ہندوستان

وزیراعظم نریندر مودی کے نام کھلا خط

محترم وزیراعظم صاحب،
میں اس خط میں نہ تو نوٹ بندی کی بات کرونگا نہ تو فوجیوں کہ مرنے کی بات نہ گجرات فساد کی اور یقین کیجیے میرا نا تو تین طلاق اور نہ مسلم پرسنل لا کی بات کے لیے یہ خط لکھا تب آپ سوچ رہے ہونگے کہ تب کیوں خط لکھا؟ اک مسلم نوجوان خط لکھے اور ان موضوعات کی بات نہ کرے عجیب لگتا ہے نا؟ کل 24دسمبر تھا کل آپ ممبئ آے تھے سوچا روک کر پوچھ لوں وہ سوال جو دو مہینے سے زیادہ پورے ملک میں گردش کر رہا ہے سب نے اس پر کچھ نا کچھ کہا کسی نے اپنی روٹی سینکی کسی نے کچھ نہیں کہا کچھ تو وہ آپ تھے۔ وہ سوال ہے نجیب کہاں ہے؟ جی عزت مآب۔ خدارا بتا دیجیے نجیب کہاں ہے؟ آپ یہ وی سی کی طرح یہ نہیں کہ سکتے کہ میں ذمہ دار نہیں ہوں اس کے لیے۔ بلاشبہ آپ ہی ذمہ دار ہیں کیونکہ آپ دلی پولس آپ ہی کہ ہے۔ صاحب آپ کو اس کی ماں کہ آنسوؤں کا واسطہ۔ کبھی سوچ کر تو دیکھیے کہ آپ کی ماں تڑپتی بلکتی ہر دروازہ کھٹکھٹاتی کہ میرا لال کہاں ہے۔ خدارا اس معاملے کو تو سیاست سے دور رکھیے اس بے بس لاچار ماں کی سن لیجئے۔ اس ماں کے روتے چہرے میں اپنی ماں کو تو دیکھیے صاحب۔
کیا پتا آپ کہ ایک حکم سے شاید اس کے لال کا حال مل جاے۔
میں ایک عام انسان ہوں مجھے ملکی پالیسیاں نہیں پتا اور نہ میں کوی ماہر معاشیات ہو کہ نوٹ بندی صحیح ہے یا غلط اس پر بحث کروں لیکن خدا کی قسم ایک ماں کا تڑپتا ہوا چہرہ نہیں دیکھ سکتا ۔
صاحب آپ سو کیسے لیتے ہیں؟کیا آپ جذبات سے عاری ہیں؟
کب تک آخر کب تک نظرانداز کریں گے آپ؟
اچھا ایک کام کیجیے ذرا دیر کو آنکھ بند کر کے اس تڑپتی ماں کی جگہ اپنی ماں کو تصور کیجیے
نہیں کر سکتے؟
ذرا سوچیے اس ماں پر کیا بیتتی ہو گی؟
آپ کے جواب کا انتظار رہیگا
فقط آپ سے امید لگاے بیٹھا آپ کہ ملک کا ایک دوسرے درجہ کا شہری۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عمیر ظفر

ایک طالب علم

متعلقہ

Back to top button
Close