میں کیا کروں مرے زخمِ یقیں نہیں جاتے!

محمد ہاشم خان

فرض کیجئے کہ زمستان کی ایک برفیلی صبح آپ کھڑکیوں پرآتے ہیں، خورشید جہان تازہ کی کرن جسم کے اندر اتارنا چاہتے ہیں، کھڑکی کے پردے سرکاتے ہیں اور انگڑائی لے کر رات کی وحشت اور جسم کی تھکن کو پھینک کر دن کے شورو شر میں واپس شامل ہونے کے بارے میں سوچتے ہیں کہ عین اسی وقت ایک گولی آکر لگتی ہے اور ساری کہانی ختم ہوجاتی ہے۔نہیں ایسا نہیں ہوسکتا، یہ مت فرض کیجئے۔جہاں برسوں کاسماجی وسیاسی اختلال و بحران ہو وہاں نہ تو صبح خوبصورت ہوتی ہے اور نہ ہی خورشید جہان تازہ میں کوئی رمق ہوتی ہے وہاں کھڑکیوں کے پردوں میں موت سرسراتی ہے، فضا پر خوف کے دھندلکے حاوی ہوتے ہیں اور زمین اپنی ساری یخ بستگی کے ساتھ بیٹھتی اور ڈولتی جاتی ہے ۔سو اب یوں فرض کیجئے کہ ہرطرف قیامت خیز مناظر ہیں، کشت و خون ہے، تعفن آمیز لاشیں ہیں، بے یقینی اس قدر کہ پرچھائیاں بھیانک عفریت نظرآرہی ہیں اور اسی حبس کےعالم میں رات کی وحشتوں میں جیتے مرتے صبح کرتے ہیں، ڈرتے ڈرتے کھڑکیوں کے پردے سرکاتے ہیں اور پردے کے اندر سرک رہی موت ایک گولی کی شکل میں آپ کے جینے کی ساری خواہشیں تمام کردیتی ہے۔

گولی کس نے چلائی آپ کومعلوم ہے اور کیوں چلائی یہ بھی معلوم ہے لیکن آپ کچھ نہیں کرسکتے کیوں کہ آپ تو مرگئے ہیں اورآپ کے لواحقین آپ کی لاش اٹھائے ذلیل و خوار پھر رہے ہیں، کوئی انصاف نہیں، کوئی مکافات نہیں، کوئی کفارہ نہیں، کوئی دیئت اور کوئی خوں بہا نہیں۔ ایک لمحے کے لئےفرض کرلیجئے،کیوں کہ آپ اگر صرف فرض ہی کرکے اس اذیت کو کچھ جی لیں، محسوس کرلیں تو بھی بہت ہےکہ آپ تو وہ اذیت جینے سے رہے جو ہمارے ملک کی کچھ شورش زدہ ریاستوں کی صبح و شام میں شامل ہے۔اورفرض کریں کہ ایسا نہ ہو، فرض کریں کہ آپ کھڑکی کے پردے ہٹاتے ہیں اور کوئی گولی نہیں آتی بلکہ اس کی جگہ پر آپ کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ مخصوص لباس میں ملبوس کچھ لوگ کسی نوجوان کو مار رہے ہیں، زدو کوب کررہے ہیں، سر سے خون نکل رہا ہے، بندوق کا بٹ خون آلود ہوگیا ہےاور یہ تماشا اس وقت تک چلتا ہے جب تک کہ آس پاس کی بھیڑ کوئی عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرلیتی اور اسی بیچ اس کی ماں، باپ، بھائی یا بہن دوڑکرآتی ہے اور انہیں نشانےپررکھ لیا جاتا ہے۔ فرض کریں کہ آپ ایک انتہائی شاندارعلاقے میں ایک پرسکون زندگی گزار رہے ہیں، کسی چیز کی کوئی کمی نہیں اوراچانک کچھ بوٹوں کی چاپ سنائی دیتی ہے اوراس کے بعد آپ کی آنکھ کسی کال کوٹھری میں کھلتی ہے اورپھر آپ کہاں رزق خاک ہوتے ہیں، کہاں دریابرد ہوتے ہیں یہ نہ تو آپ کو معلوم اور نہ ہی آپ کےورثاء کو۔اور پھر یہ بھی فرض کریں کہ آپ کے گھر کے پیچھے ایک بڑا باغ یا میدان تھا جہاں آپ کے بچے کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور اب وہاں ان کی قبریں ہیں۔ چلئےاب اس کے علاوہ کچھ اوربھی فرض کرلیتے ہیں۔ فرض کریں کہ آپ اپنی بیٹی کی شادی کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے لیکن اب نہ توآپ ہیں اور نہ ہی آپ کی بیٹی۔پیچھے عصمت دری کی ایک داستان ہےاور آنسو بہانے والی ایک ماں۔

تخیل کی سطح پر جو آپ فرض کرسکتے ہیں وہ کرتے جائیں مجھے یقین ہے کہ آپ کے تخیل کی وسعت زمینی حقائق کے خونریز دائرے سے باہر نہیں جاسکتی۔ اوپرجو کچھ بھی ہم نے فرض کیا ہے وہ محض ایک مفروضہ نہیں ہے بلکہ حقیقی واقعات ہیں جن کا خون ہمارے ضمیر کےپیرہن سے اب تک رس رس کر باہر آرہا ہے۔ یہ کشمیر ہے اور پھر ایسے ہی کچھ خوں فشاں حالات شمال مشرقی ہندوستانی ریاستوں میں بھی رہے ہیں۔ یہ حالات کیوں پیدا ہوئے، یہ خونریزیاں کیوں مقدر ہوئیں، ستر سال بعد اس پر سوچنا کار زیاں ہے لیکن یہ حالات ایسے کب تک رہیں گے اس پر سوچنا ہم ’مہذب متمدن شہری سماج‘ کا عین فرض ہے اور ہمیں سوچنا چاہئے۔ یہ یقیناً ایک المیہ ہے کہ ستر سال گزرجانے کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا،لاشیں نکل نکل کر ہمارے پیر پکڑرہی ہیں اور ہم انہیں بار بار تابوت میں بند کررہے ہیں۔

اب مرکزی حکومت نے مسئلہ کشمیر پر تعطل کو ختم کرنے کے لئے ایک سابق آئی بی سربراہ دنیشور شرما کو رابطہ کار کےطور پر مقرر کیا ہے جو پہلے ہی ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں میں علیحدگی پسندوں سے بات چیت کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جہاں اس بڑے پیمانے پر حقوق انسانی کی پامالی ہوئی ہو، جہاں ہرقدم پر بے چین روحیں آپ کو لعنت ملامت کررہی ہوں، جہاں آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ ہو اور جہاں فوج سلامتی کے نام پر قانون کی بالادستی سے اوپر ہو اور جہاں عوام جینے سے پہلے ہی مرنا شروع کردیتے ہیں وہاں ایک رابطہ کار کی کیا حیثیت ہے؟ مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کہتے ہیں کہ دنیشور شرما پر کوئی پابندی نہیں ہے وہ کسی سے بھی بات چیت کے لئے آزاد ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ رابطہ کار کی آئینی حیثیت کیا ہوتی ہے؟ اس کی حیثیت بس اتنی ہی ہوتی ہے کہ وہ کچھ سفارشات تجویز کرسکے۔ تو کیا پہلے سفارشات نہیں پیش کی گئیں ؟ اتنے برسوں کی جنگجوئیت کے باوجود ہم یہ کیوں نہیں سمجھ سکے کہ جب تک زخم مندمل نہیں ہوں گے، عوام کے اعتماد کو جینے کی یقینی کوشش نہیں کی جائے گی معاملات بالکل ٹھیک ہونے والے نہیں ہیں۔ یہ موصوف بالآخر ایسا کون سا نسخۂ کیمیا پیش کردیں گے جو پہلے نہیں پیش کیا گیا اور کیا ان کے نسخہ ٔکیمیا پر مرکز عمل کرنے کے لئے پابند ہے؟ فاروق عبداللہ کی گریٹر آٹونومی (عظیم ترخودمختاری) مفتی محمد سعید کی ’سیلف رول‘ اور سجاد لون کی تجاویز کیا پہلے سے ہمارےپاس موجود نہیں ہیں ؟

سجاد لون تو فی الحال بی جے پی کی گود میں بیٹھے ہیں، محبوبہ مفتی بی جے پی کی حمایت سے اقتدار میں ہیں اور فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اقتدار سے باہر ہے سو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اب بچتے ہیں حریت پسند قائدین جن سے بات چیت کرنا مرکز کی عزت نفس کے خلاف ہے۔ اب مرکز کے اس فیصلےکو اگرانتہائی احمقامہ اقدام نہ کہا جائے تو پھر اور کیا کہا جائے کہ حریت پسند رہنماؤں سے براہ راست مذاکرات کے بجائے ایک ناکام رابطہ کار کی خدمات حاصل کررہی ہے جس کی حیثیت محض ایک سفارشی تجویز پیش کرنے والے کارندے سے زیادہ نہیں ہے۔ آنجہانی دلیپ پڈگاونکر، رادھا کمار اورایم ایم انصاری پر مشتمل سہ رکنی مذاکراتی ٹیم اس وقت کے وزیرداخلہ پی چدمبرم نے تشکیل کی تھی تو انہوں نے بہت یقین سے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل چند ماہ کے اندر آپ کے سامنے ہوگا لیکن سہ رکنی ٹیم کی سفارشات کہاں گئیں کسی کو کچھ پتہ نہیں اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اگر مذاکرات کار اپنے مشن میں کامیاب ہوجاتے تو آج دنیشور شرما کی ضرورت نہیں پڑتی۔برسبیل تذکرہ یہ بھی بتادوں کہ ریاست کے موجودہ گورنر این این ووہرہ بھی ایک زمانے میں مرکز کے مذاکرات کار تھے۔

اجیت ڈوول کےفلسفے پر(یعنی کہ کشمیریوں کو سختی سے کچل دو)یقین کرنے والی زعفرانی پارٹی کو ساڑھے تین سال بعد یہ خیال کیوں پیدا ہوا کہ اب مسئلہ کشمیر پرحاوی تعطل کے بادل کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ ہم ایک فریکچرڈ سوسائٹی کی پیداوار ہیں اور اس معاملے میں کہ کشمیریوں کے ساتھ کیا رویہ روا رکھنا ہےکشمیریوں سے زیادہ کنفیوژڈ ہیں۔ کبھی تو ہم بے تحاشا طاقت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں اور پھر اچانک بات چیت پر بھی آمادہ ہوجاتے ہیں۔

خیر ایک ناکام مذاکرات کار سے کسی قابل تنفیذ تجاویز کی امید نہیں کی جاسکتی بالخصوص ایک ایسے آدمی سے جو آئی بی کا سربراہ رہا ہو کیوں کہ وہ انسانی بنیادوں پر معاملات کو دیکھنے کی بصیرت سے محروم ہوجاتے ہیں اس لئےمیں صرف اتنی امید رکھوں گا کہ دنیشور شرما بیج بہاڑا کے اس باغ میں حاضری ضرور دیں گے جو اس وقت کرکٹ کھیلنے والے معصوم بچوں کی قبرگاہ ہےاور جن کے ورثا کو 24 سال بعد بھی کوئی انصاف نہیں ملا ہے۔ بیج بہاڑا قتل عام کے بارے میں اگر آپ کو نہیں معلوم تو بتا دوں کہ 22 اکتوبر 1993 کی دوپہر کوبی ایس ایف کے جوانوں نےبلا اشتعال اندھا دھند فائرنگ کی، فائرنگ میں کل 43 لوگ جاں بحق ہوئے جس میں کرکٹ کھیلنے والے معصوم بچے بھی شامل تھے اور جب ان بچوں کے لئے مقامی قبرستان میں تدفین کے لئے جگہ نہیں بچی تو انہیں اسی باغ میں دفن کردیا گیا۔ دنیشور صاحب کو شاید معلوم ہوگا کہ عوام کے پرزور احتجاج و مزاحمت کے بعد عدالتی تحقیق ہوئی جس میں یہ ثابت ہوا کہ بی ایس ایف کی 74 ویں بٹالین نے نہتے معصوم بچوں پراپنی شجاعت و مردانگی کا مظاہر کرنے کے لئے بلااشتعال فائرنگ کی تھی۔ 13 نومبر 1993 کو جب حکومت کے دربار میں رپورٹ پیش کی گئی تو اس میں واضح طور سے کہا گیا ’’ بی ایس ایف کا یہ دعویٰ کہ جنگجوؤں کی فائرنگ نےانہیں ذاتی دفاع کرنے پر مجبور کردیا تھا بالکل بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔سلامتی دستوں نے انتقاماً یہ جرم کیا اور ان کی بربریت قتل عمد اور منصوبہ بند سازش کا پرتو تھا۔‘‘ بہرکیف جب قومی انسانی حقوق کمیشن نے مرکزی وزارت داخلہ کو عدالتی تحقیقاتی رپورٹ بھیجی تو مرکزی حکومت نے بی ایس ایف کی طرف سے انکوائری کی ایک دوسری رپورٹ بھیج کر معاملے کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ بی ایس ایف کے ۱۴ اہلکاروں کے خلاف ضابطہ شکنی کے تحت کارروائی شروع کردی گئی ہے۔کیا کارروائی کی گئی خدا معلوم۔ وہ دن ہے اور آج کا دن تفصیل ہنوز پردہ غیب سےباہر آنا چاہتا ہے۔

