ہندوستان

نربھیا سے مظفر پور تک

سیف الاسلام

دہلی میں نر بھیا حادثے کے بعد ملک بھر میں غم وغصہ کا ماحول بن چکا تھا۔ ہر گھر سے لوگ باہر سڑکوں پر نربھیا کو انصاف دلانے کے لئے نکل پڑے تھے۔

گلیوں سڑکوں چوک چوراہوں سوشل میڈیا اور پارلیمینٹ سے اٹھتی آواز دہلی کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں بلند ہو چکی تھی۔ عدالت عظمی نے ملزموں کوتخت دار پر چڑھانے کا فیصلہ 5مئی کو کیا۔ اس تاریخ ساز فیصلہ کے بعد احساس ہونے لگاہمارا سماج اور معاشرہ اب ان گھنونی واردات سے محفوظ رہیگا۔ اب اس ملک میں کسی بھی بیٹی کی عزت تار تار نہیں ہوگی۔اور نا ہی ایسے درندے سماج میں سر اٹھا سکیں گے۔

 لیکن معاشرے کی بے حسی اور ملک کی بد قسمتی کہئے اتنے دردناک حادثے کے بعد بھی ریپ کا گراف بڑھتا ہی رہا۔ 2018اب تک کا سب سے برا سال رہا جس میں ایک دو نہیں بلکہ کئ ایسے حادثے ہوئے جس نے ملک کے کھو کھلے ہونے کا ثبوت پیش کیا۔بھگوان کی پوجا کرنے والی مہان شخصیت سے لیکر ملک کی عزت و ناموس کی حفاظت کے عہدوپیماں کی قسم کھائے ہوئے لوگوں نے اپنی دھرتی ماں کے چھاتی پر بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کو نوچا۔کبھی پچاس سال کے درندے نے سات سال کی معصوم بچی کے ساتھ درندگی کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے موت کی دہلیز پر اتار دیا۔ تو کبھی خواہشات کی تکمیل کے بعد پتھروں سے سر کو کچل دیا۔

    نر بھیا کے بعد اناؤ اور کٹھوا کا المناک اور ملک کو خون کے آنسو رلا دینے والا حادثہ پیش آیا۔ اور ان تمام حادثات میں ہمارے سماج کے عزت وناموس کی چادر اوڑھے ظالموں کا پردہ فاش ہوا۔ خواہ اناؤ حادثے میں "بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ "کا نعرہ دینے والی پارٹی کی بات ہو یا پھر کٹھوا حادثے میں ہنسنے اور کھیلنے والی بچی کے ساتھ ملک کے چوکیدار کی با ت ہو جنہوں نے معصوم بچی کوموت کی دہلیز پر پہنچا دیا۔ پھر کیا تھا ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ملک بھر میں احتجاج شروع ہوا لوگ چوک چوراہے گلیوں اور سڑکوں سے نکل کر انصاف کی بھیک مانگتے نظر آئے۔ ایک طرف سواتی جیسی ملک کی بیٹی  انصاف دلانے اور مکمل لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے حکومت کو آمادہ کر رہی تھیں تو دوسری طرف اناؤ اور کٹھوا میں گنہگاروں کو بچانے کے لئے ریلی نکالی جارہی تھی اور یہ ریلی ہندوستان کی تاریخ میں کالی ریلی  کہلائیگی۔

    بہر کیف ایک بار پھر محسوس ہوا شاید اب ایسا حادثہ ہمارے ملک میں نہیں ہوگا خصوصا اس حکومت میں جس نے بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ دیا ہے وہ پارٹی اب اور اسے برداشت نہیں کریگی  لیکن یکے بعد دیگرے جتنے بھی واردات سامنے آئے ان تمام میں کہیں نا کہیں اس بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈر شامل نظر آئے۔

    مظفر پور حادثہ بھی ان ہی پچھلے تمام واقعات کی ایک گھنونی کڑی ہے۔ اگر نربھیا حادثے کے بعد ایک بھی ملزم کو حکومت چوک چوراہے پر درد ناک سزا دیتی تو یقین مانئے ایسے حادثے پھر رونما نہ ہوتا۔

    مظفر پور میں جو واقعہ پیش آیا اس نے نہ صرف بہار کو شرمشار کیا بلکہ  اس بات کی طرف بھی اشارہ کردیاکہ ہمارے ملک میں کمسن بچی سے لیکر ادھیڑ عمر کی عورت تک محفوظ نہیں۔ اوراس حادثہ نے خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیا۔مظفرپور بالکاگرہ میں 34نابالغ بچیوں کو  مسلسل ہوس کا نشانہ بنایاگیا۔ اور وہ معصوم بے بس ولاچار بچیاں ان تمام ظلم وستم کو سہتی رہیں تڑپتی رہیں اور اپنے درد کو پیتی رہیں۔

    ایک نیوز چینل پر ایک ویڈیو کلپ کو دیکھ رہاتھا۔جہاں ایک گونگی بچی اپنے درد کو اشاروں میں بیاں کررہی تھی وہ ہاتھوں کے اشاروں سے بتارہی تھی کہ انکل مجھے چھت کے اوپر لے جاتے اور میرے ساتھ زیادتی کرتے اور جب ہم ان سے خود کو آزادکراکر بھاگنے کی کوشش کرتے تو وہ ہمارے جسم سے کپڑا ہٹاکر زودوکوب کرتے تھے۔ بالکا گرہ میں چار پانچ سال کی بچی سے لیکر 13سال تک کی بچی کے ساتھ مسلسل وحشیانہ حرکت ہوتا رہا مسلسل ان کے جسم کو نوچاجاتا رہا ان کے سامنے سماج کے عزت دار طبقے کے لوگ اپنے کپڑے اور اپنی عزت کو ننگا کرتےرہے اور ان کے ساتھ درندگی کا کھیل کھیلتےرہے .

سوچئے ذرا – وہ بچیاں کیسے اپنے درد کو بیان کرسکتی ہے جس کی آواز بھی ساتھ نہ دیتی ہو۔ اس کے درد اور اس کی تڑپ کو محسوس کجئے یقین مانئے آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیگے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ان تمام ملزموں کو حکومت تخت دار پہ لٹکائیگی۔ ایسے ظالموں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل سکیگی جنہوں نے پھول سی بچیوں کو مسل دیا۔آخر حکومت فوری ایکشن کیوں نہیں لیتی ؟سالہاسال مقدمہ کیوں چلتا رہتاہے؟   اور یقین مانئے ہمارے سسٹم کی سستی کے بناء پر ظالموں کا حوصلہ بلند ہے۔   مجھے نہیں لگتا ان بچیوں کوانصاف مل پائیگا۔اور ہم بھی پچھلے تمام واقعات کی طرح کینڈل مارچ نکالیں گے گلیوں چوک چوراہوں اور سڑکوں پر احتجاج درج کراکر واپس اپنے گھر چلے جائیں گے۔ اور یہ حادثہ بھی ماضی کی طرح ایک قصہ بن کر رہ جائیگا۔

 اس لئے اب دیر مت کجئے  اٹھئے اور ان درندوں کو تخت دار پر لٹکانے کی مانگ کجئے۔ اس سے پہلے کہ آپ کی آواز دبا دی جائے۔۔۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close