ہندوستان

ووٹ بنک سیاست اور ہم ؛ ہوشیار باش!

 ’ووٹ بنک ‘ ووٹروں کے اس گروپ کو کہا جاتا ہے جو کسی سیاسی پارٹی کا حامی ہو اور مجموعی طور پر اسے ہی ووٹ دیتا ہو ۔ عموماً یہ ووٹ بنک مختلف قومی لسانی مذہبی اور ذاتی گروہ ہو تا ہے ۔ وطن عزیزایک کثیر گروہی ملک ہے اس لئے یہاں بہت سے ووٹ بنک ہیں، ہرسیاسی پارٹی کا اپنا مخصوص ووٹ بنک ہے ، اگر سیاسی پارٹیاں اپنے ووٹ بنک کی حق بہ جانب نمائندگی کریں تو ووٹ بنک کی سیاست کوئی بری نہیں ہے بلکہ اچھی اور ملک میں بسنے والے تمام گروہوں کے لئے سود مند ہو سکتی ہے کہ اس سے تمام گروہوں کو مناسب نمائندگی مل سکتی ہے اور ان کی آواز بھر پور طریقے سے ایوان حکومت اور پالسی سازوں تک پہنچ سکتی ہے لیکن ہمارے یہاں ووٹ بنک کی منفی سیاست ہوتی ہے ۔ہوتا یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں مذہب ذات پات علاقے اور زبان کی بنیاد پر ملک کی عوام کو تقسیم کر کے ان گروہوں کو سیاسی الجھاؤ کے ذریعہ اپنے ووٹ بنک بننے پر مجبور کر تی ہیں ،ان پارٹیوں کو الیکشن کے وقت ہی اپنے ووٹ بنک کی یاد آ تی ہے اس کے مسائل یاد آ تے ہیں اور اس کی حالت زار پر رونا بھی آ تا ہے الیکشن کے اوقات میں وہ اپنے ووٹ بنک کو متحرک کر نے کے لئے کچھ مثبت اقدامات کرلیتی ہیں اوروعدے تو بے حساب کرتی ہیں لیکن الیکشن کے بعد اگلے الیکشن تک پھر جیسے تھی کی حالت میں آ جاتی ہیں۔ آزادی کے بعد سے ہماری سیاست اسی چکر کے ارد گرد گھوم رہی ہے ۔اور پچھلی دو دہائیوں سے اس میں ایک انتہائی مذموم گھماؤ آگیا ہے اب اپنے ووٹ بنک کو محفوظ ومتحرک کر نے کے لئے ایک نیا طریقہ استعمال ہو رہا ہے اور وہ ہے مذہبی لسانی علاقائی اور ذاتی تعصب اور اسی کی بنیاد پر دوسرے ووٹ بنک کا ڈر۔ سیاسی پارٹیوں نے اپنے ووٹ بنک کے دل و دماغ میں دوسرے گروہوں کے تئیں تعصب اور نفرت بھر دی ہے الیکشن کے وقت وہ دوسرے گروہوں کے خلاف اشتعال انگیزی کر کے اپنے ووٹ بنک کے ان متصب جذبات کو بہت آ سانی سے اپنے حق میں کیش کر لیتی ہیں ، اس کا فائدہ یہ ہے کہ لوگ نہ صرف پچھلے وعدے بھول جاتے ہیں بلکہ ’کام یا ترقی ‘ کی پرواہ کئے بغیر بے دریغ ان کے خیمے میں چلے جاتے ہیں۔ ووٹ بنک کی یہ سیاست پورے ملک کے لئے زہر ہلاہل ہے کیونکہ یہ غیر جانبدار اور ذمہ دار سیاست کی راہ میں حائل سب سے بڑاروڑا ہے اور یہ کسی ایک پارٹی ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ سبھی پارٹیاں اس حمام میں ایک جیسی حالت میں ہیں،بہت سے لوگوں کو اس کا ادراک بھی ہے لیکن عوام کی اکثریت اسے نہیں سمجھ پاتی اور اگر سمجھتی بھی ہے تو ایسے حالات پیدا کردئے جاتے ہیں کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ووٹ بنک ہی کی طرح استعمال ہوجاتی ہے۔ اور ہماری ٹریجڈی یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے ملکی سیاست میں مسلمانوں کو ووٹ بنک سے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ہر انتخاب کے وقت مسلمانوں کی فلاح کے کچھ وعدے کئے گئے لیکن ان وعدوں کوپورا کر نے کی کوئی خاص سنجیدہ کوشش کبھی نہیں کی گئی ۔ بجٹ میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے بڑی بڑی رقمیں مختص کی جا تی رہیں لیکن بہت بار ایسا ہوا کہ ان رقوم میں سے مسلمانوں کی فلاح کے لئے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا ۔ ملکی سیاست میںآزادی کے بعد جو سب سے گندہ کام کیا گیاوہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف زبانی اور عملی اشتعال انگیزی کر نے والوں کو لگام نہیں لگائی گئی بلکہ درپردہ طور پرانہیںآزادی دی گئی بلکہ انہیں بہت منصوبہ بندی کے تحت استعمال بھی کیا گیا جس کی وجہ سے پورا ملک فرقہ وارانہ طور پر ہندو و مسلم کے دو خانوں میں بٹ گیا اور مسلمان مذہبی اور سیاسی و سماجی طور پر اکثریت کے دشمن بنا کر رکھ دئے گئے جس کی وجہ سے ہر ہر شعبہ میں ان کے ساتھ خطر ناک حد تک تعصب برتا جانے لگا ۔آج مسلم مخالف اشتعال انگیزی سے لے کر فسادات اور سماجی بائیکاٹ تک مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کی اصل وجہ یہی سیاسی پالسی ہے، اور یہ سب دراصل مسلمانوں کا ووٹ بنک کیش کر نے کے لئے کیا جاتا رہا جس میں ہو تا یہ ہے کہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کے تئیں کوئی ایسا شوشہ چھوڑ دیتی ہیں کہ مخالفین مسلم مخالف اشتعال انگیزی پر اتر آتے ہیں جس کی وجہ سے مسلمان ان کی مخالفت میں بے دریغ ان جعلی سیکولر پارٹیوں کی طرف چلے جاتے ہیں ۔اس سیاست کی وجہ سے وطن عزیز میں مسلمان سیاسی طورپر انتہائی مجبور بنا کر رکھ دئے گئے ہیں کانگریس یا مسلمانوں کی حمایتی سیاسی پارٹیاں انہیں ووٹ بنک سے زیادہ اہمیت نہیں دیتیں ۔بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹیاں مسلمانوں کی فلاح کی ہر اسکیم کومسلم منھ بھرائی کہہ کر اکثریت کو مسلم مخالف فرقہ وارانہ طور پراکسا دیتی ہے ۔بی جے پی کے اسی عمل کی وجہ مسلمان اس کے قریب نہیں جاتے اور بی جے پی کے اس عمل کی وجہ سے اور خاص طور سے غیر مسلم ووٹ بنک کے نقصان کے ڈر سے کانگریس یا دوسری پارٹیاں مسلمانوں کے لئے کوئی خاص کام نہیں کرتیں ،اور یہ سب بیک وقت ہندو و مسلم دونوں ووٹ بنکس کو متحرک کر نے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کچھ سیاسی پارٹیاں اپنے لیڈروں کی یا حمایتیوں کی مسلم مخالف اشتعال انگیزیوں کو اپنا ہندو ووٹ بنک متحرک کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں لیکن کچھ سیکولر یا مسلم دوست کہی اور سمجھی جانے والی سیاسی پارٹیاں اپنے مخالفین کی اسی پالسی کو مسلم ووٹ بنک متحرک کر نے کے لئے استعمال کرتی ہیں اور ہمارے قائدین چونکہ ملت کے نمائندے کم اور اپنی پارٹی کے نمائندے زیادہ ہوتے ہیں وہ بھی اس سیاست میں اپنی پارٹی کاپورا پورا ساتھ دیتے ہیں بلکہ پارٹیاں اس سیاست کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری انہیں ہی سونپتی ہیں ۔اسی طرح سیاسی پارٹیاں ہمارے کچھ سماجی اور مذہبی لیڈران کو بھی دلالوں کی طرح کام پر لگاتی ہیں جو بالکل اشیائے صرف یا جانوروں کے دلالوں کی طرح الٹی سیدھی تاویلوں اور جھوٹی سچی باتوں کے ذریعہ اور دوسری سیاسی پارٹیوں یا سنگھی سیاسی پارٹیوں کی مسلم مخالفت سے ڈرا دھمکا کر ہمیں پھر اسی عطار کے لونڈے کی طرف دھکیل دیتے ہیں جس کی وجہ سے ہم بیمار ہوکر یہاں تک پہنچ چکے ہیں۔