ہندوستان

وقت رونے کا نہیں، کچھ کرنے کا ہے

شہید جوانوں کے خاندان کے غم میں سارا ہندوستان برابر کا شریک ہے اور اس حملے کی پر زور مذمت کرتا ہے۔

احساس نایاب

کشمیر کے پلوامہ ضلع میں 14 فروری کو سی آرپی ایف کے جوانوں پر جو خودکش حملہ ہواہے، اُس سے بیشک پورے ہندوستان میں ماتم پسرا ہوا ہے، ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر دل رنج و غم میں ڈوبا ہوا ہے، پھر بھی اس کیفیت کے باوجود ملک کا ہر شہری انتقام چاہتا ہے، ہمارے سپاہیوں کی شہادت کا انتقام، جس طرح سے ہمارے درجنوں جوان شہید کئے گئے ہیں وہ بیحد شرمناک سانحہ ہے اور ہندوستان کے لئے بہت بڑا نقصان ہے جس کی بھرپائی کرپانا ناممکن ہے، لیکن ان مشکل حالات میں بھی تمام ہندوستانیوں کو متحد ہوکر اس بات پہ غور کرنا چاہئیے کہ یہ وقت رونے کا نہیں بلکہ کچھ کرنے کا ہے، دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کا ہے، بھٹکے ہوئے اپنوں کو راہ راست پہ لاکر دشمنوں کی سازشوں کو ناکام کرنے کا وقت ہے لیکن یہاں پہ انتقام بےگناہ، مظلوم اپنوں سے نہیں بلکہ اُن دشمنوں سے جو ہمارے ہی نوجوانوں کو بھڑکا کر ہمارے خلاف استعمال کررہے ہیں، ذرا سوچیں! اگر وہ بہکاسکتے ہیں تو ہم اپنوں کو سمجھا نے میں ناکام کس وجہ سے ہیں؟ ہمیں اس بات پہ توجہ دیتے ہوئے اُن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام کرنا ہوگا، ساتھ ہی اپنے بیچ چھپے اُن غداروں کو پہچاننا ہوگا جو مذہب کے نام پہ ملک کی فضاؤں میں نفرت کا زہر گھول رہے ہیں، یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ان مشکل حالات میں انتشار پھیلا کر تشدد کی آگ بھڑکا رہے ہیں، تاکہ وہ اس میں اپنی سیاسی روٹیاں سینک سکیں، جبکہ ان حالات میں تکالیف و اذیت سے دوچار ہونے، مرنے والا کوئی سیاسی لیڈر، اُس کا خاندان یا کوئی مالدار اور اے سی آفس میں بیٹھ کر حکم چلانے والا نہیں ہوتا بلکہ صرف اور صرف غریب اور مڈل کلاس والا عام انسان ہوتا ہے.

یاد رہے سکہ کا ہمیشہ دو رخ ہوتا ہے، جس کا ایک رخ آنکھوں سے پوری طرح اوجھل رہتا ہے جب تک تمام پہلوؤں پہ غور نہیں کیا جائیگا اُس وقت تک کسی بھی مسئلے کا بہتر حل نہیں ہوپائیگا، ذرا سوچیں! محض 19 سالہ تنہاء نوجوان کا بارود سے لیس کار لیکر اتنی ہائی سکیورٹی ہائی الرٹ ایریا میں داخل ہونا ایک طرف ناقابل یقین ہے تو دوسری طرف سبھی کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے کیونکہ جس عمر کے لڑکے ہنسی مستی کرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں، جنکی آنکھوں میں مستقبل کو لیکر کئی سپنے ہوتے ہیں، اُس الہڑ عمر میں جینے کے بجائے موت کو گلے لگانا وہ بھی پورے ہوش و حواس میں تصور سے بھی خوف لگتا ہے، آخر اتنی کم عمری میں اس قدر غصے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟ جو اپنی جان جانے کا بھی خوف نہیں رہتا،آخر ان نوجوانوں کے سروں پہ کونسا جنون سوار ہوتا ہے جو انہیں نہ اپنی جان کی پرواہ ہوتی ہے نہ اپنے اہل و عیال کا خیال رہتا ہے، آخر اتنی نفرت کس لئے جو ایک ہی پل میں درجنوں نوجوانوں کو شہید کر انکے گھروں میں ماتم برپا کردیا، ان کی بیوی بچوں و بوڑھے والدین کو بےسہارا کردیا، آخر ایسا کونسا جنون ہوتا ہے جو غصے کی آگ کو اس قدر بھڑکاتا ہے کہ یہ کسی کی جان لینے سے بھی نہیں کتراتے، ضرورت ہے اس کے پیچھے چھپی سچائی کو سمجھنے کی، کیونکہ جب جب ہتھیار اٹھانے والے کو مار گرایا جاتا ہے تو اُس ایک کے بدلے دس ہتھیار اٹھانے والے جنم لیتے ہیں اور اُس خوبصورت وادی کو لہولہان کر سرخ وادی بنادیتے ہیں، جس کے نام سے بھی دہشت ہوتی ہے. آخر اس مسئلہ کا کوئی حل کیوں نہیں نکالا جاتا، یا جان بوجھ کر اس کو زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ اس پہ سیاست کرسکیں

