کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

عبدالعزیز

  ہندستان میں آزادی ہند کے بعد مسلمانوں میں دو بڑی شخصیتیں منظر عام پر آئیں۔ ایک نے تعلیم کے میدان میں کام کا آغاز کیا اور دوسرے نے سیاست کا میدان اپنے لئے پسند کیا۔ میری مراد جناب سید حامد اور سید شہاب الدین مرحومین سے ہے۔ تعلیم میں مسلمان ترقی کریں، ادارے بنائیں، اپنے بچے بچیوں کو زیادہ سے زیادہ پڑھائیں لکھائیں۔ اس نصیحت اور تلقین کا اثر ملت میں پڑ رہا ہے مگر جس قدر ہونا چاہئے اس قدر نہیں ہے۔ جہاں تک سیاسی میدان میں مسلمانوں کو آنے اور ترقی کرنے کا معاملہ ہے اس میدان میں آنے سے ہچکچاہٹ ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ میدان سخت ہے، محنت اور مشقت کا طالب ہے۔ ملت میں سہل پسندی، بے حسی اور غفلت کی بیماری ہے، اس لئے بھی بہت سارے رخ کرنے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اس میدان میں قدم بڑھانے سے روکنے کیلئے سب سے پہلے سرسید احمد نے حوصلہ شکنی کی۔ ان کے نزدیک مسلمان تعلیم میں پیچھے ہیں۔ پہلے اس کمی کو دور کریں اور دوسری بات ان کے نزدیک یہ تھی کہ انگریزوں سے دشمنی مسلمانوں کو مہنگی پڑے گی۔

مولانا ابوالکلام آزاد نے مسلمانوں کو سیاست میں آنے کی دعوت دی۔ ان کی دعوت کا اثر پڑا۔ علماء اور غیر علماء آزادی کی جنگ میں شریک ہوئے۔ اس وقت ایک خاص جماعت جو دین کی بنیادی باتیں برسوں سے بلکہ مدت دراز سے لوگوں کو بتا رہی ہے اس کے نزدیک سیاست شجر ممنوعہ ہوگئی ہے۔وہ جو غیر سیاسی دین کے قائل ہے اور دوسروں کو بھی قائل کرتی رہتی ہے ۔ حالانکہ ایماندارانہ سیاست دین کا ناقابل تقسیم حصہ ہے جو اس سے الگ ہو جاتاہے۔ وہ دینی اور دنیوی لحاظ سے اپاہج ہوجاتا ہے۔ شجاعت، صداقت اور امامت کی صفت اس سے رخصت ہوجاتی ہے۔

 کسی مسلمان میں اگر سیاسی شعور نہیں ہے تو وہ میرے خیال سے اپنے دینی شعور کا دعویٰ نہیں کرسکتا کیونکہ حالات سے بے خبری مومن کو کبھی راس نہیں آتی، اسے نہ ایسی دعا سکھائی یا بتائی گئی ہے کہ اس کی آخرت جنت بن جائے اور دنیا دوزخ نما ہوجائے۔ دعا جو سکھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ’’اے اللہ ہمیں دنیا میں بھی بھلائی یعنی فلاح و ترقی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور آتش دوزخ سے بچا‘‘۔ پہلے دنیا کی بھلائی مانگی گئی ہے اور پھر آخرت کی۔ آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کا مطلب یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کیلئے اپنی آخرت کو کسی طرح بھی برباد ہونے نہ دیں کیونکہ بہت سے لوگ دنیا پرستی میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ان کی نظر سے آخرت کی زندگی اوجھل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ان کی دنیا بھی برباد ہوتی ہے اور آخرت بھی۔ جو لوگ توازن کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں وہ دونوں دنیاؤں میں کامیاب ہوتے ہیں اور جو لوگ توازن کو چھوڑ دیتے ہیں نہ ان کی دنیا کامیاب ہوتی ہے نہ آخرت میں بھلائی اور فلاح کی کوئی امید ہوتی ہے۔ مومن کا ہر کام اللہ کی رضا اور فلاح آخرت کیلئے ہوتا ہے۔ اگریہ جذبہ زندگی میں موجزن ہو تو پھر دنیا برباد نہیں ہوتی۔ فرد یا جماعت اگر دنیا سے بے تعلق ہوجاتی ہے ، سیاسی معاملات میں بے خبری کی راہ اپناتی ہے تو وہ اپنا قدم ربانیت سے ہٹاکر رہبانیت کی طرف اٹھاتی ہے جو اسلام میں ممنوع ہے۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے نہایت قیمتی اور ضروری بات بیان کی ہے کہ اگر کوئی فرد یا جماعت لوگوں کی نماز فرض یا تہجد پڑھانے اور اس کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتی ہے یہ اچھی بات ہے لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر پوری امت نماز کی پابند ہوجائے اور تہجد گزار ہوجائے مگر اس کے اندر سیاسی شعور نہ ہو تو ایک دن ایسا آسکتا ہے کہ اس کے فرض نماز پر بھی پابندی عائد کردی جائے اور اس کی تگ و دو روک دی جائے۔ جو لوگ ادھورے دین کی تعلیم دینے میں مصروف ہیں وہ سیاسی شعور سے نابلد ہیں۔ ایسے لوگ خود گھاٹے میں ہیں اور پوری ملت کو گھاٹے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ مولانا علی میاںؒ نے اپنی ایک تقریر میں کہا:

