ہندوستان

والی کے رشتہ سے بھتیجا منور رانا – (تیسری اور آخری قسط)

حفیظ نعمانی

 میں منور کے اشعار یا غزلوں پر کچھ لکھوں تو ہر ناقد یہ کہہ دے گا کہ غزل کے بارے میں حفیظ کی رائے کی کیا حیثیت؟ لیکن اگر ڈاکٹر ملک زادہ کہیں گے تو بڑے سے بڑے ناقد کو گردن جھکانا پڑے گی، اس لیے کہ جس شخص کا نام ملک زادہ تھا اس سے بڑا غزل کا پارکھ دوسرا اگر کوئی ہوسکتا ہے تو انور جلال پوری ہوسکتے ہیں، ملک زادہ منور کے ۱۲ مختلف شعر نقل کرکے کہتے ہیں کہ ’’آپ منور رانا کا کوئی شعر غیر فطری لب و لہجہ کا نہیں پائیں گے، ان کی فن کاری، بندش الفاظ کے نگینے جڑنے والوں اور کاریگرانِ شعر کی فن کاری نہیں ہے، بلکہ وہ بے ساختہ دل کی بات بغیر کسی تصنع اور تکلف کے زبان پر لاتے ہیں اور یہی سادگی اور خلوص سننے والوں کے دلوں میں اتر جاتا ہے۔ ‘‘

 اس کے بعد پھر ۱۰ شعر نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ موضوعات کا یہ اچھوتا کنواراپن، اس کے ساتھ بے تکلفی کے ساتھ برجستہ انداز میں انہیں نظم کردینے کا فن منور رانا کا امتیازی کارنامہ ہے جس کی مثالیں ان کے معاصرین میں کم ملتی ہیں۔

 اس کے بعد ملک زادہ صاحب نے وہ کہا ہے جس کی اردو غزل کی دنیا میں کوئی تردید نہیں کرسکتا، فرماتے ہیں :

 ’’مذ ہبی اکابرین نے ماں کی تقدیس میں اور عظمت کے بارے میں چاہے جو کچھ بھی کہا ہو، مگر میں بلا جھجھک کہہ سکتا ہوں کہ اردو غزل میں ابتدا سے آج تک ماں کے موضوع پر کسی شاعر نے اتنا نہیں کہا ہے جتنا منور اپنے مختصر سے شعری سفر میں کہہ ڈالا ہے۔ ‘‘

 میں نے غزل کے پارکھوں میں دوسرا نام انور جلال پوری کا لیا ہے، وہ ڈاکٹر ملک زادہ کے شاگرد بھی ہیں ا ور نظامت کے فن کے خلیفہ بھی، اپنی نوجوانی اور رندی کے دور میں لکھتا تو بے تکلف لکھ دیتا کہ دونوں مشاعروں کی جان ہیں، اگر فرق ہے تو بس ایسا جیسا فلمی گانے والے رفیع اور مکیش میں تھا۔

 انور نے اپنے مضمون میں منور کے 77بہت اچھے شعر نقل کیے ہیں، اور اعتراف کیا ہے کہ تھوڑی سی محنت اور کروں تو تعداد بہت بڑھ جائے گی، وہیں یہ بھی لکھتے ہیں کہ منور رانا کے اندر چھپے ہوئے حیر ت انگیز صلاحیت رکھنے والے شاعر کو کبھی کسی استاذ کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اس کے باوجود انھوں نے حضرت والیؔ آسی کو اپنا استاذ تسلیم کیا اور استاذی اور شاگردی کے اس رشتہ کو انھوں نے عمر بھر نبھایا، شروعاتی دور میں ایسا محسوس ہوتا رہا جیسے منور راناؔ کی شاعری پر والیؔ آسی کے اسلوب کا سایہ ہے، لیکن بہت جلد منور رانا نے لوگوں کی اس سوچ کے دائرے سے باہر نکال لیا، والیؔ آسی کی چھاپ سے خود کو الگ کرلینا بھی منور رانا کی ذہانت کا ثبوت ہے، منورنے اتنی جلد اپنے لہجے کی شناخت بنائی کہ نئی نسل ان کے شعری اسلوب کی دیوانی ہوگئی۔

 منور راناؔ کی نثر بھی اپنے رنگ میں منفرد ہے، وہ جس مضمون میں مترادفات کی بوجھار کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اے کے 47 سے الفاظ اولوں کی طرح گررہے ہیں، یہ کسی ایک یا دو چار مضمون میں نہیں، میں نے ان کے شاید پچاس سے زیادہ مضمون پڑھے ہیں، ہر مضمون کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے پاس الفاظ کا ذخیرہ بھی ہے اور دفینہ بھی، وہ جن باتوں کو ۲۵ سطروں میں کہنے پر قادر ہیں وہ باتیں میں یا کوئی دوسرا ۵ سطروں میں لکھتا ہے، فرق یہ ہے کہ میں اگر انھیں ۵ سطر کی باتوں کو ۲۵ سطروں میں لکھنا چاہوں تو نہیں لکھ سکتا، لیکن منور رانا اپنی ۲۵ سطروں کی بات کو ۵ سطر میں لکھ سکتے ہیں، اور یہی چیز انھیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔

 الفاظ کے معاملات میں اپنا اپنا ذوق ہوتا ہے، حضرت مولانا علی میاں کے مضامین میں بھی مترادفات خوب استعمال ہوتے رہے ہیں، اور ان کے ہم عصروں میں اکثریت ان کی ہے جو یا تو مترادفات سے مزین اپنی عبارت کو کر نہیں پاتے یا کرتے نہیں، ہو سکتا ہے کہ منور بھی کسی کی تقلید کرتے ہوں لیکن کس کی یہ میری نظر میں نہیں ہے۔ میں نے اپنی مطالعہ کی عمر میں ایسی حسین مترادفات سے مزین نثر نہیں پڑھی، منور کسی کی شان میں قصیدہ لکھیں، یا کسی کی کھال ادھیڑیں، کسی کے غم میں خود بھی روئیں یا کسی واقعہ کی منظر کشی کریں، ان کی تحریر پر نظر پھسلتی چلی جاتی ہے جس کا ذائقہ ہی کچھ اور ہے۔

 لکھنے والوں کے قلم سے ایسے جملے بھی نکل جاتے ہیں یا وہ سوچ کر جملہ سازی کرتے ہیں جنھیں لوگ نقل کرکے رکھ لیتے ہیں، لیکن یہ صرف منور کے ہاں ہی دیکھا کہ جن (۳۳) اہل علم نے منور کی نثر پر خامہ فرسائی کی ہے، ان میں سے تقریباً ہر ایک نے ان کے اقتباسات سے اپنی تحریر کو سجایا ہے اور وہ دو چار نہیں ا ن کے قابل ذ کر اشعار کی طرح درجنوں ہی سفید جنگلی کبوتر بغیر نقشے کا مکان، چہرے یاد رہتے ہیں اور ڈھلان سے اترتے ہوئے پڑھے، تو محسوس ہوگا کہ ایک ضخیم کتاب کے چار حصے ہیں، اس لیے کہ ان کو پڑھ کر یہ اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ یہ الگ الگ موضوعات کی تین کتابیں ہیں، اورکتاب کا کیا ذکر منور کی گفتگو ان کی غزل اور ان کی نثر میں اتنی ہم آہنگی ہے کہ ہر سطر میں منور رانا کی تصویر محسوس ہوتی ہے۔

 منور جو بھی ہیں وہ کسی کے بنائے ہوئے نہیں ہیں، اور میں نہیں مانتا کہ کوئی کسی کو ایسا بنا سکتا ہے، اگر کوئی بناتا ہے تو وہ کون ہے، اور اگر ہے تو اس نے دوسرا منور کیوں نہ بنادیا ہے؟ یہ صرف منور کی لگن اور پاک پروردگار کا عطیہ ہے کہ ان کا گھر انہ عالموں اور ادیبوں اور نہ شاعروں کا گھر اور قریب کے عزیز سب پاکستان جا بسے، والد نے ٹرک کو ذریعۂ معاش بنالیا، منور ایم اے یا پی ایچ ڈی تو کیا بی اے میں بس داخل ہو کر واپس آگئے، اس کے بعد آج ان کی شخصیت اور ان کے کلام پر اگر لڑکے تحقیق کرکے ڈاکٹر بن رہے ہیں تو اسے فضل ربی کے علاوہ دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔

 میرا تعلق اس خانوادے سے ہے جنھیں لوگ وہابی کہتے ہیں اور یہ بھی کہ یہ لوگ کسی بات کو نہیں مانتے، لیکن یہ بہتان ہے، ہم نظر کو مانتے ہیں لیکن نذر کو نہیں مانتے اور نہ جانے کیوں مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ منور کی نظر لگ گئی ہے اور لگنا بھی چاہیے کہ ان کے ہم عصروں میں دوسرا کون ہے جس کے بارے میں کسی مشاعرہ میں ملک زادہ نے کہا ہو کہ، اب میں ایک ایسے شاعر کوزحمت دینے جارہا ہوں جس نے شاعری کو نئے نئے عنوانات سے اور بات اتنی ہی کہی تھی کہ مجمع چیخ پڑا، منور رانا منور رانا، یہ صرف اشارہ ہے، ورنہ کبھی نہیں سنا کہ منور مائک پر آئے اور سامعین نے سننے سے انکار کردیا ہو۔

 رہی خود بننے کی بات تو ایسے نہ جانے کتنے ہیں کہ وہ خود ساختہ ہیں، لیکن منور کی خصوصیت یہ ہے کہ ٹرک کے پہیوں کی آواز کے شور میں وہ شعر بھی کہتے رہے اور نثر بھی، ذہن میں لکھتے رہے، ان کا یہ کہنا کہ یہ سب الہام ہے غلط نہیں ہے، ان کا ہر شعر بول رہا ہے کہ اسے بنایا نہیں گیا، بنا ہوا نازل ہوا ہے، حضرت جگرؔؔ حج کو جاتے وقت اپنی ۶ ڈائریاں مجھے دے گئے تھے کہ  اگر مولامجھے قبول کرلے تو یہ آل احمد سرورؔ کو بھجوادینا، میں نے گناہ کیا کہ انھیں دیکھ لیا، میں نے محسوس کیا کہ الہام بھی ہے اور بعد میں اس پر محنت کرکے سنوارا بھی گیا ہے، اور اضافہ بھی کیا ہے اور کاٹا بھی گیا ہے، غالب کو پڑھئے تو اس میں بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر منور نے اسے لکھنے کے بعد سنوارا ہو تو غلط کیا ہے، لیکن اکثر شعر ایسے محسوس ہوتے ہیں اور اکثر پیراگراف بھی ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ قلم کا دخل بہت کم ہے، ’’تین شہروں کا چوتھا آدمی منور رانا‘‘ کے ایک ہزار صفحات میں میاں نوشاد مومن اور سنجرہلال بھارتی نے منور کو پوری طرح سمودیا ہے اور یہ کارنامہ مبارک باد کے قابل ہے۔

نوٹ:   ۱۸؍ اگست کے مضمون میں کمپوزنگ کی غلطی کی وجہ منور رانا کا ایک مشہور شعر غلط شائع ہوگیا تھا، ادارہ اس غلطی کے لیے منور رانا سے معذر ت خواہ ہے، اصل شعر یوں ہے:  ’’مہاجرو! یہی تاریخ ہے مکانوں کی… بنانے والے ہمیشہ برآمدوں میں رہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close