نیشنل کانفرنس: بچہ بچہ جانتا ہے کہ درد کیا ہے کشمیر کا

ابراہیم جمال بٹ

 گزشتہ ماہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے بھارت کی مرکزی حکومت کو کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ اور فریب کی روش ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی حکومتوں کی مسلسل غلطیوں کی وجہ سے ریاست جموں وکشمیر بحران کی نذر ہو گئی ہے، بار بار کی وعدہ خلافیوں سے کشمیری عوام کا بھارت پر سے ہی بھروسہ اور اعتماد ہی اُٹھ گیا۔فاروق عبداللہ کے اس بیان کے نفس ِ مضمون میں اگرچہ صداقت پیوست ہے لیکن خود ان کی اور ان کی جماعت کی عملی سیاست سے یہ باتیں میل نہیں کھاتیں ۔ پوری دنیا واقف ہے کہ جموں وکشمیر کی موجودہ ابتر حالت کی ایک اہم وجہ وقت وقت پر اقتدار کی خاطر خود نیشنل کانفرنس کی سیاسی سودا بازیاں اور سمجھوتے ہیں ۔ نیشنل کانفرنس کے سر پرست فاروق عبداللہ شاید ایسی باتیں کہتے وقت یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ کون سا حسن سلوک روا رکھا ؟ نہ صرف گزشتہ تیس برسوں کے دوران بلکہ اس سے قبل بھی جو کار ہائے نمایاں نیشنل کانفرنس نے کشمیرکازکی بیخ کنی کے لیے انجام دئے ،انہیں یادکر کے کرکلیجہ منہ کو آتا ہے۔

مسلم کانفرنس کو اپنے مفاد ات کا لبادہ اوڑھ کر نیشنل کانفرنس میں بدل دینے کے بعد سے لے کر آج تک نہ صرف اس کی سیاسی بازی گری کے سبب کشمیریوں کا لہوبہتا رہا بلکہ کشمیری عوام کے جان ومال کا زیاں اسی پارٹی کی اصل دین ہے۔ ۹۰عیسوی میں کشمیری نوجوانوں نے کشمیر حل کے لئے ’ ’کرو یا مرو‘ ‘کا راستہ چن لیا تو نیشنل کانفرنس نے ۹۶عیسوی میں اقتدار کی کرسی کے لئے اس راستے کو ’’ٹاسک فورس اور اخوان کلچر‘‘سے لہو رنگ بنادیا ، قبل ازیں واجپائی کے دور اقتدار میں بھارت کی وکالت کے لئے ڈاکٹر صاحب جینوا تشریف لے گئے جہاں کشمیر میں فورسز کے ہاتھوں ا نسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا ملبہ خود مظلومان ِ کشمیر کے سر ڈال دیا۔ کرسی کے اندھا آنکھوں کی پٹی بن کر گجرات میں مسلم کش آپریشن کو بھی ان کی نگاہ ِبصیرت کو کھول نہ سکا۔ سنہ ۲۰۰۹عیسوی اور ۲۰۱۰ عیسوی میں فاروق عبداللہ کے لاڈلے بیٹے عمر عبداللہ نے بہ حیثیت وزیر اعلیٰ وہ خونین یادیں ہمارے ذہنوں میں بھردیں کہ گزشتہ سال محبوبہ مفتی کی سرکار نے جو کچھ کیا، وہ ا سی کا ایکشن رِی پلے لگتا ہے۔ جموں وکشمیر کو آج ’’ملک کشمیر ‘‘کہنے والوں سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ جب نیشنل کانفرنس برسر اقتدار تھی اس وقت ریاست کی انفرادیت اور وسائل کیونکر کوڑیوں کے بھاؤ دلی کے ہاتھ فروخت کردئے گئے؟ کیوں اغیار کو دعوتاً گلے لگاکر اپنی قوم و ملت کا مستقبل تباہی کی نذر کر دیا گیا؟ پچھلے تیس برس کے دوران جب مسئلہ کشمیر کے درد سے پوری دنیا کا دل پسیج رہا تھا، نیشنل کانفرنس نے کون سا ایسا کام کیا جس سے معلوم پڑے کہ یہ حقیقت میں کشمیریوں کی خیرخواہ ہے؟ اس نے تو ہمیشہ کرسی پر نظریں گاڑ کر وہ سب کچھ کیا جو اسے کشمیر کی علاقائی جماعت ہونے کے ناطے کبھی نہ کرنا چاہیے تھا۔ کیا کشمیری کو کشمیری کے ہاتھوں مروانے کے لئے سرکاری چھتر چھایہ میں قائم فر ینڈلی کہلانے والے’’ مسلح نابدیوں ‘‘(بندوق برداروں ) کو اس پارٹی نے اپنے سیاسی اغراض کے لئے استعمال نہ کیا ؟

