ہندوستان

میڈیا کی اسلام دشمنی اور ہماری ذمہ داری

مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری

    جس دور میں ہم جی رہے ہیں یہ ایک پرُفتن دور ہے، جہاں آئے دن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے اور داغ دار کرنے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے، باطل طاقتیں اور اسلام دشمن قوتیں مسلسل ان فکروں میں ہے کہ کوئی موقع ہاتھ لگ جائے تو دل کھول اسلام کے خلاف ڈھنڈورا پیٹا جاسکے اورمسلمانوں کی شبیہ بگاڑکرپیش کیا جاسکے، چناں چہ اس کے لئے ان کے پاس مضبوظ ترین ہتھیار اورمؤثرترین آلہ ’’میڈیا‘‘ یعنی ’’ذرائع ابلاغ ‘‘ہے۔ چاہے وہ پرنٹ میڈیا اخبارات وغیرہ ہو ں یا الکٹرانک میڈیانیوز چینل وغیرہ ؛جس کے ذریعہ وہ جیسا چاہے دنیا کے سامنے اسلام کو پیش کرنے پر مُصرہیں۔

     اس میں کوئی شک نہیں کہ اخبارات اور خبر نامے قوم کے دھارے کو بدلنے اور فکروں کے رخ کو موڑنے میں اہم کردار اداکرتے ہیں، اس کے ذریعہ رائے عام کو ہموارکرنے اورافکار ونظریات کو پہنچانے میں بڑی مدد ملتی ہیں، اس کے ذریعہ قوم کے ذہن کی تعمیر بھی ہوتی ہے اور تخریب بھی ہوتی ہے۔ صحافت کسی بھی قوم کے شعور واحسا س کی علامت ہوتی ہے، اس کے ذریعہ اس قوم کی فکر و نظر کا اندازہ لگا یا جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ حق اور سچ کی اشاعت بھی کی جاسکتی ہے اور باطل و شر کو پھیلایا بھی جاسکتا ہے، انسانیت اور انسانی تعلیمات کو فروغ بھی دیا جاسکتا ہے، اوربد اخلاقی اور بے حیائی کی تشہیر بھی کی جاسکتی ہے۔ ماحول و معاشرہ کی بنیادی ضرورتوں، افراد اور لوگوں کے اہم تقاضوں کو پورا بھی کیا جاسکتا ہے، اور لایعنی وفضول باتوں میں لگاکر مقصو د اصلی سے غافل بھی رکھا جاسکتاہے۔ تہذیب و تمدن کو عام بھی کیا جاسکتا ہے، اور تہذیبی روایتوں اور اقدا کی دھجیاں اڑائی جاسکتی ہیں۔ غرض یہ کہ میڈیاایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعہ مفید اور نفع بخش کارنامے انجام دئیے جاسکتے ہیں اور مضر و ضرر رساں ذہنیت کو پروان بھی چڑھایا جاسکتا ہے۔

    لیکن اس وقت میڈیا دشمنوں کے ہاتھوں میں ہے جس کے ذریعہ وہ تخریب کاری اور بالخصوص اسلام دشمنی کو عام کرنے میں لگے ہوئے ہیں، بہت سے اخبارات اور نیوز چینل زر خرید بن چکے ہیں اور وہ اشارے پر رائی کوپہاڑبنا کر پیش کرنے میں مصروف ہیں، قرآن کریم کی یہ آیت بجا طور پر ان کے رویہ اور سلوک پر ذہن دماغ میں تازہ ہوجاتی ہے:وَدُّوْا مَاعَنِتُّمْ  قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَائُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُ قَدْبَیَّنَّا لَکُمُ الاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ۔ ( اٰ ل عمران:۱۱۸) ’’ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ تم تکلیف اٹھاؤ، بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے، اور جو کچھ ( عدوات) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے پتے کی باتیں تمہیں کھول کھول کر بتا دی ہیں، بشرطیکہ تم سمجھ سے کام لو۔ ‘‘

    چناں چہ چند دنوں قبل میڈیا نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف ایک طوفان برپا کیا، اور بنگلہ دیش میں ہونے والے حملہ کے تار ذاکرنائیک سے جوڑنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیا، ڈاکٹر ذاکر نائیک جو ایک مشہور عالمی مبلغ کی حیثیت رکھتے ہیں اگرچہ کہ ان کی بہت سی باتوں سے علماء اور اہل علم کو اختلاف ہے، ان کے بہت سے نظریات یقینا مختلف ہیں لیکن ان تمام کے باوجود چوں کہ ان کی شناخت ایک مسلمان داعی کی ہے اس لئے اس کے خلاف ملک بھر کی تنظیموں، جماعتوں، اداروں اور شخصیتوں نے آواز اٹھائی، آواز اس لئے بھی اٹھائی کہ ذاکر نائیک دراصل ایک بہانہ ہے وہ اس کے ذریعہ اس ہندوستان میں تبلیغ ِ اسلام اور دعوت ِ دین کی محنتوں پر روک لگانا چاہتے ہیں، اس کے ذریعہ دین کے خادموں کو ہراساں کرنا چاہتے ہیں، مسلمانوں کومشکوک بناکر پیش کرنا چاہتے ہیں، لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف غیض و غضب اور نفرت وعداوت کو بھر نا چاہتے ہیں اور جب چاہے جس پر چاہے جیسا چاہے الزام لگا کر متہم کرنے پر لگے ہوئے ہیں اس لئے سب نے صدائے احتجاج بلند کی اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منصوبہ سازش کے خلاف اظہار ِ مذمت کیا۔ جب سے بدنام ِ زمانہ، اسلام دشمن تنظیم ’’آئی، ایس، آئی، ایس ‘‘ یعنی داعش منظر ِ عام پر آئی— جس کا اسلامی تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں اور اسلام کے نام پر دشمنوں کا تیار کردہ آلہ ہے — میڈیا کو اوربھی اسلام کو اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا موقعہ ہاتھ آگیا۔ یہ میڈیا والے ہیں جو اگر چاہے تو ہیرو کو غدار اور غدار کو محب ِ وطن بناکر پیش کرتے ہیں۔ ہمارے سامنے ایسے کتنے حقائق ہیں کہ اس ہندوستان کی بہت سی فرقہ پرست اور شدت پسند تنظیموں کے بہت سے افراد تخریب کاری اور دہشت گردی میں ملوث ہیں اور جن کے بارے میں ثبوت وشواہد بھی موجود ہیں لیکن ان کو بالکل نظر انداز کردیا گیا بلکہ ان کی حفاظت کا بیڑا اٹھالیا اور دوسری طرف مسلمانوں کے خلاف بہانے ڈھونڈڈھونڈ کرالزامات لگانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے، مسلم نوجوانوں پر طرح طرح کے الزامات عائد کرکے ان کی زندگی کو اجیرن بنادیا گیا، ان کے تعلقات کو ممنوعہ تنظیموں سے جوڑکر ان کے خلاف ہنگامہ آرائی کی گئی ہے اور کی جارہی ہے۔ میڈیا نے یہ بیڑا بھی اٹھا یا کہ داڑھی، ٹوپی اور کرتا پائجامہ پہننے والے سے لوگ نفرت کریں، اور ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں ان کے ذہنوں میں شدت پسند، اسلام دشمن لوگوں کا چہرہ آجائے اور عام لوگ انہیں میں بھی ان لوگوں میں شمار کرنے لگیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں برقع او ر نقاب پر بھی مسائل کھڑے کئے گئے اور ہماری ملک میں مدارس کے خلاف بھی باضابطہ سازش کی جارہی ہے اور کچھ شدت پسند ہیں جو آئے دن مدارس اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں اور میڈیا میں ان کو ممتاز حیثیت سے پیش کیا جا تا ہے، ا ن کے کسی بیان پر ہنگامہ نہیں ہوتا اور ان کی سونچ کو ملک دشمن بھی نہیں سمجھا جاتا ہے اومسلمان کچھ کہے تو فوری طور پورے ملک کا میڈیا قیامت برپا کردیتا ہے۔

    اسلام اور مسلمانوں کے خلاف میڈیا کی یہ اور اس سے بڑھ کر کارستانی ہے، وہ چاہے تو کھلے عام نفرت کے سوداگروں کو چھوڑدیں اور اگر چاہے تو امن پسند، محبت کے خوگر، بھائی چارگی کے علمبرار، انسانیت کا درس دینے والے افراد کومجرم بناکر پیش کریں، یہ ان کا روز کا کھیل ہے اور اس کے لئے وہ دشمنوں کے ہاتھ بکے ہوئے ہیں، ان کا قلم، ان کی زبان، ان کے افکار، ان کے نظریات سب چند کوڑیوں کے عوض خریدے جاچکے ہیں اور وہ پیسو ں کی چمک کے سامنے حقائق اور سچائیوں کو نظر انداز کرکے جھوٹی مہم چلانے میں صبح وشام مصروف ہیں۔

    ان حالات میں ہماری بھی کچھ ذمہ داری ہے اور ہمیں اسے اداکرنا ضروری ہے۔ بالخصوص ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ایسی تمام چیزوں سے احتیاط کریں جس سے دشمن کو موقع ملے، سوشل میڈیابطور خاص واٹس ایپ، فیس بوک، ٹویٹر، وغیرہ کا استعمال احتیاط سے کریں، ہر چیز کو لائیک کرنے اور ہر چیز کو شیئرکرنے سے اجتناب کریں، بعض اوقات لاعلمی میں ہم کسی چیز کو پسند کرتے ہیں یا شیئر کرتے ہیں لیکن وہ چیز قیامت برپاکردیتی ہے، موبائل پر بات چیت کرنے میں خیال رکھیں کہ غیر ضروری باتیں اور شدت پسندوں کے تذکرے نہ ہو۔ محبت کی تعلیم، پیار کا سبق عام کرنے والے بنیں، اختلافات کو دور کریں، انتشار کو ختم کریں، مسلکی عداوتوں کو مٹادیں، ایک دوسرے کی ہمدردی دلوں میں پیدا کریں، اس ملک کو ہمارے بڑوں نے بڑی قربانیوں سے آزاد کرایا، جانوں کا نذرانہ پیش کرنے اس کی حفاظت کی ہے اور خون ِ جگر سے اس گلشن کو سینچا ہے، یہ ہمارا ملک ہے اس کی ترقی، نیک نامی، اور عالمی طور پر اس کی مقبولیت کے لئے اپنی فکروں اور صلاحیتوں کو لگانے والے بنیں، برادران ِ وطن کے ساتھ خلوص اور محبت کا سلوک کریں، اسلام کی امن پسند تعلیمات سے انہیں آگاہ کریں، پیغمبر اسلام سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی پیاری اور مبارک تعلیمات کو انسانوں کے سامنے اچھے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کریں۔ میڈیا چاہے ہزار بدخواہ بتانے کی سازش کریں لیکن ہمیں سب سے محبت کرنا ہے اور اس ملک کے لئے جان وتن کو لٹانا ہے، اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، یہاں قیام ِ امن کے لئے جدوجہد ہمارا فریضہ ہے، جھوٹے پروپیگنڈوں کو دور کرنے کے لئے اخلاقی تعلیمات پرعمل پیرا ہونا بھی ضروری ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close