ہندوستان

نازک حالات میں ایک نازک فیصلہ!

حفیظ نعمانی

بابری مسجد کی شہادت کو 52 سال ہوچکے ہیں ۔ اس کو شہید کرنے والوں ، اس کی سازش کرنے والوں اور اس کے لئے فضا ہموارکرنے والوں میں وزیر اعظم نریندر مودی ،وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ا ور وزیر مالیات ارون جیٹلی کے نام فقط نہیں ہیں ۔ کہیں وزیر اور گورنر بھی ہیں اور حکمراں پارٹی بی جے پی کے وہ لیڈر ہیں جو بادشاہ گر ہیں اور سب سے محترم رہیں لکھنؤمیں 20 برس مقدمہ چلا اور ہائی کورٹ کے تین جج یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ جسے شہید کیا گیا وہ مسجد تھی یا ڈھانچہ تھا اور وہ ایک غیر متنازعہ زمین پر بنی تھی یا اسے کسی مندر کو توڑ کر اس کے ملبہ سے بنایا گیا تھا؟ ایک عام آدمی کی حیثیت سے ہم بھی ان میں ہیں جن کا خیال یہ ہے کہ تینوں جج کس نتیجہ تک پہنچ گئے تھے لیکن سوا سو کروڑ مختلف مذاہب کے لوگوں کا خیال کرتے ہوئے ایسا فیصلہ کردیا جیسے سر سے بلا ٹالی ہو۔

اب 25 برس کے بعد سپریم کورٹ کا یہ کہنا کہ رائے بریلی اور لکھنؤ میں چلنے والے مقدمے ایک جگہ کرکے پھر چلائے جائیں اور ایک سو سے زیادہ گواہوں کو پھر بلایا جائے جو گواہی دے چکے ہیں ۔ ملک میں وزیر اعظم کے ذریعہ ہندو مسلمانوں میں صف بندی کی کوشش پر کیا ایسا نہیں ہے جیسے پٹرول میں جلا کر ماچس کی تیلی ڈالنا؟

ہم تو کبھی بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے عہدیدار یا ممبر رہے اور نہ پرسنل لاء بورڈ سے کوئی ہمارا اپنا رشتہ اس سے زیادہ رہا کہ ہم اسے ملک کا واحد مسلم ادارہ کہتے رہے اور بابری مسجد سے متعلق بھی سیکڑوں کالم لکھے۔ لیکن از سر نو 25 سال کے بعد مقدمہ کی خبر سے کم علم مسلمانوں کے جذبات بھڑکانا اور شری ایڈوانی سے گورنر کلیان سنگھ تک سب کو ملزم بنا ہوا دیکھنا آج کے ماحول میں مسلمانوں کے لئے اچھا شاید نہ ہو۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بابری مسجد حرمین شریفین کی طرح محبوب ہوگئی تھی آزادی سے پہلے انگریزوں کے زمانہ میں بھی ہندو اسے اپنا کہتے رہے ہیں اور شری رام چندر کی جنم بھومی کا دعوا کرتے رہے ہیں ۔ ہندوؤں نے تو انگریزوں سے نہ جانے کتنی مسجد وں کو مسلمانوں سے لے کر ہندوؤں کو دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انگریزوں نے ہر مسجد کے بارے میں ایک ہی جواب دیا کہ جب ہم آئے تو یہ مسجد تھی اور ہم جب تک رہیں گے اسے مسجد ہی رکھیں گے ہمارے جانے کے بعد آپ جو چاہیں کریں ۔

اور انگریزوں کے جانے کے ایک سال کے بعد ہی اتر پردیش کے اس وزیر اعلی نے جس نے بڑے بڑے مسلمان عالموں کے ساتھ ملک کی تقسیم کی مخالفت میں تقریریں کی تھیں اور ان عالموں کے پیچھے ہاتھ جوڑے تھے ان سب کو نظر انداز کرکے سب سے پہلے ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے بابری مسجد میں راتوں رات مورتیاں رکھوا دیں اور پھر 6 دسمبر 1992 کو اسے شہید کرا ہی دیا۔ اور صرف مسجد ہی شہید نہیں ہوئی کم از کم ملک میں 25 ہزار مسلمان بھی شہید ہوئے۔

ہندوستان میں 26مئی 2014 سے جو وزیر اعظم ہیں ان کے ہوتے ہوئے بابری مسجد کے مقدمہ کے دوبارہ شروع ہونے سے نامزد ملزموں میں سے کسی کا بال بھی بانکا نہیں ہوگا۔ لیکن مسلمان بلا وجہ خوشی اور شور کریں گے اور وہ دشمن بنیں گے۔ وزیر اعظم نے تین برس پہلے سب کی موجودگی میں اعلان کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کے داغی ممبروں کو ایک سال کے اندر مقدمہ چلوا کر جیل بھیج دیں گے اور عالم یہ ہے جو امت شاہ سی بی آئی کی تحقیق کے مطابق سہراب الدین، پرجاپتی اور سہراب کی بیوی کوثر کے فرضی انکائونٹر کی سازش کے الزام میں جیل میں تھے۔ انہیں ضمانت پر باہر بلایا اور حکمراں پارٹی کا صدر بنادیا تاکہ کوئی عدالت کسی پیشی پر انہیں بلانے کی ہمت نہ کرسکے۔

