کاس گنج فساد: ترنگا بمقابلہ بھگوا

نازش ہما قاسمی

جس وقت ملک کے عوام حب الوطنی  کے جذبے سے سرشار ہوکر یوم جمہوریہ کا جشن  منارہے تھے، اس وقت کاس گنج فرقہ پرستی کی آگ میں جل رہاتھا۔۔۔ جھوٹے وطن پرست سچے محبین وطن کو ستارہے تھے۔وطن پرستوں سے حب الوطنی کا ثبوت مانگ رہے تھے۔ ۔۔انہیں بھگوا جھنڈا لہرانے پر مجبور کر  رہے تھے۔ انہیں وندے ماترم گانے کو کہہ رہے تھے۔ انہیں قبرستان یا پاکستان میں سے ایک کو چننے کی دھمکی دی جارہی تھی۔۔۔جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا جارہا تھا۔۔۔وہاں کی انتظامیہ کو ان خود ساختہ اور جھوٹے وطن پرستوں کی "بھگوا یاترا،، کے بارے میں واقعی کوئی خبر نہیں تھی  یا انہیں پہلے سے سب کچھ  معلوم تھا کہ یہ ہونا ہے اور ہمیں اسے ہونے دینا ہے؛ کیوں کہ کاس گنج فساد کی بنیاد پر ہندو ووٹوں کو سمیٹنا جو مقصد تھا۔

انتظامیہ نے حفظِ ماتقدم کے طور پر کچھ بھی  نہیں کیا۔ ۔۔اسلئے وہاں فرقہ وارانہ فساد بھڑک اُٹھا۔۔ایک شخص کی موت ہوگئی اور دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔۔۔اس کے بعد افواہوں کا دور چلا۔۔۔سیاسی لیڈران کے دورے ہوئے۔۔۔سبھی نے چندن گپتا کو شہید قرار دیا۔۔۔مسلم لیڈران کے علاوہ کسی نے بھی جھوٹے منہ اور رسمی طور پر ہی سہی  شدید زخمی ہونے والے اکرم  و نوشاد کی  عیادت تک  نہیں کی، اس کی تکلیف کسی کو نظر نہیں آئی۔

اب وہاں کے بگڑے ہوئے حالات کنٹرول میں ہیں، حالات کچھ حد تک اطمینان بخش بھی  ہیں، ریاستی حکومت نے  مرکز کو فساد کی رپورٹ سونپ دی ہے۔۔ حسب سابق  میڈیا نے اس فساد کو ہوا دینے، نفرت کی آگ بھڑکانے میں اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگادیا اور وہ اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی رہے… فساد کے اسباب و علل کیا تھے؟ کیوں جلا کاس گنج؟۔ ۔۔کئی ویڈیوز منظر عام پر آئے ہیں، کئی ممتاز اور منصف صحافیوں کی آراء سامنے آئیں، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ فساد زبردستی کرایا گیا ہے۔ ویڈیو سے صاف پتہ چلتا ہے کہ مسلمان وہاں ترنگا لہرا رہے تھے اور اے بی وی پی کے افراد وہاں سے گزرنے کا راستہ طلب کرنے لگے، مسلمانو ں نے کہاکہ کچھ دیر رک جائیں تقریب جیسے ہی ختم ہوگی آپ فوراً چلے جائیں۔ ۔۔لیکن انہیں تو اڑنا تھا،لڑنا تھا، پیچھے سے ایک مسلح ریلا آیا جو زیادہ بھگوا اورکم ترنگا لہرارہا تھا انہوں نے دل آزار نعرے لگانے شروع کردیے۔ بھاگو ملا پاکستان، ملاؤں کے دو استھان پاکستان یا قبرستان۔