اب پچھلے کچھ سالوں سے ملک میںآزادانہ مسلم سیاست یعنی صرف مسلمانوں کی سیاسی پارٹی یا مسلم سیاست کا کافی شور چل ہا ہے جو اگر مصلحت اور حق بہ جانب مفاہمت سے کیا جاتا تو انتہائی مفید سیاسی اقدام ہوتا لیکن افسوس کی بات ہے کہ مسلم سیاست کر نے والے بھی مسلمانوں کو اصل اشوز کے ذریعہ جگانے اور متحرک کر نے کی بجائے انتہائی جذباتیت اور اشتعال انگیزی کے ذریعہ وہی ووٹ بنک کی سیاست کر تے نظر آرہے ہیں جس کے لئے ہم بی جے پی کانگریس اور دوسری سیاسی پارٹیوں کو کوستے رہتے ہیں۔ایسے میں غیروں اور اپنوں کی ووٹ بنک کی سیاست کے دام فریب میں پھنس کر سیاسی طور پر بے وقعت ہوجانے کی بجائے ضروری ہے کہ ہم مسلمان متحد ہو کر پوری سوجھ بوجھ اور منصوبہ بندی کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیں اس طرح ہم اگر ایک متحد ووٹ بنک بھی رہیں تو ہمارا سیاسی وزن بڑھ سکتا ہے اور ہم ہر سیاسی پارٹی کے لئے اہم ہو سکتے ہیں،ووٹ بنک کی سیاست میں ہونے والی مسلم مخالفت اشتعال انگیزی کے دو مقاصد ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ اس اشتعال انگیزی کی وجہ سے مسلمان جذباتی ہو کر مشتعل ہو جائیں اور کوئی غیر قانونی اقدام کر یں تاکہ امن خراب کرنے کی ذمہ داری ان پر تھوپ کر ہندوؤں کو ان کے خلاف کھڑے کرنے کا موقع ملے اور انہیں سیاسی طور پر متحرک اور یک جٹ کر کے ان کے ووٹ اپنے حق میں کیش کئے جا سکیں ۔ان لوگوں کا دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جس لہجہ میں وہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کرتے ہیں مسلمانوں میں سے بھی کوئی اٹھے اور اسی لہجے میں ان کے خلاف بولنے لگے تاکہ ہندو مسلمانوں کو خطرہ سمجھ کرہندوتوا کا جاپ کرنے والے ان لوگوں کو اپنا محافظ سمجھیں اور سیدھے ان کے خیمے میں چلے آئیں اور دوسری طرف مختلف پارٹیوں میں بٹے مسلمان اپنی طرف سے بولنے والے کی طرف جھک کر مزید تقسیم ہو جائیں۔ ہندوستانی جمہوریت ابھی اتنی بالغ نہیں ہوئی کہ رائے دہی کا صحیح شمار کر سکے یہاں وہی سکندر کامیاب ہوتا ہے جو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتا ہے ہماری جمہوریت میں اس کے خلاف پڑے ووٹوں کے تناسب کی کوئی اہمیت نہیں ہے یہاں یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ جیتنے والے امیدوار نے اپنے مخالف ووٹوں کو تقسیم کر نے کے لئے کتنے جعلی امیدوار میدان میں اتارے تھے ؟ایسے میں ہم مسلمانوں کے لئے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کون سا امیدوار یا کونسی سیاسی پارٹی ہمارے ووٹوں کو تقسیم کر کے مخالفین کو فائدہ پہنچا ئے گی اور ہمیں بے اثر کر دیگی، ہمیں ایسا کوئی منصوبہ بنانا چاہئے کہ اگر ہماری حمایت یافتہ امیدوار الیکشن ہار بھی جائے تو ہمارا سیاسی اثر کم نہ ہو اور اس کے لئے ہمیں ان لوگوں سے اور ان پارٹیوں سے بھی ہوشیار رہنا چاہئے جو جذباتی ایشوز اور اشتعال انگیز باتوں کے ذریعہ ہمارے ووٹوں کا استحصال کرتی ہیں خاص طور سے ایسی جگہ جہاں ان کی وجہ ہمارے ووٹوں کی تقسیم کا خطرہ ہو اور اس سے کسی لائق امیدوار کے ہار جانے کا خدشہ ہو۔ چاہے ایسے لوگ اپنے ہوں یا غیر اور چاہے ایسی پارٹیاں اپنے آپ کو ہمارا مسیحا اور نجات دہندہ بنا کر ہی کیوں نہ پیش کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close