ہندوستان

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں ہے

 شاہد جمال فلاحی

          15  اگست1947 کو ہمارا ملک ہندوستان آزاد ہوا  لیکن آزادی کے70 سال  بعد آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں  تو ہمیں یہ محسوس ہوتا ہیکہ اتنے سالوں میں ہم جشن آزادی تو بدستور مناتے رہے ہیں لیکن آزادی کے مقاصد کو یکسر فراموش کر چکے ہیں۔ ہم نے انگریزوں کی غلامی سے آزادی تو حاصل کر لی لیکن اس فکر سے خود کو آزاد نہیں کر سکے جو انگریزوں کی 200 سالہ غلامی کے دوران ہمارے ذہنوں میں مانند زہر گھول دی گئی تھی۔ میں یہاں لفظ زہر کا استعمال کر رہا ہوں اور میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں قصداً اس لفظ کا استعمال کر رہا ہوں۔ کیا یہ سچ نہیں ہیکہ مذہبی، نسلی اور علاقائی تعصب کا جو فاسد خون آج ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے  وہ انگریزوں  سے منسوب ہے؟ کیا  یہ سچ نہیں ہیکہ ”پھوٹ ڈالو اور سیاست کرو ”کا جو منفی فلسفہ آج کے سیاست داں اپنائے ہوئے ہیں اس کی تاریخ بھی انگریزوں سے وابستہ ہے ؟کیا یہ سچ نہیں ہیکہ استحصال کی جو پالیسی انگریزوں نے اپنائی تھی آج 70 سال بعد بھی  وہ کسی نہ کسی شکل میں رائج ہے؟  معاف کیجئے گا کچھ بھی نہیں بدلا بس لوگ بدل گئے، پہلے اجنبی لوگ ہمارا استحصال کرتے تھے، آج ہمارا استحصال کرنے والوں میں ہمارے اپنے ہی لوگ شامل ہیں۔

جشن آزادی منانے سے قبل ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نفرت، ظلم، استحصال اور جارحیت کی جو شکل  انگریزوں کے زمانے میں موجود تھی  وہ آج کے آزاد ہندوستان میں اس سے کہیں زیادہ  بھیانک شکل اختیار کر چکی ہے۔ جشن آزادی منانے سے قبل ضروری ہیکہ آزادی کا صحیح مفہوم معلوم کیا جائے، آزادی کا مطلب اگر محض انگریزوں  کی غلامی سے آزاد ہونا ہے تو مجھے بتائے کہ  جب ہمارا ملک  بہت پہلے ہی 15 اگست 1947 کو انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ایک آزاد اور خود مختار ملک بن  چکا ہے تو پھر 70 سال بعد بھی اندرون ملک میں مختلف گوشوں سے آزادی کی صدائیں کیوں بلند ہوتی نظر آ رہی ہیں ؟ آخر وہ کون لوگ ہیں جو خود کو آزاد ہندوستان کا اسیر مانتے ہیں ؟  انہیں اس ملک کی فضا میں گھٹن کیوں محسوس ہو رہی ہے؟   آخر ایسا کیوں ہیکہ تقریباً 7  دہائیوں بعد بھی یہاں کے شہری کسی نہ کسی شکل میں آزادی کا  مطالبہ کرتے رہے ہیں ؟ میرے خیال سے  ہندوستان کے تناظر میں اگر ہم ان سوالوں کے جواب  تلاش کریں تو  شاید ہم آزادی کے صحیح مفہوم کو سمجھنے میں کامیاب ہوں گے۔

یہ آپ اور ہم بخوبی جانتے ہیں کہ وہ لوگ جو اندرون ملک آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں  ان کی منشا ہرگز یہ نہیں کہ اس ملک کی مزید کو ئی تقسیم ہو، وہ اس  ملک سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی کہ ہم اور آپ کرتے ہیں، ان کے نزدیک آزادی  کا مطلب  محض انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ ان کے نزدیک آزادی کی نوعیت  بالکل مختلف ہے اور اس کا تصور بہت ہی وسیع ہے اور جس کے تحت مذہبی، سماجی، سیاسی، نسلی، ذاتی اور علاقائی تعصب سے آزادی ہی اصل آزادی ہے۔ افسوس کہ 15اگست 1947کو ہندوستان انگریزوں کی  200 سالہ غلامی سے آزاد تو ہو گیا لیکن بہت جلد ملک کے چند لوگوں نے اپنے سیاسی اور معاشی مفاد کی خاطر اسے پھر سے غلام بنا لیا اور جیسا کہ ہم اور دیکھ رہے ہیں کہ یہ غلامی انگریزوں کی بد ترین غلامی سے کچھ کم نہیں ہے۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور دلتوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، ملک کے وسائل کا  غلط اور بیجا اصراف کیا جا رہا ہے، ملک کی پوری معیشت محض چند خاندانوں تک سمٹ کر رہ گئی ہے، غربت و افلاس کا یہ عالم ہیکہ لوگ بھوکوں مر رہے ہیں، صحت و تعلیم کا گراف مزید گرتا جا رہا ہے اور بغیر کسی شرم کے اقتدار پر قابض افراد ملک کی ترقیوں کے راگ الاپتے نظرآ رہے ہیں، بولنے کی آزادی سلب کی جا رہی ہے اور سوچنے کی صلاحیت کو آمرانہ احکامات کے ذریعہ کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان حالات میں جشن آزادی منانا تو  دور مسکرانا بھی عذاب معلو م  پڑتا ہے۔ لیکن یہ میری کیفیت ہے اور میں اس آزاد ہندوستان میں آپ کو ہرگز مجبور نہیں کر سکتا کہ آپ بھی وہی محسوس کریں جو میں محسوس کر رہا ہوں۔ آپ آزاد ہیں خوشیاں منانے کیلئے آپ ضرور خوشیاں منائیں  اور جشن آزادی کا اہتمام کریں۔

بڑے فخر کے ساتھ یہ کہا جاتا ہیکہ ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا درجہ حاصل ہے، اس میں شک نہیں کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ لفظ جمہوریت کا استعمال محض خیالی طور پر نہیں  کیا جا سکتا، اگر کوئی ملک جمہوری اقدار کا پاسبان کہلانے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے عملی طور پر اس کا ثبوت پیش کرنا ہوگا، ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیئے کہ جمہوری اقدار کا  مثبت اور مکمل نفاذ ہی مظبوط اور کامیاب جمہوریت کی بنیادہے۔

نومبر9 194 میں کانسٹیٹیوٹ اسمبلی نے ہندوستانی دستور کو حتمی شکل دی  اور 26 جنوری1950 کو ہندوستانی دستور کا نفاذ عمل میں آیا اور اسی کے ساتھ یہ طے پایا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہوگا، یہاں کے شہریوں کو  شخصی آزادی، مذہبی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی  حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں مساوات کا حق بنیادی حق کی حیثیت سے حاصل ہوگا لیکن آج 70سال بعد بھی ہندوستانی عوام بالخصوص اقلیتوں کو  نہ صرف یہ کہ ان حقوق سے محروم رکھا گیا ہے بلکہ  اقتدار پر فائز افراد کے ذریعہ کھلے عام ہندوستانی دستور کا مذاق  بھی بنایا گیا ہے۔

بد قسمتی سے اس ملک میں شہریوں کا محض الیکشن میں ووٹ ڈال دینا ہی جمہوریت تصور کر لیا گیا ہے۔ یقیناً ووٹ ڈالنا جمہوریت ہے لیکن کلی طور پر اسے جمہوریت سمجھ لینا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ جمہوریت کا اصل مفہوم تو یہ ہیکہ حکومت کے نظم و نسق سے لیکر ملک کی تعمیر و ترقی میں بلا   تفریق تمام شہریوں کو شراکت دی جائے، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے، یہ دیکھ کر بہت افسو س ہوتا ہیکہ اس ملک میں جمہوریت تو ہے لیکن یہ محض چند لوگوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر رہ گئی ہے۔ جس طرح ملک کی معیشت پر چند خاندانوں کا قبضہ ہے اسی طرح  جمہوریت بھی محض چند خاندانوں کی داشتہ بن کر رہ گئی ہے۔ فسطائی قوتوں نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا بنا کر رکھ دیا ہے، ہندو  انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی  قصہء پارینہ بن کر رہ گئی ہے۔ حکومت کا رویہ آمرانہ ہے، دستوری اقدار کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، دستوری ادارے زعفرانی رنگ میں رنگ چکے ہیں، وزراء اور افسر شاہوں نے ملک کی ترقی کو پس پشت ڈال کر آر ایس ایس کے ایجنڈوں کی تکمیل کو اپنا ہدف بنا لیا ہے۔ کشمیر وادی میں سناٹا چھایا ہوا ہے، عوام کی آنکھیں نوچی جا رہی ہیں، دلتوں اور مسلمانوں کا  خون  گوٗ متر سے زیادہ ارزاں تصور کیا جا نے لگا ہے، حب الوطنی محض فیس بک کی ڈی پی اور موبائل کے رنگ ٹون تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، ان حالات میں نہ تو جمہوریت سلامت ہے اور نہ آزادی تو پھر جشن آزادی منانے کا کیا سوال؟

آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی اس خواب کی تکمیل نہیں کی جا سکی جو ہمارے بزرگوں نے مل کر دیکھا  تھا، انہوں نے ایک ایسے ہندوستان کا خواب دیکھا تھا جس کی بنیاد انصاف اور مساوات پر ہو، جہاں مذہبی، نسلی اور علاقائی تعصب کی گنجائش باقی نہ رہے۔ لیکن  ان بزرگوں کا خواب اور موجودہ ہندوستان کی حقیقت میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ کاش ہم اس خواب کو پورا کر پاتے، کاش ہم متحد ہو کر فسطائی ذہنیت کو شکست دے پاتے اورکاش کہ ہم آزادی کا صحیح مفہوم سمجھ پاتے۔

   یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ  سحر

 وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحرتو نہیں ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

شاہد جمال فلاحی

شاہد جمال فلاحی جامعہ ملیہ سلامیہ سے ایم ایڈ کررہے ہیں۔ آپ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ آپ کی نگارشات معروف اردو اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتی ہیں۔ shahidjamal@mazameen.com

متعلقہ

Back to top button
Close