ہندوستان

پٹیشن: ہندوستانی میڈیا ڈاکٹر ذاکر نائیک کو بدنام کرنے کی مذموم مہم بند کرے

معروف مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائیک  کے خلاف ہندوستانی میڈیا متحد ہو گیا ہے جو ان کا نام حالیہ دہشت گردی کے واقعات سے جوڑنے  کی مذموم کوشش کررہا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک  کے خلاف میڈیا کی یہ مہم شواہد و حقائق پر نہیں بلکہ بے بنیاد الزامات وقیاسات پر مبنی ہے جس کی تائید بعض ایمان فروش  نام  نہاد مسلمان بھی کررہے ہیں۔   وزارت داخلہ سے بیان آیا ہے کہ حکومت ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقاریر کا تجزیہ کررہی ہے اور حکومت مہاراشٹر نے تفتیش کا حکم دے دیا ہے ۔ ذیل میں چینج ڈاٹ آرگ پر دی گئی پریس کونسل آف انڈیا  کو پیش کی جانے والی پٹیشن کا اردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے  جس میں ڈاکٹر ذاکر کے خلاف میڈیا کے دعووں کی قلعی کھول دی گئی ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ وہ چینج ڈاٹ آرگ پر جاکر اس دستخطی مہم میں ضرور حصہ لیں۔

یکم جولائی 2016 کو ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں معصوم شہریوں پر مبینہ طور پر  دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش  یا  ISIS) کے گروپ  سے وابستہ نوجوانوں کے ذریعے انجام دیے گئے افسوس ناک اور غیر انسانی حملے کے بعد میڈیا رپورٹوں  نے  اسلامی دانش ور  ڈاکٹر ذاکر نائیک کو  اس حملے سے وابستہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہندوستانی  اخبارات نے بھی ان خبروں کو بڑھا چڑھاکر شائع کر  نا شروع کردیا ہے ۔

رپورٹوں کے مطابق ہے ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ "دہشت گرد” بنیں  ۔ علاوہ ازیں بنگلہ دیش کے اس سانحے کے پیچھے دو نوجوانوں کو ڈاکٹر نائیک سے تحریک ملی ہے، گویا ڈاکٹر نائیک کا ہاتھ ان حملوں کے پیچھے ہے (ماخذ: اکنامک ٹائمز)۔ میڈیا کے مطابق  ان میں سے ایک  نے فیس بک  پر ڈاکٹر نائیک کے اقتباس  کو شیئر کیا تھا   (ماخذ: اکنامک ٹائمز) اور دوسرا انہیں  ٹوئٹر پر فالو کرتا تھا  (ماخذ: دی ہندو

ڈاکٹر ذاکر نائیک کے اس قول کو کہ "ہر مسلمان کو دہشت گرد ہونا چاہئے” جان بوجھ کر سیاق و سباق سے ہٹا کر نقل کیا   گیاہے۔  دراصل ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا تھا : ” دہشت گرد وہ ہوتا ہے جو دہشت گردی کا سبب بنتا ہے۔   جیسے کوئی ڈاکو جب کسی پولیس والے کو دیکھتا ہے تو وہ دہشت زدہ ہوجاتا ہے۔  چنانچہ پولیس والا ڈاکو کے لیے دہشت گرد ہے۔ اسی طرح  ہر مسلمان کو دہشت گرد ہونا چاہیے غیر سماجی عناصر مثلاً چوروں، ڈاکوؤں اور زانیوں کے لیے۔ یہ غیر سماجی عناصر جب بھی کسی مسلمان کو دیکھیں وہ دہشت زدہ ہو جائیں۔  یہ سچ ہے کہ  لفظ دہشت گرد عموماً ایسے افراد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو عوام الناس میں دہشت پیدا کرتے ہیں۔ لیکن ایک سچے مسلمان کو ان مخصوص لوگوں کے لیے دہشت گرد ہونا چاہیے یعنی غیر سماجی عناصر کے لیے نہ کہ عام لوگوں کے لیے۔ "

اس دعوے سے بھی کہ ایک دہشت گرد نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کا حوالہ فیس بک پر دیا تھا،  کیا کوئی بات ثابت ہوتی ہے؟ کیا اخبارات کو یہاں یہ نہیں بتانا چاہیے تھا کہ اس سے اس دہشت گرد کو حملہ کرنے میں کیسے مدد یا تحریک ملی؟

ڈاکٹر ذاکر نائیک دنیا بھر میں مشہور و معروف اسلامی اسکالر اور مقرر ہیں جو تعلیم کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔  دو عشروں سے زائد عرصہ سے ڈاکٹر نائیک  ہندوستان  سمسیت دنیا بھر کی مشہور ومعروف شخصیات سے مباحثےکرتے رہے ہیں۔

اپنی تقریروں اور مباحثوں میں، جو انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں، ڈاکٹر نائیک بنیادی طور پر تقابل ادیان کے بارے میں بات کرتے ہیں اور تمام مذہبی صحیفوں اور کتابوں کا حوالہ دیتے ہیں تاکہ مختلف مذاہب کے درمیان افہام و تفہیم کے ذریعے خلیج کو پاٹنے کا کام کیا جاسکے۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک نے متعدد بار داعش کو غیر اسلامی  اور اسلام کے دشمن قرار دیا ہے  ۔ ڈاکٹر نائیک نے واضح الفاظ میں فرمایا ہے: "اسلامی اسٹیٹ (دولت اسلامیہ) کے نام کا استعمال کرکے،  وہ اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔۔۔ وہ اصل میں عراق و شام کی دولت غیر اسلامیہ ہیں۔ یہ نام انہیں اسلام کے دشمنوں  نے دیا ہے۔ ” (ماخذ: دکن کرونیکل)

چنانچہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے داعش کو غیر اسلامی قرار دیا ہے تو وہ داعش کے دہشت گردوں کو کیسے تحریک دے سکتے ہیں؟

اخبارات کے لیے نہ صرف ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسی عوامی شخصیت کو ، جنہیں دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان ہمہ تن گوش ہو کر سنتے ہیں،  داعش  کے حملہ آوروں سے منسوب کرنا نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ اس رپورٹ (ماخذ: دی ہندو) اور اس رپورٹ (ماخذ: این ڈی ٹی وی) جیسےبیانات  میں ان کی شبیہ خراب کرنے کے لیے یکسر غلط معلومات دی گئی ہیں۔

مورخہ ۵ جولائی  کی این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر ملیشیا میں پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ بھی غلط ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ملیشیا میں لیکچر دیا ہے (ماخذ: ایسٹرو اوانی

ٹائمز ناو کے’ نیوز آور ‘ پروگرام میں ارنب گوسوامی نے ڈاکٹر نائیک کے خلاف میڈیا ٹرائل چلاکر ان پر الزام عائد کیا کہ وہ "خود کش انسانی بموں کی حمایت کرتے ہیں” اور دروغ بیانی کہ  ان کی باتوں سے دنیا بھر کے  "دہشت گرد تحریک حاصل کرتے ہیں۔” گوسوامی اور ان کی ریسرچ ٹیم نے  ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے جھوٹے دعووں کو نشر کیا ہے۔

اگر ڈاکٹر ذاکر نائیک ان حملوں  اور حملہ آوروں کی پشت پر ہیں تو ان کے خلاف معمولی ترین شواہدبھی کیوں نہیں ہیں؟

ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنی تقریروں میں کبھی بھی ایسی بات نہیں کہی ہے جو آئین ہند کے خلاف ہو۔ اپنے مذہب پر عمل کرنا اور اس کی پرامن  انداز میں تبلیغ کرنا وہ حق ہے جو اس ملک کے ہر شہری کو حاصل ہے۔

اخباروں اور چینلوں کا کام ہے مکمل تحقیق کی بنیاد پر حقائق کو بیان کرنا  نہ کہ بڑھا چڑھا کرمبالغہ آمیز، رسوا کن، اور  سنسنی خیز رپورٹیں شائع کرنا۔  میڈیا ہاؤسز اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف ایک منفی رائے عامہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔  ڈاکٹر ذاکر نائیک کو بدنام کرنے کی ہندوستانی میڈیا کی یہ مذموم مہم بند ہونی چاہیے۔

اس پٹیشن کادرج ذیل دستخط کنندہ  پریس کونسل آف انڈیا سے ملتمس ہے کہ ان رپورٹوں کے پس پردہ ایجنڈے کی تحقیق کرائے اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کو بدنام کرنے اور ان سے متنفر کرانے کی مہم بند کرائے۔ ہم کونسل سے یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس مذموم عمل میں ملوث میڈیا ہاؤسز  کو پابند کرے کہ  ڈاکٹر ذاکر نائیک کی شبیہ خراب کرنے اور ایک پابندِقانون  اور امن پسند شہری کو مجرم ٹھہرانے کے لیے ان سے معذرت طلب کریں۔

(چینج ڈاٹ آرگ – پٹیشن پر سائن کرنے کے لیے کلک کریں)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close