ہندوستان

نثارالدین احمد کی رہائی اور ملک کی پولس و عدلیہ

شاہد جمال فلاحی
25 اپریل کوایک کانفرنس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے جذباتی انداز میں وزیراعظم سے یہ اپیل کی تھی کہ ملک میں عدالت اور ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ وقت پر انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ چیف جسٹس کی اس اپیل کو تقریباً تمامیڈیا نے اہم خبروں میں جگہ دی ۔ اخبارات میں کالمس لکھے گئے اور نیوز چینلز پرجسٹس ٹھاکر کی ستائش کی گئی۔معصوموں اور بے گناہوں کو وقت پر انصاف نہ دے پانا یقیناًیہ ہندوستان کی عدلیہ کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کے حل کیلئے چیف جسٹس نے جس سنجیدگی کا اظہار کیا ہے وہ قابل قدر ہے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ حکومت کو اس جانب توجہ دلائی بلکہ ان پہلوؤں سے بھی وزیر اعظم کو باخبر کیاجس کی وجہ سے معصوموں اور بے گناہوں کو انصاف ملنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔
ابھی چند روز قبل 30 مئی کے انڈین ایکسپریس میں نثارالدین احمد کی رہائی سے متعلق مزمل جلیل کی تحریر پرنظر پڑی جسے پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ چیف جسٹس کی وہ جذباتی اپیل کس قدر اہم تھی۔نثارالدین احمد کو 6دسمبر 1993کے بم دھماکوں کے سلسلے میں حیدرآباد پولس نے 15جنوری 1994 کو گلبرگہ کرناٹک سے اٹھایا تھا۔ 23 سال جیل میں رہنے کے بعد گزشتہ مہینے سپریم کورٹ نے انہیں تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے رہا کردیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نثار نے بتایا کہ جب پولس نے انہیں اٹھایا تھا تو اس وقت ان کی عمرمحض 20 سال تھی اور وہ فارمیسی ، سیکنڈ ایئر کے اسٹوڈنٹ تھے، 15 دنوں بعد ان کا امتحان تھا۔ کالج جاتے ہوئے راستے میں پولس نے ریوالور دکھا کر انہیں وین میں بٹھا لیا۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ نثار کے اٹھائے جانے کی خبر نہ تو کرناٹک پولس کو تھی اور نہ ہی انکی فیملی کو اس سلسلے میں کوئی جانکاری تھی۔ حیدرآباد پولس کی ایک ٹیم نے انہیں گرفتار کیا تھااور گرفتار کرنے کے فوراً بعدا نہیں حیدرآباد لے جایا گیا۔
ریکارڈ کے مطابق 28 فروری 1994 کو انہیں کورٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ تب جا کر انکی فیملی کو انکی گرفتاری کا علم ہوا۔ جنوری 1994 میں نثار کی حراست کے بعد اسی سال اپریل میں نثار کے بڑے بھائی ظہیرالدین کو بھی پولس نے گرفتار کرلیا ۔ نثار کی طرح ظہیرالدین کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی لیکن 9 مئی 2008 کو سپریم کورٹ نے انکی صحت کی خرابی کے باعث انہیں رہا کر دیا۔ نثار اور ظہیرکے والد اپنے دونوں بیٹوں کی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش میں وقت سے پہلے کمزور اور بیمار ہوگئے یہاں تک کہ 2006 میں ان کی وفات ہوگئی۔
