ہندوستان

وادی کشمیر: نظام زندگی مفلوج

راحت علی صدیقی قاسمی 
خوبصورتی رعنائی وزیبائش و دلکشی کی حسیں تصویر کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع وادی کشمیردنیا کے سب سے زیادہ خوبصورت خطوں میں سے ایک ہے۔   اونچے پہاڑ،    گرتے جھرنے،   بہتے دریا،   سرسبزوشاداب ہرے بھرے دلکش باغات،   آنکھوں کو خیرہ کرنے والے ذہنوں کو حیرت واستعجاب میں غوطہ زن کرنے والے مناظر فطرت ومظاہر قدرت،   کشمیر کی پہچان ہیں یہ وادی ہندوستان کے حسن مین دوبالگی عطا کرتی ہے اسے وقار بخشتی ہے اور دنیا بھر میں اس کے حسن کا چرچا اور شہرہ ہے۔ اس تعارف سے ذہنوں میں یہ بات پیدا ہوتی ہے کہ یہاں ہزاروں سے زیادہ غیر ملکی افراد کا بسیرا رہتا ہوگا۔ اس کی خوبصورتی کو تصویروں میں قیدکرکے وہ اپنوں کو دکھاتے ہوں گے۔ ہمیشہ سیاح آتے ہوں گے۔ وادی کے حسن سے لطف اندوز ہوتے ہوں گے۔ خیالات کی دنیاتویہی کہتی ہے مگر حقیقت کچھ اوربیاں کرتی ہے اور حقائق کی گویائی آبدیدہ کرنے والی ہے، آنکھوں سے آنسوں کی بارش کرانے والی ہے، وادی کے حالات واقعات بدتر ہیں، خون انسانی سے زمین سرخ ہے گولیوں کی آوازوں سے بچے سہمے ہوئے ہیں، نوجوانوں کی لاشوں پر ماتم کرتے والدین مایوسی کی تصویر بنی خوبصورت و حسین دوشیزائیں اپنے سہاگ کی راہ دیکھتی سفید لباس میں ملبوس عورتیں پتھر کی مورت محسوس ہوتی ہیں، معصوم بچوں کی لاشیں دیکھ کر زندہ لاش بنی مائین حسرت ویاس سے پھٹی بوڑھوں کی آنکھیں عرصۂ دراز گذر چکا دنیا کا یہ خوبصورت علاقہ ان خوفناک حالات سے متاثرہے۔ موسمِ بہارمیں بھی کشمیریوں کوبادبہاری نصیب نہیں، باد صبا بھی ان کے لئے باد سموم ہے، امن سکون کے حالات ان لوگوں کو کم ہی نصیب ہوتے ہیں، کوئی نا کوئی واقعہ وادی کو سلگا دیتا ہے اور یہاں وحشت و بربریت کا وہ خوفناک کھیل ہوتا ہے کہ انسانیت شرمسار ہوجاتی ہے۔ اب پھروادی کے حالات انتہائی نازک ہیں۔ برہان وانی 8 جولائی کو پولس انکاونٹر میں مارا گیا۔ اس کے بعد پوری وادی میں شعلے بھڑک اٹھے فضاوں میں دھوئیں کی آمیزش ہوگئی، آسمان گرد آلود ہوگیا، عوام نے مظاہرہ شروع کئے اور پھر شروع ہوا فوجیوں کی طرف سے ظلم وبربریت وتشدد کا خونی کھیل جو رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔  45افراد دنیا سے رخت سفر باندھ چکے3500 افراد زخمی ہیں۔ اعداد و شمارے ظاہر کررہے ہیں حالات کی سنگینی وحشت و دہشت کس درجہ ہے اور سوشل میڈیا پروائرل ہورہی دردناک تصاویر قلوب کوبے چین کررہیں۔ اکثر تصاویر میں واضح ہورہا ہے کہ گولیوں سے آنکھیں خراب ہوگئیں چہروں پر داغ ہیں یہ کیسا طریقہ کیسا ضابطہ اور کیسا قانون ہے جس میں اپنوں کی آنکھیں پھوڑی جارہی ہیں، چہرے بے نور کئے جارہے ہیں،   ماحول سازگار کرنے کے نام پر نوجوانوں اور معصوموں کو قتل کیا جارہا ہے۔  10دن گذر چکے ان حالات سے لڑتے کشمیریوں کے لئے کوئی خوش آئند خبر آتی نظر نہیں آرہی ہے اخبارات شائع نہیں ہوئے ذرائع ابلاغ پرپابندی ہے، پورے علاقے میں خوف وہراس کے بادل چھائے ہوئے ہیں، کوئی مضبوط حکمت عملی کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے بنائی یا اس پر عمل کیا ہو ایساکچھ بھی محسوس نہیں ہورہا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم تو صرف انتخابات کی ریلیوں میں بولتے ہیں سارا درد و غم وہیں سمیٹ لیتے ہیں اور تمام تر خوشیان بانٹ دیتے ہیں۔ اس کے بعد کیوں جائے اس نگری میں جہاں انتخاب نا ہو۔ ملک بدل رہاہے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ کیا کشمیر ملک کا حصہ نہیں ہے؟ کیا وہاں بدلاؤکی ضرورت نہیں ہے؟ کیوں45 نہتے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیاگیا؟ حالات کو بہتر کرنے کے لئے برستی گولیوں کے علاوہ کوئی اور طریقۂ کار نہیں ہے؟ ان سے گفت وشنید نہیں کی جاسکتی؟ کیا وزیراعظم وہاں جاکراپنا موقف بیان نہیں کرسکتے اور ان کا موقف دریافت نہیں کرسکتے؟ کیا شوشل میڈیا کے ذریعہ بھی وزیر آعظم ان کا درد نہیں بانٹ سکتے؟ کیا گولیاں ہی کشمیریوں کا مقدر ہیں؟
محبوبہ مفتی دس دن سے کہاں سوئی ہوئی ہیں؟ ان کے کان پر جوں کیوں نہیں رینگی۔ اب تک ان کی جانب سے کو تدبیر کیوں بیان نہیں کی گئی؟ معصوم شہریوں کا بہتاخون بھوک سے بلبلاتے بچے انہیں نظر نہیں آرہے؟ آخر انسان کی اہمیت ووقعت سے بڑھ کربھی کچھ ہے؟ یہ بات ہمارے سیاسی رہنماوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی؟ جب کہ ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی حادثہ ایسانہیں جہاں پولیس اہلکاروں نے اتنے افراد کو قتل کردیا ہو اور اس طریقہ پر امن بحال کیاگیاہوز ریزرویش کے نام پر جاٹوں نے حیوانیت کا ننگا ناچ کیا، کروڑوں کانقصان حکومت نے برداشت کیا، اجتماعی عصمت دری و بدکاری کے واقعات بھی تاریخ کے صفحات پر رقم ہوئے ہیں اور گجرات میں پٹیلوں نے نظام زندگی کومفلوج کیا مگر کوئی سینہ یا چہرا تاریخ ایسا پیش نہیں کرتی جس پرپولیس کی گولیوں کے نشان ہیں۔ کوئی آنکھ ایسی نہیں جو فوجی جوان کی بندوق سے نکلی گولی نے خراب کی ہے ۔جاٹوں سے بات کی گئی، انہیں منانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ پھر یہ طرز کشمیر میں کیوں نہیں؟ ہمیں یہ جان لینا چاہئے شدت سے ملک توفتح کئے جاسکتے ہیں قلوب پر فتح حاصل نہیں کی جاسکتی۔ اگر قلوب کو جیتناہے تو پیار محبت ہمدردی وغمگساری کے اوصاف کا اظہار ضروری ہے۔ ہمارے وزیرداخلہ کہ رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت کی یہ سازش ہے، ہم اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور محبوبہ بھی اس سلسلہ میں میٹنگ طلب کررہی ہیں۔ تمام پارٹیاں تشویش کا اظہار کررہی ہیں۔ دردمند دل رکھنے والے افراد غم واندوہ میں ڈوبے ہوئے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد یکساں طور اس تکلیف کومحسوس کررہے ہیں، مگر سوال تو یہ پیدا ہورہا ہے یہ جو کشت و خون کی ندی بہ رہی ہے اس کے خاتمہ کے لئے آپ نے کیا کیا؟ جملوں سے ملک نہیں چلتا، من کی بات سے ترقی کے دروازے نہیں کھلتے،  اسفار کی کثرت سے ملک نہیں چلتا بلکہ صحیح حکمت عملی جس کوزمینی سطح پر خوبی سے انجام دیا جائے تو ملک ترقی کرے گا۔ کشمیر میں بھی اسی طرح ٹھوس اور بہتر حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ وادی میں زندگی گذارنا ممکن ہوسکے، انسانوں کو ان کے حقوق میسر آئیں، خوف ودہشت سے آزادی ملے، ظلم و جور سے نجات ہو۔ اب دیکھنا ہے ہمارے رہنما ملک کے اس حصہ کی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں یا نہیں اور وادی میں کب تک نظامِ زندگی بحال ہوتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close