کی باعزت رہائی سے متعلق دیے گئے اپنے فیصلہ میں یہ تحریر کیا کہ تحقیقاتی دستہ عدالت کے سامنے یہ ثبوت نہیں پیش کرسکا کہ مولانا انظر شاہ قاسمی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، لہٰذا ملزم کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بنتا اور انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کردیا جاتا ہے، عدالت نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا کہ مولانا انظر شاہ کے جلسوں کی تقاریر میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے کہ وہ القاعدہ سے جڑنے کے لیے نوجوان طبقہ کو اُکسانے کا کام کررہے تھے۔

مولانا انظر شاہ قاسمی کے باعزت بری ہونے کی اطلاع جونہی شوسیل میڈیا پر عام ہوئی مسلم حلقوں اور ملک کے انصاف پسند شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، مولانا کی رہائی کے لیے پیروی کرنے والی ملک کی عظیم وقدیم تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی کے بشمول مختلف تنظیموں، عمائدین اور مذہبی وسماجی شخصیات نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا، مولانا سید ا رشد مدنی نے فیصلہ پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ فرقہ پرست انتظامیہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے ان پر کتنے ہی جھوٹے مقدمات قائم کرلے، لیکن ہمیشہ سچائی کی جیت ہوتی ہے، عدالتوں کے اس قسم کے فیصلے جمعیۃ علماء کے کارکنوں میں نئی روح پھونکتے ہیں اور ہمارا عدالتوں پر اعتماد مزید پختہ ہوتا ہے۔

مولانا انظر شاہ قاسمی اور دیگر بے قصور مسلمانوں کی رہائی کے تعلق سے جمعیۃ علماء کی کاوشیں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہیں، اس سے قبل بھی جمعیۃ علماء نے کئی بے قصور نوجوانوں کے لیے کامیاب پیروی کرتے ہوئے ان کی رہائی کی راہ ہموار کرچکی ہے، جمعیۃ علماء کے صدر مولانا سید ارشد مدنی روز اول سے مولانا انظر شاہ کے لیے فکر مند تھے، گرفتاری کے ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا تھا کہ جمعیۃ علماء ہند ان کے لیے مقدمہ لڑے گی، قریب دو سال کی شبانہ روز کاوشیں اور نیم شبی دعائیں آخر کار رنگ لائیں اور عدالت سے مولانا انظر شاہ کی باعزت براء ت کا فیصلہ صادر ہوا، مولانا انظر شاہ قاسمی حق گوئی اور بے باکی میں انفرادی شان رکھنے والے ایک ایسے عالم دین ہیں جنہیں اللہ نے زور بیان کے ساتھ ملتِ اسلامیہ کا درد اور خدمتِ دین کا بے پناہ جذبہ عطا فرمایا ہے، نہ صرف شہر بنگلور اور ریاستِ کرناٹک بلکہ شمال وجنوب کی مختلف ریاستوں میں مولانا کے مداحوں کا خاصہ حلقہ ہے، اگرچہ ان کے لہجے کی تلخی سے بہت سے لوگ نالاں ہیں لیکن بے لاگ انداز میں اظہار حق کی جو جرأت اللہ نے انہیں عطا فرمائی ہے، اس کی نظیر کم ہی ملتی ہے، آج سے ۱۹؍ماہ قبل جب مولانا کو بنگلور سے گرفتار کرلیا گیا تھا، سارے مسلمان سکتے میں آگئے تھے، ایک بافیض عالم دین کی اس طرح اچانک گرفتاری سے عوام اور علماء صدمے سے دوچار ہوگئے تھے، پھر ہر مرتبہ سماعت کے التواء اور طویل حراست نے بہت سوں کو مایوس کردیا تھا، مولانا کی رہائی سے مسلمانوں کے پست حوصلوں میں جان آگئی ہے، لیکن ایک مولانا انظر شاہ کی رہائی سے ہمیں خوش نہیں ہونا چاہیے،ہماری لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، جب تک مختلف جیلوں میں بند ایک ایک مسلمان باعزت بری نہ ہوجائے اس وقت تک قانونی لڑائی جاری رہے گی۔

مولانا انظر شاہ قاسمی اور دیگر مسلم نوجوانوں کی رہائی سے یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ انڈین مجاہدین کا ہوا ہو یا سیمی اورالقاعدہ کی بات، اکشردھام بم بلاسٹ ہو یا سمجھوتہ ایکسپریس اور مالیگاؤں دھماکے، یہ سب سنگھ پریوار کی کارستانی اور ان سے وابستہ دہشت گردوں کے سیاہ کرتوت ہیں، جو گنگا جمنی تہذیب کے حامل اس ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگ کر اسے ہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں، بی جے پی اقتدار میں نفرت کے ان سوداگروں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے، مولانا انظر شاہ کی رہائی یقیناًباعث مسرت ہے، لیکن یہ اَدُھوری مسرت ہے، ہمیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے جب تک سارے بے قصور مسلم نوجوان قید وبند کی صعوبتوں سے نجات حاصل نہ کریں اور شک کی بنیاد پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا مکروہ سلسلہ ختم نہ ہوجائے، اس وقت ملک کی مختلف جیلوں میں 70؍ ہزار سے زائد بے قصور مسلم نوجوان ایڑیاں رگڑ رہے ہیں، جن میں تقریبا 12؍ ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، یہ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ ملک میں مسلمان اقلیت میں ہیں، لیکن جیلوں میں ان کا تناسب سب سے زیادہ ہے، ان ستر ہزار بے قصوروں کی رہائی ہم سب کا دینی وانسانی فریضہ ہے، یہ صرف جمعیۃ ہی کا فریضہ نہیں ہے بلکہ ساری ملی قیادت اس کی ذمہ دار ہے، ہزاروں محروس مسلم نوجوان برسہا برس سے جیلوں میں سڑ رہے ہیں، جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،اخوت اسلامی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے مسلم بھائیوں کی رہائی کے لیے ہر طرح سے تعاون کریں، بہت سے محروس نوجوانوں کے والدین مقدمہ لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے، ملی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ ایسے گمنام مسلم نوجوانوں کی قانونی کاروائی کریں، سوچنے والی بات ہے کہ ہزاروں محروس جوانوں میں سے چند ایک کو رہائی دے کر کہیں ہمیں نیند کی گولیاں کھلا کر سلایا تو نہیں جارہا ہے؟ تاکہ ایک انظر شاہ کی خوشی میں ہم باقی انظر شاہوں کو فراموش کردیں، جب تک ایک ایک انظر جیل سے آزاد نہیں ہوتا، ہمارا جوش سرد نہیں پڑنا چاہیے۔

مولانا انظر شاہ رہا تو ہوگئے لیکن ان کی زندگی کے ایک سال نو مہینے کون لوٹائے گا؟ان پر اور ان کے خاندان پر جو داغ لگا ہے اسے کون دھوئے گا؟ سیکڑوں نوجوان برسوں سے جیلوں میں سسک رہے ہیں، کوئی پندرہ برس تو کوئی اس سے زائد عرصہ کے بعد رہا ہوتا ہے، آخر ان کی جوانیاں کون لوٹائے گا؟ پھر کیا ان آفیسروں پر مقدمات چلائے جائیں گے جنہوں نے ان بے قصوروں کو اٹھایا تھا؟ کیا اے ٹی ایس اور این آئی اے کے ان اہلکاروں کو سزائیں دی جائیں گی جنہوں نے محض شک کی بنیاد پر نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگادیا؟ پھر کیا وہ ٹی وی چینلز جو گرفتاری کے وقت عدالتی فیصلہ کا انتظار کیے بغیر ملزم کو مجرم بنا کر پیش کرتے رہے، کیا وہ قانونی شکنجہ میں جکڑے جانے کے سزاوار نہیں ہیں ؟

آج ملک کا ہر انصاف پسند شہری یہ سوالات اٹھارہا ہے، مولانا انظر شاہ کی گرفتاری کے بعد قریب ایک ہفتہ تک ملک کے تقریبا تمام چینلز مولانا انظر شاہ کا بحیثیت ایک دہشت گرد میڈیا ٹرائل کرتے رہے، کسی نے انہیں القاعدہ کا ماسٹر مائنڈ کہا تو کسی نے ملک کا سب سے بڑا دہشت گرد قرار دیا، جن چینلوں نے گرفتاری کے وقت آسمان سرپر اٹھالیاتھا، جب گذشتہ دنوں مولانا باعزت بری ہوئے تو ان چینلوں نے ایسی خاموشی اختیار کرلی گویا انہیں سانپ سونگھ گیا ہو، ان سارے چینلوں پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے،غیر جانبداری اور حق کی طرفداری میڈیا کا بنیادی فریضہ ہے،لیکن موجودہ دور کے بکاؤ میڈیا نے صحافتی اقدار کا جنازہ نکال دیا ہے، پھر مسلم قیادت کو اس پہلو سے بھی غور کرنا چاہیے کہ آخر بے قصور مسلمانوں کی ناحق گرفتاریوں کا یہ سلسلہ کب تھمے گا؟ گذشتہ قریب دیڑھ دہائی سے مسلم نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاریوں کاسلسلہ جاری ہے، اس قسم کی گرفتاریوں کا مقصد ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو خوف کی نفسیات سے دوچار کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے مسائل میں الجھ کر تعمیری کاموں سے غافل رہے، ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ناحق گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا، جس سے ان کا کیریئر تباہ ہوکر رہ گیا، آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟
مولانا انظر شاہ کی رہائی سے لڑائی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس قسم کی صورت حال کے پائیدار حل کے لیے ملت اسلامیہ کو درج ذیل نکات کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے:

1۔ اس وقت فوری کرنے کا کام یہ ہے کہ ان چینلوں کو آئینہ دکھایا جائے جو گرفتاری کے وقت تو مولانا انظر شاہ کے خلاف دہشت گردی کا ہوا کھڑا کرتے رہے، لیکن ان کی باعزت بری ہونے کی خبر کو بالکل نظر انداز کردیا، اس کے لیے شوسیل میڈیا کا استعمال نہایت مفید ہے، ایسے چینلوں کے خلاف مسلمان ٹوئیٹرپر آئیں اوران کے خلاف ٹرینڈ چلائیں، اس سلسلہ میں نوجوان فاضل مولانا یاسر ندیم الواجدی نے بھر پور مہم شروع کی ہے، ان کی آواز پر لبیک کہا جائے، مسلمان میڈیا پر دباؤ ڈالیں کہ جس طرح اس نے مولانا انظر شاہ اور دیگر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر مہم چلائی تھی اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت سے بری ہونے کی خبر کو بھی خوب کوریج دے اور مسلمانوں سے معذرت خواہی کرے۔

2۔ جیسا کہ پچھلی سطور میں بتایا گیا کہ اس وقت ہزاروں بے قصور مسلم نوجوان جیلوں میں بند ہیں، جن کے اہل خاندان کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں، ملت کی تمام تنظیموں اور بااثر شخصیتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان محروسین کی رہائی کے لیے ہر ممکن اقدام کریں، اس کے لیے مسلم وکلاء فری خدمات پیش کریں، صاحبِ ثروت افراد مالیہ فراہم کریں اور سیاسی شخصیات او رجماعتیں اپنا سیاسی اثر ورسوخ استعمال کریں، صرف ایک مولانا انظر شاہ کی رہائی مسئلہ کا حل نہیں ہے،ا صحابِ ثروت کو چاہیے کہ وہ جمعیۃ العلماء جیسی تنظیموں کے لیے زیادہ سے زیادہ مالیہ فراہم کریں۔

3۔ ٹی وی چینلوں اور بکاؤ میڈیا کے خلاف چارہ جوئی بھی ایک مستقل کام ہے، میڈیا انتہائی جانبداری سے کام لیتا ہے، فرقہ پرست دہشت گردوں سے متعلق بڑی سی بڑی خبر بھی نظر انداز کردی جاتی ہے، جب کہ کسی مسلمان کو محض شک کی بنیاد پر گرفتار کیاجائے تو اسے رائی کا پہاڑ بنادیا جاتا ہے اور عدالتی فیصلے کا ا نتظار کیے بغیر ملزم کو مجرم بناکر پیش کیا جاتا ہے،اس کے لیے جہاں مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کا متحدہ احتجاج ضروری ہے وہیں مسلمانوں کا ایک ایسا قومی چینل بھی ہونا چاہیے جو حقائق کو پیش کرکے بکاؤ میڈیا کو بے نقاب کرسکے۔

4۔ جانچ ایجنسیوں کے ان تمام افسران کے خلاف جنہوں نے تفتیش کے نام پرمسلم نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کیاقانونی چارہ جوئی کی جائے اور عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے۔

5۔ علماء، خطباء اور عام مسلم نوجوانوں کو فیس بک کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، فیس بک اوپن فورم ہوتا ہے، اس پر کمینٹس کرنے میں بھی احتیاط کرنی چاہیے، اپنے ملک یا دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر تبصرہ کرتے ہوئے ہوش کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیں، فیس بک استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہم ہندوستانی ہیں، ملکی حالات یا غیر ملکی مسائل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اعتدال کو ملحوظ رکھنا ہی دانشمندی ہے، اسی طرح ائمہ مساجد کو جمعہ کے خطابات میں حالاتِ حاضرہ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے، بہر حال مولانا انظر شاہ قاسمی سے متعلق عدالت کے حالیہ فیصلہ نے یہ ثابت کردیا کہ ہندوستانی عدالتیں انصاف کے مراکزہیں، آزمائش کی گھڑیوں میں مسلمانوں کو ناامید نہیں چاہیے، دیر سویر ضرور انصاف ملے گا۔



⋆ مولانا سید احمد ومیض ندوی

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے