ہندوستان

پرائیویٹ اسکولوں کی آبرو خطرہ میں

حفیظ نعمانی

کانگریس حکومت کے زمانہ میں 2009ء میں یہ خوشخبری سنائی گئی تھی کہ ملک کے ہر بچہ کو اور بچی کو مفت تعلیم دی جائے گی، مرکزی حکومت نے ملک کے ہر صوبہ کو حکم دیا تھا کہ وہ تین سال کے ا ندر اندر جہاں سرکاری اسکول نہ ہوں وہاں اسکول بنائیں اور پڑھانے والوں یا والیوں کا انتظام کریں، ہندوستان  جیسے ملک میں جس میں آج بھی غریبوں کی تعداد خوش حال لوگوں سے چار گنی ہے، یہ خبر ایسی نہیں تھی کہ جشن مناتے اور محلہ محلہ اسکول کھلنے کی خوشی میں سرکاروں کی پارٹی کو ووٹ دیدتے، جیسے سونیا گاندھی نے اپنی حکومت کے پانچ سال پورے ہونے کے وقت اپنے اس بل کو پاس کرانے کے لیے زمین آسمان ایک کردیا تھا کہ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گذارنے والوں کو ۳ روپے کلو چاول اور ۲ روپے کلو گیہوں دیا جائے گا، اس کے لیے عوام میں جس قدر جوش دیکھنے میں آیا اس کادس فیصدی بھی تعلیم کو مفت کرنے پر نہیں آیا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ 2016 بھی آدھے سے زیادہ ہوگیا اور نہ کوئی اسکول کھلا نہ کوئی پڑھانے والا نوکر رکھا گیا۔

اترپردیش کی حکومت کی مدت پوری ہونے میں آٹھ مہینے رہ گئے ہیں اب حکومت جاگی ہے اور اس نے وہ حکم دیا ہے جس کی کوئی نظیر آزاد ہندوستان میں کم از کم ہم نے نہ سنی نہ دیکھی اور نہ سوچی، پہلے حکم آیا کہ اگر کسی آبادی سے ایک کلومیٹر کے اندر کوئی سرکاری اسکول نہ ہو تو وہاں کے بچوں کو ان اسکولوں میں داخلہ دے دیا جائے جن کو حکومت امداد دیتی ہے، اور اگر ان میں جگہ نہ ہو تو ان پرائیویٹ اسکولوں میں انھیں داخل کرلیا جائے جو اپنے طور پر چل رہے ہیں، اور یہ بھی خوشخبری سنائی کہ حکومت ان بچوں کے حساب میں سات ہزار روپے فی بچہ فیس دے دیگی، دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے ملک کے سرکاری اسکولوں میں جو بچے پڑھ رہے ہیں، اور حکومت ان پر جو خرچ کر رہی ہے اس کا اوسط ساڑھے سترہ ہزار فی بچہ ہے، اور سرکاری اسکول کیسے ہیں،ان میں کتنے بچے پڑھتے ہیں اور کتنے ماسٹر پڑھاتے ہیں؟ اور کتنے ہزار اسکول ایسے ہیں جہاں صرف پڑھانے والے تو ہیں جن کو تنخواہیں لاکھوں روپے دی جارہی ہیں اور پڑھنے والا بچہ کوئی نہیں ہے، اس لیے کہ اگر کوئی غریب اپنے بچہ کو سرکاری اسکول میں پڑھائے گا تو وہ دس برس میں ہائی اسکول پاس کرے گا اور اگر انٹر بھی پاس کرلیا تو کون سا کالج اسے بی اے میں داخلہ دے گا، جو جاہلوں سے بد تر ہوگا اور اگر اس نے بی اے بھی کرلیا تو وہ صرف بے روزگاروں میں ایک بے روزگار کا اضافہ ہوگا۔ جو ان کاموں کا بھی نہیں رہے گا جو اس کے باپ یا چچا تایا کرتے ہیں۔

جمہوریت ایک زنجیر ہے، گائوں میں تو انھیں پنچایتوں سے جوڑ دیا گیا ہے اگر چھوٹے قصبے ہیں تو وہاں میونسپل بورڈ ہیں، بڑے شہر ہیں تو کارپوریشن ہیں، پھر اسمبلی کے ممبر ہیں، ان سے بھی بڑے پارلیمنٹ کے ممبر ہیں، اور سب سے بڑھ کر پولیس ہے۔

اگر وزیر اطلاع چاہیں تو ایک ہفتہ میں معلوم ہوجائے کہ پورے صوبے میں سرکاری اسکول کتنے ہیں، کہاں کہاں ہیں اور ایمانداری کے ساتھ بتائو کہ وہ کس حال میں ہیں؟ تو فوٹو کے ساتھ انہیں ایک ایک اسکول کے بارے میں معلوم ہوجائے گا، اور جو رپورٹ آئے گی اس کے بعد اگر ہماری طرح سوچا جائے گا تو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ سب کو بند کردیا جائے اور تعلیم پرائیویٹ ہاتھوں میں دے دی جائے،  سرکاری اسکولوں اور سرکاری روڈ ویز کا ایک سا حال ہے، بلکہ روڈویز کا بہت اچھا ہے، اس لیے کہ وہ نقل و حمل کا ذریعہ ہے، سرکاری اسکولوں سے تو صرف ان کابھلا ہورہا ہے جو پڑھانے پر نوکر ہیں، یا جن کے پاس دوپہر کے کھانے کا ٹھیکہ ہے، یا بیسک شکشا ادھیکاری ہیں یا ان کے دفتر کے بابو ہیں، یہ سب کے سب صرف حرام خور ہیں اور حکومت جو کروڑوں روپے ان پر صرف کررہی ہے وہ خود پاپ کررہی ہے۔

اب سنا ہے کہ حکومت نے یہ شرط بھی واپس لے لی ہے کہ ایک کیلومیٹر کے اندر سرکاری اسکول ہو، بلکہ ہر اسکول کو جسے حکومت کچھ دیتی ہے یا کچھ نہیں دیتی ہے، اس کا پابند کیا ہے کہ اگر کوئی غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گذ ارنے والا اپنے بچوںکو پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانا چاہے تو اسکول اسے داخل کرے گا اور اسے پڑھانے کا پابند ہوگا، اگر ان کے پاس جگہ نہیں ہے یا بلڈنگ نہیں ہے یا پڑھانے والے نہیں ہیں تو حکومت سے وہ کچھ نہیں مانگے گا خود انتظام کرے گا، صرف اس لیے کہ غریب ہو امیر ہووزیر اعلیٰ ہوںیا ان کا ڈرائیور یا چپراسی یا ان کے بنگلے میں صفائی کرنے والے مزدور ، سب پرائیویٹ اسکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں،اور جو اپنے بچوں سے کام کرانا چاہتے ہیں وہ اس وقت بھی نہیں پڑھیں گے جب ان کے گھر پڑھانے والے پہنچا دئے جائیں، بات صرف اتنی ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والوں کی تعداد کم ہے، اور انھیں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے والوں کی تعداد ان سے دس گنا ہے اور حکومت کو ووٹ چاہئے، ظاہر ہے جس کے پاس زیادہ ووٹ ہوں گے حکومت ان کو خوش کرے گی چاہے وہ وقتی اور عارضی ہی خوش ہوں۔

حکومت میں تعلیم کے ذمہ داروں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ اگر سماج کے کوڑے کباڑ کو پرائیویٹ اسکولوں میں ڈنڈے کے زور سے داخل بھی کرادیں گے اور سات ہزار روپے سالانہ ٹیوشن فیس بھی دے دیں گے تو وہ دوسرے اخراجات کیسے پورے کریں گے؟ پرائیویٹ اسکولوں میں سرکاری سستی کتابیں نہیں پڑھائی جاتیں وہ اپنی پسند کی انتہائی مہنگی ، معیاری اور خوبصورت کتابیں پڑھاتے ہیں، جو سو روپے سے کم کی نہیں ہوتیں، دو سو روپے کی کاپیاں ، یونیفارم، رپورٹ کارڈ، پی ٹی کا یونیفارم الگ دو طرح کے جوتے، یہ سب تین ہزار سے زیادہ کے ہوتے ہیں، اگر کوئی اپنے بچوں کے لیے یہ سب کرسکتا ہے تو وہ ٹیوشن فیس بھی دے سکتا ہے، اور یہ سب نہیں کرسکتا توایسے میلے کپڑوں، پھٹے بستے میں سستی بیسک ریڈر لے کر آنے والے کو کون ان کے پاس بٹھانے کی ہمت کرے گا، جنھوں نے ہزاروں روپے خرچ کیے ہیں؟

کسی بھی حکومت کو کیا حق ہے کہ جن کاموں کے کرنے کے وعدوں پر ووٹ لیے اور حکومت بنائی ہے وہ سب ان پر لاد دے جنھوں نے کروڑوں روپے خرچ کرکے تعلیم کا ایسا انتظام کیا ہے جس پر بچہ فخر کرے اور ماحول ایسا بنایا ہے کہ بچوں میں زیادہ سے زیادہ نمبر لانے کا جذبہ پیدا ہو۔ سنبھل میں ہمارا پورا خاندان ہے، وہاں سرکاری اسکول بھی ہیں اور وہ جگہیں بھی ہیں جہاں ہمارے رشتے کے بھائی اپنی بھینس اور گائے رکھتے ہیں، اگر وزیر تعلیم نواب زادہ افضال حسین کے مہمان بن کر سنبھل کو دیکھیں تو ان کے سرکاری اسکولوں سے جانوروں کے مکان زیادہ اچھے ملیں گے، حکومت کو کوئی حق نہیں ہے کہ پرائیویٹ اسکول والوں کو کسی کام کے لیے مجبور کرے، ان سب کا احسان ہے کہ آنے والی نسلوں کو انھوں نے جاہل رہنے سے بچا لیا، اور حکومت کو اچھے تعلیم یافتہ اور مہذب لڑکے مل رہے ہیں، چاہے پیسے زیادہ خرچ ہوں۔

ملک آزاد ہونے سے ایک سال پہلے ہم لکھنؤ آچکے تھے، اندرا گاندھی کے وقت بہت کچھ بینک بجلی وغیرہ پرائیویٹ ہاتھوں میں تھے، ان کی کارگذاری ایسی تھی کہ عام آدمی کا وقت بھی بچتا تھا اور پیسہ بھی، جب سے سب کچھ سرکاری ہوا ہر چیز برباد ہوگئی، آج ہر سرکاری اسکول سرکاری اسپتال ، سرکاری روڈ ویز اور سرکاری بینک سب چوروں کے ہاتھ میں ہیں، اگر اکھلیش بابو بھی اسکولوں کے ساتھ وہی کریں گے جو بینکوں کے ساتھ مسز اندرا گاندھی نے کیا تھا تو جن کے لیے کررہے ہیں انھیں تو کچھ نہ ملے گا اور جن سے کرارہے ہیں وہ بھی سرکاری اسکولوں کی طرح برباد ہوجائیں گے، حکومت کا کوئی ذمہ دار یہ نہ سمجھے کہ ہمارا بھی کوئی پرائیویٹ اسکول ہے، ہم تو صرف وہ فرق دیکھ رہے ہیں جو ہماری ہی دو نسلوں میں ہے جنھوں نے اس وقت سرکاری اسکولوں میں پڑھا جب وہ واقعی اسکول تھے، اور اب جنھوں نے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھا یا پڑھ رہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close