 ’’مسلمانانِ ہند کی ایک بڑی کمزوری، کوتاہ اندیشی اور عواقب سے چشم پوشی یہ ہے کہ وہ اپنے ماحول کو (جس کا غالب عنصر نہ صرف ان سے مذہبی اختلاف رکھتا ہے بلکہ بہت سے تاریخی اور سیاسی اسباب کی بنا پر بدگمانی اور خوف میں مبتلا ہے) اپنے سے نامانوس اور اپنے دین کے اصولوں اور بنیادوں، اپنے دینی پیشوا کی سیرت اور اپنی تاریخ کی عظیم شخصیتوں سے روشناس کرنے اور اس ملک میں آنے کے بعد انھوں نے جو تعمیری و انتظامی کردار ادا کیا، اس ملک و معاشرہ کو جو تحائف دیئے اور اب بھی ان کا وجود ملکی سطح پر جو کردار ادا کرسکتا ہے اس کے واقف کرانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی کہ وہ اپنی دینی تعلیمات کی بنا پر اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود اب بھی سیرت و اخلاق کے کون سے امتیازی پہلو رکھتے ہیں، اور ان سے کام لے کر ملک کے تیزی کے ساتھ گرتے ہوئے سماج کو مہیب زوال سے بچایا جاسکتا ہے، ان کے اخلاق اور سیرت کی خوشبو عام معاشرہ میں نہیں پہنچی، غیر مسلم بھائیوں نے مسلمانوں کو سیاسی میدان یں دیکھا یا انتخابی معرکہ (الیکشن) کے موقع پر یا بازاروں، دفتروں میں اور وہاں ان کو کوئی بڑا امتیاز نظر نہیں آیا، عام طور پر غیر مسلم اسلام کی بنیادی تعلیمات تک سے ناواقف ہیں اور اس کا ثبوت برابر ملتا رہتا ہے، وہ مسلمانوں سے متعلق اتنا جانتے ہیں کہ مسلمان ختنہ کراتا ہے، گائے کا گوشت کھانا ضروری سمجھتا ہے اور کچھ بات ہوجائے تو اسے بڑی جلدی غصہ آجاتا ہے، مسجد کے سامنے دوسروں کا باجہ نہیں سن سکتا، چاہے خود بجائے، ہم ابھی تک انھیں اذان کا مطلب تک نہیں سمجھا سکے جو پانچوں وقت (اکثر جگہ لاؤڈ اسپیکر سے) ہوتی ہے۔

اس بے خبری اور منافرت میں (جو ملک کیلئے بھی سخت مضر ہے) ہماری ہم وطنوں کی غلفت اور احساس برتری کا بھی دخل ہے، فرقہ پرست رہنماؤں کا بھی قصور ہے، سیاسی الیکشنی نظام کا بھی عیب ہے، تعلیمی نصاب اور کورس کی کتابوں کی بھی ذمہ داری ہے لیکن اس وقت ہمارے مخاطب مسلمان ہیں، ہم نے اپنے ہم وطنوں کو اپنے سے مانوس اور اسلام سے متعارف نہیں کرایا، ایسا طرز زندگی ہم عمومی طور پر سامنے نہیں لائے جس میں کشش ہواور جو اس دین اور اس انقلاب کے سرچشمہ سے واقفیت کا تجسس (Curiosity) پیدا کرے، مطالعہ کا شوق کم سے کم پوچھنے اور غور کرنے پر آمادہ کرے۔

 ماحول کا مانوس اور قریب کرنے کا عمل، اصول اور کردار کی کسی قربانی اپنے کسی شعار اور امتیاز سے دست برداری، سیاسی سودے بازی اور ضمیر فروشی کے بغیر بھی ہوسکتا ہے، اس کیلئے صرف عملی نمونوں، اخلاقی پختگی و بلندی، تھوڑے سے ایثار و قربانی گہری اور عاقلانہ حب الوطنی، دانشمندانہ اور خوددارانہ اختلاط، باہم آمیزی، سماجی و رفاہی کاموں میں نہ صرف شرکت بلکہ قائدانہ کردار ادا کرنے کی سعی اور اس ملک کو اس مہیب اخلاقی زوال سے بچانے کی مخلصانہ کوشش کی ضرورت ہے جو بظاہر بالکل قریب آگیا ہے۔ اور جس سے صرف وہی ملت بچاسکتی ہے جو دولت کو مقصود حیات، اس زندگی ہی کو حقیقی زندگی، ذاتی مفاد ہی کو مقصود اصلی نہیں سمجھتی اور جس کے پاس ہزار خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود آسمانی تعلیمات کا سرمایہ، نبوت کا فیض اور ایمان کی رمق موجود ہے۔

 یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے جس کے سمجھنے کیلئے بڑی ذہانت اور جس کے دیکھنے کیلئے کسی خاص بصیرت کی ضرورت نہیں کہ ملّی استحکام کی ساری کوششوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں، قومی سرمایوں، تصنیفی و تحقیقی سرگرمیوں اور ذہین ترین، فاضل ترین بلکہ ولی صفت انسانوں کی بکثرت موجودگی کے باوجود، اگر ماحول نا آشنا بلکہ متنفر و متوحش ہے تو فرقہ وارانہ تعصب کے جنون کی ایک لہر، نفرت کی ایک آندھی اور ہسٹریا کا ایک حملہ، گھنٹوں میں اس ساری صورت حال کو تبدیل کرسکتا ہے اور سیکڑوں برس کی تعمیری کوششوں کو آن کی آن میں معدوم کر سکتا ہے، اور مختلف مقامات پر محدود پیمانہ پر ہونے والے فسادات نے اس کو بدیہی حقیقت بناکر دکھا دیا ہے۔

 اس لئے اس وقت سارے دینی اداروں، تعلیمی دعوتی سرگرمیوں، کتب خانوں بلکہ مساجد و مدارس کی حفاظت اور عزت و ناموس کے تحفظ کی ضمانت وہ وسیع بیرونی آہنی حصار ہے، جس کے اندر یہ سب دینی مرکز، ملّی اثاثہ اور عزت و ناموس محفوظ ہو، ماحول کا ضروری حد تک مانوس و آشنا ہونا، اس سارے اثاثہ کو قیمتی سمجھنا جو ملک ہی کا سرمایہ ہے۔ اورملت اسلامیہ کی افادیت و ضرورت کا اعتراف ضروری ہے۔

 پھر ان ساری کوششوں اور مشغولیتوں کے جاری رہنے اور پایۂ تکمیل کو پہنچنے، کسی ادارہ کو قائم کرنے، اس کو ترقی دینے، اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کیلئے پہلی شرط یہ ہے کہ ملک میں معتدل و پرسکون (Normal) حالات ہوں۔بات کرنے، اپنی بات سنانے اور سننے والے اس کو اطمینان کے ساتھ سننے اور سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے موڈ میں ہوں۔ اگر بادل کی گرج، بجلی کی کڑک اور موسلا دھار بارش، کسی پرسکون محفل یا پُرمسرت تقریب کو درہم برہم کرسکتی ہے اور کسی جلسہ میں جہاں سحر انگیز مقرر تقریر کر رہے ہیں کسی سانپ کا نکل آنا یا کسی دیوانہ کتے کا آجانا (محبوب و محترم قائدین اور قابو یافتہ منتظمین کی ہزار کوششوں کے باوجود) جلسہ کی بساط الٹ دے اور کسی طرح لوگوں کو بیٹھنے پر آمادہ نہ کرسکے تو ایک مطعون اقلیت اس انتشار انگیز فضا میں اور طویل المیعاد تعمیری کوششیں ایک ہیجانی اور طوفانی فضا میں کیسے باقی رہ سکتی ہیں۔

 پھر صرف ماحول کا مانوس اور متعارف ہونا کافی نہیں، ضرورت ہے کہ خود مسلمان بھی زندگی کے حقائق، ملک کے حالات اور ماحول کے تقاضوں سے باخبر و روشناس رہیں، مسلم معاشرہ کا رابطہ زندگی اور ماحول سے کٹنے نہ پائے، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جہاں مسلمانوں نے سب کچھ کیا لیکن زندگی کے حقائق سے روشناس نہیں ہوئے، اور اس ماحول میں اپنے قائدانہ فرائض انجام دینے کی کوشش نہیں کی، انھوں نے ایک اچھا شہری، ایک مفید عنصر بننے اور اس ملک کی قیادت حاصل کرنے کی اہلیت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی، وہاں اس ملک نے ان کو اس طرح اگل دیا جیسے لقمہ اگلا جاتا ہے، اور ان کو اگل کر باہر پھینک دیا، اس لئے کہ انھوں نے اپنی جگہ نہیں بنائی تھی، اگر مسلمانوں نے زندگی کے حقائق سے آنکھیں بند رکھیں، ملک میں ہونے والے انقلابات، نئے بننے والے قوانین، بدلتے ہوئے نظام تعلیم، زبان و رسم الخط، عوام کے دل و دماغ پر حکومت کرنے والے رجحانات، ذرائع ابلاغ اور ملکی پریس کی طرف سے روزانہ دی جانے والی خوراک سے انھوںنے آنکھیں بند رکھیں تو قیادت الگ رہی (جو خیر امت کا فرض منصبی ہے) ملّی وجود کی حفاظت بھی مشکل ہوجائے گی اور ان کی آئندہ نسل ذہنی ارتداد و انتشار کا نہیں بلکہ (خاکم بدہن) اعتقادی و دینی ارتداد کا بھی لقمۂ تر بننے سے محفوظ نہیں رہے گی‘‘۔

 آخری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کیلئے اس ملک میں باعزت طریقہ پر رہنے کا یہی راستہ ہے کہ وہ اپنی افادیت ثابت کریں، اور اخلاقی قیادت کے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کریں، جو عرصۂ دراز سے اس ملک میں چلا آرہا ہے اور اب اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ اس کی کشتی حیات ڈانوا ڈول ہورہی ہے، کسی ملک میں کوئی اقلیت یا فرقہ اپنی واضح افادیت و ضرورت اور بے لاگ و بے غرض دعوت و قیادت کے بغیر عزت و اطمینان کے ساتھ نہیں رہ سکتا، اقبال نے صحیح کہا ہے  ؎ ’’زندگی جہد است استحقاق نیست ‘‘ اور سب سے بڑھ کر قرآن مجید کا واضح اعلان ہے جس کی تصدیق پوری تاریخ انسانی کرتی ہے:

 ’’سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہوجاتا ہے وہ (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے، اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ سمجھو)‘‘۔ (سورۃ الرعد:17)



⋆ عبد العزیز

عبد العزیز

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

نماز کا مقصد اور فوائد (دوسری قسط)

 انتخابِ امیر: انسان اجتماعی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور اجتماعی زندگی کے ہر مرکز کیلئے … خاندان ہو یا قبیلہ، محلہ ہو یا بستی، شہر ہو یا ملک … ایک سربراہ کی ضرورت ہوگی۔ اب ضرورت ہے کہ ملک کے اندر جگہ جگہ ایسے مراکز قائم ہوں جہاں سربراہوں کو قیادت کی اور عوام کو سمع و طاعت کی تربیت دی جائے اور آپس میں ایک دوسرے کے حقوق کی نگہداشت کی عملی تعلیم دی جائے تاکہ ایک خاندان سے لے کر ملک تک کے باشندوں کو امن و سکون کی زندگی بسر کرنا نصیب ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے