ہندوستان

کانگریس کے بارے میں کیا کہا جائے!

رویش کمار

وزیر اعظم نریندر مودی کا سب سے بڑا چیلنج ہے کہ کوئی انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا. کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا سب سے بڑا چیلنج ہے کہ لوگ انہیں نظر انداز کرنے لگے ہیں. کسی بھی سیاستداں کے لئے یہ خطرناک صورت حال ہوتی ہے. اس سے بھی خطرناک صورت حال یہ ہے کہ راہل گاندھی نظر انداز کئے جانے کو لے کر مطمئن ہونے لگے ہیں. وزیر اعظم مودی کے انٹرویو ان کے حامی جتنی توجہ سے سنتے ہیں اتنے ہی ان کے مخالف اور ناقد بھی. اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے کہ راہل گاندھی نے ٹھیک سے سنا اور اس کی پوائنٹ وائز تنقید پیش کی ہو. یہی وزیر اعظم مودی کی نفسیاتی جیت ہے کہ قومی سطح پر ان کے سامنے کوئی نہیں ہے. ہے بھی نہیں اور آنے کی ہمت بھی نہیں کر پاتا.

یہی جب راہل گاندھی کا انٹرویو ہوتا تو بی جے پی کا ہر بڑا لیڈر ان کی بات کو سنتا اور پوائنٹ وائز تنقید پیش کرتا. پوری ٹیم لگ جاتی. کانگریس میں دو سال بعد بھی ایسی کوئی ٹیم نظر نہیں آتی ہے. وہی لیڈر نظر آتے ہیں جنہیں وزیر کے عہدے پر دیکھتے ہوئے لوگوں نے کانگریس سے نفرت کی حد سے آگے جاکر چڑ پال لی. جن کے پاس عوامی حمایت ہوتی ہے ان کا تکبر تو عوام برداشت نہیں کرتی ہے، جن کے پاس عوامی حمایت نہیں ہے، انہیں عوام کس طرح برداشت کر لے گی. 2014 کے بعد کانگریس کے تئیں نفرت میں کوئی قابل ذکر کمی آئی، اس کے بھی کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتے ہیں. کانگریس آج بھی وہی ہے جو کل تھی. پارٹی ایک بھی نیا لیڈر یا اسپیکر سامنے نہیں لا سکی ہے.

کیا راہل گاندھی مودی حکومت کے تیسرے سال میں بھی نظر انداز کئے جانے کے لیے اطمینان سے جیتے رہیں گے؟ اتر پردیش میں وہ تیس دنوں تک رہنے والے ہیں. اس دوران گاؤں میں جائیں گے. کھاٹ پر بیٹھ کر کھاٹ چرچا کریں گے. چائے پہ چرچا وزیر اعظم کا برانڈ ہے. ہلکے وچ کیپٹن، کافی ود کیپٹن اور اب کھاٹ پہ چرچا جیسے نام چائے پر چرچا کے فرنچائزی لگتے ہیں. ویسے وزیر اعظم اب ٹاؤن ہال پر شفٹ ہو گئے ہیں. بہر حال، تیس دنوں میں راہل کو کئی اضلاع اور دیہات میں لوگوں سے ملنے کا موقع ملے گا. امید ہے کہ اسے صرف تقریبات میں بدلنے تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ تقریبات کے سہارے خود کو پہلے سے بہتر کرنے کی کوشش کریں گے. تقریبات اتنے حاوی نہ ہو جائیں کہ کسانوں کے درمیان ان کا جانا محض انتخابی  نشست ثابت ہو جائے. کیمرہ ہٹا اور نشست ختم.

راہل گاندھی کی سب سے بڑی کمی یہ رہی ہے کہ وہ ٹیكٹكل یعنی داؤ پیچ کی جیت کو ہی اپنے لئے موقع سمجھ لیتے ہیں. وہ جیت بھی ایک دو بار ہی ملی ہے. اس کی وجہ ہے کہ ان میں یا ان کی پارٹی میں ان موقعوں کو وسیع پیمانے پر نتیجہ خیز بنانے کی صلاحیت نہیں ہے. لینڈ اکیوزیشن بل اور سوٹ بوٹ کی حکومت سے جو نفسیاتی برتری حاصل کی تھی اسے راہل اور کانگریس دونوں نے جلدی ہی گنوا دیا. اس کے بعد کئی مواقع آئے مگر بی جے پی ہی نفسیاتی طور سے غالب رہی. کانگریسی لیڈر نہ تو نظریاتی طور پر راہل کا ساتھ دینے آ سکے نہ نفسیاتی طور پر. اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ راہل کانگریس کے اندر لیڈر نہیں بن پائے ہیں. وزیر اعظم مودی سے موازنہ کریں تو بی جے پی کے اندر ادنی کارکن کو بھی شک نہیں ہے کہ پارٹی میں مودی کے علاوہ کوئی دوسرا لیڈر ہے. کانگریس میں اس وقت راہل کے علاوہ دوسرے لیڈر کی بات ہونے لگی ہے. عام کانگریسی شک کی حالت میں نظر آتا ہے. راہل گاندھی کو پہلے کانگریس کے اندر لیڈر بننا ہوگا.

اس لئے راہل گاندھی کے لئے یہ تیس دن کافی اہم ہوں گے بلکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ 2019 کے تناظر میں آخری ہوں گے. اگر وہ کھاٹ چرچا کو تقریبات کی رسم تک محدود رکھیں گے تو ایسی بہت سے تقریبات آئیں اور چلی گئیں. راہل گاندھی کو قرض معافی اور اناج کے دوگنے قیمت کے وعدے سے آگے جاکر کسانوں کے مسائل کو سمجھنا ہوگا. مودی حکومت کی اسکیموں کے نقائص نکالنا ایک کام ہے، مگر ان پالیسیوں کا متبادل پیش کرنا دوسری بات ہے. اس وقت کوئی بھی لیڈر یہ کام نہیں کر رہا ہے. راہل کو کسانوں کے درمیان جا کر اپنی حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی کی اصل سمجھنی ہوں گی. ان پر زور دار انداز  سے بولنا پڑے گا، لگے کہ وہ کسانوں سے مل کر آئے ہیں. مودی جی مودی جی کہہ کر تنقید کرنا تو آسان ہے مگر متبادل بننے کی درسگاہ میں اسی سے ڈگری نہیں ملتی ہے. ہم جاننا چاہیں گے کہ کسانوں سے مل کر وہ کون سی نئی بات کہنے والے ہیں. کیا ان کے پاس مودی حکومت کی تنقید کے علاوہ کوئی نظریاتی متبادل ہے؟

راہل گاندھی اپنی تقریروں میں مسلسل آرایس ایس پر حملہ کر رہے ہیں لیکن ان کی پارٹی کے کتنے رہنماؤں میں سنگھ سے لڑنے کی جراؑت اور ہمت ہے. سنگھ پر حملہ کرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن بیان سے آگے جاکر طویل جنگ لڑنے کی اسٹریٹجک واضح نظر نہیں آتی ہے. کیا وہ اس جنگ کو اکیلے لڑ پائیں گے؟ کیا راہل گاندھی سنگھ سے اپنی لڑائی کو اہم مقصد میں تبدیل کر دیں گے، اس مرحلے پر کہ علاقائی جماعتوں کے سنگھ مخالف عناصر ان کے ساتھ آ سکیں؟ آرایس ایس کو تنقید کا نشانہ بنانا اور اس سے لڑنے میں فرق ہے. کانگریس نے سنگھ سے یہ لڑائی کبھی نہیں لڑی. اس لئے اس کے پاس سنگھ سے لڑنے کی انتظامی اور نظریاتی صلاحیت نہیں ہے. غیر کانگریسی یا غیر سیاسی تنظیموں اور افراد نے سنگھ سے لوہا لیا ہے. وہ بھی سنگھ کی تنقید میں کتاب لکھنے سے زیادہ حاصل نہیں کر سکے. سنگھ جیسا تھا، آج اس سے بھی بڑا ہے. اس کے اپنے ادارے، سرکاری اداروں سے  طاقتور اور مستقل نوعیت کے ہیں. سنگھ سے لڑنے کے لئے راہل کو کانگریس کے اندر کے نرم ہندتواديوں سے لڑنا ہو گا. اگر راہل نے سنگھ سے لڑنے کا من بنا ہی لیا ہے تو اس پر بھی پرجوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے. دیکھتے ہیں کہ وہ کتنے سنجیدہ ہیں. کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دو بیان دے کر کانگریس کمل ناتھ کی طرح غائب ہو جائیں. یہ لیڈر مجھے بڑا دلچسپ لگتا ہے. یہ تبھی نظر آتا ہے، جب کانگریس کی حکومت بن رہی ہوتی ہے، وہ بھی براہ راست حلف لیتے ہوئے.

راہل گاندھی کے ساتھ دشواری یہ ہے کہ جب ان کی پارٹی کی گٹھ بندھن سرکار تھی تب وہ اپوزیشن بننے کی کوشش کر رہے تھے. حکومت کی ساکھ اتنی گر چکی تھی، کسی کو اس بات سے فرق نہیں پڑا کہ راہل کیا بول رہے ہیں. آج بھی کوئی اس بات کے لئے بے چین نہیں رہتا یا محسوس نہیں کرتا کہ راہل گاندھی کیا بول رہے ہیں. یہ بات راہل گاندھی اور کانگریس کو قبول کر لینی چاہئے. پبلک میں ہم جب بھی جاتے ہیں، لوگ وزیر اعظم کی ہی بات کرتے ہیں. تنقید بھی کرتے ہیں اور تعریف بھی لیکن کسی دوسرے لیڈر کی تو بات ہی نہیں کرتے ہیں. دوسرے لیڈر کی بات کرتے ہیں تو راہل گاندھی کی بات نہیں کرتے ہیں. کیا راہل گاندھی ان تیس دنوں کے قیام کے بعد خود کو اس قابل بنا سکیں گے کہ لوگ ان کے بارے میں بات کریں؟ یوپی کا نتیجہ تو سب کو معلوم ہے. کم سے کم کاغذی ماہرین تو یہی کہہ رہے ہیں لیکن ان کے حساب سے اس طے ہار میں بھی کیا کوئی لیڈر بن کر ابھر سکتا ہے؟

راہل گاندھی اب بھی اپرینٹس کی کیفیت میں ہیں. اپوزیشن کے طور پر جب بی جے پی کمزور ہوتی جا رہی تھی تب احمد آباد سے نریندر مودی نے دعویداری کر کے اس کمزوری کو توڑ دیا تھا. باہر سے بی جے پی کے اندر دعویداری کا کسی کو گہرا مطالعہ کرنا چاہئے. تمام داؤ پیچ کی تھیوری کے بعد یہ کسی لیڈر کے اندر  دعویداری کے ہنگامہ اور بے چینی کی شاندار کہانی ہے کہ آپ لوگوں سے کچھ نہیں ہو رہا ہے تو ہٹيے مجھے چانس دیجئے. میں خود کو داؤ پر لگاتا ہوں. ٹھیک ہے کہ 2014 میں کانگریس کے تئیں نفرت کی لہر تھی لیکن دعویداری کا خطرہ اکیلے نریندر مودی نے اٹھایا. باقی کسی نے نہیں. کسی بھی پارٹی کے کسی بھی لیڈر نے نہیں. آج بھی کم و بیش وہی صورت حال ہے. جنہوں نے کیا ان کے پاس جماعت تو چھوڑیے ایک ٹویٹ اکاؤنٹ تک نہیں تھا! عوام کسی لیڈر کو شکست دے کوئی بات نہیں. اس لحاظ سے نریندر مودی بھی کبھی الیکشن ہار جائیں لیکن میرے پیمانے سے لیڈر وہ ہوتا ہے جو عوام کے رخ کو اپنی طرف موڑ دے. سامنے والے کو ہرا دے. معاف کیجئے، ایسی ضد راہل اور ان کی کانگریس میں نظر نہیں آتی ہے. کانگریس کے سیاسی سستی پر بار بار نہیں کہنا چاہتا. کچھ نیا ہوگا تبھی کہوں گا.

راہل گاندھی پھر سے سفر پر نکل رہے ہیں. تیس دن کا یہ سفر قاعدہ سے پنجاب میں ہونا چاہیے تھا. یہ بھی ٹھیک ہے کہ راہل نے اس زمین کو منتخب کیا ہے جہاں ان کی پارٹی صفر پر ہے. آج تک کانگریس کہیں بھی اس صورت حال میں پہنچ کر واپسی نہیں کر سکی ہے. امید ہے راہل گاندھی اپنے سفر کے دوران قصبوں سے لے کر اضلاع کے کانگریس دفتروں میں جا کر وہاں پھیلی کمزوری کا جائزہ لیں گے. ان جگہوں کی دیواروں سے جھڑتے چونے کی پرتوں کو كھرچ كر سوچیں کہ کانگریس میں قیادت کی افراتفری اوپر سے کس نے مسلط کی. انہیں کچھ وقت کانگریس کے لئے نئے کارکن بنانے اور ان میں نئے رہنما بننے کے امکانات تلاش کرنے میں بھی صرف کرنا چاہئے. اس معاملے میں اپنے مخالف سے سیکھ لینے میں کوئی برائی نہیں. کم از کم وزیر اعظم نے ایک وزیر اعلی کو ہٹا دیا، لوک سبھا میں اپنے سب سے دھاردار وزیر کا محکمہ تبدیل کر دیا. راہل گاندھی ابھی تک ایسے کسی لیڈر کو ہٹا نہیں سکے ہیں جس سے اشارہ جائے کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے. کانگریس جماعت کے اندر بھی ایسا کچھ نہیں ہوا ہے جس سے لگے کہ پارٹی بدل رہی ہے. صرف سن لینا کافی نہیں ہوتا. ہو سکتا ہے راہل گاندھی کارکنوں کی بات سن لیں، بات ہوتی ہے فیصلے لینے میں. کیا وہ چلتے چلتے فیصلے بھی لیں گے؟

راہل گاندھی نے پہلے بھی دورے کئے ہیں. کالجوں میں جانا، ٹرین میں سفر کرنا، دلتوں اور غریبوں کے گھر جانا. بھٹا پرسول کی پدیاترا. اڑیسہ جاکر دہلی میں آدیواسیوں کو سپاہی قرار دینا. دہلی میں سائیکل چلانے کا ویزوئل اور پونے کے پاس گلائڈنگ کرنا. یہ سب لوگ تبھی نوٹس کرتے ہیں جب لیڈر اپنی سیاست میں واضح اور دھار دار ہوتا ہے. آج بی جے پی دلتوں کے گھر جا کر کھانا کھا رہی ہے اور راہل نے اپنا ہی شروع کیا کام چھوڑ دیا. 2012 کے گجرات انتخابات میں دیکھا تھا. سورج ڈھلنے سے پہلے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی دہلی لوٹ جاتے تھے. نریندر مودی کے لئے میدان کھلا ہوتا تھا. وہ دونوں کی تقریر سن کر جاتے تھے اور ایک ایک بات کی دھججی اڑا کر رکھ دیتے تھے. دوسرے دن دہلی سے دونوں آتے تھے اور اپنی بات کہہ کر چلے جاتے تھے. دونوں شاید ہی کبھی نریندر مودی کی بات کا پوائنٹ وائز جواب دیتے تھے. ظاہر ہے عوام سے بات چیت وہی کرتا ہے جو سوال کے ساتھ ساتھ جواب بھی دیتا ہے.

اس لحاظ سے تیس دن تک ایک ریاست میں رہنے کا قیام اہم ہے. اپوزیشن میں رہتے ہوئے راہل کو اسی طرح کی سیاسی تربیت حاصل کرنی چاہئے. کوئی انہیں سنجیدگی سے لے یا نہ لے، لیکن خود کو سنجیدگی سے لینا چاہئے. امید ہے راہل پنجاب میں ساٹھ دن کا قیام کریں گے اور گوا میں نوے دن کا. دہلی سے سیاست نہیں چلتی ہے. اقتدار میں آنے کے بعد بھی بی جے پی کا ایک بھی لیڈر یا وزیر دہلی سے سیاست نہیں کرتا. اگر مودی حکومت کے وزراء کے دوروں کا نقشہ بنائیں گے تو ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی وزیر دہلی سے باہر دور دراز کے علاقے میں ہوتا ہے. خود وزیر اعظم مختلف ذرائع سے لوگوں کے درمیان رہتے ہیں. بولتے رہتے ہیں. تیس دنوں کا یہ سفر راہل گاندھی کو کتنا بدل پائے گا یہ انہی پر انحصار کرے گا. حکومت کی کوتاہیوں کا فائدہ اٹھانا الگ بات ہے، وہ بھی اہم ہے مگر ایک نیا متبادل بننا سب سے الگ بات ہے، نئی بات ہے. کیا راہل گاندھی میں یا ان کی کانگریس کی طرف سے ایسا کچھ ہو رہا ہے؟ کیا سب کچھ راہل گاندھی پر ہی ٹکا ہوا ہے، باقی لیڈر کیا کمل ناتھ کی طرح براہ راست حلف برداری میں پہنچنا چاہتے ہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close