مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند!

محمد اسعد فلاحی

ملک کے مختلف علماء نے واضح طور پر اس بات کا اعلان کیا کہ شریعت اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے۔ اس لیے اس میں کسی بھی حکومت ،عدلیہ یا مقننہ کو اس میں کسی بھی طر کی چھیڑ چھاڑ یا بدلاؤ کا کوئی حق نہیں ہے۔جب حضرت محمدﷺ کو یہ حق حاصل نہیں تھا تو کس طرح سے مسلمان یہ حق کسی حکومت یا عدلیہ کو دے سکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہارعلماء نے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے منعقدہ پندرہ روزہ مسلم پرسنل لا بیداری مہم (23؍اپریل 7مئی 2017)کے اختتامی پروگرام میں کیا۔

ایوان غالب میں منعقدہ اس پروگرام میں علماء نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے عائلی تنازعات کو عدالتوں میں پہنچنے کی سب بڑی وجہ مسلمانوں کی دین عدم واقفیت ہے یا شریعت کے قوانین کو جان بوجھ کر غلط طریقہ سے پیش کیا جارہاہے۔ اس کے لیے شریعت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کو شریعت کے احکام سے واقف کرایاجائے تاکہ وہ ایمان داری سے کے ساتھ اس پر عمل کرسکیں ۔ ساتھ ہی اس بات کی ضرورت ہے کہ عائلی تنازعات مثلاً نکاح ،طلاق اور وراثت سے متعلق تنازعات کو حل کرنے کے لیے کونسلنگ سنٹر اور شرعی پنچایتوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔

آل انڈیا پرسنل لابورڈ کے سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ مسلمانوں کے دور حکومت میں کبھی بھی دوسرے مذاہب کے رسم ورواج اور قوانین اور پرسنل لا میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کی گئی اس لیے انگریزی دور حکومت کے دوران اسلامی شریعت کا لحاذ کیا گیا اور 1937ء میں شریعت اپلیکشن ایکٹ نافذ کیا گیا۔ اس ایکٹ کے مطابق نکاح ،طلاق اور وراثت سے متعلق معاملوں میں اگر دونوں فریق مسلمان ہوں تو دین شریعت کے مطابق فیصلہ ہوگا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری مولانا فضل الرحمن مجددی نے تین طلاق اور تعددازدواج کو لے کر حالیہ ہنگامے کو سوچی سمجھی سازش بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعہ اسلام کے سماجی اور عائلی احکام کو نشانہ بنایا جارہاہے۔ایسا اس لیے ہورہا ہے کہ شریعت اسلامی مغربی تہذیب کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ مولانا موصوف نے کہا کہ طلاق سماجی ضرورت ہے ۔ جب شوہر بیوی ایک ساتھ رہنے کے لیے آمادہ نہ ہوں تو طلاق کے ذریعہ وہ الگ ہوسکتے ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے دارالقضا کمیٹی کے کنوینر مولانا عتیق احمد بستوی نے کہا کہ اگر مسلمان شریعت اسلامی پر عمل پیرا رہے تو کسی بھی حکومت یا عدلیہ ہماری تبدیلی نہیں کرسکتی ۔ جب ہم شریعت کو نظر انداز کرتے ہیں تو سرکاراور عدالت اس میں مداخلت کا موقع مل جاتاہے ،انھوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ عائلی تنازعات کے حل کے لیے عدالت جانے سے گریز کریں مولانا موصوف نے عائلی تنازعات کے حل کے لیے تمام مسلم علاقوں میں دارالقضا کمیٹی اور کونسلنگ سنٹر قائم کرنے پر زور دیا ۔

امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ مہم کے دوران میں نے ملک کے مختلف مقامات پر منعقدہ پروگراموں میں شرکت کی اور لوگوں سے خطاب کیا ۔ پروگرام دوران لوگوں نے واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ مسلمان اسلام اور شریعت کو اپنے سے الگ کرنے کے لیے بالکل آمادہ نہیں ہے اور یہ بات تمام لوگوں پر واضح ہوجانی چاہیے ۔مولانا عمری نے کہا کہ اللہ کی جانب سے نازل کردہ قوانین میں کسی بھی قسم کی ناانصافی کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔ کسی حکومت ،کسی گروہ ،کسی پارٹی یا کسی شخص سے ناانصافی ہوسکتی ہے ،لیکن خالق کائنات کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی کے ساتھ ناانصافی کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ اللہ کی جانب سے نازل کردہ احکام میں کسی بھی طرح کا کوئی فرق مراتب نہیں ہے۔

مسلم پرسنل لا بیداری مہم کے نیشنل کنوینر محمد جعفر نے کہا کہ اس مہم کے دوران ہزاروں پروگرام کے ذریعہ سے تقریباً کروڑوں لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا گیا۔ خواتین کے لیے خصوصی پروگرام کے علاوہ جماعت کی شعبہ خواتین کی ذمہ دار ملک کے شہروں اور قصبوں میں مختلف قسم کی مہم چلائیں اور نکاح، طلاق اور وراثت کے بارے میں اسلامی تعلیمات سے واقفیت دلائیں ۔جماعت کی شعبہ خواتین کے ذریعہ 84پریس کانفرنس ہوئیں اور 1500خواتین کے خصوصی پروگرام منعقد کیے گئے۔تقریباً32لاکھ لوگوں سے انفرادی ملاقات کی گئیں اور تقریباً12500خطبات جمعہ کے دوران مسلمان بھائیوں کو شریعت کے بارے میں واقفیت بہم پہنچائی گئی ۔

صدارتی خطاب سے پہلے مسلمانوں کی طرف سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا، جو کہ پروگرام کا لب لباب ہے. افادہ عام کے پیش نظر اسے پیش کیا جا رہا ہے.

جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام مسلم پرسنل لا بیداری مہم کے اختتام پر دہلی میں منعقد 7؍ مئی کا جلسہ عام مہم کی تکمیل پر رب کائنات کا شکر اد کرتا ہے۔ جس نے دین حق کی حیات بخش تعلیمات کے عام تعارف و تفہیم کی توفیق عطا کی اور اس مہم میں رہ جانے والی کوتاہیوں اور لغزشوں کے لیے خالق کائنات سے معافی اور درگزر کا خواست گزار ہے۔*

یہ جلسہ ٔ عام اپنے اس یقین کا ظہار کرتا ہے کہ انسانی زندگی کی صحت مندانہ تعمیر اور حقیقی فلاح کے حصول کے لیے ہدایت الٰہی کی مخلصانہ پیروی اور کامل اتباع ناگزیر ہے۔ زندگی کے دوسرے گوشوں کی طرح نجی، خاندانی اور عائلی زندگی میں الٰہی ہدایات و قوانین، امن و سکون اور عدل و انصاف کی ضمانت فراہم کرتے ہیں ۔ فرد کی تربیت اور سماج کے استحکام کے لیے دین حق پر مبنی ان صحت بخش تعلیمات پر عمل ضروری ہے۔ خالق کائنات کا عطا کردہ دین، اللہ سے تعلق قائم کرنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ انسانوں کو تاکید کرتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی انسانوں کے حقوق ادا کریں ، خصوصاً ماں باپ، بچوں اور زوجین کے حقوق کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہوں ۔

یہ جلسہ عام ہدایت الٰہی سے کامل وابستگی کی ہاد دہانی کے ساتھ ان قوانین و ضوابط کی خصوصی اہمیت یاد دلاتا ہے، جن کو ہمارے ملک میں مسلم پرسنل لا کہا جاتا ہے۔ جلسہ کے شرکاء اس امر پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کے دستور اور مسلمہ بین الاقوامی اعلانات میں افراد اور گروہوں کی مذہبی آزادی کو واضح الفاظ میں تسلیم کیا گیا ہے، جس میں پرسنل لا پر عمل کی آزادی شامل ہے۔ اس آزادی کا برقرار رہنا ضروری ہے اور اس کو سلب کرنے یا محدود کرنے کی کوشش غیر منصفانہ ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور سماج و ملک کے امن و امان میں خلل ڈالنے والی ہے۔ اس لیے یہ جلسۂ عام ان تمام تجاویز کو یکسررد کرتا ہے جو بعض ناعاقبت اندیش عناصر کی جانب سے مذہبی آزادی کو مجروح کرنے کے لیے پیش کی جا رہی ہیں ۔

یہ جلسۂ عام حکومت ہند سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ یونیفارم سول کوڈکے نفاذ کے خیال کو ترک کر دے۔ دستور ہند کے رہنما اصولوں کی دفعہ 44 کو ، جس میں یونی فارم سول کوڈ کا تذکرہ ہے، ایک دستوری ترمیم کے ذریعہ منسوخ کر دیا جانا چاہیے۔
یہ جلسہ ٔ عام حکومت ہند سے اصرار کے ساتھ مطالبہ کرتا ہے کہ مسلم پرسنل لا میں کوئی مداخلت نہ کرے ۔ بلکہ مسلمان معاشرے کو بلا روک ٹوک اسلامی عائلی قوانین پر عمل کرنے دے ۔ یہ جلسۂ عام اس یقین کا اظہار کرتا ہے کہ اسلامی ضوابط مردوں اور عورتوں دونوں کو انصاف فراہم کرتے ہیں ۔ اور ان کے حقوق کا کامیاب تحفظ کرتے ہیں ،ان قوانین میں ترمیم کی کوشش غیر ضروری بھی ہے اور مضر بھی۔

یہ جلسۂ عام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ معاشرے میں احکام شریعت اور اسلامی اقدار سے واقفیت کو عام کریں اور نیکی اور تقویٰ کی فضا کو پروان چڑھائیں ۔ تاکہ غفلت ، لاعلمی، غیر ذمہ داری یا خدا سے بے خوفی کی بنا پر لوگ شریعت کی خلاف ورزی نہ کریں ۔ دین کا علم سماج میں عام کیا جانا چاہیے اور اس عمومی تعلیم کے لیے کتابوں ، کتابچوں ، جمعہ کے خطبات اور الیکٹرانک ذرائع سے کام لیا جائے۔ لوگوں کو عام تلقین کی جانی چاہیے کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کو نہ توڑیں ۔ جو لوگ دین کی تعلیمات کی خلاف ورزی کریں اور اس حرکت سے باز نہ آئیں ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔

یہ جلسۂ عام مسلمانوں کو یاد دلاتا ہے کہ اسلامی عائلی زندگی میں والدین کے ساتھ حسن سلوک ، بچوں کی تعلیم و تربیت، زوجین کے حقوق کی ادائیگی، عفت و عصمت کی حفاظت، ستر اور حجاب کے حدود کی پاسداری، نجی زندگی کے تحفظ ، رشتے داروں کے ساتھے اچھے برتائو، نکاح کے اسلامی معیار کی ترویج ، مہر کی خوش دلی سے ادائیگی، نکاح کو آسان بنانے کی طرف توجہ اور وراثت کی درست تقسیم کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ ضرورت ہے کہ ان سب امور میں اللہ اور رسول کی تعلیمات پر اخلاص کے ساتھ عمل کیا جائے ۔

یہ جلسۂ عام مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہے کہ لوگوں کی صحیح تربیت اور تنازعات کے حل کے لیے شہروں ، بستیوں اور قصبات میں تصفیہ کمیٹیوں ، اصلاحی اداروں ، کونسلنگ مراکز ، شرعی پنچا یتوں اور دار القضا کا قیام عمل میں لائیں ۔ ان کمیٹیوں اور مراکز کی طرف رجوع کی فضا کو عام کیا جائے اور تنازعات کے حل کے لیے ان اداروں کا رخ نہ کیا جائے، جہاں قانون الٰہی کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہو۔

یہ جلسہ مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہے کہ ازدواجی زندگی میں ناخوشگواری کی صورت میں زوجین کے تعلقات کی درستگی کے لیے ترتیب کے ساتھ، وہ ساری تدابیر اختیار کریں ، جن کی دین نے تعلیم دی ہے۔ زوجین کے درمیان افہام و تفہیم کی کوشش کام یاب نہ ہو تو دونوں خاندانوں سے حَکَم مقرر کیے جائیں ، جو حالات کی اصلاح کے لیے کوشش کریں ۔ اس سعی کے بعد بھی اگر علیحدگی ہی ضروری سمجھی جائے تو ایک طلاق پر اکتفاء کیا جائے۔ عدت گزرنے کے بعد زوجین خوش اسلوبی سے علیحدہ ہو جائیں ۔ بیک وقت تین طلاق دینے کی غلطی نہ کی جائے۔

یہ جلسۂ عام، ملک کے ذرائع ابلاغ (میڈیا) سے اپیل کرتا ہے کہ اسلامی شریعت کی صحیح تصویر پیش کرے اور اسلامی عائلی نظام کے بارے میں غلط فہمیاں نہ پھیلائے۔ اس مذہبی آزادی کا حترام کرے، جس کو ملک کے دستور نے تسلیم کیا ہے۔ اسلام کی ترجمانی کے لیے مخلص اہلِ علم مسلمانوں کی طرف رجوع کرے اور مسلمانوں کے اس متفقہ موقف کا احترام کرے کہ وہ اسلامی شریعت پر ہی عامل ہوں گے اور اس میں کسی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔

یہ اجلاس میڈیا کے اصحاب سے اپیل کرتا ہے کہ وسیع تر سماج میں عفت و عصمت کی حفاظت اور اخلاقی اقدار کی ترویج کے لیے اسلام کے صحت مندانہ رول کو پیش کریں تاکہ سماجی مسائل حل ہو سکیں ۔

یہ جلسۂ عام ملک کے تمام باشندوں سے اپیل کرتا ہے کہ مردوں اور خواتین کے مسائل کے حقیقی حل اور پاکیزہ معاشرے کی تعمیر کے لیے ہدایت الٰہی کی طرف رجوع کریں اور انسانوں کے بنائے ہوئے غیر معتدل قوانین و ضوابط کے بجائے خالق کائنات کے عطا کردہ قانون کی پیروی اختیار کریں ۔

یہ جلسۂ عام مسلمانوں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ خیر امت ہیں ، ان کو انسانوں کی حقیقی خیر خواہی اور رہنمائی کے لیے برپا کیا گیا ہے۔ الٰہی ہدایات ، خصوصا عائلی زندگی سے متعلق تعلیمات پر مخلصانہ عمل کے ساتھ مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ تمام انسانوں کو ان کے خالق کی طرف بلائیں ، ان کو اپنے رب سے رشتۂ بندگی استوار کرنے کی دعوت دیں ، ان کو درست نظام زندگی سے روشناس کرائیں ، وہ قوانین ان کو بتائیں جو حقیقی انصاف فراہم کرتے ہیں ، پاکیزہ سماج کی تشکیل کرتے ہیں اور فردو معاشرہ کے اخلاقی ارتقاء کے ضامن ہیں ۔ مسلم پرسنل لا بیداری مہم خواب غفلت سے بیدار ہوجانے کی عام دعوت دیتی ہے۔ یہ جلسہ اس پیغام کو عام کرنے کا عزم لیے اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور اپنے اس یقین کا اعادہ کرتا ہے کہ

*مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند*



⋆ محمد اسعد فلاحی

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ملت اسلامیہ کو ایسے کسی ’برج کورس‘ کی ضرورت نہیں!

برج کورس کے قائم کرنے کا مقصد یہ بتایاگیا تھا کہ ’’ فارغین مدارس کو علوم عصریہ سے اس حد تک واقفیت کرادی جائے کہ وہ یونی ورسٹیوں کے کسی بھی شعبے میں بہ آسانی داخلہ لے سکیں ‘‘۔(ص۸)  لیکن کتاب کا مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے  اس شعبے کے ذریعے طلبہ کو مدارس، اہل مدارس اور ملت اسلامیہ سے بد ظن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلم یونی ورسٹی کے ارباب حل و عقد کو سنجیدگی سے اس کا نوٹس لینا چاہیے اور برج کورس کے قیام کے مقصد کے حصول کی تدابیر اختیار کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