نتیش کمار وزیر اعظم کی دوڑمیں: کتنا خواب کتنی حقیقت؟

صفدر امام قادری

جنتا دل یو کے قومی صدر ہونے کے ساتھ ملک میں یہ پیغام پہنچانے کی کوشش شروع ہوئی ہے کہ غیر بھاجپا وزیر اعظم کے متوقع امیدوار کے طور پر ملک میں نتیش کمار سب سے اہل لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔  پچھلے ہفتے جنتا دل یو نے اپنے مستقل مانے جانے والے قومی صدر جناب شرد یادو کو آرام دیتے ہوئے جیسے ہی نتیش کمار کو قومی صدر کے طور پر منتخب کرنے اور آنے والے وقت میں نریندر مودی کو ٹکر دینے کے لیے وزیر اعظم کے متوقع امیدوار کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ کیا، سیاسی حلقوں میں اتفاق اور اختلاف کی ایک ساتھ کیفیات سامنے آئی ہیں۔ کانگریس کے اعلاکمان کے افراد نے اس سلسلے سے کوئی واضح راے پیش کرنے کی شاید ضرورت نہ سمجھی لیکن اس کے بعد کی صف کے لیڈروں نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور صاف صاف کہا کہ انھیں غیر گاندھی خاندان کا کوئی وزیر اعظم کا امید وار نہیں چاہیے۔ جنتا دل یو بھی ابھی اس موضوع پر زیادہ بحث مباحثے میں نہیں پڑنا چاہتی اس لیے ایسے سوالوں سے گریز کی راہ اختیار کی جارہی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے قومی صدر لالو پرساد اور این.سی.پی. کے قومی جنرل سکریٹری جناب طارق انور نے اپنے ردِ عمل میں نتیش کمار کو ملک کا سب سے لائق امید وار براے وزیراعظم قبول کرکے اپنا تعاون پیش کردیا ہے۔ 
ابھی کسی نئے وزیر اعظم کا تصور آیندہ تین برسوں تک پیش نظر رکھنا شاید بے وقوفوں کی جنت میں رہنے جیسا ہے۔ نریندر مودی اب سے ٹھیک تین برس بعد تک اپنے عہدے پر موجود رہیں گے۔ تین برس بعد جو پارلیمانی انتخابات ہوں گے، ان میں حزب اختلاف کے کسی لیڈر کو چننے یا پیش کرنے کی بات ہوگی جو غیر بھاجپا وزیر اعظم کے طور پر ابھرکر سامنے آسکتا ہو۔ اس سچائی سے انکار نامناسب ہے کہ نتیش کمار کے دل میں بھی وزیر اعظم کی کرسی بسی ہوئی ہے اور وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اس اونچے عہدے تک پہنچنے کے تمنائی ہیں۔ یہ اتفاق ہے کہ ملک کی سیاسی صورت حال ان کی طرف دار ہے اور غیر بھاجپا حلقے سے نتیش کمار سے قدآور کوئی دوسرا رہنما ایسا دکھائی نہیں دیتا جس پر اتفاق راے پیدا ہوسکے۔ 
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نتیش کمار جب بھاجپائی محاذ کا حصہ تھے، اس وقت بھی ایک فی صد ان گنجایشوں پر نظر رکھتے تھے کہ جب این.ڈی.اے. میں یہ سوال اٹھ کھڑا ہو کہ غیر بی.جے.پی. یا غیر آر.ایس.ایس. حلقے سے این.ڈی.اے. کا وزیر اعظم کا امیدوار چنا جائے تو ایسے امیدوار کے طور پر نتیش کمار سامنے آسکتے ہیں۔ اس کی سچائی کی جانچ اسی مرحلے میں سامنے آگئی جب این.ڈی.اے. کی قیادت کی پہلی صف میں اڈوانی اور دوسرے لوگوں کو پیچھے کرتے ہوئے نریندر مودی مرکز میں پہنچ گئے اور این ڈی اے کی طرف سے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر متفقہ حیثیت سے سامنے آگئے۔ نتیش کمار نے فوری طور پر این ڈی اے سے خود کو الگ کیا اور دیکھتے دیکھتے دوستی کی پینگیں دشمنی میں تبدیل ہوگئیں۔ آج اس کے اصولی پہلو جس قدر بھی واضح کئے جائیں، حقیقت یہ ہے کہ اطلاقی طور پر این ڈی اے میں رہتے ہوئے مستقبل کے وزیر اعظم کی دعویداری سے دست برداری ہی اصل وجہ ہے۔ 
پارلیمنٹ کے انتخابات میں بے پناہ کارکردگی اور سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے نتیجے میں نریندر مودی کو جو حکومت حاصل ہوئی، وہ اقتدار کے نشے میں چور رہنے کے لیے کافی تھا۔ ہریانہ اور جھارکھنڈ میں بھاجپا نے جو فتح یابی حاصل کرکے یہ بات بتانے کی کوشش کی تھی کہ وہ پورے ملک کو زعفران زار بنادیں گے لیکن مرکزی حکومت کی ناک کے نیچے دلی اور پھر بہار میں انھیں چاروں خانے چت ہونے کا موقع ملا۔ بھاجپاکو اتنا سخت چیلنج دینے کے پیچھے جن افراد کا سب سے بڑا ہاتھ ہے ، ان میں اروند کجریوال، نتیش کمار اور لالو پرساد کا رہا ہے۔ اروند کجریوال کو سیاسی اعتبار سے قومی سطح پر قیادت کے لیے شاید ہی کوئی قبول کرسکے۔ دلی کی حکومت بھی وہ جس انداز سے چلاتے رہے ہیں، اس کی بنیاد پر ان سے کسی حلقے سے بھی یہ توقع نہ کی گئی کہ وہ ملک کی قیادت سنبھال سکتے ہیں۔ لالوپرساد یادو نے پھر سے اپنی سیاسی پہچان قائم کی اور بہار کے انتخابات میں اپنے گذشتہ ریکارڈ کو بہتر کرتے ہوئے بھاجپا کو بہار سے بھگانے میں کامیاب ہوئے۔ مختلف مقدمات کی وجہ سے وہ پھر سے کوئی سیاسی عہدہ نہیں لے سکتے تھے جس کی وجہ سے بہار میں نتیش کمار کی قیادت کو وہ بہ خوشی ماننے کے لیے مجبور ہیں۔ نتیش کمار نے بہار کی حکومت کو کم و بیش دس برسوں سے زیادہ تک چلانے کا اپنے پاس تجربہ رکھا ہے۔ اس دوران انھوں نے اپنی بہترین حکومت چلانے والے کی امیج کو پورے میڈیا کے ذریعے عوام کے دلوں میں بٹھانے میں کامیابی پائی۔ یہ بات درست ہو یا نہ ہو لیکن ان کے مخالفین بھی مانتے ہیں کہ بہار کی قیادت دوسرے صوبے کے وزراے اعلا سے وہ زیادہ بہتر طریقے سے چلارہے ہیں۔ 
نریندر مودی کو چھوڑ دیں تو ملک میں ان کے مخالفین میں سے زیادہ لیڈر نہیں دکھائی دیتے جو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے عام طور سے موزوں مانے جاتے ہوں گے۔ جے للیتا، نوین پٹنایک، ممتا بنرجی، ملایم سنگھ یادو اور نتیش کمار علاقائی سطح پر ایسے افراد ہیں جو مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر اگر پیش کیے جائیں تو ان کے بارے میں لو گ غور و فکر کرسکتے ہیں۔ کانگریس کی طرف سے راہل گاندھی یا پرینکا گاندھی کے علاوہ کوئی تیسرا نام کبھی سامنے نہیں آسکتا۔ چاہے ان کے نام پر ان کی موجود تمام سیٹیں ختم ہوجائیں اور کانگریس پارٹی پاتال میں جا پہنچے ۔ اسی طرح ملایم سنگھ یادو بھی ایک عجیب و غریب سیاسی کردار ہیں۔ ہندستان کے اسّی پارلیمنٹ ممبران کو بھیجنے والے صوبے سے ان کا تعلق ہے اور وہاں ان کے صاحب زادے اکھیلیش یادو وزیر اعلا کی کرسی پر مع اپنے خاندان موجود ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پچھلے پارلیمنٹ میں بھاجپا کو اترپردیش سے اگر 73؍پارلیمنٹ سیٹیں نہ ملی ہوتیں تو کسی قیمت پہ این ڈی اے کی حکومت مرکز میں نہیں بن سکتی تھی۔ یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ بعض سیاسی مبصرین نے اس زمانے میں ملایم سنگھ یادو پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ داخلی طور پر وہ بھاجپا سے مل کر اپنی حکومت چلارہے ہیں اور پارلیمنٹ میں انھوں نے بھاجپا کے لیے راستہ کھول دیا۔ انھی اسباب سے ملایم سنگھ نے لالو اور نتیش کمار کے سیکولر محاذ سے بالآخر خود کو الگ رکھا ۔ حالاں کہ ان دونوں نے اس محاذ کو بہار میں کامیابی عطا کرکے ملک کی آیندہ صورت حال اور سیاسی نقشے کے بارے میں ایک امید افزا پیش قدمی کی جس میں ملایم سنگھ پیچھے رہ گئے۔ 
نتیش کمار سیکولر محاذ کی قیادت اور آنے والے دور میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے امید وار ہونے کی ساری اہلیت رکھتے ہیں لیکن کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے اشتراک کے بغیر آیندہ پارلیمنٹ کا چناو کون اپنے تنہا دم خم کی بنیاد پر لڑ سکتا ہے؟ اس دوران اگر ممتا بنرجی بھاجپا کو اسمبلی انتخاب میں ہرانے میں پورے طور پر کامیاب ہوجاتی ہیں تب عین ممکن ہے کہ وہ بھی اس وزارت عظمیٰ کی دعویدار بنیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نتیش کمار کے دلی کے اقتدار تک پہنچنے میں رکاوٹیں زیادہ ہیں اور آسانیاں کم۔ ہمیں تو یہ اندازہ لگتا ہے کہ ان کے سابق صدر شرد یادو نے بھی شاید جبریہ طور پر اپنا عہدہ چھوڑا اور نتیش کمار کو قومی صدر بنانے کے لیے تیار ہوئے۔ کانگریس اور سماجوادی پارٹی تو کسی طور پر بھی آسانی کے ساتھ انتخاب سے پہلے اس بات کے لیے رضامند نہیں ہوسکتیں کہ وزیر اعظم کا امیدوار ان سے باہر کا کوئی آدمی ہوسکتا ہے۔ یہ اتفاق ہوگا کہ آنے والے وقت میں اگر اترپردیش کے صوبائی انتخابات میں ملایم سنگھ یادو کی سیاسی بساط سمٹ جائے اور وہ حکومت بناپانے سے معذور رہیں تو شاید یہ ممکن ہو کہ وہ اپنی قیادت سے دست بردار ہوجائیں۔ اس بات کے کے بڑے واضح آثار سمجھ میں آرہے ہیں لیکن کانگریس اپنی سانس کے آخری لمحے تک گاندھی خاندان سے باہر کے کسی آدمی کی سیاسی قیادت کیسے برداشت کرپائے گی۔ گذشتہ برسوں میں لگاتار کھونے اور ہارنے کی اسے ایسی مشق ہوگئی ہے کہ وہ ایک بار پھر امتحان دینے کے لیے تیار ہوجائے گی لیکن راہل گاندھی یا پرینکا یا سونیا گاندھی کے علاوہ کسی دوسرے چہرے پر وہ کیوں کر ایجاب و قبول کرے گی؟ 
نتیش کمار بہتر انتظامیہ کا نعرہ لے کر اقتدار میں آئے تھے اور کم و بیش اب بھی انھی خطوط پر چلنے کے لیے کوشاں ہیں۔ کام کے ساتھ انھیں اپنی بہترین امیج کی فکر رہتی ہے اور اسی وجہ سے دوسرے وزراے اعلا کے مقابلے ان کی شناخت اور قبولیت قومی پیمانے پر زیادہ ہے۔ اس کے واضح فائدے ہیں۔ اسی لیے انھیں آنے والے وقت کے وزیر اعظم کا امیدوار سمجھنے کی کوششیں تیز ہوئیں۔ لالو پرساد بھی اس کام کے لیے انھیں موزوں سمجھتے ہیں اور بہ بانگ دہل اس بات کو پیش کرتے ہیں۔ بعض سیاسی مبصرین کو یہ بات شبہات کے دائرے تک لے جاتی ہے کہ موجودہ سیاسی تال میل میں اگر نتیش کمار پورے طور پر قومی سیاست میں اترجاتے ہیں تو چپکے سے لالو پرساد اپنے صاحب زادے کومردِ میداں بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ڈپٹی وزیر اعلا آنے والے وقت میں وزیر اعلا ہوجائے تو کسی کو زیادہ اختلاف بھی نہیں ہوگا۔ یعنی سب اپنے داؤں چل رہے ہیں ۔ سب کی اپنے اپنے انداز کی مصلحتیں ہیں لیکن سیکولر ووٹوں کی قومی سطح پر گول بندی کے لیے لالو اور نتیش مل کر جو حکمت عملی بنائیں گے، ہمیں امید ہے کہ اسے ملایم سنگھ ، ممتا بنرجی اور اروند کجریوال سے زیادہ قبولیت کا درجہ حاصل ہوگا۔آنے والے وقت کا پہیہ کس طرف گھومے گا، اس پر ابھی قیاس آرائیاں یا پیشین گوئیاں ضروری نہیں ہے۔ صرف ہمیں فصیلِ وقت پر کندہ عبارتوں کو بہ غور دیکھتے رہنا ہے۔ 



⋆ صفدر امام قادری

صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

امارسونار بنگلہ (قسط 8)

  بنگلہ دیش کے سفر پر تاریخ اور تہذیب کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اردو زبان کے فروغ اورامکانا ت پر غور و فکرایک بنیادی مقصد تھا۔ اردو تدریس کے باب میں طلبہ و اساتذہ کی تعداد بے پناہ تھی جسے دیکھ کر اس بات کا یقین ہو ا کہ بنگلہ دیش اردو کے حوالے سے اب نئے دور میں قدم رکھ چکا ہے۔