ہندوستان

کرلوکہ تم نے عہد نبھانا تو ہے نہیں!

نایاب حسن

 آزادی کی سترویں سالگرہ کوبی جے پی حکومت کچھ الگ طریقے سے منانے جارہی ہے، ’ترنگایاتراؤں ‘کے ذریعے سے حکومت کے مختلف وزرا ملک بھر سے تحریکِ آز ادی میں اپنا کرداراداکرنے والے مجاہدینِ آزادی کی جاے پیدایش اوران کی یادگاروں تک پہنچ کرانھیں خراجِ عقیدت پیش کریں گے اورقوم کوان کی قربانیوں سے باخبر کریں گے، ویسے یہ دیکھنادلچسپ ہوگاکہ بی جے پی کن لوگوں کومجاہدینِ آزادی کی فہرست میں شامل کرتی ہے اورکن کو باہر کرتی ہے۔ اسی سلسلے کا آغازکرتے ہوئے وزیر اعظم مسٹرنریندرمودی نے منگل کومدھیہ پردیش میں مشہورمجاہدِآزادی چندرشیکھرآزادکے مقامِ پیدایش ’بھابڑا‘سے ’آزادی کے سترسال، ذرایادکروقربانی‘نامی حکومت کے نئے پروگرام کا آغازکیا۔ اس موقعے پروزیراعظم نے آزادی کے حوالے سے تقریر کرتے ہوئے سواسوکروڑہندوستانیوں سے اپیل کی کہ ہم سب کی یہ ذمے داری ہے کہ ہم ہندوستان کی آزادی میں حصہ لینے والے رہنماؤں کویادکریں اوران کی قربانیوں کوخراجِ عقیدت پیش کریں۔

 خلافِ توقع اُنھوں نے اس موقعے پر کشمیراورکشمیرکے حالیہ سانحات کابھی ذکرچھیڑدیا، گزشتہ ایک ماہ سے کشمیرکاماحول آتشیں ہے، تازہ خبروں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ساٹھ سے متجاوزہوچکی ہے، جبکہ ہندوستانی فوج کے ذریعے استعمال کیے جانے پیلیٹ گن سے متاثرہونے والے، اپنی آنکھوں کی روشنی گنوانے والے بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کی تعدادکئی ہزارتک پہنچ چکی ہے، پورے ایک ماہ گزرجانے کے باوجودبھی حالات جوں کے توں ہیں، بیچ میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کشمیرکادورہ بھی کیاتھا؛لیکن کچھ فرق نہیں پڑا، پیرکوجموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی وزیر داخلہ و دفاع، قومی سلامتی کے مشیراور دیگر اعلیٰ سطحی افسران کے ساتھ دہلی میں دوگھنٹے تک میٹنگ ہوئی، جس میں وزیر داخلہ نے یہ عندیہ دیاہے کہ وہ کشمیرکے مختلف دھڑوں کے درمیان بات چیت کانیاسلسلہ شروع کرنے کوتیارہیں ؛حالاں کہ ساتھ ہی انھوں نے ’حریت‘ کوبات چیت میں شامل نہ کرنے کی بھی بات کی، دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ محبوبہ مفتی اس وقت سخت سیاسی کشمکش میں گھری ہوئی ہیں، ان کے سامنے کشمیریوں کومطمئن کرنے کابھی چیلنج ہے، حزبِ مخالف کے حملوں کا جواب بھی دیناہے اوربی جے پی کے ساتھ اتحادکوبرقراررکھتے ہوئے کشمیریوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غورکرنے کامسئلہ بھی ہے۔

 اس دوران منگل کومدھیہ پردیش میں وزیر اعظم مودی کی تقریرمیں کشمیراورکشمیریوں کاذکرآنااچانک اورغیر متوقع ہی کہاجائے گا؛کیوں کہ گزشتہ ایک ماہ سے مختلف سیاسی پارٹیاں مسلسل مطالبہ کررہی تھیں کہ پی ایم کشمیراورکشمیرکی دردناک صورتِ حال پر کچھ بولیں، وہاں کے نمایندہ ادارے اور افراد نے بھی میڈیامیں، سوشل میڈیااپنے اس کرب کابارہااظہارکیاکہ ہندوستان کی مرکزی حکومت کوصرف کشمیر سے مطلب ہے اوروہ کشمیریوں کودرخورِاعتنانہیں سمجھتی، وہ کشمیر کوہر حالت اورقیمت میں اپنے قبضے میں رکھناچاہتی ہے؛لیکن کشمیریوں کی جانوں کی اس کے نزدیک چنداں اہمیت نہیں ہے، ابھی راجیہ سبھامیں اپوزیشن لیڈرغلام نبی آزادنے بھی وزیر اعظم کوکھلاخط لکھ کرکشمیرکے حالات کی طرف متوجہ کیاتھا، سیکورٹی فورسزکی گولیوں سے بعض ایسے لوگ بھی شہید ہوئے، جن کا نہ توعوامی احتجاج سے تعلق تھا اورنہ ہی وہ یہ سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تھے کہ کشمیرمیں کیاہورہاہے اورکیوں ہورہاہے، احتجاجیوں پربھی جو جبر و تشددکیاگیا، اس کے جوازکی کوئی معقول وجہ حکومت یافوج نہیں بتاسکتی؛کیوں کہ دنیابھرکے بہت سے ملکوں میں مظاہرے اوراحتجاجات ہوتے رہتے ہیں ؛ لیکن احتجاجیوں کوقابوکرنے کے لیے زور، قوت اورجان لیواحربوں کے استعمال کی ہرگزبھی اجازت نہیں دی جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ پورے ملک میں کشمیریوں کے تئیں ایک عمومی مزاج سا بنتاجارہاہے اوروہ مزاج یہ ہے کہ کشمیری عام طورپر دہشت گردہوتے ہیں، میں نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیاپرچلنے والے کمینٹس اورہندی چینلوں اوراخبارات کے طرزِاظہاراور خبروں کے پیش کرنے کے ان کے اندازسے کوئی بھی بآسانی یہ محسوس کرسکتاہے کہ گویامنصوبہ بندی اورکامل تدبیرکے ساتھ کشمیریوں تئیں ملک کے بقیہ حصے کے شہریوں کے ذہن و دماغ میں بدگمانی وسوئِ ظن پھیلانے کاکھیل کھیلاجارہاہے۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریرمیں کہاکہ ’جوآزادی ملک کے بقیہ حصے کے لوگوں کوحاصل ہے، وہی آزادی کشمیریوں کوبھی حاصل ہے‘، ان کی یہ بات کشمیرکی زمینی صورتِ حال کی روشنی میں کہاں تک درست ہے، ستر سال ہوگئے ؛لیکن ہندوستان نہ توکشمیریوں کومطمئن کرپایااورنہ ہی ان کے اندر احساسِ تحفظ پیداکرپایا، ماضـی میں لوگ کشمیر کووادیِ جنت نظیرکہتے تھے؛لیکن آزادہندوستان میں اس کے ذرات خون کے قطروں سے لالہ گوں ہیں، ہرنیادن نئی مصیبتوں کے ساتھ طلوع ہوتاہے اور ہرنئی رات ہولناکیوں کے نئے سلسلے کے ساتھ ہویداہوتی ہے۔ مودی نے کہاکہ’ہم کشمیر کا وکاس اور روزگارچاہتے ہیں، میں کشمیرکووکاس کی اونچائیوں پرلے جاؤں گا‘یہ وعدہ اچھاہے؛لیکن جناب وادی میں آپ کی حکومت آئے ہوئے تودوسال ہونے کوہیں، مگر اس عرصے میں کشمیر کی ترقی و خوشحالی اور وہاں کے بے روزگار نوجوانوں کوروزگاردینے کے حوالے سے آپ کی حکومت نے کیاکیاہے؟ آپ کے اس طرح کے جملے توالیکشن کے زمانے کے لیے خاص ہیں ؛لیکن اب توآپ کشمیرمیں پاورمیں ہیں، تواب بھی صرف چرب زبانی سے کام چلانے کی کوشش کریں گے یااپنے کام کا لیکھاجوکھابھی پیش کریں گے۔ ہمارے گزشتہ وزیر اعظم کا المیہ یہ تھاکہ وہ زیادہ ترخاموش رہتے تھے، جبکہ موجودہ وزیر اعظم کاالمیہ یہ ہے کہ ان کی زبان قابومیں ہی نہیں رہتی، بولنے کوتوکچھ سے کچھ بول دیتے ہیں ؛لیکن کرنی میں زیروسے کچھ ہی زیادہ ہوں گے۔ مودی نے اپنی تقریر میں کشمیریوں کویقین دلانے کی کوشش کی کہ کشمیر کی ترقی، کاروباراور روزگارمیں جس طرح کا تعاون وہ چاہیں گے، حکومت وہ تعاون کرنے کوتیارہے، انھوں نے کشمیری نوجوانوں سے اپیل کی کہ حکومت کے ساتھ مل کرکشمیر کوواقعی جنتِ ارضی بنانے میں اپنا تعاون پیش کریں۔

 کشمیر کی صورتِ حال اتنی معمولی نہیں ہے کہ وزیر اعظم مدھیہ پردیش سے خطاب کرکے وہاں کے لوگوں کواپنا ہمنوابنالیں، ہونایہ چاہیے کہ مودی خود جموں وکشمیر جاتے، وہاں کے نوجوانوں سے ملتے، ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کرتے اوران کی پریشانیوں کودورکرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کرتے۔ کشمیر میں تشدداورانتہاپسندی کی روایت بھی قدیم ہوچکی ہے اوراس کی وجہ احساسِ محرومی ہے، جب کشمیری نوجوانوں کوایسا لگتاہے کہ حکومت ِہند نے ہمارے سروں پرفوجیوں کاغول صرف اس لیے بٹھارکھاہے کہ وہ کشمیر کواپنے قبضے سے نکلنے نہیں دیناچاہتے، انھیں کشمیریوں سے کوئی مطلب نہیں ہے، پھر وقفے وقفے سے پیش آنے والے ایسے واقعات ان کے اس خیال کومزید تقویت پہنچاتے ہیں، جن میں کوئی پولیس اہلکاریافوجی کسی کشمیری کوبری طرح پیٹ رہاہوتاہے، اسے گالیاں دے رہاہوتاہے اور اس کی عزتِ نفس کوجوتے کی نوک پر رکھ رہاہوتاہے۔ گزشتہ دہائیوں میں کئی ایسے واقعات رونماہوچکے ہیں، جن میں اجتماعی طورپربھی کشمیریوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور وہ واقعات بھی کشمیری نوجوانوں میں سینہ بسینہ منتقل ہورہے ہیں اوران کوغصے اور انتقام کی راہ پر لگاتے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کشمیر کے معاملے میں پاکستان کودخل نہیں دیناچاہیے؛لیکن کیایہ مناسب ہے کہ ہم اپنی ساری توانائی پاکستان کوجواب دینے میں خرچ کریں اورکشمیر میں جوحقیقی صورتِ حال ہے، ہم اس سے آنکھیں موندے رکھیں۔ وزیر اعظم نے اپنے مخصوص اسٹائل میں کہاکہ مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتاہے کہ جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ اورکتابیں ہونی چاہئیں، ان کے ہاتھوں میں پتھرہیں، لیکن آخرکشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھرکیوں ہیں، اس کے اسباب کی کھوج بھی تولگائیے مسٹرپی ایم!صرف زبانی دکھ کا اظہارکردینے سے کیاہوتاہے، ان نوجوانوں پر؛بلکہ کشمیری بچوں، عورتوں اور بزرگوں پربھی فوجی سفاکیت کے جوجستہ جستہ مناظرسامنے آتے رہتے ہیں، ان پر بھی تواپنے دکھ کا اظہار کیجیے، ایسا توہونہیں سکتا؛ کیوں کہ ہندوستانی سیاست نے یہ قانون بنارکھاہے کہ جب فوج کشمیریوں کومارے گی، تویہ ہندوستانی فوج کی بہادری کی علامت ہے اورپرنٹ میڈیاسے لے کر الیکٹرانک اورسوشل میڈیاتک پرہندوستان کی بہادرفوج کے لیے تالیاں پیٹی جائیں گی، ان کی پیٹھ تھتھپائی جائے گی ؛لیکن ان فوجیوں کے دفاع میں، اپنی جان اور عزت و آبروبچانے کی خاطرکشمیری پتھراٹھائیں گے، تووہی میڈیا اورہمارے ملک کے سیاست دان و حکومت ان لوگوں کومجموعی طورپردہشت گردوں کی لسٹ میں ڈال دیں گے۔

 حقیقت یہ ہے کہ چاہے 7؍اگست کوتلنگانہ میں گئورکشاکے حوالے سے دیاگیامودی کابیان ہویااب کشمیراورکشمیریوں کے حوالے سے، دونوں سیاسی ضرورت اور مفادکے زیر اثردیے گئے ہیں ؛کیوں کہ جب مودی نے گئورکشاکے حوالے سے زیادتی کرنے والے عناصرکونشانہ بنایا، تواس دوران ان کی ساری ہمدردی و خیرخواہی اور اظہارِ غم و غصہ کامحورملک کے دلت طبقات تھے، حالاں کہ دنیاجانتی ہے کہ گزشتہ دوسال سے گئورکشاکے جنون میں مبتلا ہندووں کی زدپر سب سے زیادہ مسلمان رہے ہیں اوراب بھی ہیں، مودی نے دراصل آنے والے انتخابات کے پیشِ نظرگجرات کے دلتوں کے باغیانہ و منتقمانہ تیور کو دیکھتے ہوئے یہ بیان دیاہے، جبکہ کشمیر پران کابیان کوئی انوکھانہیں ہے، گھماپھراکرکٹہرے میں انھوں نے کشمیری عوام کوہی کھڑاکیاہے، جوعرصے سے ہوتا آرہاہے۔ بہرکیف یہ کہنابھی بڑی بات ہے کہ وہ کشمیرکووکاس کی اونچائیوں پرلے جانا چاہتے ہیں ؛لیکن پی ایم صاحب اگروہ نقشۂ عمل بھی کبھی لوگوں کو دکھا دیں، جس کی تنفیذکے ذریعے وہ کشمیرکووکاس کی اونچائیوں تک لے جائیں گے، توبڑی عنایت ہوگی!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close