کاس گنج:جمہوریت شرمسار

راحت علی صدیقی قاسمی

حیراں ہوں ، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

  غالب کا یہ شعر ذہن میں گردش کررہا ہے، آنکھوں سے پانی کا روپ دھار کر ابل رہا ہے، تکلیف کے احساس کے ساتھ ورد زباں ہے، ہمارے ملک میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے، جس سے تقریباً 70سالہ آزاد بھارت کی تاریخ خالی ہے، 26 جنوری یوم جمہوریہ ملک کا ہر باشندہ مناتا ہے، اس کا دل خوشی کے جذبے سے مملو ہوتا ہے، اس کا سینہ اکابر کے کارناموں سے چوڑا ہوتا ہے، زبان ان کی تعریف میں مشغول ہوتی ہے۔ غریب، مفلس، دلت، پسماندہ ہر شخص اس موقع کو انتہائی مسرت کا موقع خیال کرتا ہے، جو بھوک سے لڑ رہا ہو، جسے غربت و افلاس کی بھٹی میں جلنا پڑ رہا ہو، حالات کی سفاکی سے پنجہ آزمائی کرنی پڑ رہی ہو، وہ بھی اس موقع پر خوش ہوتا ہے، جمہوریت کا جشن مناتا ہے، یہ ہندوستانی تاریخ کا حصہ ہے۔

جب ہندوستان میں جمہوریت کا نفاذ ہوا تب سے یہ طرز عمل جاری ہے، مہینوں پہلے اسکولوں میں تیاریاں ہوتی ہیں ، بچے بڑے حب الوطنی کے گیت گاتے ہیں اور اپنی روح کو تسکین بخشتے ہیں ، امسال بھی پورے ملک میں جشنِ جمہوریت منایا گیا، جمہوریت کی تاریخ و تفہیم پر جلسوں کا انعقاد کیا گیا، بزرگوں کی قربانیوں پر سینہ چوڑا کیا گیا، لیکن اس مرتبہ خوشی کافور ہوگئی، ایک ایسا واقعہ رو نما ہوا جس نے جمہوریت کے جشن کو ماتم میں تبدیل کردیا، جمہوریت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا، ملک کی صورت حال کو واضح کردیا، فرقہ پرستوں کے چہروں کی نقاب الٹ دی، وطن پرستی کے دعوے داروں کی حقیقت عیاں کردی، عیاں کردیا کہ ملک فرقہ پرستی کی آگ میں جھلس چکا ہے، محبت نفرت کا لبادہ اوڑھ چکی، پیار وفات پاچکا، انسانیت دم توڑ گئی، جمہوریت سسک رہی ہے۔

تاریخ ہندوستان ایسے واقعہ سے خالی ہے، جس نے جذبات کو سوکھے پتوں کی طرح بھڑ بھڑ کردیا ہے، اترپردیش کے شہر کاس گنج میں کچھ مسلمان جمہوریت کا جشن منانے کی تیاریاں کر رہے تھے، ترنگے کو سلامی دینے کے لئے تیار تھے، اس موقع پر کچھ افراد موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے، ان کے ہاتھوں میں ترنگے تھے، ان کے ہاتھوں میں بھگوا جھنڈے تھے، زبانوں پر جے شری رام کے نام نعرے تھے، ’’ہندو، ہندوستان، ملاّ بھاگو پاکستان‘‘ کے نفرت انگیز جملے تھے، تصورات کی دنیا میں غوطہ لگائیے اور سوچئے کیا یہ جمہوریت نواز افراد کے ہوسکتے ہیں ؟ کیا یہ جملے ہندوستان سے محبت رکھنے والے افراد کے ہو سکتے ہیں ؟ اس سے بڑھ کر علاقائی شخص ناصر کے مطابق جب ان لوگوں سے کہا گیا کہ آپ بھی ہمارے ساتھ جشن جمہوریت میں شریک ہوجائیے، جمہوریت کی حقیقی صورت کا نمونہ پیش کردیجئے، اس درخواست پر یہ جماعت نہیں مانی، سخت جملے کہے اور مشہور ٹی وی اینکر ابھی سرن شرما کے مطابق بھگوا جھنڈا لہرانے کی کوشش کی، ہندتو کا پرچم بلند کرنا چاہا اور اس کہاسنی نے وہ صورت اختیار کر لی، جسے لکھنا زخموں کو کریدنا ہے۔

