ہندوستان

کس منہ سے اپنے آپ کو کہتے ہو عشق باز

حفیظ نعمانی
ایک مہینہ پہلے پانچ ریاستوں کے الیکشن کے نتیجے سامنے آئے تو جو ہوا وہ سب نے دیکھ لیا۔ مغربی بنگال میں ممتا بینر جی نام کی ایک اکیلی خاتون نے ان دو پارٹیوں کو بھی ہرایا جنہوں نے بنگال پر ساٹھ برس حکومت کی تھی۔ اور اس پارٹی کو بھی ہرایا جس کی حکومت مرکز میں بھی ہے اور ملک کے نو صوبوں میں بھی۔ بنگال میں جن دوپارٹیوں نے ساٹھ برس حکومت کی وہ ایسے نہیں کی جیسے تمل ناڈو میں ہوتی ہے یا اترپردیش اور کیرالہ میں ہوتی ہے کہ ایک بار تم اور ایک بار ہم۔ بلکہ اس طرح کی کہ کانگریس جب تک رہی مسلسل رہی پھر جب بایاں محاذ نے اپنی حکومت بنائی تو 34برس اس نے حکومت کی۔ ایسی گہری جڑوں والی پارٹیوں کو ایک اکیلی خاتون نے صرف اخلاص اور محنت کے بل پر اکھاڑ دیا اور پانچ سال ایسی حکومت کی کہ اب کی بار وہ پہلے کے مقابلہ میں زیادہ شان و شوکت سے جیتیں۔
بی جے پی کی مرکزی حکومت کے دو سال ہو چکے ہیں۔ اپنے دل کو خوش کرنے کے لئے جگہ جگہ جشن بھی منائے گئے۔ لیکن جشن وہ ہوتا ہے جسے عوام منائیں۔ اسے جشن نہیں کہاجاتا جسے حکومت منائے۔ جشن و ہ ہے جو بنگال میں منایا جا رہاہے۔ اور اس وقت تک منایاجاتا رہیگا جب تک دیدی بنگال کی زمین پر نہیں بنگالیوں کے دلوں پر حکومت کرتی رہیں گی۔
بی جے پی نے اس لیکشن میں جس میں اترپردیش نے اسے 73سیٹوں کا تحفہ دیا تھا۔ اترپردیش والوں سے وعدوں کی جھڑی لگا دی تھی۔ جس میں سب سے زیادہ زور اس پر دیا تھا کہ ہمارے آتے ہی مہنگائی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ اس لئے کہ ذخیرہ کرنے والے اپنے اپنے گودام کھول دیں گے۔ وہ 15-15 لاکھ والی بات بھی جیسے بہار والے نہیں بھولے تھے ایسے ہی اتر پردیش کے غریبوں کو بھی یاد ہے۔ لیکن ہر ریلی میں مودی صاحب نے اچھے دن آئیں گے خود بھی کہا اور لاکھوں کے مجمع سے بھی کہلایا۔ ہر نوجوان جس کی طرف مودی صاحب نے انگلی اٹھا کر کہا تھا کہ ملک تو تمہارا ہے۔ سب سے پہلے تمہیں روزگار دیا جائے گا وغیرہ وغیرہ یہ وہ وعدے نہیں تھے جن کے بارے میں امت شاہ یا نریندرمودی کو بتانا پڑتا۔ کیونکہ مشک تو خود بولتا ہے کہ میں مشک ہوں، جس مشک کو عطار بتائے کہ یہ مشک ہے ، وہ برادہ ہوتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ الہ آباد کی ورکنگ کمیٹی اور عمومی جلسوں میں وزیر اعظم اور پارٹی کے صدر نے عوام سے معافی مانگ کر یہ نہیں بتایا کہ آخر کہاں کیا کمی رہ گئی جو کالا دھن نہیں آسکا یا مہنگائی کم ہونے کے بجائے زیادہ ہو گئی یا جیسے پہلے بارہ لاکھ ، دس لاکھ اور آٹھ لاکھ نوجوانوں کو نوکری ملی تھی۔ اس سال یعنی مودی سرکار میں صرف ایک لاکھ پچھتر ہزار ہی نوکر رکھے گئے۔ ہو سکتا ہے کہ عذر معقول ہوتا تواتر پردیش کے عوام معاف کر دیتے اور اترپردیش میں حکومت بنوا دیتے، لیکن اس حالت میں صرف یہ کہنا کہ جیسی تبدیلی آسام میں ہوئی ہے ایسی ہی تبدیلی اترپردیش میں کرادی جائے کیا ان کے نزدیک کافی ہے۔؟ جب کہ 73سیٹیں لینے کے بعد اب دینے کی باری تھی۔
وزیر اعظم کو تجربہ ہو چکا ہے کہ امت شاہ الیکشن کو بناتے نہیں بگاڑتے ہیں۔ بہار کے الیکشن میں بھی انہوں نے ہی اشتہار میں گائے کا فوٹو چھپوایا تھا جسے الیکشن کمیشن نے خفا ہوکر نکلوایا تھا۔ انہوں نے ہی کہا تھا کہ اگر بی جے پی کو آپ نے ہرادیا تو گاؤں گاؤں اور گلی گلی گائے کے گوشت کی دکانیں کھلیں گی۔ اور پاکستان میں پٹاخے پھوٹیں گے۔ یہ سب انہوں نے کس بنیاد پر کہا تھا؟ جب کہ نتیش کمار برابر اعلان کر رہے تھے کہ ہماری حکومت آئے گی تو شراب پورے صوبے میں بند کرا دی جائے گی۔ اور اسب جانتے ہیں شراب اور کباب کا ساتھ ہوتا ہے اور کباب گوشت سے ہی بنتا ہے۔ امت شاہ نے ہی پندرہ پندرہ لاکھ والے وعدے کے بارے میں کہا تھا کہ یہ تو انتخابی جملہ تھا۔ اور اب انہوں نے کہہ دیا کہ اترپردیش میں کیرانہ ہندوؤں کے لئے کشمیر بن گیا ہے۔ کہاں ایک تحصیل اور کہا صوبہ؟
حیرت کی بات ہے کہ ان کی پارٹی کی ایک لیڈر سادھوی پراچی مسلم مکت بھارت بنانے کی بات کر رہی ہیں۔ اور پارٹی کے صدریو پی کے الیکشن کو ہندومکت کیرانہ کے نام پر لڑینگے۔ انہوں نے اپنے ایک ایم پی کے کہنے کے مطابق کہا کہ کیرانہ سے 346 کنبے ہندوؤں کے اپنے گھر بیچ کر یا ان میں تالے لگا کر چلے گئے۔ اور یہ مسلمانوں کی غنڈہ گردی کے ڈر کی وجہ سے ہوا ہے۔ نقل مکانی ، فرار یا ہجرت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جس دن یہ فیصلہ ہوگیا کہ ملک تقسیم ہوگا اور اسی ملک کو دو طرف سے کاٹ کر پاکستان بنایاجائیگا۔ اس دن سے ان مسلمانوں نے جو ہندوستان میں نہیں رہنا چاہتے تھے پاکستان کی طرف جا نا شروع کر دیا۔ اور لاکھوں گھر خالی ہو گئے جن پر بعد میں کسٹوڈین نے قبضہ کیا۔ اور ان کو دئے جو پاکستان سے اپنے مکان چھوڑ کر ہندوستان آرہے تھے۔ وہ ہندو جنہیں پاکستان میں نہیں رہنا تھا۔
اگر تازہ نقل مکانی دیکھنا ہو تو مراٹھواڑہ کے ضلع لاتور چلے جایئے جہاں سیکڑوں مکانوں میں تالے پڑے ہیں۔ وہاں کے رہنے والے پانی نہ ہونے کی وجہ سے جہاں پانی نظر آیا وہاں چلے گئے۔ امت شاہ اور نریندر مودی صاحب گجرات کے رہنے والے ہیں وہ وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ رہے ہیں اس لئے انہیں تعداد بھی معلوم ہوگی کہ اترپردیش بہار اور اڑیسہ کے کتنے آدمی وہاں کام کر رہے ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو مکان فروخت کر کے گئے ہیں اور وہ بھی ہیں جو واپس بھی آجائیں گے۔ اب یہ دونوں دہلی میں رہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ دہلی میں شاید چوتھائی آبادی بھی وہیں کی ہے ۔ باقی پورے ملک سے گئے ہوئے ہیں۔ خود ہمارا ایک بیٹا اور ایک بھتیجا اپنے بچوں کے ساتھ دہلی میں ہیں اور اپنے ذاتی مکان بھی بنالئے ہیں۔ خود ہم اپنے والد ماں اور بھائی کے ساتھ سنبھل سے لکھنؤ آئے ہیں۔ وہاں برسوں ہمارے مکان میں تالا پڑا رہا اور بعد میں اسے فروخت کر دیا ۔
برسوں پہلے ایک تایازاد ، ایک چچا زاد بھائی بھی سنبھل سے آئے اور یہیں بس گئے۔ اب اپنے مکان بنوا کراپنے بچوں پوتے پوتیوں اور نواسوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ دو بھانجے بھی آکراپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ انہوں نے ابھی سنبھل چھوڑا نہیں ہے۔ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سنبھل کے ہندوؤں کی غنڈہ گردی سے ہم سنبھل چھوڑ آئے۔ جب کہ وہاں کے ہندو ہمارے بہترین دوست ہیں۔ لکھنؤ میں جب ہم آئے تھے تو اس کی آبادی تین لاکھ تھی۔ اب وہ 33لاکھ ہے۔ وہ اس لئے نہیں ہے کہ ہر لکھنؤ والے کے پچاس پچاس بچے ہو گئے اور آبادی بڑھ گئی، بلکہ اس لئے ہے کہ اترپردیش کی حکومت لکھنؤ میں ہے۔ ہرطرف سے لوگ لکھنؤ آرہے ہیں۔اور اپنے گاؤں یا شہر چھوڑ کر آرہے ہیں۔ وہ نہ کسی کی غنڈہ گردی کی وجہ سے آئے ہیں اور نہ ہندوؤں نے مسلمانوں کو یا مسلمانوں نے ہندوؤں کو بھگایا ہے۔
کیرانہ بھی مظفر نگر کا ایک قصبہ ہے ایسے ہی جیسے تھانہ بھون یا کاندھلہ یا شاملی ہے۔ یہ شوشہ وہاں کے ممبر پارلیمنٹ نے چھوڑا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندو ایم پی، ہندو ایم ایل اے اور ہندو افسر اور پولیس اور مسلمانوں نے ایسی غنڈہ گردی کی کہ ساڑھے تین سو ہندو کنبے کیرانہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ سنا ہے کہ حکومت صحافیوں کو بھیج رہی ہے کہ وہ جا کر حقیقت معلوم کریں۔؟ ہمیں یہ عرض کرنا ہے کہ ان سے معلوم نہ کیا جائے جو کیرانہ میں ہیں بلکہ ان سے معلوم کیا جائے جو کیرانہ چھوڑ کر آگئے کہ آپ لوگ کیوں چلے آئے؟ کیرانہ کے قریبی علاقوں میں ہمارے رشتہ دار بھی ہیں اور دوست بھی ان سب سے معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ جس مظفر نگر میں ہندوؤں کے مارے ہوئے آج تک بے گھر بے در مسلمان پڑے ہیں، وہ مسلمان اگر اتنے ہی طاقتور ہوتے تو کیرانہ کے ہندوؤں کے بجائے ان سے حساب برابر کرتے جنہوں نے ان کی جان بھی لی اور گاؤں سے بھی نکال دیا۔
بات وہی ہے کہ دونوں کے دونوں ہاتھ خالی ہیں۔ اب ساری فکر یہ ہے کہ اترپردیش کی فضا کیسے خراب کی جائے؟ اور مسلمان ووٹوں کو کیسے ملائم سنگھ اور مایا وتی سے کاٹا جائے؟ وزیر اعظم ان دونوں کے بارے میں جیسے سخت الفاظ بول سکتے تھے وہ بول گئے۔ اب جو اب دینے کی ان کی باری ہے۔ رہی یہ بات کہ الیکشن میں کیا ہوگا؟ تو سب نے دیکھ لیا کہ ممتا دیدی نے کچھ کیا تو عوام نے ان کا اقتدار سود سمیت لوٹا دیا۔ اور کانگریس نے صرف بے وقوف بنایا تو آسام میں جہاں وہ 15سال سے حکومت کر رہی تھی وہاں اسے صرف 22سیٹیں دیدیں۔ یہی اترپردیش میں ہوگا کہ اگر الیکشن یادو نے وعدوں کے مطابق دیدیا تووہ بھی واپس ملے گا اور سود بھی اور مودی صاحب نے جو کہا تھا وہ کیا ہوگا تو ان کو مل جائیگا۔ نہیں تو عوام وہ فیصلہ کریں گے جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہماری رائے تو یہ ہے کہ جو کچھ ہو امن و امان کی فضا میں ہو جائے۔ جیسے اب الیکشن ہو رہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close