ہندوستان میں اگر رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہوگاوغیرہ  وغیرہ۔ اور اتنا ہی نہیں دوسری ویڈیو سے یہ بھی صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ان کے ہاتھ میں ترنگا بھی تھا اور پستول بھی، ویڈیو میں گولی چلنے کی آواز بخوبی سنی جاسکتی ہے، ممکن ہے ان ہی میں سے کسی فرد کے پستول سے گولی چلی ہو اور چندن گپتا اس کاشکار ہوگیا ہو۔اگرچہ اس معاملے میں یوپی پولس نے دعویٰ کیا ہے کہ گولی اوپر سے چلائی گئی تھی جو چندن گپتا کےسر میں جالگی اور اس کا ملزم سلیم پکڑا بھی گیا ہے۔ تحقیقات معاملہ کو واضح کردیں گی، اگر منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیق ہوئی تو پورا سچ یقیناً سامنے آجائے گا اگرچہ ایسی تحقیق کی امید نہیں ہے، اگر واقعی سلیم نے گولی چلائی ہے تو یہ غلط ہے، اس جرم کی اسے سزا ملنی چاہیے۔ جمہوریت کی بقا کے لیے ہمیں گولی نہیں محبت سے کام لینا چاہئے تھا اگر وہ ہمیں مجبور ہی کررہے تھے تو ہمیں انہیں پیار ومحبت سے سمجھاناچاہئے تھا اور انتظامیہ کو مطلع کرکے صورت حال سے آگاہ کرناچاہئے تھا لیکن یہاں کس سے فریاد کریں، کس سے منصفی چاہیں۔ ۔۔کس پر بھروسا کریں … انتظامیہ پر۔۔۔ریاستی حکومت پر۔۔۔کس پر آخر؟۔

سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ملک کدھر جارہا ہے۔۔۔ترنگے پر بھگوا کو فوقیت دینے والے افراد ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب مٹانے کے درپے ہیں۔ ۔۔انہیں ترنگا سے عزیز بھگوا جھنڈا ہے اس کی بین دلیل راجستھان کی عدالت ہے۔ ۔۔یہ مٹھی بھر لوگ ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔ ۔۔ہم حکومت سے یہ بھی مطالبہ نہیں کرسکتے کہ ان پر لگام کسے؛ کیوں کہ ہم نے چار سالہ دور میں دیکھ ہی لیا ہے کہ ہر جگہ جہاں بھی اس طرح کی واردات ہوئی حکومت چپ رہی جس سے فرقہ پرستوں کا حوصلہ بڑھتا گیا۔۔۔اگر شروع میں ہی اس پر لگام کسی جاتی تو ممکن تھا کہ یہ دنگائی اتنے ڈھیٹ نہیں ہوتے۔۔۔ہم دادری کے اخلاق شہید کے بعد سے دیکھ رہے ہیں یکے بعد دیگرے مسلمان شکار بنائے جارہے ہیں۔

حکومت کی بے توجہی، بے اعتنائی آشکارا ہے۔ جس سے فرقہ پرست حوصلہ پاکر یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ انہیں یوم جمہوریہ میں مسلمانوں کا جھنڈا لہرانا برا لگا انہیں بھگوا جھنڈا لہرانے پر مجبور کرنے لگے، جے شری رام کے نعرے لگانے کوکہنے لگے۔ کیا یہی سب کا ساتھ سب کا وکاس ہے۔ نہیں یہ صرف بھگوائیوں کا ساتھ اور مسلمانوں کا وناش ہے۔۔۔اقلیتی فرقے خود کو آج ہندوستان میں غیر محفوظ تصور کررہے ہیں۔ اب جبکہ حالات معمول پر آنے شروع ہوگئے ہیں تمام شواہد کے موجود ہوتے ہوئے اصل مجرم کو پکڑنے کے بجائے یک طرفہ طور پر مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے اور مسلم نوجوانوں کو جیل میں ٹھونسا جارہا ہے، یعنی انہوں نے بھگوائیوں کی بات  کیوں نہیں مانی، کیوں نہیں ترنگے پر بھگوا جھنڈے کو فوقیت دی، اگر وہ دے دیتے تو شاید کاس گنج نہیں جلتا گویا مسلمان ہی مجرم ہوا اب ان کی یک طرفہ گرفتاری ہورہی ہے۔۔۔

