ہندوستان

وزیر اعظم دوسرے انداز سے بھی دیکھیں

حفیظ نعما نی
جمعیۃ العلماء کے صدر مولانا ارشد مدنی شیخ الاسلام اور دارلعلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے فرزند ہی نہیں جانشین بھی ہیں۔ وہ بھی برسوں سے اس مسند پر بیٹھ کر حدیث شریف کا دارلعلوم دیوبند میں درس دے رہے ہیں جس پر ان کے محترم والد برسوں دیکر جا چکے ہیں۔ شیخ الاسلام بھی رمضان المبارک کا پورا مہینہ ملک کی تقسیم سے پہلے آسام کے شہر سلہٹ میں گزارتے تھے۔ اور صرف عبادت کرتے اور وہاں آنے والے ہزاروں مسلمانوں کو دین کی عظمتوں سے واقف کراتے تھے۔
مولانا سید ارشد میاں سال کے گیارہ مہینوں میں حدیث کا درس بھی دیتے ہیں اور جمعیۃ علماء کے صدر کی حیثیت سے وہ سب سے اہم کام یہ کرتے ہیں کہ بے قصور اور بے گناہ جن مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں ہر صوبہ کی پولیس کال کوٹھری میں ڈال دیتی ہے۔ انہیں ماہر قانون دانوں کی خدمات حاصل کر کے رہا کراتے ہیں۔ اور ہمارے نزدیک اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا کام یہی ہے۔ اس لئے کہ ہمارے ملک کی انتظامیہ کا انداز شاید دنیا کے ہر ملک سے جدا ہے کہ گرفتار پہلے کیا جاتا ہے اور ثبوت بعد میں ڈھونڈے جاتے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ ستم یہ ہے کہ اگر بھائی یاباپ نے اپنے سگے کے لئے زیادہ دوڑبھاگ کی تو اسے بھی بند کر دیاجاتا ہے۔ اور نیچے سے لیکر ملک کے وزیر داخلہ تک کوئی نہیں ہے جو اس اندھیر نگری اور چوپٹ راج کے بارے میں غور کرے کہ یہ کتنا بڑا اندھیر ہے۔ اور ہمارے نزدیک اس سے بھی بڑا اندھیر یہ ہے کہ جب مولانا سید ارشد میاں کروڑوں روپئے خرچ کر کے بے گناہوں کو باعزت بری کرا لیتے ہیں تو نہ تو برسوں انہیں جیل میں رکھنے کا کوئی معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اور نہ گرفتار کرنے والوں کو کسی طرح کی سزا دی جاتی ہے۔ اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اسے مقدمہ کے اخراجات بھی نہیں دئے جاتے۔
ہم بھی نو مہینے بغیر کسی گناہ کے جیل میں رہ چکے ہیں۔ اور ہم نہیں جانتے تھے کہ ہماری رہائی 9دن میں ہو جائے گی یا نو مہینے یا نو سال میں۔ اس لئے کہ دفعہ تھی D.J-R جس کے بعد کسی بھی عدالت میں کوئی سنوائی نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم جب جیل میں دعا مانگتے تھے اور ہمارے ساتھ نماز پڑھنے والے ہاتھ اٹھا کر آمین کہتے تھے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ زمین آسمان دونوں ہل گئے ہیں۔
ہم نے 1966ء کارمضان جیل میں ہی گزارا تھا۔ اور ہائی کورٹ سے ہمارے وکیلوں نے بڑی مشکل سے یہ اجازت لے لی تھی کہ رمضان میں با جماعت تراویح پڑھ لی جائے ۔ہمارے بڑوں نے ہمیں بچپن میں ہی قرآن شریف حفظ کرایا تھا۔ اور کم از کم پندرہ بیس سال مختلف شہروں اور مختلف مسجدوں میں ہم تراویح میں قرآن عظیم سنا بھی چکے تھے۔ لیکن اکیلے دم پر اپنا اور بیوی بچوں کا خرچ اٹھانے کے لئے جو کاروبار میں مصروف ہوئے تو 20سال تک اتنا موقع نہ مل سکا کہ قرآن سناتے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بھولے تو نہیں مگر ایسا بھی یاد نہیں رہا کہ تراویح میں ایسے ہی پڑھ دیں جیسے پڑھا کرتے تھے۔ پھر ہم نے یہ بات ذہن سے نکال دی کہ ہمیں رہا ہونا ہے۔ بس یہ نشانہ بنایا کہ ہمیں قرآن شریف کو پہلے کی طرح یاد کر لینا ہے۔ اور جیل کے زمین وآسمان اور درودیوار گواہ ہیں کہ ہم نے تین مہینے تک یہ نہیں دیکھا کہ جیل میں کیا ہو رہا ہے؟ اور تین مہینے دن رات صرف قرآن شریف یاد کرتے رہے اور جنوری کی کڑ کڑاتی سردی میں ہم نے رمضان میں جیل کی بیرک کے اندر ہی جماعت بنوائی اور قرآن سنا نا شروع کیا اور 27رمضان کو ہمیشہ کی طرح ختم کردیا۔
جیل میں جو ساتھ تھے ان میں ہندومسلمان دونوں کے سامنے رمضان شریف اور لیلۃ القدر کے بارے میں سب کوچھ تفصیل سے بتایا تو حالت یہ ہو گئی تھی کہ جس بیرک میں ہم تراویح پڑھا رہے تھے اس میں ڈیڑھ گھنٹے تک کسی کو کھانسی بھی آجاتی تھی تو اسے خاموش رہنے کے لئے ڈانٹ دیاجاتا تھا۔ ہمارے ساتھ نماز پڑھنے والے تو 20کے قریب ہی تھے لیکن جب تراویح ختم کر کے ہم دعا مانگتے تھے تو ہم نے سب سے کہہ دیا تھا کہ وہ بھی قریب آجایا کریں اور مسلمان کو آمین کہنے کی ہدایت کی تھی اور ہندوؤں سے کہاتھاکہ تم سب اگر یہ سمجھو کہ یہ ہمارے دل کی بات ہے تو آہستہ سے کہا کرو کہ مالک یہ ہمیں بھی دی دے۔ یا یہ ہمارے گھر والوں کے ساتھ بھی کر۔ یا ہمارے دشمنوں کا بھی منہ کالا کر۔
ہم نے صرف وہی ایک سال ایسا زندگی میں گزارا ہے جب آخری عشرہ کی ہر طاق رات یعنی پانچوں راتوں کو دعاؤں میں گزارا۔ خود بھی دعا کی اور ساتھیوں نے بھی دعا کی اور جن لوگوں نے ہمیں یاد وسرے بے گنا ہوں کو ہماری طرح بند کیا تھا ان کے لئے دل سے بد دعائیں کیں۔ ہم جو سر سے پاؤں تک گناہ گار ہیں کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری دعائیں بھی قبول ہوئیں اور بد دعا بھی سنی گئی۔ لیکن اس کا کیسے انکار کریں کہ عید کے ڈھائی مہینے کے بعد ہم رہا ہو گئے۔ اور صرف ایک سال کے بعد 1967میں وہ کانگریس حکومت جس نے ہمیں بند کیا تھا اترپردیش میں گر گئی۔ اور پھر ملک کے نوصوبوں میں پارہ پارہ ہو گئی۔ اور اس سال کے بعدسے آج تک جو اس کا حشر ہے وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم کیوں یہ یقین نہ کریں کہ کانگریس کی بربادی میں جن جن باتوں کا بھی اثر ہو۔ لیکن اس کا بھی اثر ضرور ہوگا کہ شاید پورے ملک کی کسی جیل میں کبھی بھی مسجد کی طرح تراویح نہ پڑھی گئی ہوں کہ تراویح پڑھنے والوں میں سے بعض ساتھیوں نے یہ کہا کہ اگر عید سے پہلے ہمارا رہائی وارنٹ آجائے تو آپ جیلر صاحب سے کہہ کر عید تک رکوا دیجئے گا۔ جو ہماری طرح بے گناہ جیل میں ہوں صرف وہی جان سکتے ہیں کہ جب اپنوں کے لئے دعا نکلتی تھی تو دل کا اور آنکھوں کا کیا حال ہوتا تھا۔ اور جب بددعا نکلتی تھی تو دل کا اور چہرہ کا کیا حال ہوجاتا تھا۔؟
پچاس برس کے بعد یہ کہانی آج اس لئے دہرانا پڑی کہ دنیا کے پلیٹ فارم پر 125کروڑ انسانوں کے ملک کو قدم قدم پر کیوں ذلیل ہونا پڑ رہا ہے؟ اس کا سبب معلوم کرنا اور ہر پہلو پر غور کرنا چاہئے۔ اس سے پہلے نہ جانے کتنی بار اقوام متحدہ میں اپنی مستقل رکنیت کا مقدمہ پیش ہو چکا ہے اور ہر مرتبہ منہ کی کھانی پڑی ہے۔ اپنے وزیراعظم نے دنیا کے ہر ملک کا دورہ کر کے اپنے حق میں ماحول بنانے کی کوشش کی تھی کہ اس سال ہونے والی 48ملکوں کی میٹنگ میں ہندوستان کی رکنیت تسلیم کر لی جائے۔ شری مودی کو یقین تھا کہ اس بار ہندوستان این ایس جی کا ممبر ضرور بن جائیگا۔ لیکن پھر وہی ہوا کہ ازلی دشمنی چین نے ٹانگ اڑا دی کہ اگر ہندوستان کو N.P.T پر دستخط کئے بغیر رکنیت مل سکتی ہے تو پاکستان کو بھی ملنا چاہئے۔ ہمارے لئے شرم کی بات یہ ہے کہ ہمارے مقابلہ پر 20کروڑ آبادی والے پاکستان یعنی ہماری ٹانگ کی برابر لونڈے کو لایا جاتا ہے۔ اور ہم ذلیل ہوجاتے ہیں۔
مودی سرکار کے بڑے دماغ ضرور سوچتے ہونگے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اور ہمارا مشورہ ہے کہ اس طرح بھی سوچ کر دیکھا جائے کہ وہ جوٹوٹے ہوئے دل کی آواز سے عرش کے ہل جانے کی بات کی جاتی ہے وہ کیا ہے؟ آج بھی ہم نہیں جانتے کہ کتنے بے گناہ جیلوں میں بند ہیں جن کے بارے میں بند کرنے والوں کو بھی معلوم ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔ لیکن مسلم دشمنی میں انکا ضمیر مردہ ہو چکا ہے۔ اور ہندوستان کی بڑی چھوٹی کوئی سرکار نہیں جانتی کہ ان کے کارندوں نے کیسے کیسے موتیوں اور پھولوں کو بند کر ا دیا ہے۔؟ وہ جب زمین پر سر رکھ کراپنے بند کرنے اور کرانے والوں کو بددعائیں دیتے ہیں تو زمین آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہے۔ اور دنیا کا مالک کہہ چکا ہے کہ میں ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوں وہ ایک ایک لفظ سن لیتا ہے۔ اور اس کے بعد ذلت 44سیٹوں تک لے آتی ہے۔ اور125فٹ کو 20فٹ کے لونڈے کے برابرمان لیاجاتا ہے۔ اور اپنے ہی سیاسی رشتہ دار اپنے وزیر مالیات کو ویٹر کہہ دیتے ہیں۔ اگر مودی صاحب کو چین سے حکومت کرنا ہے اور دنیا میں عزت پانا ہے تو چوٹی کے رٹائر ڈسات ججوں کی ایک کمیٹی بنائیں۔ اور دہشت گردی کے الزام میں جتنے مسلمان یا دوسرے بند ہیں وہ جیلوں میں جاکر ان کی فریاد سنیں۔ اور پھر پولیس کے تیار کئے ہوئے مقدمات کو دیکھیں ۔ ان ججوں میں دو مسلمان اور ایک سکھ ایک عیسائی بھی ہونا چاہئے ۔ تب انہیں معلوم ہوگا کہ ملک کو بھی ان کی پولیس ہی ذلیل کرا رہی ہے۔
بات شروع کی تھی حضرت مولانا ارشد میاں سے۔ انہوں نے صحیح فرمایا کہ رمضان میں سیاسی بات نہیں کرتے بزرگوں کا یہی طریقہ رہا ہے۔ رہا بی جے پی کو روکنا نہ روکنا تو یہ ذمہ داری مسلمانوں کی کیوں ہے؟ ان کی کیوں نہیں ہے جو اس کے رکنے کے بعد حاکم بنیں گے۔ اور مولانا ارشد میاں کیوں محاذ بنائیں؟ پہلے ان کی آنکھ بند کرنا چاہئے جو امت شاہ سے اتنا تو لے ہی چکے کہ وہ قے کرنے لگے اب اور کون کون لیگا اور کتنا کتنا لیگا؟ یہ خدا ہی جانے یا امت شاہ ہم تو بس یہ جانتے ہی کہ 2017کا الیکشن دولت سے لڑا جائیگا اور قیامت کا الیکشن ہوگا۔ جس میں مختار انصاری اہم کردار ادا کرسکتے تھے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close