ہندوستان

ناکامی چھپانے کیلئے چھوڑا گیایکساں سول کوڈ کا شوشہ !

ڈاکٹراسلم جاوید

ہماراوطن ہندوستان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا گہوارہ ہے،رنگا رنگ تہذیب اس کی خاصیت ہے ،اورہمارا جمہوری آ ئین پوری آزادی اوراختیارات کے ساتھ ہر کسی کو اپنے مذہب و عقیدہ پر عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز کے جمہوری آئین کو احترام و عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،جس میں کسی بھی ذات دھرم یا رسم ورواج کیخلاف عصبیت کی تلوار نہیں چلائی گئی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آئین ہند نے اس قدر وسعت و فراخدلی کے ساتھ اہل وطن کو اپنے اپنے مذہب و نظریات پر عمل کرنے کی آ زادی فراہم کررکھی ہے پھر بی جے پی کو تکلیف کیوں ہو رہی ہے اور آئین ہند میں ا قلیتوں کو دی گئی آ زادی سے وزیر اعظم نریندر مودی کے کلیجے میں کیوں نفرت کی آگ دہکنے لگی ہے۔اگر اس کا سیدھا سادا جواب ڈھونڈیں تو گزشتہ13اکتوبر2016کو پریس کلب آف انڈیا میں آل انڈ یا مسلم پر سنل بورڈ کے جنرل سکریٹری ،جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی ،جمعیت اہلحدیث کے ناظم عمومی مولانا اصغر امام مہدی سلفی سمیت مسلمانوں کے لگ بھگ سبھی مکتب فکر کے علماء اور مذہبی قائدین نے حکومت ہند خصوصاً وزیر اعظم نریندر مودی کے مسلم مخالف منصوبہ بندی سے بڑی حد تک پردہ اٹھادیاہے اور اس کے وجوہات کی طرفبھی عمائدین اسلام نے مدلل نشاندہی کی ہے۔
پریس کانفرنس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ لاء کمیشن ملک میں کامن سول کوڈ کے نفاذ کیلئے مودی کے اشارے پر کام کررہی ہے ،جس ریموٹ کنٹرول آر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہے۔لاء کمیشن کے سوالنامے میں غلط رہنمائی کرکے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس سوالنامے میں جا نبدا ر ی کی جھلک واضح طور پر نظر آرہی ہے،ہندوستان کا آئین تیار کرتے وقت وطن اورآئین کے معماروں نے ملک کے تمام عوام کو مکمل مذہبی آزادی کا حق دیا تھا۔ جس کی بنیاد پر تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہبی عقائد اور رسم و رواج کے مطابق عمل کرنے اور زندگی گذارنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے،یکساں سول کوڈ کا نفاذ ملک کی اقلیتوں کو ان کے آئینی حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے، اس لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ اس طرح کی کسی بھی حق تلفی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے منظم سازش کے تحت اس وقت ساری سرکاری مشنریز کو ترقی،خوشحالی اورفلاح و بہبود کے مثبت ایجنڈوں سے ہٹاکر ملک میں نفرت و عداوت پیدا کرنے، اقلیتوں اور کمزور طبقات کو ہراساں کرنے کے کام پرلگادیا ہے۔لاء کمیشن ،وزارت قانون اور فرقہ پرست عناصر کی شرانگیزیوں پر حکومت کی پشت پناہی، یہ ساری چیزیں باہم مربوط ہیں اورمودی کے مسلم مخا لف منصوبے پر عمل آوری کا ہی حصہ ہیں۔جمعیت علمائے ہند (ارشد) کے صدر مولانا ارشد مدنی نے پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے بجا کہا ہے کہ مودی حکومت اپنے ڈھائی برس کے دور اقتدار کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کے مقصد سے وہ اس طرح کے حربے استعمال کرکے ملک کو انتشار کی راہ پر ڈال رہی ہے۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے ملک کی سرحدوں کو صحیح ڈھنگ سے سنبھالنے کی بجائے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا معاملہ اٹھا کر ملک میں داخلی جنگ چھیڑ دی ہے، جو ملک کی جمہوریت کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ مولانا مدنی نے دوٹوک لفظوں میں کہا کہ مودی حکومت جمہوریت کے نام پر ملک کو بدترین حالات کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔دارالعلوم دیوبندکے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت کی بقا و تحفظ کیلئے ہی اقلیتوں کو آئین میں مذہبی آزادی کی گارنٹی دی گئی ہے، جس کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ آئین کی خلاف ورزی اور اقلیتوں کو ان کے آئینی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہوگا۔یہاں یہ بات زیر نظر رہنی چاہئے کہ مسلم اقلیتوں کو ہراساں کرنا اور مختلف بہانے سے ان کی مذہبی آزادی سلب کرلینے کی ناپاک کوششیں کوئی آج کا نیا اور تازہ ایجنڈہ نہیں ہے ،بلکہ یہ بی جے پی کا پیدائشی منشور ہے اوریرقانی طاقتیں اپنے اس منصوبہ کونافذکرنے کے مقصد سے مختلف موقعوں پر بزور طاقت مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کر تی رہی ہیں۔