پولس جبراً گھروں میں گھس کر مسلم نوجوانوں کو پکڑ رہی ہے۔۔۔ کیا ہم اسے منظم سازش سمجھیں۔ ۔۔پہلے مسلمانوں کی املاک جلائی جائیں۔ ۔۔اس کے بعد انہیں ہی پابند سلاسل کر دیا جائے۔۔۔یہی تو ہورہا ہے  برسوں سے ہمارے اس  ملک میں۔ ۔۔این ڈی ٹی وی کے اینکر اور مشہور صحافی رویش کمار نے پوسٹ کیا ہے، ان کے مطابق ’’آیوش شرما نام کے ٹوئٹر ہینڈل نے کاس گنج فساد کی اطلاع پانچ دن قبل ہی راج ناتھ سنگھ اور یوپی پولس کو دے دی تھی ‘‘۔

’’مطلب فساد کرانے کا پلان منصوبہ بند تھا، سوال یہ ہے کہ اطلاع ملنے کے بعد یوپی پولس اور انتظامیہ نے اسے سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا؟ ‘‘۔ اگر ہم سنجیدگی سے سوچیں تو بی جے پی لیڈران اور سخت گیر ہندو تنظیموں کے بیانات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پلان  منظم اور منصوبہ بند تھا۔۔۔اس فساد کے ذریعے  اور فساد کی بھینٹ چڑھے چندن گپتا کی موت پر سیاست کے ذریعے ۲۰۱۹ کے لوک سبھا انتخابات کی بنیاد کھڑی کرنی تھی۔ خیر اس فساد نے مستقبل کے ہندوستان کی بنیاد رکھ دی ہے اور ہمیں سوچنے کا موقع فراہم کردیا ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے۔۔۔کیا یوں ہی ہندوستان جلتا رہے گا؟ کیا یوں ہی ترنگے پر بھگوا کو فوقیت دی جاتی رہے گی ؟ اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو ہندوستان ٹوٹ جائے گا….

 جمہوریت کا جنازہ نکل جائیگا۔ ۔۔وہ ہمیں کمزور سمجھ رہے ہیں۔ ۔۔اور یقینا ہم کمزور ہیں لیکن اتنے بھی کمزور نہیں ہیں کہ ملک کے تانے بانے کو ٹوٹتا وبکھرتا  دیکھیں اور خاموشی اختیار کرلیں۔ ۔۔جتنا یہ ملک ان کا ہے اس سے کہیں زیادہ ہمارا ہے۔۔۔ہمارے اسلاف نے اس ملک کی خاطر قربانیاں دی ہیں۔ ۔۔ان کے بقول ہمیں قبرستان یا پاکستان چننا ہے۔۔۔انہیں سمجھ  لینا چاہئے کہ اگر ہمیں پاکستان جانا ہوتا تو پہلے ہی چلے گئے ہوتے۔۔۔اور قبرستان تو ہمارا مقدر ہے ہی، ہم تمہاری طرح راکھ ہوکر ہواؤں میں نہیں بکھرتے بلکہ ایک محب وطن ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں اور خود کو وطن کی مٹی کے حوالے کردیتے ہیں۔ ۔۔سوجاتے ہیں اس مٹی کی گود میں جو جان سے زیادہ عزیز ہے، اشفاق اللہ خان کا یہ شعر ہمارے جذبہ صادق کی ترجمانی کرتا ہےـ

کوئی آرزو نہیں اس آرزو کے بعد

رکھ دے کوئی ذرا سی خاک وطن کفن میں

ویر عبدالحمید کے لہو  کی خوشبو آج بھی اس مٹی سے آرہی ہے اور آتی ہی رہے گی… آخر ہم محب وطن جو ٹھہرےـ



⋆ نازش ہما قاسمی

نازش ہما قاسمی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ہاں میں شامی مسلمان ہوں!

ہاں! میں شامی مسلمان ہوں۔۔۔جی ہاں شامی ، سیریا، حلبی، ادلبی، غوطی، مسلمان ہوں۔۔۔ہماری لاشیں سربریدہ پڑی ہوئی ہیں۔۔۔۲۰۱۱ کے عرب انقلاب کے بعد یہاں بھی آمریت کے خلاف ہم کھڑے ہوئے؛ لیکن انقلاب عرب تو خاموش ہوگیا اور ہم یہاں خاموش کیے جارہے ہیں۔۔۔پوری دنیا اس جنگ میں کود پڑی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے