ہندوستان

والی کے رشتہ سے بھتیجا منور رانا – (دوسری قسط)

حفیظ نعمانی

                ہر کسی کا مزاج اللہ تعالیٰ نے الگ بنایا ہے، بعض انسان وہ ہوتے ہیں جو ہاتھ کے ہاتھ حساب برابر کردیتے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ برسوں تلوار پر دھار رکھتے رہتے ہیں اور اسے ایسا کردیتے ہیں کہ قتل ہونے والے کو بھی کہنا پڑتا ہے کہ  ع  تم قتل کرو ہو کہ کرامات کروہو۔

                مجھے ایسا لگا جیسے منور نے لگ بھک تیس برس کے پرانے میرے ان جملوں کا جواب دیا ہے جو میں نے منور سے پوچھے بغیر کہلائے تھے کہ ’’اگر اللہ نے دولت سے نوازا ہے اور تفریح کرنے کو جی چاہ رہا ہے، الخ‘‘ اور یہ احساس اس لیے ہوا کہ ’’تین شہروں کا چوتھا آدمی منور رانا ‘‘ نام کی کتاب کا ہر مضمون پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ’’ …منور کو پیرس جانے اور اخبار نہ نکالنے کا مشورہ‘‘۔

                اس کتاب میں (۱۲۰) ادیبوں، شاعروں اور دانش وروں نے کہا ہے کہ منور رانا صرف آج کا بہت بڑا شاعر ہی نہیں بلکہ منفرد نثر نگار بھی ہے، میں نے منور کے شعر تو بہت سنے تھے ان سے بھی اور والیؔ سے بھی جنھیں وہ اپنا استاذ کہا کرتے ہیں، لیکن نثرکی پہلی کتاب ’’سفید جنگلی کبوتر‘‘ پڑھی، اور مجھے یہ اعتراف کرتے ہوئے والیؔ کی طرح خوشی ہورہی ہے جو کہا کرتے تھے کہ حفیظ بھائی ’’منور اب مجھ سے اچھے شعر کہہ رہا ہے، اور اب میں کہہ رہا ہوں کہ منور میرے مقابلہ میں بہت اچھا نثر لکھ رہا ہے۔

                میں اسے آورد کہتا اگر میں نے اس کا وہ انٹر ویو نہ پڑھا ہوتا جو گیا سے نکلنے والے ایک ادبی رسالہ سہیل کے ایڈیٹر جمیل منظر کو اس نے دیا تھا، اور جو پیش نظر کتاب کے ۲۷ صفحات میں آیا ہے، یہ ۱۹۸۲ء کی بات ہے جب منور کی عمر ۳۰ سال تھی، اس انٹرویو میں اگر چند جملے ایسے نہ ہوتے جو اس کی غمازی کررہے ہیں کہ یہ لکھ کرنہیں بول کردیا ہے تو شاید مجھے بھی یہ تسلیم کرنے میں تکلف ہوتا کہ یہ تحریر ہی نہیں تقریری انٹرویو ہے۔

                میں نے بلا مبالغہ سیکڑوں کتابیں پڑھی ہوں گی، وہ ہزاروں بھی ہوسکتی ہیں، اس لیے کہ ۱۰ سال کی عمر سے پڑھنے کا شوق ہے، اور بڑھاپے میں سب سے بڑا محسن سرور جاوید کسانہ حوم کو سمجھتا ہوں جو مدینہ سے جب ریٹائرہوکر کراچی آئے تو وہاں سے وہ ہر آنے والے کے ہاتھ پاکستانی ادیبوں اور سیاسی مبصروں کی کتابیں بھیج دیا کرتے تھے، ان کے علاوہ ہر اس دوست کا احسان مند ہوں جس نے تحفہ میں کتاب دی، لیکن ایک جلد کی ضخیم اور وزنی کتابوں میں آگ کا دریا، شہاب نامہ پڑھا تھا اور جو تین شہروں کا جو آدمی ہاتھ میں آئی تو میں اسے لے کر اپنی مرحومہ بیوی کی طرح لپٹ گیا، ماشاء اللہ ایک ہزار صفحات کی اچھے کاغذ، حسین طباعت اور 120عطیات سمیٹے ہوئے یہ کتاب اتنی وزنی ہے کہ میں گود میں لے کر نہیں پڑھ سکتا تھا، کتاب میں 87تو وہ ہیں جنھوں نے منور کی شاعری پر دل کھول کر داد دی ہے اور 33اہل علم وہ ہیں جنھوں نے منور کی نثر پر تبصرہ کیا ہے۔

                منور کے بارے میں والیؔ آسی نے جو منور کو شاگرد نہیں چھوٹابھائی اور دوست کہتے تھے جو کچھ لکھا ہے، اس کا لہجہ اور انداز وہی ہے جو ایک محبت کرنے والے بڑے کاہوتا ہے، وہ اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :

                ’’میں نے منور کی (پہلی )غزل بے دلی کے ساتھ سننا شروع کی لیکن جیسے جیسے غزل آگے بڑھتی چلی گئی میں اپنی رائے بدلتا چلا گیا، میں نے اس نوجوان سے ایک اور غزل کی فرمائش کی، اس نے جب یہ شعر پڑھا:

یہ حادثہ ہوا تھا مگر صرف ایک بار

میں بام پر کھڑا تھا وہ آنگن میں آئے تھے

تو میں اپنی رائے پر دل ہی دل میں شرمندہ ہورہا تھا، برسوں کے بعد کا ذکر اس طرح کرتے ہیں کہ  اگر چاند کی تاریخوں کے حساب سے جوڑا جائے تو منور رانا سے میرے تعلقات کو دس سال کا عرصہ پلک جھپکتے گذر گیا، اس پوری دہائی میں چند دنوں کے علاوہ شاید کوئی لمحہ ایسا نہیں گذرا کہ میں اس کے خیال سے غافل رہا ہوں اور میں حفیظ اس کا گواہ ہوں کہ وہ جب کسی ایسے مشاہرہ سے واپس آتے تھے جہاں منور ان کے ساتھ ہوں تو وہ ان کی کامرانیوں کے قصیدے ایسے سنایا کرتے تھے جیسے وہ اشعار سناتے تھے جو شا گرد کو غزل کہہ کر اور ترنم سے پڑھ کر بھی بتاتے تھے کہ اس حرف کو اٹھانا اور اسے ذرا دبا دینا، اور جب وہ پاکستان کے کسی مشاعرہ یا گلف کے کسی مشاعرہ سے لوٹتے تھے تو مجھے اس کی تفصیل ایسی محبت سے سناتے تھے، جیسے اپنے بیٹے غزالی کی فتوحات کاذکر کیا کرتے تھے، پاکستان سے لوٹ کر آتے توہر دوست کو سنارہے تھے کہ منورنے  جب ایک مشاعرہ میں پڑھ دیا:

’’مہاجرو یہی تاریخ ہے مسلمانوں کی…

بنانے والے ہمیشہ برآمدوں میں رہے‘‘

                تو مشاعرہ الٹ پلٹ ہوگیا اور پھر جس مشاعرہ یا نشست میں منور مائک کے سامنے آتے تھے تو آوازوں سے ہال گونج جاتا تھا کہ رانا صاحب مہاجرو…

                ہم نے استاذ بھی دیکھے ہیں اور شاگرد بھی بہت دیکھے ہیں، لیکن والیؔ اور راناؔ کا نہ جانے کیسا رشتہ تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے عاشق بھی تھے اور معشوق بھی، منور نے سہیل گیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں اس کا ذکر کیا کہ انھوں نے اپنے شعروں پر کس سے اصلاح لی؟ منور نے جواب میں پہلے پروفیسر اعزاز افضل کا نام لیا اور پھر یہ بھی بتایا کہ اس اسکول سے انھوں نے اپنا نام کیوں کٹوالیا؟ اس کے بعد انھوں نے والیؔ آسی سے ملاقات اور تفصیلات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پھر وہ ان کی سفید زلفوں کے اسیر ہوگئے اور شاگردوں کے رجسٹر میں اپنا نام لکھوانا چاہا اور یہ ان کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ انھوں نے کہا کہ تم میرے چھوٹے بھائی اور دوست کی حیثیت سے میرے پاس آتے رہو۔

                اور پھروہ بہت کم دنوں میں والیؔ کے ایسے عاشق ہوئے کہ بے تکلف کہہ دیا کہ جولوگ والی آسی سے نفرت کرتے ہیں میں تحریری طور پر کہہ رہا ہوں کہ وہ کمینے ہیں، والی آسی ایک شاعر کا نام نہیں ایک فرشتہ صفت آدمی کا نام ہے، والی آسیؔ مکتبہ دین و ادب کے مالک کا نام نہیں ایک فقیر کا نام ہے جو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر سب کو دعائیں دیتا رہتا ہے، والی آسیؔ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر لگے ہوئے پنکھے کانام ہے جس سے امیر وغریب سب فیض یاب ہوتے ہیں، والی آسیؔ اس لال ٹین کا نام ہے جو قصبوں میں آج بھی دروازوں کے باہر جلا دی جاتی ہے کہ آنے جانے والوں کو تکلیف نہ ہو، والی آسیؔ اس شہد کا نام ہے جو نیم کے پھولوں سے نکالا گیا ہے، والی آسیؔ ایک دستار کا نام ہے لیکن لوگ اسے پیروں سے روندی جانے والی قالین سمجھتے ہیں، والی آسیؔ غزل کے ایک شہر کا نام ہے، کتبے پر لکھی ہوئی ایک عبارت کا نام ہے، والیؔآسی زندگی کا نام ہے قبرستان کی خاموشی کا نام نہیں، والی آسی بلندی پر اڑتے ہوئے اس کبوتر کا نام ہے جو مسجد کے مینار پر بسیرا کرتا ہے، والیؔ آسی اس دیوار کا نام ہے جس کا پلاسٹر ٹوٹ چکا ہے لیکن وہ بنیادوں کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں، والیؔ آسی ریل کے اس ڈبے کا نام ہے جس میں لوگ داخل ہوتے ہیں، مونگ پھلی کھاتے ہیں، چھلکے وہیں پھینک دیتے ہیں، پان اس لیے کھاتے ہیں کہ ڈبہ میں تھوک سکیں اور اپنی منزل پر اتر جائیں۔

                اسے پڑھ کر کون کہے گا کہ یہ انٹرویو کے کسی سوال کا جواب ہے، یہ تو منور رانا کی للکار ہے کہ   ع   ذرا چھیڑئے پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے۔

       (جاری)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close