پولس پر کیوں بھروسہ نہیں کرتے ہندوستانی مسلمان؟

غوث سیوانی، نئی دہلی

ہندوستانی پولس قاتل ہے؟ جعل ساز ہے؟ رشوت خور ہے؟ حقوق انسانی کی دشمن ہے؟یا عام شہریوں کی محافظ اور انسانیت دوست؟ اس قسم کے سوالات اکثر اٹھتے رہتے ہیں اور ہندوستانی پولس سوالوں کے گھیرے میں رہتی ہے مگر آج تک اس بات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا کہ پولس کی تصویر کو کیسے بدلا جائے؟ غیر قانونی تعمیرات کرانی ہوں تو پولس رشوت لے کر ایسا کرنے کی اجازت دے دے گی۔وہ رشوت لے کر خواتین سے جسم فروشی کی اجازت دیتی ہے۔ شراب کی غیر قانونی دکانیں اس کی شہہ پر چلتی ہیں اور بڑے سے بڑا غیر قانونی کاروبار اس کی مدد سے چلتا ہے۔ اپنے کسی دشمن کو سبق سکھانا ہو تو پولس سے رابطہ کریں اسے کسی نہ کسی جھوٹے کیس مین پھنسادیا جائے گا بس اس کے لئے آپ کو تھوڑی سی رشوت دینی پڑیگی۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ سڑک کنارے پولس والے کھڑے ہوکر آنے جانے والی ٹرکوں سے رشوت لیتے رہتے ہیں۔ عوام کی نظر میں پولس کی بس یہی تصویر ہے۔ مسئلہ صرف اتنا ہی نہیں کہ پولس غنڈوں کی ایک منظم جماعت ہے بلکہ اس سے بڑی بات یہ ہے کہ ملک کا اکثریتی طبقہ ہو یا اقلیتی طبقہ کسی کو بھی اس پر اعتماد نہیں ہے۔ البتہ عام ہندووں کے مقابلے ایسے مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے جو پولس پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں۔ یہ بات مسلمانوں کی کوئی تنظیم نہیں کہتی بلکہ خود پولس نے بار بار اس کا اعتراف کیا ہے۔ یہ بات بھی اپنے آپ میں عجیب و غریب ہے کہ جس ملک کا قانون سیکولر ہے اور جہاں قانونی طور پر اس بات کی اجازت نہیں کہ کوئی کسی کے ساتھ مذہب، ذات برادری، رنگ و نسل کی بنیاد پر بھید بھاؤ کرے، وہاں پولس میں مسلمانوں کے داخلے پر غیر مبینہ پابندی سی نافذ ہے۔ پولس پنجاب کی ہو یا بنگال کی، بہار کی ہو یا مہاراشٹر کی ہر جگہ عوام کی نظر میں اس کی ایک ہی شبیہ ہے۔ عوام دعا کرتے ہیں کہ انھیں کبھی پولس سے پالا نہ پڑے اور ان کے دروازے تک پولس کی گاڑی نہ آئے۔الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج پنڈت آنند نرائن ملا نے ایک کیس کی سماعت کے دوران پولس کو غنڈوں کی جماعت کہا تھا مگر یہ بات اب پرانی ہوچکی ہے اب تو یہ جماعت جدید آلات سے بھی لیس ہوچکی ہے اور اس کی قوت میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔
کیا پولس مسلم دشمن ہے؟
عوام کی نظر میں پولس کی خراب شبیہ اپنی جگہ پر مگر مسلمانوں کی نظر میں اس کی یہ شبیہ مزید سیاہ ہے کیونکہ آزادی کے بعد سے ابتک اس کا رویہ ہمیشہ ہی مسلم دشمن رہا ہے۔ اب تک جتنی بھی سروے رپوٹس آئی ہیں ان سے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان پولس پر بھروسہ نہیں کرتے اور اسے قاتلوں و رشوت خوروں کا گروہ سمجھتے ہیں۔جب بھی کہیں فرقہ وارانہ فسادات ہو تے ہیں پولس خود کو ہندو فورس بنا لیتی ہے۔ ایسا ہونا کوئی عجب بھی نہیں ہے کہ یہاں مسلمان آٹے میں نمک برابر ہوتے ہیں۔ اسی لئے ایک طرف تو فسادی مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں تو دوسری طرف پولس بھی انھیں کو مارتی ہے اور دنگا کرانے کے جرم میں گرفتاری بھی انھیں کی ہوتی ہے۔ برسوں جیلوں میں سڑنے کے بعد ان کی رہائی ہوتی ہے اور اس بیچ وہ اپنا سب کچھ گنوا چکے ہوتے ہیں اور ان کا خاندان بکھر چکا ہوتا ہے۔ ایسے تھانوں کی کوئی کمی نہیں جہاں ایک بھی مسلمان پولس والا نہیں ہے۔ مغربی بنگال، آسام، بہار اور اترپردیش جیسے صوبوں میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی ہے مگر یہاں بھی مسلمانوں کو پولس میں نہیں لیا جاتا۔ پولس کسٹڈی میں مرنے والا مسلمان ہوتا ہے اور اس کے زریعے جیلوں تک پہنچنے والا بھی مسلمان ہی ہوتا ہے۔ دہشت گردی کا جرم خواہ کسی کا ہو مگر اس جرم میں بغیر تفتیش کے ہی کسی مسلمان کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ ایسی مثالوں کی کمی نہیں جب دہشت گردی کے الزام میں گرفتاری پر میڈیا نے خوب شور مچایا اور پولس کی کہانی سے بھی آگے بڑھ کر اس نے ان کے جرائم کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ بلکہ کئی بار تو میڈٖیا ٹرائل میں ہی اسے پھانسی کی سزا دے دی جاتی ہے مگر دس ، بارہ سال بعد وہ کورٹ کے حکم سے رہا ہوجاتا ہے تب پولس کی کہانی جھوٹی ثابت ہوتی ہے مگر تب کوئی بھی پولس سے اس ’’معصوم مجرم‘‘ کے ماہ و سال کا حساب نہیں پوچھتا۔ نہ حکومت، نہ کورٹ، نہ حقوقِ انسانی کی تنظیمیں اور نہ ہی خود مسلمان۔ یہی سبب ہے کہ عام مسلمان پولس کو ایک مسلم مخالف گروہ سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ ان کا برتاؤ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔
سروے رپوٹس کی نظرمیں پولس
ماضی میں ایسی رپورٹین سامنے آتی رہی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولس پر مسلمانوں کی اکثریت اعتماد نہیں کرتی ہے۔ ابھی چند مہینے قبل ایک رپورٹ آئی تھی جسے خود تین آئی پی ایس افسران نے تیار کی تھی۔مہاراشٹر کے پولس چیف سنجیو دیال، یوپی کے پولس چیف دیوراج ناگر ، تمل ناڈو کے ڈائرکٹر آف پولس ،کے۔ رامانجم اور ایک سنیئر آئی بی افسر نے یہ رپورٹ تیار کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مسلمانوں کو پولس پر بھروسہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر بھروسہ نہین ہے تو اس کی کوئی نہ کوئی بنیاد ضرور ہوگی اور سب سے بڑی بنیاد تو یہی ہے کہ یہاں ان کی نمائندگی مایوس کن حد تک کم ہے۔
بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ پولس پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ بات اس سے بھی آگے کی ہے کہ اس بھروسے میں دن بہ دن کمی آرہی ہے۔ Centre for the Study of Developing Societiesنے ایک سروے2009ء میں کیا تھا جس میں پایا گیا کہ 21فیصد ہندووں اور 19 فیصد مسلمانوں کو پولس پر بھروسہ نہیں مگر 2013ء میں دوبارہ سروے کیا گیا تو اس کا نتیجہ ظاہر کر تا ہے کہ 26 فیصد مسلمانوں کو پولس پر بھروسہ نہیں رہا۔ اس سروے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ دیہاتی مسلمانوں کے مقابلے شہری مسلمانوں کو پولس پر کم بھروسہ ہے۔اسی سروے کے مطابق 39 فیصد ہندووں کا ماننا ہے کہ پولس انصاف پسند نہیں ہے بلکہ نا انصافی کرتی ہے مگر 49 فیصد مسلمان مانتے ہیں کہ پولس انصاف نہیں کرتی ، ناانصافی کرتی ہے۔ اس نظریہ کا شہری اور دیہاتی فرق بھی دکھائی دیتا ہے۔ پولس کو غیر منصف ماننے والوں میں شہری مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔یونہی پولس اسٹیشن، تحصیل، بی ڈی او آفس، گرام پنچائت، اسپتال اور سرکاری راشن دکان کو کرپٹ ماننے والوں میں ہندووں کے مقابلے مسلمان زیادہ تعداد میں ہیں۔ ضرورت کے وقت پولس مدد نہیں کرتی ہے ، ایسا 40 فیصد ہندووں اور 51 فیصد مسلمانوں کا ماننا ہے۔
پولس کے پاس کوئی جواب نہیں
مسلمانوں کے تعلق سے پولس کے رویہ پر اکثر سوالات اٹھتے رہے ہیں اور ان سوالوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ غیرجابندار ادروں کی طرف سے یہ اٹھائے جاتے ہیں۔ حال ہی میں مہاراشٹر ہائی کورٹ کی ایک بنچ جو کہ جسٹس وی ایم کنڈے اور پی ڈی کورڈے پر مشتمل تھی، پولس سے سوال پوچھا ہے کہ جیلوں اور پولس کسٹڈی میں مرنے والے بیشتر افرادمسلمان اور دلت کیوں ہیں؟ پولس نے آج تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے اور شاید اس کے پاس بغلیں جھانکنے کے سوا کوئی جواب بھی نہ ہو۔ پولس کی مسلم دشمنی جگ ظاہر ہے۔ وہ حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی کرتی ہے اور اس کا رویہ عوام دوستی کا نہیں ہے، ایسے میں کوئی اس پر کیسے بھروسہ کرسکتا ہے۔ یہاں کے پولس اسٹیشنوں میں بارہا گینگ ریپ کی وارداتیں ہوچکی ہیں جو خود پولس انجام دیتی ہے۔
اس کے لئے ذمہ دار کون؟
ہندوستانی پولس میں زیادہ خرابیاں آزادی کے بعد آئی ہیں اور مسلمانوں کے تعلق سے اس کارویہ آزادی کے بعد زیادہ قابل اعتراض ہوا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ پولس کے رویہ کا رونا سچر کمیٹی نے بھی رویا ہے جس کو مسلمانوں کے حالات جاننے کے لئے کانگریس سرکار نے ہی بنایا تھا۔ سچر کمیٹی نے سفارش بھی کی تھی کہ یہاں مسلمانوں کو بھی نوکری میں لیا جائے۔ اس کے بغیر پولس مسلمانوں کے تعلق سے غیر جانبدار نہیں ہوسکتی ہے۔ کمیٹی کے سامنے پولس کے رویہ کی مسلمانوں نے شکایت کی تھی۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ پر مگر سوال یہ ہے کہ پولس کو اس مقام تک پہنچانے اور اس کی مسلم دشمنی میں تربیت کے لئے کون ذمہ دار ہے؟ آزادی کے بعد اس ملک پر سب سے زیادہ کانگریس نے ہی حکومت کیا اور اسی نے پولس کو عوام دوست بنانے کے بجائے عوام دشمن بنا کر پیش کیا۔ پولس کی ذمہ داری تو تھی کہ وہ حقوق انسانی کی حفاظت کرے مگر اس نے کھلم کھلا اس کی دھجیاں اڑائیں۔ وہ جب فسادات کے دوران کہیں تعینات کی جاتی ہے تو خود بھی لوٹ پاٹ میں شریک ہوجاتی ہے اور متاثرین پر ہی ظلم ڈھانے لگتی ہے۔ اس کے افسران قانون کو اپنی بوٹوں تلے روندنے لگتے ہیں۔کیا کانگریس یہ دعویٰ کرسکتی ہے کہ اس کے دور حکومت میں پولس کے مظالم کم ہوئے ہیں؟ وہ اعداد وشمار پیش کرسکتی ہے کہ سچر کمیٹی کی سفارش آنے کے بعد اس نے پولس مین مسلمانوں کی تعداد بڑھائی ہے؟ یہ رویہ کانگریس ہی نہیں دوسری نام نہاد سیکولر پارٹیوں کا بھی ہے۔ آج کل اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کی سرکار ہے اور اس سے پہلے بہوجن سماج پارٹی کی سرکار تھی مگر مسلمانوں کے حالات پر کوئی فرق نہین آیا۔ بہار میں پندرہ سال تک لالو پرساد یادو برسر اقتدار تھے اور اب نتیش کمار حکومت کر رہے ہیں مگر مسلمانوں کی تعداد پولس میں بڑھانے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب پولس کو مسلمانوں کے خون کا چسکا لگ چکا ہے تو وہ دوسروں کے حقوق کی حفاظت کیسے کرے گی؟ وہ اورورں کے خون سے کیسے پیاس نہیں بجھائے گی؟ 



⋆ غوث سیوانی

غوث سیوانی
غوث سیوانی دہلی کے معروف سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

مدارس اسلامیہ کا ایک مختصر جائزہ

تعلیم کے فروغ میں اہم کردار نبھا رہے ہیں دینی مدارس اسلامی مدارس کا علم …