حالانکہ انہی مسلح جتھوں نے پوری وادی میں قتل و غارت گری اور موت کا تانڈو ناچ کھیل کر ۹۶ عیسوی کے’’ انتخابات‘‘ کا راستہ صاف کیا کہ این اسی برسراقتدار لائی گئی۔ ’’نابدیوں ‘‘ کے سرغنہ ککہ پرے نے اسی وجہ سے اسمبلی میں تلوے دکھا کر بتایا تھا کہ اسی کی مہربانی سے تم لوگ وزارت کی گدیوں پر ہو۔ کیا یہ نیشنل سرکار نہ تھی جس نے’’ گریٹر اٹونومی‘‘ کے نعرے سے لوگوں کو بہلا پھسلا کر حکومت سنبھال کر کبھی’’ گریٹر اٹانومی‘‘ لائی؟ اس نے افسپا ہٹانے کے سبز باغ دکھائے مگر یہ کالا قانون کہیں ہٹا؟ اٹونومی بل نہیں بلکہ قرارداد قانون سازیہ میں اکثریتی رائے سے پاس کر کے بھارت کی مرکز ی حکومت کو بھیج دی جہاں اس کو کھول کر دیکھنے کی بھی کسی کو چٹی بھی نہ پڑی۔ان دنوں عمر عبداللہ واجپائی وزارت میں وزیر تھے، اٹونومی ریزولیوشن کی بے قدری کے باوجود مرکز کے ساتھ این سی نیعمر سے یہ کہا کہ ہم اپنا اعتماد واپس لے رہے ہیں ، آپ سری نگر لوٹ آیئے؟ عمر عبداللہ نے وزارتِ عالیہ سنبھالنے سے پہلے وعدہ یہ کیا تھا کہ میں عوام کو نالی ، سڑک ، پانی ، بجلی، نوکری دوں گا ، کشمیر مسئلہ اس سب سے الگ ہے مگر کیا وہ عوامی خدمت کے وعدے بھول کر کشمیر میں دلی کی نمائندگی نہیں کر تے رہے ؟ ایک موقع پر خودہی اسمبلی میں یہ اعتراف کیا کہ ہم دلی کے یومیہ مزدور ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ این سی کی الحاقی ، اکارڈی،ا نتخابی سیاست کا ہی یہ شاخسانہ تھا کہ کشمیری نوجوانوں نے بندوق اُٹھا لی، ورنہ یہاں کے لوگ پرامن اور جمہوری طور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے محو جدوجہد تھے، جب نیشنل کانفرنس کی سیاسی خودغرضی نے یہاں کے عوام کو خاک اور خون میں لتھڑدیا تو نوجوان بندوق کی جانب مائل ا ور مجبور ہوئے۔

پی ڈی پی اور بی جے پی کی موجودہ مخلوط سرکار نے ہر محاذ پر آج پوری ریاست کے لوگوں کا جینا حرام کررکھا ہے ، لیکن یہ سرکار ہر حیثیت سے کشمیری لوگوں کودبانے والی سرکار آئے دن ثابت ہورہی ہے۔ یہاں ہر روز نوجوانوں کی لاشیں گر تی ہیں ، مائوں بہنوں کی بے عزتیاں ہورہی ہیں ، عوام کے دلوں میں خوف ودہشت کا پہرہ بٹھا دیا گیا ہے، اور حکمران ہے کہ دنیا کو کشمیر کی’’ نارملسی ‘‘دکھانے کے لئے ماضی میں زوبین مہتا شو کی تقلید یہ حکومت عدنان سمیع کے ناچ گانے کا اہتمام کر گئی۔ اس وقت عوام تکالیف ، مشکلات ، بدعنوانیاں اور مہنگائی کی تمام مار یں بیک وقت کھارہے ہیں ، یہ سب کچھ اگرچہ موجودہ مخلوط حکومت کے کارنامے ہیں لیکن ذرا سا گہرائی سے سوچا جائے تو اس قسم کے سیاسی کلچر کی کاشت کاری کا سہرابھی نیشنل کانفرنس کے ہی سر جاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ اس وقت یہ پارٹی اپنی کھوئی ہوئی کرسی کو پھر سے حاصل کرنے کے لئے کشمیریوں سے زبانی زبانی ہمدردی اور کشمیر کاز سے لگاؤ دکھاتی ہے۔ آج یہ کشمیریوں کی جو ’’فکر‘‘ لاحق ہونے کا سوانگ کر تی ہے، اس کے پیچھے کوئی اور چیز نہیں سوائے اپنے اقتداری مفادات کی آبیاری کے۔ جس دن کرسی ان کے ہاتھ میں آجائے یہ وہی زبان بولیں گے اور وہی طریقہ اختیار کریں گے جو موجودہ حکومت بولتی اور اختیار کرتی چلی آرہی ہے۔

یہ ایک کھلاراز ہے کہ نیشنل کانفرنس جب بھی اقتدار سے محروم رہتی ہے تو اسے جموں وکشمیر کی اٹانومی کی یاد بہت ستاتی ہے،لیکن جب یہ سرکار میں آتی ہے تو ’’ اندرونی خودمختاری‘‘ کو بیچ کھاکر آنکھیں بند کر کے دلی کی چاکری کرتی ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے دور حکومت میں ’’آزاد کشمیر‘‘ پر حملہ کرکے اسے بھارت میں شامل کرنے کا بار بار مفت مشورہ دیا اور آج کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر پر بھارت کاکوئی حق نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کا حصہ ہے۔ اس طرز سیاست کو اپنانے سے وہ آج تک کئی بار اقتدار میں آنے کے لیے کامیاب بھی ہو چکے ہیں ۔ مزاحمتی قیادت نے بارہا کشمیر کازکے لئے درد اور ہمدردی دکھانے والے منجھے ہوئے سیاسی کھلاڑیوں سے کئی بارکہا کہ اگر وہ کشمیر حل کے سنجیدہ طور متمنی ہیں تو آیئے کشمیر کا زکی صفوں میں شامل ہوجائے لیکن ا س کے لئے اَگنی پریکشا یہ ہوگی کہ پہلے واپسی کی کشتیاں جلائیں ۔

بہرصورت ماضی کے مقابلے میں آج مسلمانانِ کشمیر میں شخص پرستی کا سحر نہیں چلتا ، آج لوگ سیاست کاروں کو کمنٹمنٹ اور کاکردگی کی بنیاد پر پرکھتے ہیں ،وہ اُن سیاسی شاطروں کی حرکتوں اور سرگرمیوں سے ہوشیار بھی ہیں جن کے ہاں کشمیر مسئلہ ایک انڈسٹری ہے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ کس کی باتوں میں نقلی مٹھاس ہے اور کون اپنے تن من دھن سے برصغیر میں امن وآشتی ، تعمیر وترقی اور خیرسگالی کے لئے کشمیر حل کی راہ میں مصائب اٹھارہے ہیں اور درد سہہ رہے ہیں ۔ لوگوں کو اتنی پیش بینی آتی ہے کہ اٹونومی کے بہلاوے اور زخموں کی مرہم پٹی کے افسانے سے طالع آزما سیاستد ان اپنا کو نسااُلو سید ھا کر نا چاہتے ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کشمیریوں کی انمول قربانیوں اور کشمیریوں کے پاک لہو کا محافظ اور قدردان کون ہے۔ ا س لئے این سی ہو یا اس کے اقتداری جانشین،ا نہیں یہ بات گرہ میں باندھ لینی چاہیے کہ جہلم سے بہت خون بہہ چکا ہے،اس لئے لوگوں کو اب اکیسویں صدی میں بھی سبز رومالوں اور پاکستانی نمک سے بہلایا نہیں جاسکتا۔

آج نیشنل کانفرنس لوگوں کو اپنی باتوں سے پھسلانے کی ایک بار پھر کوشش کر رہی ہے تاکہ وہ برسراقتدار ہو سکے لیکن لوگ آج ان کی ڈرامہ بازی اور مسخرے پن سے اچھی طرح واقف ہیں اور جو کم قلیل اب بھی ان کے گیت گاتے ہیں انہیں بھی اس چیز کا خیال کرنا چاہیے کہ آج تک اس پارٹی نے اصل معنوں میں کشمیر اور کشمیریوں کو کیا دیا۔ پرامن کشمیریوں کو بدامن کشمیریوں میں تبدیل کرنے والی پارٹی اگر کوئی ہے تو یہی نیشنل کانفرنس ہے۔ وقت وقت پر دھوکہ دہی کر کے حکومت کی کرسی پر پہنچنے والی اگر کوئی پارٹی ہے تو وہ صرف این سی ہے۔ اس لحاظ سے منجملہ کشمیریوں کو ہر اس ہتھکنڈے اور مسخرے پن سے ہوشیار رہنا چاہیے جو انہیں بار بار ڈسنے کے لیے وجود میں آچکا ہے۔



⋆ ابراہیم جمال بٹ

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

میں  نے اپنا جنازہ پڑھوا لیا

الحمد للہ یہ جنازہ میری زندگی کا ایک ایسا جنازہ تھا جس نے میری آنکھیں  کھول کر رکھ دیں ۔  مجھے اس بات کا احساس ہو گیا کہ جنازہ نہ صرف نماز ہے بلکہ یہ ایک زندہ پیغام ہے ان لوگوں  کے لیے جن کی مہلت زندگی ابھی باقی ہے۔ کاش ہم اس سبق کو یاد رکھتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے