ہندوستان

پاک بھارت تعلقات

ابراہیم جمال بٹ

ہند پاک سرحدی تنائو کے نتیجے میں جو دو طرفہ فوجیوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی اموات ہو رہی ہیں ، پر دونوں ممالک تلخ لہجہ استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے پر سرحدی قانون کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے رہتے ہیں ۔ یہ سلسلہ آج کا نہیں بلکہ برسوں سے جاری ہے تاہم اس دوران آج تک اَن گنت فوجیوں سمیت ہزاروں عام شہریوں کی اموات واقع ہو چکی ہیں جس پر دونوں طرف سے میڈیا میں اگرچہ شور وغل ہوتارہا ہے تاہم اس کی وجوہات اور سدباب کے حوالے سے کوئی اہم اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں ۔ بلکہ ایک دوسرے کے خلاف جنگی جنونیت کا مظاہرہ کر کے دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ حالاں کہ حقیقت یہی ہے کہ جنگ نہ کبھی مسائل کا حل نکال سکی ہے اور نہ ہی نکال سکے گی، جب تک نہ آپسی مسائل کے حل کی کوششیں کی جائیں گی تب تک جنگی ماحول کا سماں بار بار پیدا ہوتا رہے گا اور یہ سلسلہ ان عام لوگوں جو سرحدی علاقوں میں مقیم اپنی زندگی کے ایام گزار رہے ہیں ، کے لیے دردِ سر ہی نہیں بلکہ کسی قیامت سے کم نہیں ثابت ہو گا۔ پاک بھارت تعلقات اگرچہ چند ایک مسائل کی وجہ سے خراب ہوتے چلے آرہے ہیں جن میں سرفہرست ’’مسئلہ کشمیر‘‘ ہے۔

 اس دیرینہ مسئلے کی وجہ سے آج تک کئی لاحاصل جنگیں بھی ہوئیں ، بلکہ جنگی ماحول میں نئے نئے طور سے تبدیلیاں لائی گئیں ۔ آج حالت یہاں تک پہنچی کہ پاک بھارت دونوں ممالک میں دہشت کا ماحول قائم ہو چکا ہے۔ فوج تو فوج عوام بھی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ اگر حقیقت حال کا خلاصہ پیش کیا جائے تو عملی طور پر پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں دہشت کا ماحول قائم کرنے میں ایک تیسرا شخص ہے جو ان کی جنگی جنونیت پر تیل چھڑکنے کا کام وقت وقت پر کر رہا ہے اور اپنا الو سیدھا کر کے دونوں ممالک کو ایک ایسے خواب میں محو رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ جس کی کوئی اصل حقیقت ہی نہیں ۔

 اس ’’تیسرے شخص‘‘ کا مقصد کیا ہے اور وہ کیا نہیں چاہتا؟ اس سے اگرچہ دونوں اطراف کے ذی حس لوگ اکثر وبیشتر اپنی تحریروں وتقریوں میں تذکرہ کرتے آرہے ہیں لیکن ہماری بدقسمتی دیکھئے کہ دونوں ممالک پر ایسا ’’سیاسی جنگی جنون ‘‘ سوار کیا جا چکا ہے کہ وہ نہ ہی سننے کو تیار ہیں اور نہ ہی کسی کی بات کو ماننے پر رضامند۔ گویا اپنی ڈفلی آپ بجانے کے بجائے ان پر ڈفلی بجائی جا رہی ہے اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم ہی اس کے بجانے والے ہیں۔

پاک بھارت تعلقات میں آئے روز کی تلخیاں اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ کوئی ہے جو ان کے درمیان مسلسل دوریاں رکھنا چاہتا ہے، کیوں کہ اگر دیکھا جائے تو دونوں ممالک اکثر وبیشتر ایک دوسرے کے ہمسایہ رشتے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ہم آپسی مضبوط رشتہ چاہتے ہیں ‘‘ لیکن عملاً اس کے برخلاف کیا جارہا ہے، آخر کیوں ؟ گویا کہنے والے اگرچہ صحیح بات کہہ دیتے ہیں لیکن پھر چند لمحوں بعد ہی دونوں کی ’’قولی قربت‘‘ سچ مچ ’’خیالی‘‘ بن کر رہ جاتی ہے، ایک ایسی غیبی فتنہ پرور طاقت کی سوچ سامنے آتی ہے کہ میٹھی باتیں تلخ لہجہ اختیار کر لیتی ہیں اور آپسی دوریوں میں مزید دراڑیں پڑ جاتی ہیں جس کے باعث دونوں طرف سے ’’تو تو میں میں ‘‘ کی لفظی جنگ شروع ہو کر آخر کار سرحدی تنائو کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور یوں کنٹرول لائن پر خاموشی ٹوٹ کر بارود اور گولیوں کی گنگناہٹ سنائی دیتی ہے، جس سے نہ صرف دو طرفہ فوجی نقصان ہوتا ہے بلکہ عام انسانیت بھی اس کی زد میں آکر موت کی شکار ہو جاتی ہے۔

کسی نے عمدہ بات کہی ہے کہ :

’’دونوں کی لڑائی، تیسرے کی جیت‘‘۔

یہ رنگ میں بھنگ ڈالنے والا کون ہے؟ پاک بھارت کی دوستی سے کس کو نقصان ہے؟ کون نہیں چاہتا کہ برصغیر میں پاک بھارت دو ہمسایہ ممالک کی آپسی دوریاں ختم ہو جائیں ؟ اور ان دو ممالک کے جنگی ماحول سے فائدہ اٹھا کر کون ساحل پر بیٹھا مزے لے رہا ہے۔ اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پاک بھارت تعلقات اس قدر خراب ہوں کہ وہ لفظی جنگی جنون سے نکل کر عملی جنگی جنون کا شکار ہو جائیں اور فائدہ سچ مچ کوئی تیسرا اٹھائے۔

بہرحال ’’سیاسی جنونیت‘‘ آج تک نہ ہی کوئی مسئلہ حل کر پائی ہے اور نہ ہی کبھی کر پائے گی۔ البتہ اگر دونوں ممالک اس دیرینہ مسئلہ کے پائیدار حل کے لیے حریت پسند کشمیریوں کے ساتھ مل بیٹھ کر اس مسئلے کے حل کی راہ جلد از جلد نکالنے کی کوشش کریں ، توعوامی سطح پر ایک خوشگوار صورت حال کا سماں دیکھنے کو مل سکتاہے، بصورت دیگر اگر یوں ہی خون خرابہ ہوتا رہا، سرحدوں پر جنگی ماحول قائم رہا، تو اگرچہ ’’ جنگ‘‘ کی دونوں ممالک کو سکت نہیں ، لیکن بار بار کا ’’سیاسی کھیل‘‘ ایک دن ’’جنگی کھیل‘‘ میں ضرور تبدیل ہوجائے گا اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو وہ دن پاک بھارت کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر کی تباہی وبربادی کا دن ہو گا۔ کیوں کہ ماحول کی نوعیت آئے روز بدلتی رہتی ہے اور جموں وکشمیر کی حالات میں آج تک کئی موڑ آچکے ہیں اور آج جس صورت حال کا سامنا جموں وکشمیر کے لوگ کر رہے ہیں اس سے صاف جھلک رہا ہے کہ آئندہ یہاں کے لوگوں کی ’’مزاحمتی سوچ‘‘ میں مزید شدت آنے کا احتمال ہے اور اس بڑھتی شدت کو کنٹرول کرناآنے والے وقت میں ناممکن بن جائے گا، اس لیے پہلے ہی مسئلہ پر بامعنی مذاکرات کے لیے کوششیں کرنا دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا اور پائیدار امن کی ضمانت بھی فراہم ہوگی،وگرنہ نقصان کی تلافی نہ صرف نا ممکن ہے بلکہ آزادی کے بعد اپنی ۷۰؍ سالہ تاریخ میں پاک بھارت نے اپنے اپنے ملک میں جو بھی تعمیری کام کیا ہے وہ چند لمحوں میں ہی صفر پر پہنچ سکتا ہے اور یہ تباہی ایسی ہوگی کہ جس کی بھرپائی صدیوں تک ممکن نہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close