ہندوستان

پولیس کی چِھلّر پارٹی!

ندیم احمد انصاری

          سرکاری محکمے خواہ پولیس ہو یا کوئی اور ان میں عوام کو اکثر ایسے مواقع آئے دن پیش آتے رہتے ہیں کہ ان سے رقم تو وصول کر لی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی رسید فراہم نہیں کی جاتی، جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ کم رقم دے کر کام بنانے کے چکر میں بعض دفعہ خود عوام بھی اسی کو پسند کرتے ہیں کہ رسید نہ بنائی جائے اور رسید بنانے والا یہ سوچ کر ان کی بات مان لیتا ہے کہ اس طرح ملنے والی رقم اس کی جیبِ خاص میں چلی جاتی ہے۔ گذشتہ دنوں ممبئی میں بی کے سی (ایم ٹی این ایل آفس کے سامنے) ہمارا دو دفعہ گزر ہوا، جس میں ہم نے دیکھا کہ سگنل کے پاس ہی ایک بڑی گاڑی کے ساتھ چار چھ پولس اہل کار کھڑے رہتے ہیں اور سگنل سے گزرنے والے ہر بائک سوار کو توجہ سے دیکھتے ہیں اور جس کسی نے ہیلمیٹ نہیں پہنا ہوتا اسے روک لیا جاتا ہے۔ پھر ان کی تفتیش کا عمل شروع ہوتا ہے، جس میں سب سے پہلے لائسنس مانگا جاتا ہے اور پھر بقیہ تفتیش کے بعد جب پتہ چلتا ہے کہ ہیلمیٹ کے علاوہ باقی سب کاغذات و معاملات درست ہیں تو ان سے ایک سو دس روپئے جرمانے کے وصول کیے جاتے ہیں، جس میں سے ایک سو روپئے کی انھیں رسید تمھائی جاتی ہے اور دس روپئے گویا ان کی ذات پر نچھاور ہو جاتے ہیں۔ ہم نے یہ معاملہ خود اپنی آنکھوں سے دیر تک کھڑے رہ کر مشاہدہ کیا، جس میں ان سے کسی نے ایک بار یہ تک نہیں پوچھا کہ دس روپئے آخر کس مُد میں جمع کیے جا رہے ہیں شاید اس لیے کہ ’’پولیس والوں سے کون الجھے؟‘‘اور نہ پولس والوں نے ہی اس بارے میں کوئی وضاحت کی۔ چند روز قبل مندسور میں خواتین کے ساتھ جو بیف معاملہ سامنے آیا تھا، اس کے حوالے سے بھی یہ بات وائرل ہوئی تھی کہ پولیس نے ان دو عورتوں سے ساڑھے چھ ہزار روپئے اور ان کو گوشت دینے والے قصائی سے دس ہزار روپئے وصول کیے، جس کی انھیں کوئی رسید تک نہیں دی گئی۔ ویسے یہ کوئی ایک دو واقعات نہیں ہیں، بلکہ بہ طور مثال ہم نے ان دو واقعات پر اکتفا کیا ورنہ قوی امید ہے کہ قارئین نے بہ ذاتِ خود اس کا خوب مشاہدہ کیا ہوگا۔

          جن مقامات پر پولس سرِ عام گنڈہ گردی کرتی اور ہفتہ وصول کرتی پھرتی ہے اور معمولی روزگار کرنے والوں سے مفت میں کھانے پینے کی چیزیں یا نقد رقم وصول کرتی ہے، اس کا تو ذکر لاحاصل ہے، رسید و کاغذ بنانے میں کس کس طرح سے چھلر جمع کیا جاتا ہے اس وقت صرف اس پر روشنی ڈالنا مقصود تھا۔ ممبئی کے اس واقعے میں آدھے گھنٹے میں درجن بھر رسید کا اوسط رہا، اس اعتبار سے اندازہ کریں تو دس روپئے کے حساب سے صرف چھ گھنٹے میں یہ لوگ تقریباً 1500سو روپئے جمع کر لیتے ہوں گے اور ہفتے میں تقریباً 10500اور مہینے میں تقریباً 40-45ہزار! پھر یہ تو چھلر پارٹی ہے جو کھلے عام کی جاتی ہے، اس کے سوا کیا کیا ہوتا ہے وہ تو ہمہ شمہ جانتے تک نہیں۔ فی زمانہ جب کہ رسید یا پکّے کاغذات کے باوجود غبن کا چلن عام ہے، ایسے میں بلا رسید وصول کی گئی رقم کا کیا حشر ہوتا ہوگا یہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ قانون اور ملک کی حفاظت کی ذمّے داری لینے والے اہل کار بھی جب اس برائی میں ملوث نظر آئیں تو پھراوروں کا کیا حال پوچھنا۔

          اس تحریر کا مقصد عوام اور ان تمام حضرات کو اس جانب متوجہ کروانا ہے جو اس سلسلے میں کوئی مثبت اقدام کرنے کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے کہ بات صرف دس روپیوں کی نہیں رشوت کی ہے، بھرشٹاچار کی ہے، جو ہمارے ملک میں عام سے عام تر ہوتا جا رہا ہے۔ آخر کب ہمارے ملک میں ایسے اچھے دن آئیں گے جب کہ یہ برائیاں جڑ سے ختم ہوں گی، اس لیے کہ اب تک تو خود قانون کے محافظ خود اس گندگی میں مبتلا ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

متعلقہ

Close