آج تو صورت حال یہ ہے کہ ہم مسلما نوں کی بداعمالیوں اورہمارے طبقہ میں ہی آ نکھیں کھولنے والے کچھ مفادات پرستوں نے منظم طور پر بی جے پی کے مسلم مخالف منصوبے عملی جامہ پہنانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔مسلم سواد اعظم کی بد نصیبی یہ بھی ہے کہ کفر کا طوق غلامی اپنی گردنوں میں ڈال چکے یہی ناپاک لوگ خودکو یہ باور کرانے میں جٹے ہوئے ہوئے ہیں کہ مسلما نو ں کے سچے قا ئد یہی لوگ ہیں ۔اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں اسلام اور مسلمانوں سے حددرجہ ہمدردی یا محبت ہے ،بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نام مسلمانوں جیسے ہیں اور یہی لوگ اسلام کو فنا کردینے والے ہر منصوبہ کی انجام دہی میں بی جے پی کے فرنٹ پوائنٹ پر کھڑے ہوئے نظرآ تے ہیں۔لہذا ہم مسلمانوں اورملک کی دیگر اقلیتوں کو اس پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے۔صورت حال یہ ہے کہ مسلمان جیسے نام والے ڈھیروں ضمیر فروش مسلم دشمنوں کی فوج میں موجود ہیں ،جنہیں صرف اپنا فائدہ دیکھنا ہے ،چاہے اس کے نتیجے میں اسلام اورمسلمانوں کو جتنی بھی چوٹ پہنچے اس سے انہیں کوئی غرض نہیں ہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ بی جے پی سرکار سرحد پر جاری کشیدگی کو نظر انداز کرکے ملک کوداخلی انتشار کی طرف دھکیلنے کی حماقت کی کرتی ۔طلا ق یا اس جیسے دیگر ایشوز کی شرح تو مسلم معاشرے میں نام برابر ہے ۔اس کے برخلاف طلاق،تعدد ازواج،بچوں کی شرح پیدائش میں اضافہ جیسے سلگتے ہوئے مسائل مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں میں ہیں۔ یہ اعداد شمار 2011کی مردم شماری سے ہی برآ مد ہوئے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ آج ملک کے دبے کچلے اور پسماندہ حال لوگو ں کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اسے پورا کرنے کی بجائے ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کیلئے سازشیں رچی جانے لگی ہیں۔
جمعیت اہل حدیث، ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر امام مہدی سلفی نے یکساں سول کے نفاذ کی کسی بھی کوشش کی شدید مخالفت کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ سے غیر جانبدارانہ رول ادا کرنے کی اپیل کی۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں بھی جہالت اور علم دین سے دوری کے نتیجے میں بہت خامیاں در آ ئی ہیں اور مسلم پرسنل لا بورڈ مسلم سماج میں در آجانے والی خرابیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔اطمینان بخش بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام مسالک سے تعلق رکھنے والی نمائندہ تنظیموں نے اتفاق رائے سے لاء کمیشن کے سوالنامے کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن اس وقت اس ملک کی صورت حال کافی گھمبیر چل رہی ہے۔ایک طرف سرحدوں پر تناؤ ہے جس کی وجہ سے ہر شہری بے چین اور بے قرار ہے ،وطن کی حفاظت اور اس کی سالمیت کیلئے متفکر ہے ،دوسری طرف مرکزی حکومت کے پیدا کردہ مسائل اور حالات ایسے ہیں کہ اندرون ملک بہت سے لوگ پریشان ہیں ،اچھے دن کے بلند بانگ دعوؤں اور پرزور نعروں کی گونج میں اقتدار حاصل کرنے والے بہت جلد اس کی حقیقت کو بھول گئے اور نفرت کی سیاست کا بازار گرم کردیا ،تشدد پسندوں کو کھلی آزادی مل گئی ،نفرت کے سوداگر اپنے کاروبار میں مصروف ہوگئے ،امن کے دشمن آگ لگانے میں منہمک ہوگئے ،کمزور طبقات کو مختلف بہانوں سے نشانہ بنایا جارہا ہے ،کبھی گؤ کشی کے نام پر بے قصوروں کو مارما ر کر ہلاک کیا گیا تو کبھی گؤ رکھشک کا ڈھونگ رچانے والوں نے ظلم وزیادتی کا ننگا ناچ کھیلااور اپنی درندگی کا کھلے عام مظاہر ہ کیا۔مہنگائی نے عام افراد کو حیران کردیا۔یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ گؤ کشی یا اس جیسے دوسرے شرنگیزانہ حرکات کے الزام میں صرف مسلمانوں کو ہی نشانہ نہیں بنایا گیا ہے ،بلکہ ملک کا دلت اورقبائلی طبقہ بھی فرقہ پرستوں کے نشانے پر ہے ،المیہ یہ ہے کہ اس برہمنی غنڈہ گردی کو مودی سرکار کی بھر پور حمایت اور سرپرستی حاصل ہے ۔ظاہر سی بات ہے کہ کارپوریٹ خاندانوں کی گود میں بیٹھی سرکار کو اپنی نااہلی ،ناکامی اور رسوائی چھپانے کیلئے کوئی نہ کوئی حربہ ضرور استعمال کرنا چاہئے،اور ان کیلئے مسلمانوں سے آسان ہدف کوئی دوسرا ہوبھی نہیں سکتا ہے،لہذا مسلما نوں کو ہی نشانے پرلیا جارہا ہے اوراپنے کالے منہ پرملمع سازی کیلئیاگر ضرورت پڑی تو مسلمانوں کے خون کی لا لی بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹراسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

متعلقہ

Close