ہندوستان

نقیب امن ڈاكٹر ذاكر نائك پر شكیل شمسی كے الزامات کی حقیقت – دوسری قسط

مناظر اسلام اور تقابل ادیان كے ماہر ڈاكٹر ذاكر نایك پر شكیل شمسی صاحب نےموضوع گفتگو كے تحت "قصہ ذاكر نائك كا” كی دوسری قسط میں جو الزامات اور تہمتیں عائد كی ہیں وہ شكیل صاحب كے تعصب وعناد كی منہ بولتی تصویر ہیں، انہوں نے پہلے تو یہ اقرار كیا ہے كہ وہ احمد دیدات كو سنتے تھے اور 2005 میں ان كے انتقال كے بعد وہ ڈاكٹر ذاكر نایك كی ویڈیو بھی سننے لگے، كچھ دنوں بعد انہیں لگا كہ وہ راہ حق سے بھٹك گئے ہیں، شمسی صاحب اتنے بڑے اسكالر ہوكر كیوں لوگوں كو مغالطے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ شمسی صاحب كی تحریر یہ واضح ہورہا ہے كہ ڈاكٹر نایك نے شاید 2005 كے آس پاس اپنا دعوتی مشن شروع كیا، حالانكہ یہ سراسر فریب ہے۔ ڈاكٹر ذاكر نایك صاحب تو 1987 میں مناظر اسلام احمد دیدات سے ملے، وہیں سےانہیں دعوتی میدان میں كام كرنے كا حوصلہ ملا، اور انہوں نے 1991 میں دعوتی میدان میں كام كرنا شروع كردیا، خود احمد دیدات كی زندگی میں ڈاكٹر ذاكر نایك كی دھوم چہار دانگ عالم میں مچ چكی تھی، ان كے محاضرات كو ہر سو پذیرائی مل رہی تھی، انكی تقریروں سے متاثر ہوكر لوگ جوق در جوق اسلام كے دائرہ میں داخل رہے تھے چنانچہ اسلام اور تقابل ادیان كے مایہ ناز مناظر احمد دیدات نے 1994 میں ہی ڈاكٹر ذاكر نایك كو "دیدات پلس” كا خطاب دے دیا ، انہوں نے ذاكر كے دعوتی كاموں اور جرات مندانہ كاوشوں سے خوش ہوكر سن 2000 میں ایك تاریخی مومنٹو بھی انہیں پیش كیا، جس میں یہ عبارت درج ہے۔

“Awarded to Dr Zakir Abdul Karim Naik for his achievement in the field of Da’wah and the study of Comparative Religion.” “Son what you have done in 4 years had taken me 40 years to accomplish, Alhamdulillah.”

Wahab, Siraj. "Spreading God’s Word Is His Mission”. Arab News. 1 July 2006. Retrieved 16 April 2011. Archived 7 August 2011.Jump up^ Lloyd Ridgeon (7 March 2001). Islamic Interpretations of Christianity. Palgrave Macmillan. p. 213. ISBN 978-0-312-23854-4.