جس ملک کو جمہوریت کا تحفہ عطا کرنے کے لئے ہندو مسلمان ساتھ مل کر لڑے تھے، اپنا خون بہایا تھا، دردوتکلیف برداشت کیا تھا، عدم تشدد کی تحریک ہو، انقلابیوں کی جماعت ہو، صحافیوں کا ٹولہ ہو، ہر میدان میں دونوں ساتھ کھڑے تھے، اس ملک میں آج جشن جمہوریت کے موقع پر دونوں قومیں دست و گریباں ہیں ، ایک دوسرے کاخون بہانے لگی ہیں ، لاٹھی ڈنڈے چلنے لگے اور اسی پر بس نہیں ، گولیوں کی آواز سے مڈنگر گونج اٹھا، اور حیوانیت کا یہ کھیل اس جگہ کھیلا جا رہا تھا،جو ویر عبدالحمید کے نام سے موسوم ہے، جس نے اپنی زندگی کی جوانی اس ملک کی حفاظت کے لئے، جمہوریت کی آبرو کی حفاظت کے لئے داؤ پر لگا دی تھی اور شہادت کا انتخاب کیا تھا ، ایسی شہادت جس کا مطالعہ ہی جسم کے رونگٹے کھڑے کردیتا ہے، اس کی یاد دلانے والے مقام پر جمہوریت کا قتل کردیا گیا، ہو سکتا ہے آپ کو لگے کہ میں باتوں کو افسانوی رنگ رے رہا ہوں ، قلب کی سوزش اس طرز پر لفظوں کے پیکر میں ڈھل رہی ہے اور یہ جھگڑا اتنا شدید ہوا کہ ایک شخص ہلاک ہو گیا، چندن نامی ایک شخص کی گولی لگنے سے موت ہوگئی، جمہوریت کا جشن غم کے ماحول میں تبدیل ہوگیا، ماں باپ کی کے قلب میں یقینی طور پر تکلیف کے اثرات ہوں گے، جذبات میں تلاطم بپا ہوگیا ہوگا، جوان بیٹا رخصت ہوا، ان کے بڑھاپے کی لاٹھی ٹوٹ گئی، دونوں جانب سے گولیاں چلائی جارہی تھیں ، چندن کی موت ہونا۔

یہ صورت حال پیش آنا یقینی طور پر تکلیف دہ ہے، مجرموں اور گناہ گاروں کو سخت سزا ہونی چاہئے، جو اس حادثہ کی وجہ بنے ان افراد کو سخت سزا دینی چاہئے، یہ واقعہ 26 جنوری کو پیش آیا اور جشن جمہوریہ سے متعلق تھا، اس لئے اس کی حساسیت بیان کرنا، سورج کو چراغ دکھانے کے مثل ہوگا، لیکن میڈیا نے اس کام کو کیا اور اس خوبی سے کیا کہ قلب میں چھپی نفرت کی چنگاری کوہ آتش فشاں بن گئی، پوار کاس گنج سلگ اٹھا، گھر جلائے گئے، دکانیں جلائی گئیں ، لوگوں کو پیٹا گیا، چونکہ ہمارا میڈیا نفرت بیچ رہا تھا اور ایسے سوالات کررہا تھا، جو ہر شخص کو آگ بگولہ کرسکتے تھے، واقعہ کو غلط  بیان کیا جارہا تھا، مسلمانوں کو مجرم قرار دیا جارہا تھا، ترنگا لہرانے کی پاداش میں قتل جیسے جملے پیش کئے جارہے تھے، نفرت بھری زبان بولی جارہی تھی، جس کی وضاحت علاقائی افراد کے بیانات اور ابھی سرن شرما کی وائرل ہوئی ویڈیو سے ہوتی ہے، بے شک چندن کی موت تکلیف دہ ہے، لیکن کیا یہ سب ترنگا لہرانے کے سبب ہوا ہے، ترنگا بلند کرنے والوں کے پاس بھگوا جھنڈا کیوں ؟

آپ کی عقیدت مذہبی معاملات مسلم ہیں ، لیکن ان کا جشن جمہوریت سے کیا تعلق؟ جمہوریت لامذہبیت کو مستلزم ہے، جمہوریت میں مذہب خاص کی بالادستی نہیں ہوتی، سب کے حقوق برابر ہوتے ہیں ، جسے میڈیا نے جان بوجھ کر نظر انداز کردیا اور ایک شخص کی موت پر نفرت کا کھیل شروع کردیا ، یقینی طور پر چندن کے ماں باپ ہمدردی کے مستحق اور اس واقعہ کے مجرم سزاکے مستحق، لیکن پورے ملک میں نفرت کا بیج بودینا کیا درست ہے؟ محبت کے جذبات کو یک لخت اکھاڑ پھینکنا کیا صحیح ہے؟ واقعہ کی تصویر بدل کر پیش کرنا کیا درست ہے؟ اور اسی حادثہ کے ایک ایسے پہلو نظرانداز کرنا جو محبت کا پیامبر ثابت ہو سکتا ہے درست ہے؟ غور کیجئے اور سوچئے نفرت کیسے پھیلائی جارہی ہے، اور کیوں پھیلائی جارہی ہے؟ تاکہ حقائق واضح ہوسکیں۔

اس واقعہ میں اکرم حبیب نامی ایک شخص نے اپنی ایک آنکھ گنوادی، وہ اپنی بیوی کو لینے کے لئے قریب ہی گاؤں سے کاس گنج آیا تھا، جب اسے حالات خراب ہونے کا علم ہوا تو وہ فوراً اپنی بیوی کو لے کر نکلا تاکہ اپنے گھر پہنچا جاسکے، کل نہ جانے کیا ہوجائے، اسے کیا علم تھا؟ کہ آج بھی اس کے لئے درد اپنے دامن میں رکھتا ہے، اس کے چہرے کی داڑھی تکلیف کا باعث ہوسکتی ہے، اکرم کے چہرے پر داڑھی دیکھ کر اسے شرپسندوں نے اتنا مارا کہ اس ایک آنکھ ضائع ہوگئی، اس کی حاملہ بیوی فریاد کرتی رہی، مدد پکارتی، ظالموں کے ہاتھ نہیں کانپے، پولیس نے مدد نہیں کی، درد کی اس کیفیت میں اکرم کو خود گاڑی چلانی پڑی اور اپنی بیوی کو ہسپتال پہنچانا پڑا، کیا اکرم کے مجرم سزا کے مستحق نہیں ہیں ؟ لیکن وہ ان کو ہدایت کی دعائیں دے رہا ہے، کیا میڈیا محبت کی اس علامت کو پیش نہیں کرسکتا تھا؟ کیا نفرت پھیلانے سے ملک کا فائدہ ہوگا؟ کیا ہندوستان کا وقار بلند ہوگا؟ جمہوریت کی عظمت میں چار چاند لگیں گے؟ یا ملک کا مستقبل تاریک ہوگا؟

جمہوریت خطرے میں پڑجائے گی اور فائدہ تو مٹھی بھر لوگوں کا، غور کیجئے آپ کو اکرم حبیب بن کر محبت پھیلانی ہے، یا چند روپیوں کی خاطر نفرت کا بازار گرم کرنا ہے، فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے، جمہوریت کے محافظ بن جائیے، یا اس کے قتل کی سازش میں حصہ دار۔



⋆ راحت علی صدیقی قاسمی

راحت علی صدیقی قاسمی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

حضرت ابوبکر صدیقؓ

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے درد و تکلیف کی تسلی پر آپ کے یہ جملہ بھی ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئے  ہیں خوف نہ کیجئے اللہ ہمارے ساتھ ہے، وہ موقع اور فکر صدیق بھی لازوال ہوگئی ہے، اور مسلمانوں کو دعوت فکرو عمل دے رہی ہے، انہیں صدیق کا طرز عمل یاد دلا رہی ہے، محبوب کی فکر و تعلق کے اظہار کا طریقہ بتا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے