ہندوستان

کس میں ہمت ہے جو ذاتوں کی دوری کم کرسکے

حفیظ نعمانی

سیاست میں کچھ چیزیں فیشن بن گئی ہیں۔ انشن (بھوک ہڑتال) بھی ان میں سے ایک ہے۔ 02 اپریل کو دلت طبقوں کی طرف سے بھارت بند کرایا ثگیا اس سے پہلے دلتوں نے ہی ممبئی بند کراکے ثابت کیا تھا کہ اب وہ صرف دوسری ذاتوں کا جھنڈا نہیں لہرائیں گے ۔ مہاراشٹر بند نے بی جے پی اور کانگریس کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ کوئی ممتاز لیڈر سامنے نہیں تھا۔ اور یہی بھارت بند میں ہوا کہ بس ایک نعرہ تھا اور پورے ملک میں شور ہوگیا۔ بی جے پی کی ریاستوں میں نشانہ صوبائی حکومت تھی اسی وجہ سے وہاں زور زیادہ رہا۔ مدھیہ پردیش میں 6 دلت قتل کردیئے گئے۔ اور اب ہر بھگوا ریاست سے یہ شکایت آرہی ہے کہ بے گناہوں کو گھروں سے نکال نکال کر مارا جارہا ہے اور جیل بھیجا جارہا ہے۔

وزیراعظم نے 12 اپریل کے لئے اپنی پارٹی کے پارلیمنٹ ممبروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ انشن کریں اور دلتوں کے پاس جاکر انہیں بتائیں کہ ان کے لئے حکومت نے کیا کیا ہے اور کیا کرنے جارہی ہے۔ راہل گاندھی نے اچانک اعلان کردیا کہ 9 اپریل کو کانگریس کے ذمہ دار اور عہدیدار ہر صوبہ میں انشن کریں اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بگڑتے ہوئے ماحول کو راہ راست پر لائیں۔ دہلی میں مہاتما گاندھی کی سمادھی پر کانگریس کے لیڈر جمع ہوئے اور راہل گاندھی کے ساتھ انہوں نے بھی ایک روزہ بھوک ہڑتال کی۔ ایسے نازک موقع پر 1984 ء کے سکھ مخالف فساد کے ملزم جگدیش ٹائٹلر اور سجن کمار بھی باپو کی سمادھی پر کانگریسیوں کے درمیان بیٹھ گئے جس سے سنسنی پھیل گئی۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ کسی کے اشارہ پر وہاں سے چلے گئے۔

کل رات 8 بجے ایک مذاکرہ میں 2 دلت بھی شریک تھے سوال اور جواب کا دَور ایک گھنٹہ تک چلا بی جے پی کے ترجمان اور کانگریس کے ترجمان دلتوں کے ساتھ اپنی اپنی محبت کی جھوٹی کہانیاں سناتے رہے آخر میں دلت نمائندوں نے کہا کہ برائی کی جڑ ذات برادریاں ہیں اگر کچھ کرنا ہے تو تمام ذاتوں کو ختم کرکے دکھائیں جب تک ذات برادری رہے گی یہ دوری ختم نہیں ہوسکتی۔
ہمیں اس موقع پر یاد آیا کہ اٹل جی جب بولتے تھے تو اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم نے ہندو سماج کو بچا لیا۔ وہ کبھی ہندو دھرم کا نام نہیں لیتے تھے اور یہ سماج ہی ہے جس پر برادریوں کی حکومت ہے۔ اور یہ اس حکومت کا اثر ہے کہ ہاتھرس کے نظام پور گاؤں میں جو ایک شادی مسئلہ بنی ہوئی ہے کہ دلت دولھا گھوڑی پر چڑھ کر 800 میٹر کا فاصلہ طے کرے گا اور بارات گاؤں کے اندر سے جائے گی جس میں اعلیٰ ذات کے لوگوں کے گھر بھی ہیں۔ ان کی حمایت میں پولیس نے عدالت سے کہا ہے اور دلیل دی ہے کہ اس سلسلہ میں گاؤں کی روایت پر توجہ دی جانا چاہئے۔ ٹھاکر کمیونٹی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گاؤں میں بارات گھمانا روایت کی خلاف ورزی ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ بارات جس میں آتش بازی اور فلمی گانوں کی دُھن پر ناچتے ہوئے لڑکے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے چلے جائیں اس کے لئے تو ٹھاکر برادری کی بھی اجازت نہیں ہے اور پولیس بھی عدالت سے روایت کی بات کررہی ہے۔ اور اسی ملک میں رام لیلا کے جلوس جس میں تلواریں لہراتے ہوئے غنڈے دل آزار نعرے لگاتے ہوئے جارہے ہوں ان کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ مسلمانوں کے محلوں میں مسجد اور مدرسوں کو نشانہ بناتے ہوئے چلے جائیں اور نہ پولیس کو روایت یاد آئے نہ حکومت کو ضرورت۔ راستہ راستہ ہوتا ہے اگر وہاں سے سواری گذر سکتی ہے تو اسے بھی کوئی نہیں روک سکتااور جلوس گذر سکتا ہو تو اسے بھی کوئی نہیں روکتا۔ لکھنؤ میں ہم نے آج تک نہیں سنا کہ بارات کے لئے سڑک کی اجازت لی جاتی ہے سہالک کے زمانہ میں یہ بھی دیکھا ہے کہ آگے پیچھے دو تین باراتیں آرہی ہیں اور سامنے سے بھی کوئی بارات آرہی ہے ۔ یہ تو ممکن نہیں کہ ذات برادری ختم کی جائیں لیکن یہ ذمہ داری تو حکومت اور عدالت کی ہے کہ وہ ’’ہر شہری برابر ہے‘‘ کی دستوری یقین دہانی پر عمل کرائے۔

مسلمانوں میں ذات برادری نہیں تھی یہ ہندوستان میں رہنے کا ہی انعام ہے کہ مسلمان بھی برادریوں میں تقسیم ہوگئے اور اعلیٰ ذات کی بیماری چھوت چھات ان کو بھی لگ گئی۔ ہماری بیوی کی نانی زمیندار تھیں اور بیوہ تھیں خود ان کا بھی کوئی لڑکا نہیں تھا۔ ہم نے وہاں رہتے ہوئے محسوس کیا کہ مہترانی جب آتی ہے تو دروازہ کھلا ہونے کے باوجود وہ کنڈی بجاکر اونچی آواز سے کہتی ہے کہ بہو آرہی ہے۔ اور نانی فوراً کمرہ میں چلی جاتی ہیں اور دروازہ بندکرلیتی ہیں۔ مہترانی آکر سارے کام کرتی ہے اور کوڑا لے کر چلی جاتی ہے تب نانی اندر سے آکر سب سے پہلے ہینڈپمپ پر پیتل کی ٹنکی کو دھوتی ہیں اور اس کے بعد اس سے پانی نکال کر چبوتری دھوتی ہیں۔ ہم نے کریدا تو جواب ملا کہ وہ وہم کی مریض ہیں اور یہ بات سارا خاندان جانتا ہے۔ مقبرہ عالیہ گولہ گنج میں ایک دوست کو اپنے ایک معاملہ میں سفارش کرانا تھی انہوں نے کہا کہ میں صبح کو 9 بجے آجاؤں گا۔ ہم نے کہا کہ جہاں جان ہے وہاں کا راستہ آپ کی طرف سے ہی جاتا ہے میں دس بجے تک آکر آپ کو لے لوں گا۔ دس بجے ہم رکشہ پر ان کے گھر پہونچ گئے۔ وہ تیار تھے فائل لے کر ہمارے برابر بیٹھ گئے۔ ہم ابھی سڑک پر بھی نہیں آئے تھے کہ انہوں نے زور سے کہا کہ روکو روکو رکشہ واپس لے لو۔ ہم سمجھے کہ کوئی کاغذ رہ گیا۔ انہوں نے ہم کو بھی اتارا اور رکشہ والے کو دس کا نوٹ دے کر کہا کہ تم جاؤ اور ہمیں لے کر اپنے کمرہ میں آگئے۔ کہنے لگے کہ اب کل میں خود آؤں گا تب چلیں گے۔ ہم نے کہا کہ آخر ہوا کیا؟ کہنے لگے آپ نے نہیں دیکھا جیسے ہی رکشہ بڑھا سامنے سے ٹوکرا لئے ہوئے بھنگن گذر گئی۔ وہ جذبات میں سرخ ہوگئے اور ہم حیران کہ یا اللہ اتنی تعلیم کے بعد بھی یہ حال؟ بات صرف سماج کی ہے جس کی گرفت ہر چیز سے سخت ہے۔ دوسرے دن ہم نے معذرت کرلی کہ خدا ناخواستہ کام نہ ہوا تو کون جانے اس میں ہمارا کوئی قصور نکل آئے تو؟

بات یہ ہے کہ صرف لیڈر اپنی حکومت کیلئے دلتوں کی محبت دکھاتے ہیں ان کے دُکھ میں شرکت کیلئے انشن کرتے ہیں لیکن جسے قوم کہا جاتا ہے اس کا رویہ دلتوں کے ساتھ وہی ہے جو سماج نے بتایا ہے۔ یہ دلت یا مسلمان کبھی کانگریس کے ساتھ ہوجاتے ہیں کبھی اس کے مخالف اور حکومت بدل جاتی ہے لیکن سماج اپنی اسی رفتار سے بدل رہا ہے جس رفتار سے 70 برس میں بدلا ہے۔ یہ صرف تعلیم کا اثر ہے کہ ایک دلت کو ٹھاکروں کی آبادی کے بیچ سے بارات لے جانے اور خود گھوڑے پر بیٹھنے کی بات زبان سے نکالنے کی ہمت ہوئی ابھی 50 برس اور لگیں گے تب دلت کی بارات میں ٹھاکر لڑکے بھی بھانگڑا ڈانس کریں گے اور کھانا تب بھی نہیں کھائیں گے اس کے لئے 50 برس اور انتظار کرنا پڑے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close