ہندوستان

پیسہ نہ ہوتو آدمی چرخے کی مال ہے!

حفیظ نعمانی

کانگریس کا یہ طریقہ رہا ہے کہ الیکشن کی شکست کے بعد صوبہ کے صدر پر ذمہ داری  ڈالی جاتی ہے اور اسے تبدیل کردیا جاتا ہے۔ غالباً اسے ہی دیکھتے ہوئے اترپردیش کے صدر مسٹر راج ببر نے اپنے طور پر استعفیٰ دینے کی پیش کش کی ہے۔ پرانے اور مخلص کانگریسی لیڈر ڈاکٹر عمار رضوی نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ اور ہم کہنا چاہتے ہیں کہ راج ببر استعفیٰ نہ دیں۔

راج ببر کو جب اترپردیش کا صدر بنایا گیا تھا تو اس وقت کانگریس کے سامنے 403اسمبلی سیٹوں پر الیکشن لڑاجانا تھا۔ جس کے انچارج مسٹر غلام نبی آزاد بنائے گئے تھے اور مسز شیلا دکشت کو لایا گیا تھا کہ اگر جیت جائیں گے تو وہ وزیر اعلیٰ ہوں گی۔ صوبائی کانگریس اور راہل گاندھی نے اپنے مشیر پرشانت کشور کے ساتھ آدھی یوپی کا دورہ کیا اور ایک مہینہ تک صورتِ حال دیکھنے کے بعد اندازہ کیا کہ زمین ان کے قابل نہیں ہے اور انتخابی جنگ کے ماہر کہے جانے والے پرشانت کشور نے بھی راہل گاندھی کے سامنے ہتھیار ڈال دئے اور اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ سماج وادی پارٹی سے مل کر الیکشن لڑا جائے۔ اندر کی بات تو اندر کے لوگ ہی جان سکتے ہیں لیکن ہم جیسے باہر والوں نے دیکھا کہ یوپی کے صدر راج ببر اور الیکشن انچارج غلام نبی آزاد اس کے حق میں نہیں ہیں۔

اس کا ثبوت یہ تھا کہ جب پرشانت کشور ملائم سنگھ سے اتحاد کی بات کررہے تھے اسی وقت پریس کے نمائندوں نے صدر اور ا نچارج سے معلوم کیا کہ کیا ایس پی سے مل کر لڑنے کا ارادہ ہے؟ تو راج ببر اور آزاددونوں نے کہا کہ اس کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اور جب اکھلیش یادو سے تمام باتیں طے ہوگئیں اور کانگریس کے صوبائی دفتر کے باہر مجمع کے سامنے یہ اعلان کیا گیا کہ کانگریس 105سیٹوں پر اور سماج وادی 298سیٹوں پر لڑے گی تو یہ اعلان صدر ر اج ببر نے نہیں کیا اور نہ ان دونوں میں سے کوئی اس وقت سامنے نظر آیا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پورے الیکشن میں ایک صدر کو جیسا سرگرم ہونا چاہیے تھا دونوں میں سے کوئی نہیں رہا۔ اب اگر کانگریس کو 7سیٹیں ملیں تو ذمہ داری راج ببر کی نہیں ہے، راہل کی ہے۔

ہم کانگریس کے اندر نہیں ہیں ۔ اور راج ببر صدر ہیں پھر بھی ہم انہیں بتا رہے ہیں کہ وہ ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ کوئی نہیں ہے۔ موجودہ الیکشن کی تیاری مودی جی چھ مہینے سے کررہے تھے۔ انھوں نے  اکتوبر 2016،منصوبہ بندی میں گذارا اور ۸؍ نومبر کو نوٹ بندی کا اعلان کردیا وہ جانتے تھے اور کہتے بھی تھے کہ سپا اور بسپا پیسے سے ا لیکشن لڑتی ہیں ، ان میں ہر مخالف کو شامل کرلینا چاہیے۔ یعنی کانگریس بھی اور راج ببر بھی جانتے ہوں گے کہ الیکشن پیسے سے لڑا جاتا ہے۔ اور مودی بھی پیسے ہی سے لڑتے ہیں ۔ انھوں نے ا یک غیر ملکی ایجنسی کے سروے کے مطابق 2014کا الیکشن 80ہزار کروڑ روپے میں لڑا تھا جسے کلدیپ نیر نے 5لاکھ کروڑ بتایا تھا۔ اترپردیش اور دوسری 4ریاستوں کا الیکشن بھی مودی نے پیسوں سے لڑا اور جب گوا اور منی پور میں اس کے باوجود ہارے تو دونوں ہارے ہوئے صوبے پیسوں سے جیت لیے اور راہل 17ممبر گوا میں ہوتے ہوئے پیسوں کے نہ ہونے سے 4ممبر نہ خرید سکے۔مودی نے 8خرید لیے۔ ہم نے کل ہی لکھا تھا کہ منوہر پاریکر کے پیچھے گڈکری منتری کو کیوں بھیجا؟ وہ منتری نہیں نوٹوں کا بورا تھے۔ اور یہی منی پور میں ہوا۔

راج ببر کو صبر کرنا چاہیے اور اطمینان رکھنا چاہیے کہ 2019میں پھر نوٹ بندی نہیں ہوگی اور سب کے پاس پیسے آچکے ہوں گے اس کے بعد کانگریس کی قیادت میں اکھلیش اور مایاوتی لڑیں گے اور اس وقت تک مودی کے نئے نعرے کہ ’نہ بیٹھوں گا اور نہ بیٹھنے دوں گا‘ کی بھی ہوا ایسے ہی نکل چکی ہوگی جیسے ’نہ کھائوں گا اور نہ کھانے دوں گا‘ کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب کھا بھی رہے ہیں ، کھلا بھی رہے ہیں  اور کھاتا ہوا دیکھ بھی رہے ہیں بلکہ اپنے ہاتھ سے کھلا رہے ہیں ۔

مودی کا یہ کہنا کہ وہ اوروہ پیسے سے الیکشن لڑتے ہیں اپنے جرم کا اعتراف ہے۔ وہ خود اور پورے ملک میں سب پیسوں سے ہی لڑتے ہیں اور بغیر پیسوں کے وہی ہوتا ہے جو گوا اور منی پور میں کانگریس کا ہوا۔ مودی نے جو شور مچایا تھا کہ کالے دھن، بھرشٹاچار اور آتنک واد پر لگام لگانے کے لیے انھوں نے بڑے نوٹ بند کیے یہ کتنا بڑا جھوٹ تھا، اس کا اندازہ چار مہینے کے بعد ہوگیا، کہ اب تک یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ بینکوں میں کتنا روپیہ نوٹوں کی شکل میں آیا؟ رہا کالا دھن تو کیا مودی نے خود جو گوا اور منی پور میں ممبر خریدے ہیں وہ سفید دھن سے خریدے ہیں ۔ گڈکری کی پہلے بھی 20کمپنیاں فرضی تھیں اور ان کے پاس کالے دھن کے بورے تھے۔ وہ اب بھی یہی کام کرتے ہیں اور اسی لیے گوا انہیں بھیجا گیا اور یہ ان کا کالا دھن ہی تھا جس نے 13کو 22بنادیا اور راہل پھٹی جیب لئے گھومتے رہے۔

گجرات میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ گجرات مودی کا گھر بھی ہے اور سسرال بھی، جتنے بے ایمان گجرات میں ہیں پورے ملک میں نہیں ہیں ۔ اور وہ گجرات کی ہی یونیورسٹی ہے جو تین کروڑ میں ڈاکٹر، دو کروڑ میں دانتوں کا ڈاکٹر بنادیتی ہے اور 75لاکھ میں ہی ڈاکٹر میں داخلہ کرادیتی ہے۔ یہ اس مودی کا گجرات ہے جن کا نعرہ ہے کہ ’نہ کھائوں گا نہ کھانے دوں گا‘، اور حقیقت صرف یہ ہے کہ جس قدر ہوسکتا ہے اتنا جھوٹ بولوں گا اور جتنا بے وقوف بنایا جاسکتا ہے اتنا بے وقوف بنائوں گا۔ جسے مقابلہ کرنا ہے وہ سا منے آجائے۔ راج ببر کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ کانگریس کے پاس 403سیٹیں لڑنے کے قابل اور مودی کے مقابلہ کے قابل پیسے نہیں ہیں ۔صرف مودی کا مقابلہ تو اتنا آسان ہے کہ کجریوال اور ممتا نے صرف اپنے دم پر انہیں مٹی میں ملادیا لیکن پیسوں کی حیثیت ہتھیار کی ہے اور ہتھیار نہ ہو تو مقابلہ کیسا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close