ہندوستان

وادی میں امن کی بحالی کے لئے محبوبہ اور مودی سے کچھ سوال

ڈاکٹراسلم جاوید

اس سے پہلے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے امکانات اوروادی میں بحالی امن کی توقعات پر گفتگو کی جائے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جنت ارضی کی تازہ صورت پرروشنی ڈالی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہکشمیر میں اتوار کو مسلسل 51 ویں دن بھی کرفیو اور پابندیوں کا افسوسناک سلسلہ جاری ہے۔ وادی میں 9 جولائی سے جاری تشدد میں اب تک 71 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جس میں 68 شہری جبکہ تین پولیس اہلکاربھی شامل ہیں۔ مختصر یہ کہ کافی تگ دو کے بعد حالات پہلے کے مقابلے بڑی حد تک قابو میں آ رہے ہیں۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ صرف اننت ناگ ضلع میں ہی کرفیو لگا رہے گا جبکہ سی آر پی سی (تعزیرات ہند) کی دفعہ 144 کے تحت سرینگر سمیت وادی کے باقی ماندہ حصہ میں حکم امتناعی نافذ رہے  گا۔ ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ مسلسل ڈیڑھ ماہ سے سناٹوں میں گھرے ہوئے سرینگر میں چہل پہل لوٹ رہی ہے اور پابندی کے باوجود سڑکوں پر نجی گاڑیاں اورآٹوز دیکھے جا رہے ہیں۔ جس سے امید کی جاسکتی ہے کہ اب امن کے دشمنوں کی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی اور نہ پڑوسی ملک کے اکساوے پر ریاست کے عوام کان دھرنا پسند کریں گے۔ جموں اینڈکشمیر میں تشدد کے اس جاں گسل حالات  میں سب سے زیادہ خراب صورت حال یہ ہے کہ اسکول بند رہنے کی وجہ سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وادی میں کاروبار پر بھی اس کا منفی اثر پڑا ہے۔ اب تک 7,500 کروڑ روپے کے کاروبار کو چپت لگ گئی ہے۔ جبکہ تقریباً 6500 پولیس جوان، 4000 عام کشمیری زخمی ہیں۔ جوانوں کی جانب سے پیلیٹ گن کی 3 ہزار سے زیادہ کارتوس چلائی گئیں، جس سے 400 لوگوں کی آنکھیں متاثر ہوئیں۔ ان میں سے بیشتر لوگ ہمیشہ کیلئے بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ باقی متاثرین علاج کی کمی کے باعث آسمان کی جانب گردن اٹھائے کسی غیبی مددکی آس میں ٹکٹکی باندھے ہوئے ہیں۔ دریں اثنا علیحدگی پسندوں نے یکم ستمبر تک کے لئے ہڑتال کا کیلنڈر جاری کر دیا ہے۔ لیکن ان تمام اشتعال انگیزیوں کے درمیان امن کے لئے سیاسی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ کل ملاکر وادی جنت نظیر میں اگرچہ علیحدگی پسند اور ریاستی حکومت سمیت فوج کا مثلث تنگ آ کر یہ کہنے لگا ہے  کہمسئلہ کا حل مثبت اور تعمیری بات چیت سے نکالا جانا چاہئے۔ مگر علیحدگی پسندوں کے تعلق سے اگرریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو کئی قسم کے سوال ہن و فکر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ کل نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے مسئلہ کشمیر پر 45منٹ تک تبادلۂ خیالات کے بعد انہوں نے جو بیان دیا ہے اس سے راست طور پر یہی انداہ ہوتا ہے کہ محبوبہ مفتی ریاست کے مسموم ماحول کو بر قرار رکھنا چاہتی ہیں۔ ان پر یہ الزام اس لئے جارہا ہے کہ انہوں ابھی بدھ کے رو زہی سری نگر میں ویر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد کہاتھا کہ وادی کے 95فیصد لوگ امن و امان اور سلامتی کے خواہشمند ہیں، صرف 5فیصد لوگ نہیں چاہتے کہ سرزمین جنت نظیر میں قیام امن کی کوششیں کامیاب ہونے پائیں۔ یہ پانچ فیصد کون لوگ ہیں جن کی جانب محبوبہ مفتی اشارے کررہی ہیں۔ بادی النظر میں تو ایساہی لگتا ہے کہ محبوبہ کے ذریعے سیاسی حریف اورحزب اختلاف کی جماعتوں اور اس کے نمائندوں، علیحدگی پسند لیڈران اوراپنے روایتی مخالفین کی کی گردنیں ناپنے کا شاید الارم دیا جا رہا ہے اور اس کی ابتدا علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی کی گرفتاری سے ہوچکی ہے۔

آ گے دیکھئے !اب کن کن سیاسی حریفوں اورسیاسی وسماجی نمائندوں کی گرفتاری عمل میں آ تی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسی انتقامی ذہنیت کے ساتھ قیام امن کی کوششیں کسی بھی حالت میں بارآ ورنہیں ہوسکتیں۔ یہ وقت وادی کے عام لوگوں کی قابل رحم حالت پر مرہم رکھنے کا ہے، نہ کہ زخموں پر نمک چھڑکنے کا۔ وادی کا خوشحال طبقہ جو رسہ کشی کے دوران ملک کے دیگر سیاحتی مقامات کی سیر کیلئے اپنے اہل خانہ کے ساتھ نکل پڑتا ہے اورحالات معمول پر آ نے تک واپس نہیں لوٹتا۔ اس کے برعکس جنگی صورت حال کاسا منا جس کمزور اورپسماندہ طبقہ کو جھیلنا پڑتا ہے۔ اگر اسی طبقہ کے درد اور تکالیف کیخلاف کوئی جرأ تمندصدائے احتجاج بلند کرتا ہے تو اس کا شمار بھی اسی5فیصد لوگوں میں ہوگا، جنہیں محبوبہ مفتی کشمیر کے حالات بگاڑ نے کا محرک مانتی ہیں۔ ابھی دورز پہلے ہی اقوام متحدہ اورامریکہ نے حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ مسائل کا حل بات چیت سے نکالاجائے اور بلااستثنا تمام گروپوں کو بات چیت کی میزپر آ کر صلح صفائی اورقیام امن کی کوشش کرنی چاہئے۔ بہرحال اس وقت محبوبہ مفتی نے جو ہٹ دھرمی اختیار کررکھی ہے اس کے مطابق کسی بھی ایسے لیڈر کو جس کا تعلق پی ڈی پی۔ بی جے پی کے علاوہ کسی دوسری جماعت کے لیڈروں سے ہے ان کو بات چیت کیلئے قریب آ نے کی دعوت نہیں دی ہے۔ الٹا ان کیخلاف قانون وانتظام اور پولیس دستہ کے ذریعہ کارروائی کرائی جارہی ہے۔ ایسے یہ مانا جائے کہ مرکز ی حکومت اور محبوبہ مفتی عوام کی تکلیف سے صحیح معنوں میں نہیں کراہ رہی ہے، بلکہ اپنی اناکی تسکین کا سامان کررہی ہیں۔

آج تشدد اورگولی باری کی کارروائی کا51واں دن ہے اورحالات بالکل بے قابو نظر آ رہے ہیں۔ اس بارود زدہ ماحول میں ریاست کے غریب و مزدور طبقہ پر کیا بن رہی ہوگی، مہنگائی اور بے روزگاری نے ان پر کیسا ستم ڈھایا ہوگا، اس کی ترجمانی لفظوں میں ممکن نہیں ہے۔ کل ویر اعظم کے ساتھ خصوصی ملا قا ت میں مودی کو واجپائی کا مشن کشمیر اپنانے کی صلاح دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے واضح کیا کہ کشمیر میں امن و اعتماد بحال کرنے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے مذاکرات اور مفاہمت کا عمل نا گزیر ہے۔ محبوبہ مفتی نے مسئلہ کشمیر کو عصر حاضر کے جغرافیائی سیاسی حقائق کی روشنی میں حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا  کہ اس مقصد کیلئے کشمیری علیحدگی پسندوں اور پاکستان سمیت تمام متعلقین کے ساتھ فیصلہ کن مذاکرات سے نکالا جانا چاہئے۔ محبوبہ مفتی نے جموں وکشمیر میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کیلئے مسئلہ کشمیر کے حل کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے پاکستان کو کشمیری نوجوانوں کو تشدد کیلئے اْکسانے سے باز رہنے کی اپیل کی ہے۔ یہاں یہ اس سوال کا جواب بھی ضروری ہے  کہ کسی دشمن طاقت کے ذریعہ اکساکر برانگیختہ کئے گئے کشمیری نوجوانوں کی دلجوئی اوراعتماد قائم کرنے کیلئے محترمہ محبوبہ مفتی یا ان کی حلیف جماعت بی جے پی نے کیا قدم اٹھائے ہیں یہ سامنے آنا چاہئے۔ ورنہ دنیا یہی سمجھے گی کہ آپ کو اپنی قوم سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، اگرآپ عوام کے ساتھ ہمدردی کا برتاؤ کریں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ دشمن ملک ریاست کے نوجوانوں کو اکسانے یا گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ اس کے برعکس محبوبہ مفتی کے اس بیان سے یہی پیغام جائے گا کہ وہ اپنے مظالم پرپردہ ڈالنے کیلئے دشمن ملک کو کوسنے میں ہی عافیت محسوس کررہی ہیں۔ یہاں محبوبہ مفتی کو پاکستان کی ناپاک حرکت پر برہمی ظاہر کرنے کے ساتھ یہ بھی بتا نا چاہئے کہ انہوں نے اپنی ریاست کے نوجوانوں اور عوام کا دل جیتنے کیلئے کون کون سے پروگرام مرتب کئے ہیں۔ مسائل کے حل  کیلئے بات کرنے سے پہلے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ وہ کیا مسائل ہیں جس نے کشمیریوں کو تقریباً دوماہ سے مشتعل کررکھا ہے۔ دہلی اور اس سے پہلے سری نگر میں بھی وزیرا علیٰ نے حریت لیڈروں کو مذاکرات کیلئے آگے آنے کا مشورہ دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ تشدد سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور مسائل کے حل کا پر امن راستہ صرف مذاکرات ہے۔ مگر جب تک اصل مسئلہ کو واضح نہیں کیا جاتا اس وقت تک اس قسم کی باتوں کو صرف ’جملے بازی‘ سے ہی تعبیر کیا جائے گا۔ محبوبہ مفتی نے کل ہی کہاتھا کہ وزیر اعظم مودی کشمیر میں امن وامان کی صورتحال بحال کرنے اور کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے جراتمندانہ اقدامات اٹھائیں گے۔ محبوبہ مفتی نے وزیرا عظم نریندرا مودی کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے مشن کشمیر کو اپنانے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مذاکرات اور مفاہمت کی رسی کو وہاں سے ہی تھامنا ہوگا جہاں اس کو 2005میں چھوڑا گیا تھا۔ اگر صحیح معنی میں ارادہ نیک ہے تو مذاکرات سے پہلے جیلوں میں قید تمام حریت رہنماؤں اور طلباء کی رہائی ناگزیر ہے۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ کشمیری عوام یا علیحدگی پسند گروہ بھی پاکستان کا حامی نہیں ہے۔ کل ہی ایک علیحدگی پسند لیڈر نے یہ بات کہی ہے کہ قیام امن کیلئے  ریاستی عوام کے ساتھ کئے ہوئے حق خود ارادیت کے وعدے کو پورا کیاجائے اور ہند پاک دونوں ممالک ریاست کے دونوں خطوں سے فوجی انخلاء شروع کریں۔ یاد رہے کہ تشدد یا خونریزی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے حکومت ہنداورریاستی سرکارکو عوام کا دل جیتنے والے پروگرام مرتب کرنے ہوں گے، تب جا کر حالات معمول کی جانب لوٹ سکیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

متعلقہ

Back to top button
Close