یہاں پہ غورطلب بات یہ بھی ہے کہ ان حالات میں چھپن انچ کا سینہ رکھنے والے، ایک سر کے بدلے دس سر لانے والے مودی جی آج خاموش کیوں ہیں؟ جنہوں نے 2014 میں تو بہت بڑے بڑے دعوے کئے تھے، اپوزیشن پارٹی سے کئی سوال پوچھے تھے، لیکن اب جب خود اقتدار میں ہیں تو ایسے میں حالات کیوں بد سے بدتر ہورہے ہیں، آج ہندوستان کی 125 کروڑ عوام جاننا چاہتی ہے اپنے چھپن انچ چوڑے سینہ رکھنے والے چوکیدار کے آگے وہی سوال دہرا کر یاد دہانی کروانا چاہتی ہے جو انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے کانگریس حکومت سے کئے تھے تاکہ عوام بھی حقیقت سمجھ سکے.

پہلا سوال ! آتنک وادی، نکسل وادیوں کے پاس ہتھیار، بارود کہاں سے آتا ہے ؟

اگر یہ سرحد پار سے آتا ہے تو سرحد، سرحدوں پر تعینات حفاظتی دستے آپ کے قبضے میں ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے ؟

دوسرا سوال ! دہشتگردوں کے پاس پیسہ کہاں سے آتا ہے جبکہ سارا منی ٹرانزیکشن کا کاروبار موجودہ سرکار کے قبضے میں ہے،آر بی آئی کے قبضے میں ہے، سارا لین دین بینکوں کے ذریعے سے کیا جاتا ہے تو کیا وزیراعظم اتنی بھی نگرانی نہیں کرسکتے کہ وہ دہشت گردوں کے ہاتھ تک نہ پہنچے، ملک میں چوکیدار ہونے کے باوجود اس پہ روک کیوں نہیں لگائی گئی؟

تیسرا سوال ! جب سرحدوں کی چوکسی،سکیورٹی کونسل ، بی ایس ایف سینا، نیوی فورس آپ کے کنٹرول میں ہونے کے باوجود بیرونی ممالک سے دہشتگرد کیسے ہندوستان میں گھُس کر دہشت برپا کرتے ہیں؟

چوتھا سوال ! ہندوستان کی ساری کمیونیکیشن پہ سرکار کے کان لگے ہیں، چاہے ٹیلی فون پہ ہوتی گفتگو ہو یا ای میل کے ذریعے یا کسی بھی ذریعہ سے کمیونیکیشن کیا جاتا ہو، موجودہ سرکار اُس کو انٹرپٹ کر کے ساری خفیہ جانکاری حاصل کرسکتی ہے باوجود اس کے کہاں پہ چوک ہورہی ہے اور اس طرح کے حملوں پہ کیوں لگام نہیں کسی جاتی ؟

پانچواں سوال ! جو دہشتگرد بیرونی ممالک میں بیٹھ کر ہندوستان کے خلاف خطرناک سازشیں انجام دے رہے ہیں، آپ نے پانچ سال کے عرصہ میں انکے خلاف کیا کاروائی کی ہے، کتنوں کو ہندوستان لانے میں کامیاب ہوئے ہیں؟

چھپن انچ کا سینہ رکھنے والے مودی جی جب سوال پوچھنے کا دم رکھتے ہیں تو کبھی کبھار ہی سہی اپنے ہی سوالوں کا جواب دینے کی جرات بھی دکھائیں، کبھی لائیو پریس کانفرنس کر ہندوستان کی عوام کے روبرو انکے سوالات کے جوابات دیں، خاص کر ان حالات میں جب عوام دکھ میں ہے، مایوس ہے، تاکہ تھوڑی تسلی مل جائے، امید کی نئی کرن نظر آجائے.

کیونکہ آج ہندوستان کی 125 کروڑ عوام انتقام چاہ رہی ہے اپنے جوان بیٹوں، بھائیوں،جانباز نگہبان، محافظ سپاہیوں کی شہادت کا، اُن کے اہل خانہ اشکبار نگاہوں سے اپنے عزیزوں کی بیجا شہادت پہ انصاف مانگ رہے ہیں، لیکن کون لے گا پاکستانی دہشتگردوں سے انتقام؟ کون دلائیگا انصاف ؟ وہ وزیراعظم جنہیں دیش ویدیش گھومنے سے فرصت نہیں، جسے پاکستان جاکر جنم دن کا کیک کاٹنے سے فرصت نہیں، جو ملک میں آئے دن ہمارے جوانوں کے گلے کاٹ رہا ہے، ہر پل ہمارے محبوب وطن میں دہشت برپا کرنے کی تاک میں رہتا ہے، ایسے دشمن ملک میں جاکر وہاں کے حکمران کے گلے ملنا، دہشتگردوں سے چھپ چھپاکر ملنا یہ کس سیاست کا حصہ ہے؟

ہم ہندوستانی مسلمانوں سے تو بہت حب الوطنی کا ثبوت مانگا جاتا ہے، تو سُن لو ! آج ہر ہندوستانی مسلمان چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے پاکستان پہ حملہ کرو، اسکو نیست و نابود کردو، ایسا سبق سکھاؤ کہ وہ کبھی ہمارے ملک کی طرف اپنی ناپاک نظریں بھی نہ اٹھا پائے اور اس جنگ میں سب سے آگے ہم مسلمان ہی کھڑے نظر آئینگے، کیونکہ یہ وقت رونے کا نہیں انتقام لینے کا ہے، تو چلو اب انتقام لو جان کے بدلے جان کا، اپنے وطن عزیز کی خاطر ہم مرنے کے لئے بھی تیار ہیں، لیکن خبردار! جو ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا کیونکہ ہم میں اُن جانبازوں کا خون ہے جنہونے ہمیشہ ملک کو اپنے خون سے سینچا ہے اپنے ترنگے کو اونچا رکھنے کی خاطر آزادی کے قبل سے لے کر آج تک، کشمیر سے کارگل تک ہر بار جام شہادت کو پیا ہے اسلئے ان حالات میں مسلمانوں کو گھبرانے یا پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ وقت شہید جوانوں اور انکے اہل خانہ کے لئے دعا کرنے، ہر طرح سے انکی مدد کرتے ہوئے اُن کے غموں میں شریک ہونے کا ہے اور رہی بات حب الوطنی کی تو الحمدللہ ہم ہندوستانی مسلمان کل بھی وطن پرست تھے، آج بھی وطن پرست ہیں اور رہتی دنیا تک ہم وطن پرست ہی رہینگے، جسکے لئے ہمیں کسی کو کوئی ثبوت دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہم محض جملے بازی کرنے والوں میں سے نہیں ہیں، بلکہ وقت آنے پہ شہید نصیر احمد کی طرح اپنی جانوں کے نذرانے دے کر ساری دنیا کے آگے اپنا لوہا منوانے کا ہنر رکھتے ہیں جس کے لئے ہم بس اتنا کہینگے۔

وقت آنے دے بتادینگے تمہیں اے آسماں

ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

آخر میں ملک کے ہر اُس شہید کو سلام جو وطن کی خاطر اپنی جان قربان کرکے رہتی دنیا تک امر ہوگئے اور اُنکی شان شہادت پہ ہر زبان یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتی ہے

اے شہید ملک و ملت میں تیرے اوپر نثار

اب تیری ہمت کا چرچہ غیر کی محفل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے جوش کتنا بازوئے قاتل میں ہے

بیشک سپاہی وہی ہوتا ہے جس کے نام سے دنیا رشک کرے اور اپنوں کی گردن فخر سے اونچی ہوجائے۔ یہاں پہ سرکار کو چائیے ان شہداؤں کے خاندانوں کا خیال رکھا جائے انکی ہر ضرورتوں کو پورا کیا جائے، مستقل انہیں کسی بھی قسم کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے اس بات کی اور توجہ دیتے ہوئے انکے لئے بہتر سے بہتر اقدام اٹھانے چائیے تاکہ وہ کسی بھی چیز سے محروم نہ رہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے عزیزوں کو ملک کی خاطر قربان کیا ہے تو ملک کی سرکار کا بھی فرض بنتا ہے کہ انکا خیال رکھے، نہ کہ چند دن ہمدردی دکھاکر سوشیل میڈیا سے لیکر الیکٹرانک میڈیا پہ ہلا گلا مچاتے ہوئے مگرمچھ کے آنسوؤں کے ساتھ ہمدردی کا شیوہ کر چند روز بعد انہیں اس قدر بھلادیا جائے کہ انہیں خود اپنی پہچان دیتے ہوئے آفس میں عہدیداروں کی چوکھٹوں کے چکر کاٹنے نہ پڑیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

متعلقہ

Close