میری بس اتنی سی خواہش ہے کہ دنیشور شرما اگرگفت و شنید کے لئے کوئی راہ نکالنا چاہتےہیں تو وہ ان تمام لوگوں سے ضرور ملیں اور پتہ کریں کہ پچیس سال بعد انصاف کے حصول کی کوشش میں روز جینے اور مرنے والے ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ جواب سن کر مایوس نہیں ہوں گے کیوں کہ ہم نے یہی کیا ہے، ہم ان سے نفرت کرتے ہیں اور وہ ہم سے، ہم ان پر بھروسہ نہیں کرتے اور وہ ہم پر۔میں یہ جانتا ہوں کہ اس مذاکراتی عمل سے زمینی سطح پر حالات بدلنے والے نہیں ہیں کیوں کہ یہ کوششیں پہلے بھی کی جاچکی ہیں اور اگرداخلی سطح پر نارملسی کو برقرار رکھنے میں اتنی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو پھرتصور کیجئے کہ اس وقت کیا ہوگا جب پاکستان اور چین بھی اپنی اپنی دعویداری پیش کرنے لگیں گےلہٰذا جب حقیقتوں سے فرارحاصل کرنا مسئلے کا حل بن جائے تو پھرایک فضول امید رکھنا کچھ گناہ نہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ دنیشور شرما حریت رہنماؤں سے ملیں یا نہ ملیں لیکن ان تمام لوگوں سےضرور ملاقات کریں جو فوج کے بوٹوں اور بندوق کے دستوں سے ہلاک ہونے سے بچ گئے ہیں۔

چونکہ ان کے اوپر کوئی پابندی نہیں ہےوہ کسی سے بھی بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں اس لئے امید ہے کہ بیج بہاڑا کے 43 مہلوکین کے ورثا سے بھی بات کریں گے اور یہ جاننا چاہیں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ نویں جماعت کے الطاف احمد شیخ کے والدین سے بھی بات کریں گے جس نے ایک زندگی جینی تھی اور اب اس کے والدین ایک عذاب جی رہے ہیں۔ الطاف شیخ جیسے ایسے ہزاروں مہلوکین ہیں جو کولیٹرل ڈیمیج کا شکار ہوئے ہیں اور ایسے سیکڑوں واقعات ہیں جہاں متاثرین انصاف کے منتظر ہیں، جب تک ان لوگوں سے ملاقات نہیں کی جاتی زمینی حقائق کے تقاضوں کو نہیں سمجھا جاسکتا، جب تک ان متاثرین کے زخموں کو مندمل نہیں کیا جاتا، مرتکبین کو سزا نہیں دی جاتی کسی بھی قسم کی گفتگو کے لئے کوئی سازگار ماحول تیار نہیں ہوسکتا۔ یہی عوام اصل طاقت ہیں اور یہی عوام کو ہی فیصلہ کرناہے۔

حریت لیڈران کو لالی پاپ دے کر عوام کے اعتماد کو نہیں جیتاجاسکتا۔اس ضمن میں ایک بات کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہوں گا کہ کشمیر میں سید علی شاہ گیلانی اورمیرواعظ عمرفاروق جیسے رہنما ہمارے مہذب سماج کی پختگی کی علامت ہیں۔ حکومت انہیں ٹچ نہیں کرے گی تاکہ لوگوں تک یہ پیغام جائے کہ ہم بہ حیثیت ایک جمہوری ملک بالغ و باشعور ہیں لیکن وہیں دوسری طرف دونوں رہنماؤں کی نچلی صف اور قطار کو بالکل صاف کردیا گیا ہے اب گیلانی اور میرواعظ جیسے قدآور رہنما نہیں ہیں۔ یہ بات وہاں کے عوام سمجھتے ہیں اس لئے اب وہاں مزاحمت قیادت پر مبنی (لیڈر بیسڈ)نہ ہوکرعوامی ہوگئی ہے۔ یعنی کل کو اگر یہ رہنما زندہ نہیں رہے تو ایسا نہیں کہ حالات مایوسیوں کے تدریجی عمل سے گزر کر نارمل ہوجائیں گےاسی لئے میں مذاکرات میں عوام کو شامل کرنے پر زور دے رہا ہوں کہ ان کے نارمل ہونے پر ہی سب کچھ نارمل ہوسکتا ہے۔



⋆ محمد ہاشم خان

محمد ہاشم خان
مضمون نگار ناقد اور افسانہ نگار ہونے کے علاوہ ممبئی کے روزنامہ’’ہم آپ ‘‘ کی ادارتی ٹیم کے سربراہ ہیں۔​

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے