ہندوستان

کابینہ توسیع – ذات پات کی نمائندگی یا پالیسوں کی نمائندگی

رویش کمار

عرصہ بعد چینلوں پر کابینہ توسیع سے متعلق بحثیں سن رہا تھا. میرا یقین اور پختہ ہو گیا کہ دارالحکومت دہلی میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے. وہی باتیں ساری راتيں. وزراء کے ذریعہ ریاست کی سیاست بدلی جا سکتی ہے تو سارے وزیر یوپی سے بنا کر وہاں چار سو میں سے دو سو نشستیں جیتی جا سکتی ہیں. بہار میں بھی جیتا جا سکتا تھا. اس لحاظ سے تو کوئی بھی پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد کبھی انتخابات ہی نہیں ہارتی. ہر ریاست اور ذات کا وزیر بنا دو بس.

کیا دلتوں کے وزیر بنا دینے سے دلتوں کا مسئلہ ختم ہو جائے گا؟ جب روہت ویملا سے لے کر دلتوں کے سارے مسائل اٹھتے رہے تب یہی ٹمٹا، راز، میگھوال یا اٹھاولے کہاں تھے. جب بہار انتخابات کے وقت ریزرویشن ختم کرنے کا مسئلہ اٹھا تو یہ دلت چہرے کیوں نہیں سامنے آئے. ان کے تو بیان سنائی بھی نہیں دیئے. پھر ان کے وزیر بنتے ہی کیسے مان لیا جاتا ہے دلتوں کی نمائندگی ہو گئی. بی جے پی کے پاس سب سے زیادہ دلت اراکین پارلیمنٹ ہیں. پھر قومی صدر کو کمبھ میں مساواتی غسل کی سیاست کیوں کرنی پڑی؟ کیا ان کے ساتھ باقی دلت اراکین پارلیمنٹ بھی غسل کرنے گئے تھے؟ یوپی کی وجہ سے دلت رکن پارلیمنٹ وزیر بنے ہیں تو ادت راج میں کون سی کمی تھی؟ کیا دلت ہونے کی وجہ سے انہیں بڑی وزارت بھی ملے گی؟ خزانہ کے وزیر مملکت بنیں گے یا معاشرے کی فلاح و بہبود یا بال بہبود وزیر ہی بنتے رہیں گے. یہ دلت وزیر کابینہ وزیر بنیں یا وزیر مملکت؟ وزراء مملکت کے پاس کیا کام ہوتا ہے، کیا ہم آپ نہیں جانتے. پھر اچانک بات چیت سے یہ سب کیوں غائب ہے.

ٹی وی کے ان ہی ماہرین کے ذریعے ارون جیٹلی اور کلراج مشرا کو برہمن چہرہ بتایا جا چکا ہے. کلراج مشرا کے رہتے ہوئے مہندر پانڈے کو برہمن چہرہ بتانے کی کیا تك ہے؟ کیا مہندر پانڈے کلراج مشرا سے بڑے لیڈر ہیں یا کلراج مشرا اب برہمن لیڈر نہیں رہے؟ آر ایس ایس کے سربراہ اکثر برہمن ہی ہوتے ہیں. بی جے پی میں بھی کئی برہمن لیڈر قائم ہیں. کیا یہ سبھی یوپی میں برہمن ووٹ نہیں لا سکتے. مجھے کئی بار سمجھ میں نہیں آتا کہ کس بنیاد پر ہم کسی کی ذات کو سیاست سے بڑا دیکھنے لگتے ہیں. اگر الیکشن اور ذات کی بنیاد پر ہی یہ ایم پی بنائے گئے ہیں تو دو سال بعد ہوئی اس پہلی توسیع سے یہی لگتا ہے کہ مودی ہی نہیں بھارتی سیاست کے پاس کوئی نیا آئیڈیا نہیں ہے.

دو ممبران پارلیمنٹ کی سائیکل سے پارلیمنٹ آنے کی تصویر کی کافی بحث ہوئی. بلا شبہ یہ قابل ستائش کام ہے. لیکن انہیں ماحولیات کا نمائندہ چہرہ بنانے سے پہلے کم از کم یہ تو دیکھ لیا جاتا کہ حکومت کی ماحولیاتی پالیسیاں کیا ہیں. ان کے کیا اثرات ہونے والے ہیں. سائیکل ہی آخری نمائندہ ہے تو پھر پالیسی کیا ہے. ویسے میگھوال بہترین رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں اور انتظامی تجربہ بھی ہے ان کے پاس. لیکن ان جیسے سبھی دلت اراکین پارلیمنٹ جب دلت مسائل کے وقت سامنے نہیں آتے تو وزیر بنتے ہی کس طرح یہ یوپی سے لے کر ہندوستان کے تمام دلتوں کے نمائندے بن جاتے ہیں.

اے ماہرین، اس لحاظ سے تو وزیر اعظم کو یہ کرنا چاہئے کہ تمام اہم ذاتوں کے شرما، پٹیل، سنگھ، سنہا کو وزیر بنا کر سو جانا چاہئے. ایسا نہیں ہے کہ میں کچھ الگ طریقوں سے بحث کرتا. میں بھی ہوتا تو شاید یہی سب باتیں کر رہا ہوتا. شاید اسی لیے لگ رہا ہے کہ بھارت کی سیاست اور اس کے تجزیہ نگار نکمے ہو چکے ہیں. ان کے پاس کوئی نیا پیمانہ نہیں ہے. ہماری سیاست میں سب کچھ ہمارے پیدا ہونے سے پہلے طے ہو چکا ہے. ہم سب اس کے پالنے پوسنے کے لئے دنیا میں آئے ہیں! ہر اینکر دوسرے ماہر کو کہہ رہا ہے کہ آپ یوپی کو دوسروں سے اچھا جانتے ہیں. ماہر، اینکر کو کہہ رہا ہے کہ آپ مودی کو سب سے بہتر جانتے ہیں. نیا کیا بتا رہے ہیں ماہرین، جسے آپ سارے لوگوں سے بہتر جانتے ہیں. ٹیل می نا!

اگر سیاست صرف شبیہ اور پروجیکشن کا کھیل ہے تو عوام کو دن بھر ٹی وی ہی دیکھنا چاہیے. اسے نوکری، ترقی اور سستی تعلیم اور سستے اسپتال کی جگہ اپنی ذات کے وزراء کے نام پاسبک میں لکھتے رہنا چاہئے. پہلے سے جو وزیر بنے ہیں وہ بھی عمر، ذات پات اور تجربہ کی نمائندگی کرتے ہیں. وہ بھی اسی طرح سے بتائے گئے. ان پیمانوں پر ان کی کارکردگی کیا رہی ہے؟ کوئی بتا سکتا ہے؟ اگر آسام ہار جاتے تو کیا وزیر اعظم اور شاہ استعفی دیتے؟ کیا یہ پہلے سے ہی مضبوط نہیں ہیں؟ اگر ہار جیت ان کی مضبوطی کا پیمانہ ہے تو یوپی ہارنے کے بعد شاہ کیا گجرات بھیج دیے جائیں گے؟

مرکز ہی نہیں ریاستوں میں بھی یہی ہوتا ہے. اس سے عوام کا کیا بھلا ہو رہا ہے. کیا یہ چہرے کسی پالیسی کی بھی نمائندگی کرتے ہیں؟ کیا ان کی اپنی کوئی سوچ ہے؟ کیا یہ سبھی اپنے طور پر الیکشن جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ آج یوپی کے جتنے وزراء ذات اور علاقے کا چہرہ بتائے جا رہے ہیں کوئی دل پر ہاتھ رکھ کر کہے کہ کیا یہ سبھی بغیر مودی لہر کے 2014 میں الیکشن جیت جاتے؟ کیا آپ نے انتخابات کے دوران کرشنا راج، مہندر پانڈے کا نام سنا تھا؟ دو تین دن سے سن رہے ہیں یا سال سے؟ سارے نئے وزراء کو نیک تمنائیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close