یعنی "دعوت اور تقابل ادیان كے مطالعہ كے میدان میں ڈاكٹر ذاكر عبدالكریم نایك كے كاوشوں اور كامیابیوں پر پیش كیا گیا اوارڈ، بیٹے! جو كام تم نے چآر سالوں میں كرلیے انہیں كرنے میں مجھے چالیس سال كا عرصہ لگا۔” یہ وہ شہادت ہے جو احمد دیدات نے سن 2000 میں ہی ڈاكٹر ذاكر نایك كو دے دی تھی۔ اگر شك ہے تو ایوارڈ كا یہ مومنٹو وہ جاكر ذاكر صاحب كے گھر دیكھ لیں، تو احمد دیدات صاحب، شمسی كے مطابق جنہیں تقابل ادیان كا گہرا مطالعہ تھا، جن كے لیكچرز وہ ماموں زاد بہن كے گھر پر وی سی آر میں دیكھتے تھے، خود انہوں نے سن 2000 میں اتنے عظیم اعزاز سے انہیں نواز دیا تھا، اور 1994 میں "دیدات پلس” كا خطاب دے دیا تھا، 1994 سے 2005 تك ان كے لاكھوں ویڈیوز اور سیكڑوں لكچرز پوری دنیا میں پھیل چكے تھے، پھر آخر شمسی كو 2005 میں اتنی تاخیر سے ڈاكٹر ذاكر كے بارے میں كیسے خبر لگی؟ اور شمسی خود كہتے ہیں كہ 2005 میں وہ ان كے لیكچر سنتے تھے اور پسند بھی آتا تھا، لیكن اچانك كیسے آپ كو پتہ چل گیا كہ ان كی تقریروں كا رخ بدل گیا ہے، اس وقت تك تو ان كی دسیوں كتابیں آچكی تھیں اور ہزاروں لیكچر پوری دنیا میں پھیل گئے تھے، اگر تبدیلی آنی ہوتی تو 2005 تك كے ان كے 15 سالہ دعوتی مرحلہ میں پہلے ہی آگئی ہوتی، حالانكہ حقائق بتاتے ہیں كہ ان كے ویڈیوز جو 2005 سے پہلے كے ہیں اسی نہج پر 2005 كے بعد كے ہیں، آپ نے ذاكر صاحب پر 2005 كے بعد بدلنے كا جو الزام لگایا ہے وہ حقائق كے سراسر مخالف اور مارے گھٹنہ پھوٹے سر كے مترادف ہے۔ شمسی صاحب كا ایك اعتراض یہ ہےكہ ڈاكٹر ذاكر صاحب مسلكی بحث چھیڑ كر مختلف فرقوں كےمابین اختلافات كو بڑھاوا دیتے ہیں،شمسی صاحب كا یہ ایسا بےبنیاد اعتراض ہے جس كی كوئی دلیل نہیں اور نہ ہی ان كی تقریروں سے اس كا ثبوت دے سكتے ہیں، بلكہ اگر ان سے كوئی شیعہ سنی كے بارے میں پوچھتا بھی ہے تو وہ جواب دیتے ہیں كہ شیعہ سنی كچھ نہیں ہے سب مسلمان ہیں، سب كلمہ گو ہیں، ایك قرآن اور ایك رسول اور ایك اللہ كے ماننےوالے ہیں پھر اس طرح كی تفریق كی ضرورت كیوں؟ اور جب ایسی كوئی تفریق ہی نہیں تو بہتر اور غیر بہتر كی بات ہی فضول ہے۔ یہی جواب وہ مسلكی سوالات كے سلسلے میں بھی دیتے ہیں۔ انہوں نے كبھی اپنے كو كسی خاص مسلك سے منسلك نہیں كیا بلكہ ہمیشہ اس دین كا علمبردار بتایا جسےلے كر ہمارے تاجدار مدنی آئے تھے اور جس پر صحابہ وتابعین اور تبع تابعین گامزن رہے۔ شمسی كا ایك اعتراض یہ ہے كہ ڈآكٹر ذاكر مسلك كے معاملہ میں اس قدر متشدد ہیں كہ وہ مسلمانوں كے نہیں بلكہ ایك خاص مسلك كے ترجمان بن كر رہ گئے، ان كا كہنا ہےكہ اسی وجہ سے ویكیپیڈیا میں انہیں ایك خاص مسلك كا مبلغ كہ كر متعارف كرایا گیا ہے۔ شمسی صاحب كیا عیسائیوں اور دوسرے مذہبی رہنماؤں سے مناظرہ كركے اسلام كی حقانیت كو ثابت كرنا ایك خاص مسلك كی تبلیغ ہے؟ كیا اسلام پر عائد ہونے والے تمام اعتراضات كا مسكت ودندان شكن جواب دینا ایك خاص مسلك كی تبلیغ ہے؟ كیا معروضی انداز سے اسلام كی تعلیمات كوپیش كرنا دوسروں كے مسلك وعقیدہ پر حملہ ہے؟ كیا دلائل كی روشنی میں حق كو حق او رباطل كو باطل كہنا تعصب وتنگ نظری ہے؟ اگر یہ سب تعصب ہے تو آب كو اپنی رائے پر نظر ثانی كرنے كا نہایت نازك وقت آن پڑآ ہے، اب خدا را دیر نہ كریں!!!!!! شمسی صاحب آپ نے اپںی تحریر میں گالی بكنے سے بھی احتراز نہیں كیا ہے اور حضرت یزید كو فاسق وفاجر كہ كر خطاب كیا ہے، استغفر اللہ، آپ نے خود اپںے كل كےمضمون میں سورہ انعام كی آیت 108 كوڈ كی تھی ” اور ان كو گالی نہ دو جن كو یہ اللہ كے سوا پكارتے ہیں ایسا نہ ہوكہ وہ زیادتی كركے بے علمی سے اللہ كو گالی دے دیں” تو كیا اس آیت پر عمل كرنا اب آپ كے لیے ضروری نہیں یا آپ نے اپنے لیے كسی امام سے گالی دینے كے جواز كی اجازت لے ركھی ہے، یا آپ ذاكر نایك كو اس لیے غلط قرار دے رہے ہیں كہ وہ اس طرح كی گالیاں نہیں بولتے، یا یزید اور دوسرے صحابہ وتابعین كو گالی دینے كو غلط ٹھرانےكی وجہ آپ ڈاكٹر نایك كو دوسرے كے عقیدہ اور جذبات سے كھلواڑ كرنے والا قرار دے رہے ہیں، تو شمسی صاحب آپ كو پتہ ہونا چآہیے كہ ہم صحابہ وتابعین كو گالی نہیں دیتے اور نہ گالی دینے والے كو بڑداشت كرتے ہیں، ہم ایسے لوگوں كو خاموش كرتے ہیں، ایسے گستاخان صحابہ كی خبر لیتے ہیں، اسے ہم اپنے دین پر حملہ تصور كرتے ہیں جس كا نہ كوئی قانون اجازت دیتا ہے اور نہ ہی انسانی بنیادوں پر ایسا كرنا صحیح ہے۔ شمسی صاحب آپ نےدو قدم آگے بڑھ ڈاكٹر نایك كے متعلق لكھا ہے كہ انہوں نے دوسرے مسلك كے لوگوں كی ایسی دل آزاری كی كہ عزیز برنی كو "ذاكر نایك سے تسلیمہ نسرین تك” پوری سیریز لكھنی پڑی، ظاہر ہے آپ جیسے صحابہ وتابعین كو گالی دینے والوں كو تو یہ چیز حلق سے نیچے نہیں اترے گی كہ كوئی انہیں گالی دینے سے روكے او راس كی مخالفت كرے، ورنہ آپ اسے مسلك پر سخت حملہ كرنے والا قرار دے دیں گے۔ آپ تو اپںے لیے صحابہ وتابعین كو گآلی دینےكوجائز سمجھتے ہیں اور دوسرے كو دلائل كی روشنی میں مثبت انداز سے اپںی بات بھی نہیں كہنے دیتے،حقیقت تو یہ ہے كہ ذاكر صاحب نے ہر مسلك كی بھر قدر كی، انہیں احترام كی نگاہ سے دیكھا اورقرآن وحدیث كے مطابق حق كو حق اور باطل كو باطل كہنے میں كوئی سمجھوتہ نہیں كیا، اگر قرآن وحدیث كی بات كو كوئی مسلك اپنے اوپر حملہ تصور كرتا ہے تو اسے قرآن وحدیث كی طرف رجوع كرنا چاہیے اور نایك صاحب كو اپںا مخلص وہمدرد تصور كرنا چآہیے كہ انہوں نے اسے حق طرف رہنمائی كی۔ ان كی اسی خوبی كی بنیاد پر پوری دنیا میں انہیں حیرت انگیز كامیابی نصیب ہوئی، انڈین ایكسپریس كے سروے كے مطابق سوا سو كروڑ كی آبادی والے ملك میں انہیں 100 سب سے زیادہ مؤثر شخصیات میں 82واں او ر89 واں رینك ملا، جیورجے ٹآؤن یونیورسٹی، امریكہ كے سروے كے مطابق وہ پوری مسلم دنیا كے 500 مؤثر لوگوں كی درجہ بندی كے سروے میں مسلسل پانچ سالوں تك 2011،2012،2013،2014 میں 70 مقام پر ہیں۔ ان كی مثالی ومایہ ناز اور منفرد خدمات كودیكھتے ہوئے سعودی عرب كے شاہ سلمان حفظہ اللہ كے ذریعہ انہیں عالم اسلام كا سب سے باوقار ایوارڈ "شاہ فیصل ایوارڈ” سے سرفراز كیا گیا، جس كی پوری رقم دولاكھ ڈالر كو آپ نے پیس ٹی وی كے لیےوقف كردیا۔ یواےای كے نائب صدر ووزیر اعظم او ردبی كے حاكم وامیرشیخ محمد بن راشد المختوم كے ہاتھوں دبی انٹرنیشنل ہولی قرآن فار اسلامك پرسنالیٹی 2013 ایوارڈ ملا جس كی رقم دولاكھ 72 ہزار ڈالر كو آپ نے پیس ٹی كے لیےوقف كردیا۔ ملیشیا كےشاہ نے انہیں 2013 میں ملیشیا كے سب سے باوقار ایوارڈ سے نوازا۔ گامبیا كے صدر اور شارجہ كے امیر نے بھی آپ كی خدمات كی بنیاد پر اپںے ملك كےباوقار ایوارڈ سے نوازا۔ مختلف ممالك میں آپ كی تقریروں اور لكیچرز كے اثرات كی بنیاد پر آپ كومذكورہ اعزازات سےسرفراز كیا گیا، اس كےعلاوہ بھی بہت سے اعزازات ہیں جن كے ذكر كا یہ موقع نہیں، تو كیا یہ سارے ممالك متعصب ومسلك پرست ہیں جنہوں نے اپںے اپںے ملك اور عالم اسلام كے سب عظیم اعزازات سے انہیں نوازا یا آپ خو تعصب كے شكار ہوچكے ہیں۔ آخری بات جو آپ نے كہی ہے وہ یہ كہ "كچھ لوگوں كا یہ كہنا كہ ڈاكٹر ذاكر نائك چوروں، ڈكیتوں، لٹیروں اور زانیوں كے خلاف دہشت اختیار كرنے كو كہا ہے، نہایت بچگانہ ہے” شمسی صاحب كیا دن كے اجالے میں زانی آئیں اور لوگوں كی نگآہوں كےسامنے آپ كی بہن كی زبردستی عصمت دری كریں، اور لوگ خاموش تماشائی بنےرہیں، تو كیا یہ آپ كو اچھآ لگے گا یا یہ آپ یہ پسند كریں گے كہ لوگ آپ كی مدد كریں اور آپ كی بہن كو عصمت دری سے بچانے میں آپ كا ساتھ دیں، وہ درندہ صفت ہوس پرستوں كے سامنے مومن قوی بن كر دكھائیں جن كی ہیبت سے سماج مخالف عناصر بھاگ پر آئیں اور غلط كام كی ہمت نہ كرسكیں۔ یہ قانون كو اپںے ہاتھ میں لینا نہیں بلكہ صحیح وقت پر اپںا دفاع كرنا ہے، اور اگر كوئی شخص آپ كی بہن كو ہوس پرستی كی آگ میں جلنے سے بچانے كے لیے اتنا قیمتی مشورہ دے رہا ہے تو اس كا آپ كو شكریہ ادا كرنا چاہیے نہ كہ اسے دہشت گرد قرار دینا چاہیے۔ رہے نام اللہ كا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ظل الرحمن تیمی

مضمون نگار امام محمد بن سعود یونیورسٹی، ریاض میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور ان دنوں مسجد الحرام مکۃ المکرمہ میں امام حرم کے خطبات کی ترجمانی نیز مکہ میں اردو ریڈیو کی نشریات پر مامور ہیں۔ آپ نئی دہلی میں اپنی طرز کے پہلے اسکول رحیق گلوبل اسكول کے مینیجنگ ڈائریكٹر بھی ہیں جس میں ملت کے نونہالوں کوجدید ٹکنالوجی کے ذریعے عصری و دینی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے۔

متعلقہ

Close