پولس کے پاس نثار کے خلاف عدالت کے سامنے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کیلئے محض وہ فرضی اقبال جرم کی کاپی تھی جس پر زبردستی نثار کا دستخط لیا گیا تھا اور یہ آپ اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ پولس حراست میں زبردستی دستخط کیسے کرائے جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں پیشی سے قبل بھی نثار کو حیدرآباد میٹروپولیٹن کورٹ اور اجمیر کورٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ نثار نے بتایا کہ انہوں نے کئی بار کورٹ کے سامنے اپنی بات رکھنے کی کوشش کی اور پولس کے ذریعہ کورٹ کے سامنے پیش کئے جانے والے اقبال جرم کی کاپی کو فرضی بتایا لیکن ہر بار کورٹ نے انہیں نظر انداز کر دیا ۔ نثار کا ماننا ہیکہ اگر شروع میں ہی کورٹ فرضی اقبال جرم کی تحقیق کر لیتی تو انہیں اتنی لمبی مدت تک جیل میں نہیں رہنا پڑتا۔
نثار احمد کے ساتھ جو ہوا وہ نیا نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی کئی مسلم نوجوانوں کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے ۔ اس پورے دردناک واقعہ کو جاننے اور سمجھنے کے بعد ملک کی دو اعلیٰ سطحی مشنری عدلیہ اور پولس کی کارکردگی پر سوال اٹھا نا ناگزیر ہے۔ پولس پر سوال اٹھانا اسلئے ضروری ہے کہ دستوری طور پر توپولس کاکام عوام کی حفاظت کرنا ہے لیکن کئی موقعوں پر پولس نے اپنے کام کرنے کا جو طریقہء کار اختیار کیا ہے اس سے عوام بالخصوص مسلم اقلیتوں میں دہشت پیدا ہوئی ہے۔ کسی بم دھماکے کے بعد بجائے اس کے کہ وہ اصل مجرم کو تلاش کرے کسی بھی مسلم نوجوان کو بغیر کسی ثبوت کے مجرم کے طور پر اٹھا لیا جاتا ہے اور کسی دہشت گرد جماعت سے اس کا تعلق جوڑ کر اسے جیل میں بند کرکے اسکی زندگی برباد کردی جاتی ہے۔ نثار کے ساتھ بھی پولس نے ایسا ہی کیا، بغیر کسی ثبوت کے انہیں اٹھایا گیا اور انہیں جیل میں بند کر کے ان سے ان کی تعلیم ، انکی فیملی اور ان کے خواب چھین لئے گئے۔ پولس کے ساتھ عدلیہ پر سوال اٹھانا اسلئے ضروری ہے کہ عدلیہ نے بغیر کسی پختہ ثبوت کے بہت سے ایسے فیصلے کئے ہیں جن سے نہ صرف یہ کہ بے گناہوں اور معصوموں کی زندگیاں برباد ہوئی ہیں بلکہ مجرموں کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی ہے۔ آج بھی ہزاروں مسلم نوجوان انصاف کی امید لئے جیل میں بند اپنے نا کردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ انہیں نہ تو اپنا جرم پتہ ہے اور نہ انہیں اپنی رہائی کی تاریخ کا علم ہے۔
بات صرف نثار کی نہیں ہے بلکہ ان تمام مسلم نوجوانوں کی ہے جو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں ۔ ان کے خلاف نہ تو پولس کے پاس کوئی پختہ ثبوت ہے اور نہ عدالت کے پاس اتنا وقت ہیکہ وہ ان کی اپیل کو سن سکے ۔ نثار نے جیل سے رہائی کے بعد جو دردناک بیان دیاہے وہ پولس کی سفاکیت کو عیاں کرنے اور عدلیہ کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کیلئے کافی ہے۔ نثار نے نہ صرف یہ کہ اپنے درد کو بیان کیا ہے بلکہ جیل میں بند اپنے جیسے کئی اور مسلم نوجوانوں کے درد کی ترجمانی بھی کی ہے۔ اس سے پہلے کہ ملک کی عدلیہ سے مسلم اقلیتوں کا اعتماد ا ٹھ جائے ،عدلیہ کیلئے ضروری ہیکہ وہ جلد سے جلد ان بے گناہ مسلم نوجوانوں کی رہائی کو یقینی بنائے تاکہ کسی اور نثار کو انصاف پانے کیلئے 23 سال کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
انگریزی کا ایک مشہور جملہ ہیکہ Justice delayed is justice denied)) انصاف ملنے میں تاخیر کا ہونا انصاف نہ ملنے کے برابر ہے۔ چنانچہ اس جملے کی روشنی میں دیکھا جائے تو نثار کو انصاف ملا ہی نہیں۔ حکومت نثار کو مالی مدد یا معاوضہ فراہم کر سکتی ہے لیکن نثار کو اس کا خواب ، اس کی خوشیاں اور اس کی زندگی کا اہم ترین حصہ نہیں لوٹا سکتی ہے۔ وہ ماں جو اپنے بچے سے چند لمحے کیلئے بھی دور نہیں ہو سکتی اس کیلئے 23 سال تک اپنے جگر گوشے سے دور رہنا کتنا مشکل رہا ہوگا ۔ مجھ میں اتنی تاب نہیں ہیکہ میں اس ماں کی آنکھوں میں تیرتے درد و کرب کو اپنی تحریر میں اتار سکوں ،جس کے دو دو جوان بیٹے بے گناہ ہونے کے باوجود جیل میں بند ہوں اس ماں کے درد کو میں کیا ،دنیا کا کوئی بھی قلکار اپنی تحریر میں نہیں اتار سکتا۔ نثار نے جیل سے رہائی کے بعد یہ نہیں کہا کہ وہ 23 سال جیل میں رہے بلکہ انہوں نے کہا کہ وہ 5180 دن جیل میں رہے، آپ کیلئے 23 سال یا 5180دن میں کوئی فرق نہیں ہوگا لیکن میرے لئے فرق واضح ہے مطلب یہ کہ جیل کے بند کمروں میں نثار نے اپنے اوپر ہونے والے اذیت و الم کا حساب سال یا مہینے میں نہیں کیا بلکہ دنوں کی گنتی بتا کر ہمیں یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہیکہ ان کیلئے ایک ایک دن کس قدر اذیت و الم سے بھرا ہوا تھا، جسے محسوس کرنا ہمارے لئے بہت ہی مشکل ہے۔ جیل سے رہائی پر تو ہر شخص خوش ہوتا ہے لیکن نثار نے خوشی کا اظہار نہیں کیا ، ایک ایسا شخص جس سے محض20 سال کی عمر میں ہی اس سے اس کا گھر ، ما ں کی ممتا، باپ کی شفقت اور عزیزوں کا پیار چھین لیا گیا ہو وہ کیوں کر خوش ہو سکتا ہے؟ وہ 23 سال کی رہائی کے بعد خود کو زندہ لاش نہ کہے تو کیا کہے؟ بڑا ہی عجیب فلسفہ ہے ہماری عدلیہ کا ، کہنے کو تو یہ کہا جاتا ہیکہ’’ سو گناہ گار چھوٹ جائیں پر ایک معصوم کو سزا نہ ہو‘‘ لیکن عملی طور پر اس کے بالکل برعکس دیکھنے کو ملتا ہے۔
میں اپنی تحریر کے آخر میں چیف جسٹس سے وہی جذباتی اپیل کرناچاہتا ہوں جوانہوں نے تقریباً ایک ماہ قبل وزیر اعظم سے کی تھی، ملک کے مسلمان تو ویسے ہی تعلیمی میدان میں کافی پیچھے ہیں ،اگراسی طرح مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتارکئے جانے کا عمل جاری رہا تووہ مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ میں اپنی تحریر کے ذریعہ مزمل جلیل کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے نثار سے ہمیں روشناس کرایا اور ساتھ ہی ساتھ رویش کمار کی صحافت کو بھی سلام پیش کرتا ہوں کہ ایسے وقت میں جبکہ نیوز اینکرس کے پاس فضول کی بحثوں اور غیر ضروری موضوعات کی افراط ہے انہوں نے نثار کو اپنی گفتگو کا موضوع بنا کر ہمیشہ کی طرح ایک ذمہ دارصحافی کی مثال پیش کی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

شاہد جمال فلاحی

شاہد جمال فلاحی جامعہ ملیہ سلامیہ سے ایم ایڈ کررہے ہیں۔ آپ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ آپ کی نگارشات معروف اردو اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتی ہیں۔ shahidjamal@mazameen.com

متعلقہ

Close