ہم نے تو نہیں آپ نے بھی نہیں سنا ہوگا کہ پارلیمنٹ کے کسی داغی ممبر کی کسی بھی عدالت میں پیشی ہوئی؟ اس کی وجہ وہ سسٹم ہے جس کی وجہ سے گائتر ی پرجاپتی نام کے وزیر کی اب تک گرفتاری نہیں ہوئی۔اور اس لئے نہیں ہوئی کہ وہ وزیر ہے اور اتر پردیش کی پولیس کو یقین نہیں کہ الیکشن میں حکومت اکھلیش کی نہیں بنے گی۔ اور گائتری پرجاپتی جیت کر وزیر نہیں بنے گا؟ گورنر صاحب کہیں یا سپریم کورٹ حکم دے پولیس وہ کرے گی جو وہ اپنے حق میں اچھا سمجھے گی۔

اس حالت میں کہ اکھلیش یادو پر مودی جی مسلسل الزام لگا رہے ہیں کہ وہ سب کچھ زمین ہو یا بجلی سب مسلمان کو دے رہے ہیں ۔ کون ہے جو ایڈوانی جوشی ،اوما بھارتی اور گورنر کو ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کرسکے؟ کیا یہ اچھا ہوگا کہ مسلمان اب اس مقدمہ میں دل چسپی نہ لیں اور سرکار بنام ایڈوانی جوشی وغیرہ مقدمہ چلے یا نہ چلے۔ دیکھتے رہیں ۔

ملک کے ہر آدمی کو معلوم ہے کہ رام مندر پورے کا پورا پتھروں کی شکل میں بنا ہوا ایودھیا میں رکھا ہے اور حکم کی دیر ہے اس کے برعکس مسلمان جہاں مسجد بنانے کا اعلان کر رہے ہیں وہاں سیمنٹ کی ایک بوری تو کیا ایک اینٹ بھی نہیں ہے۔ اور وہ کون سی تنظیم ہے جو ایودھیا میں اجازت ملنے کے بعد مسجد بنانے کی ہمت کرسکے گی؟ اور ہمارا تو خیال ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے اس جگہ پر مسجد مان لی تب بھی وہاں بیٹھ کر مسجد کوئی نہیں بنا سکتا؟ چند دن وہ زمین پڑی رہی تو مسلمان ہیں کہاں جو اس پر چادر بچھا کرہی نمازپڑھ لیں ؟

اب تک مسلمان فریق رہے تو 25 برس میں کیا کر لیا؟ جانے کتنے گواہ اور ملزم مر بھی گئے۔ اور اب پھر جب تک یہ مقدمہ چلے گا تو کون زندہ رہے گا اور جو زندہ مل گیا تو کس کی ہمت ہے کہ بی جے پی کی حکومت میں اسے جیل بھیج دے؟ نریندر مودی نے 2019 کے لئے بیج بو دیا ہے اور اب ہندوستان کے درمیان ہر دن نفرت بڑھائی جائے گی اور یہ نفرت جتنی بڑھے گی اتنی ہی مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہوگی۔ نریندر مودی نام کے وزیر اعظم نے اب سب کا ساتھ سب کا وکاس کا مطلب بنا دیا ہے کہ سب ہندوؤں کا ساتھ اور سب ہندوؤں کا وکاس اور ہندوستان کی حد بندی کی دیواریں وکاس میں نہیں آتیں ۔ کاش ہمارے بڑے اب صاف صاف مسلمانوں سے کہہ دیں کہ اب کیا کریں ؟

ایک کام ایسا ہواہے کہ رب کریم کا جتنا بھی شکر کیا جائے وہ کم ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد خاص طور پر شمالی ہند کے مسلمانوں نے کسی پرانی اور بوسیدہ مسجد کو خستہ حالت میں نہیں رہنے دیا ور گائوں گائوں ہزاروں نئی مسجدیں بنادیں ۔ اور جس دیہات میں چھوٹی مسجد تھی اسے عالیشان بنادیا اور اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ نماز پڑھنے والوں کی تعداد میں اتنا اضافہ ہوا کہ بڑی بڑی مسجدیں بھی جمعہ اور رمضان میں چھوٹی پڑنے لگیں اب ہمارے خیال میں اس خبر پر جشن نہ منایا جائے کیوں کہ نفرت تو بڑھے گی اور ملے گا کچھ نہیں اور نہ کسی کو سزا ہوگی انہیں جو سز ا دے گا وہ صرف مسجد والا دے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close