ہندوستان

نعرہ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ مگر ۰۰۰۰۰!

عبدالعزیز
ملک کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک شخص جو فرقہ پرستی میں نام پیدا کرتا ہے اسے فرقہ پرستوں کی جماعت اپنا مکھیا چن لیتی ہے پھر مکھیا کو ’’سب کا ویکاس اور سب کا ساتھ‘‘ کے پرفریب نعروں کے ساتھ اہل ملک کی 31فیصد آبادی ملک کا وزیر اعظم چن لیتی ہے 69 فیصد آبادی جمہوریت کی خامیوں اور خرابیوں کی وجہ سے منہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔ مکھیا کا دو سال ہونے کو آیا ملک جس خلفشار، بدامنی اور فساد کی طرف قدم بڑھاہے ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ملاح کشتی چلا رہا ہے مگر اس نے اپنے لوگوں میں سے کچھ لوگوں کو کشتی میں سوراخ کرنے کی بھی آزادی دے رکھی ہے۔ ملاح کا حال یہ ہے کہ وقتاً فوقتاً نصیحت بھی کرتا ہے کہ دیکھو امن و سکون سے رہو، سب کو ساتھ لے کر چلنا، سب کو ساحل دریا تک پہنچنا ہے مگر سوراخ کرنے والے کا نہ ہاتھ پکڑا جاتا ہے اور نہ اسے بدکلامی سے روکا جاتا ہے۔ کشتی میں جو لوگ سوار ہیں ملاح کو باور بھی کرتے ہیں کہ تمہارے لوگ نہ صرف تم کو لے ڈوبیں گے بلکہ جتنے لوگ کشتی میں سوار ہیں وہ بھی ڈوبنے سے نہیں بچین گے۔ ملاح پورے سواروں کو وعظ و نصیحت کرتا ہے ’’اچھے رہو، سب کو اپنا سمجھو، سب کو منزل تک پہنچنا ہے، سب کو کنارہ عزیز ہے‘‘ لیکن ملاح کے اپنے آدمیوں کے کان سے ٹکرا کر یہ بات چلی آتی ہے جو ملاح کا پرانا منصوبہ فساد فی الارض کا اس کے خاکہ میں ملاح کے آدمی رنگ بھرنے کیلئے پہلے سے بھی سرگرم عمل ہوجاتے ہیں۔ آج پورے ملک کا یہی تخریبی منظرنامہ ہے۔
مثال کے طور پر اتر پردیش میں جہاں اگلے سال موسم گرما میں الیکشن ہونے والا ہے کشتی میں سوراخ کرنے والے فساد پردیش بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ لوک سبھا کے حالیہ الیکشن سے پہلے مودی جی نے اپنی ٹیم کا اپنے بعد سب سے بڑے فتنہ ساز امیت شاہ کو اتر پردیش کا چارج سونپا، الیکشن سے چھ ماہ پہلے مظفر نگر کا بھیانک فساد ہوا جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے تیس بتیس گاؤں نہ صرف تہس نہس کر دیئے گئے بلکہ زمیں پر سے ان کے نشانات تک مٹا دیئے گئے۔ کسی کسی گاؤں میں فسادی داخل ہوکر مار پیٹ، دنگا فساد، آتش زنی، عصمت دری جیسی طوفان بدتمیزیاں کیں۔ کسی کسی گاؤں کو دورسے دھمکایا، کچھ گاؤں والے ڈر اور خوف سے گاؤں کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اس طرح مسلمانوں کے تیس بتیس گاؤں کی آبادی میں سے چار پانچ سو سے زائد افراد شہر بدر کر دیئے گئے۔ پچاس ہزار افراد جس میں مرد، عورتیں، ضعیف اور بچے شامل تھے کیمپوں میں ڈیڑھ سال تک زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ پانی سردی کے باعث بہت سے معصوم بچوں نے دم توڑ دیا۔ اب چند مہینوں بعد یوپی کا اسمبلی الیکشن ہونے والا ہے تو بی جے پی کے مودی اور شاہ نے مجلس عاملہ کی میٹنگ کیلئے الہ آباد کا انتخاب کیا۔ شاہ نے اپنی پوری تقریر میں اس فتنہ وفساد کی بات کی اورمودی جی نے وعظ و نصیحت سے سب کا پیٹ بھرا۔ کیرانہ جو مظفر نگر کی سرحد پر واقع ہے، بی جے پی کے ایم پی حکم سنگھ نے مجلس عاملہ کو 246 ہندوؤں کی لسٹ پیش کی کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمان غنڈوں اور بدمعاشوں کے ڈر اور خوف سے کیرانہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ پرنٹ میڈیا نے 346میں سے صرف تین خاندان کے لوگوں کے بارے میں اپنی تحقیقی رپورٹ میں بتایا کہ غنڈوں اور بدمعاشوں کے ڈر سے کیرانہ کو خیر باد کہنے پر مجبور ہوئے۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی رپورٹوں کے علاوہ حکومت کی مشنری نے بھی پولس سے تحقیقات کے بعد میڈیا والوں سے ملتی جلتی بات کہی۔ میڈیا والوں نے حکم سنگھ سے دریافت کیا کہ انھوں نے کیرانہ سے جانے والوں میں ہندوؤں کا نام تو اپنی لسٹ میں شامل کیا ہے مگر جو مسلمان کیرانہ چھوڑ کر چلے گئے ان کا نام آخر اس لسٹ میں کیوں نہیں ہے؟ حکم سنگھ نے کہاکہ یہ لسٹ ہندو اور مسلمانوں کی نہیں ہے ، ان کی ہے جو جبر و استحصال کے شکار ہوئے۔ میڈیا والوں نے یہ نہیں پوچھا کہ کیرانہ سے متصل مظفر نگر ہے وہاں مسلمانوں کے کتنے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور کتنے لوگوں کو کیمپوں میں پناہ لینا پڑا۔ کتنے لوگ آج تک مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ان لوگوں کی لسٹ کیوں تیار نہیں کی گئی؟
سنگیت سوم مظفر نگر فساد کے خاص الخاص مجرموں میں سے ہیں۔ حکم سنگھ اور سنگیت سوم دونوں کے مغربی یوپی میں اسی کام میں لگا دیا گیا ہے جس کام میں لوک سبھا کے الیکشن سے پہلے لگایا گیا تھا۔ حکم سنگھ نے لسٹ تیار کی اور سنگیت سوم نے کیرانہ مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس پر عمل کیا مگر پولس نے انھیں کیرانہ جانے سے روک دیا۔ انھوں نے اتر پردیش کی سرکار کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ کیرانہ کو کشمیر بننے نہیں دیں گے۔ اگر وہاں کے بدمعاشوں کو پکڑا نہیں گیا تو بی جے پی کے لوگوں کو وہاں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ حقیقت ہی کہہ رہے ہیں کہ کیرانہ کو دوسرا مظفر نگر بنائیں گے تاکہ لوک سبھا کی 80 میں 71 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی بھی، اسی طرح سے دوسرے مظفر نگر کے فساد سے اتر پردیش کی اسمبلی کی سیٹوں کی اکثریت حاصل کرلیں گے۔ واضح ہوکہ مودی جی نے لوک سبھا کے الیکشن سے پہلے حکم سنگھ، سنگیت سوم اور مہیش شرما کو فساد برپا کرنے پر ضلع شمالی میں جاکر پھولوں کا ہار پہنایا تھا اور شاباشی بھی دی تھی۔ سب کو لوک سبھا کے الیکشن کا امیدوار بنانے کا اعلان کیا تھا۔ مہیش شرما اس وقت مودی جی کے منسٹر آف کونسل میں کلچرل منسٹر ہیں۔
نریندر مودی نے سوم، سنگھ اور شرما اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کو کردار سازی کیلئے سات نصیحتیں کی ہیں جس میں سَیّم برتنے یعنی اپنے آپ کو قابو میں رکھنے، عقل و فراست سے کام لینے اور مکالمہ کرنے کی تلقین کی۔ مودی نے سیم برتنے کی جو بات کہی سوم، سنگھ اور سرما جیسے لوگ اس پر عمل کر رہے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ مودی جی اپنے چیلوں کو سمجھا رکھا ہے کہ جو وہ بولیں اس کا الٹا کرنا ہے تاکہ بی جے پی کا منصوبہ پورا ہو۔ مودی دنیا کے ملکوں میں امن اور آشتی پر تقریر کر رہے ہیں اور اپنے آپ کو مدبر کی صف میں شامل کرنے کی حتی الامکان کوشش کر رہے ہیں مگر اس وقت دنیا سمٹ کر اس قدر چھوٹی ہوگئی ہے جسے ایک محلہ اور گاؤں کہا جاسکتا ہے۔ پلک جھپکاتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ خواہ کتنی ہی دوری ہو خبر پہنچ جاتی ہے۔ کوئی یہ سوچے کی وہ چلمن یا پردے کی اوٹ میں بیٹھ کر کام کر رہا ہے دنیا اسے نہیں دیکھ سکے گی تو میرے خیال میں ایسا شخص احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ دنیا جانتی ہے وہ کیا تھے اور کیا ہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close