ہندوستان

کس کس طرح ہمیں ڈراؤگے اور کیا کیا حربے آزماؤ گے؟

احساس نایاب

چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا

مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا

توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے

آساں نہیں مٹانا نام و نشان ہمارا

آزادی کے 72 سالوں میں ہمیشہ ہم مسلمانوں نے ہی اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیا ہے، دشمنان وطن و غدار وطن کی جانب سے چلا ہر وار اپنے سینے پہ سہا ہے، انگریزوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارنے والے مرد مجاہد ہم ہی تھے،انقلاب کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ہر دل میں انقلابی روح پھونکنے والے بھی ہم ہی تھے، ہمارے ہی بزرگ علماء و قائدین اور جانباز نوجوانوں نے مسکراتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، پیڑوں پہ پھانسی کے پھندوں میں لٹکی ہوئی وہ لاشیں بھی ہماری ہی تھیں،حب الوطنی کی خاطر اپنی آل و اولاد، مال و دولت، تخت و تاج اور اپنی جان کا نذرانہ دینے والے شیردل ٹیپوسلطان بھی ہمارے ہی تھے، لیکن افسوس ہماری ان تمام قربانیوں کے باوجود ملک کا سودا کرنے والے، انگریزوں کے دلال، غدار آر ایس ایس اور قاتل گوڈسے کی اولاد جس نے گاندھی جی کا قتل کیا،ایسے دہشت گرد آج ہم سے ہماری وفاؤں کا ثبوت مانگتے ہیں، ہماری حب الوطنی پہ سوالیہ نشان لگاکر ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ہم پہ طنز کے نشتر چلاتے ہوئے پاکستان بھیجنے کی گیڈر بھبھکیاں دی جاتی ہیں، جبکہ ماضی سے لیکر حال تک کے تمام اوراق پلٹ کر دیکھیں گے تو ہر صفحے پہ ہماری وفاؤں کی داستانیں قلم بند ہیں اور ہماری قربانیوں کو تاریخ خود چیخ چیخ کر بیان کرتی ہے کہ کس طرح کبھی کارگل تو کبھی ایل او سی کی سرحدوں پہ تعینات جانباز مسلم سپاہی آج بھی دشمنوں سے لڑتے ہوئے شہادت کو گلے لگارہے ہیں اور اُنکی مائیں ملک کی خاطر اپنے لخت جگر کو سفید کفن کے سہرے میں سجا دیکھ کر فخر سے آنسو بہارہی ہیں، دوسری طرف ڈاکٹر کفیل، ڈرائیور سلیم جیسے کئی عام مسلم نوجوانوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اپنے مستقبل کو داؤ پہ لگاکر بنا کسی تعصب، بھید بھاؤ کے کئی ہندوستانیوں کی جانیں بچائیں کئی گھروں کے بجھتے ہوئے چراغوں کو روشن کیا اور ہر ہندوستانی کو بھائی مان کر گلے سے لگایا، لیکن افسوس ان تمام بےلوث خدمات اور قربانیوں کا صلہ آج ہمارے ماتھے پہ دہشت گردی کا ٹھپہ لگاکر چکایا جارہا ہے، بےگناہ مسلم نوجوانوں پہ دہشتگردی کے الزامات لگاکر انکی زندگیاں زندانوں کے خوفناک اندھیروں میں ڈھکیلی جارہی ہیں اور ایک طویل عرصہ کالی کوٹھری میں اُن پہ ظلم ڈھائے جاتے ہیں، دردناک اذیتیں دی جاتی ہیں اور اُن کے اہل خانہ کو ذلیل و خوار کیا جاتا ہے،اُن کے لئے اپنے ہی ملک میں زمین تنگ کردی جاتی ہے، آخر اپنے ہی ملک میں اسطرح کی زیادتی، سوتیلا رویہ کب تک اور کیونکر برداشت کریں ہم ؟

کیا یہی دن دیکھنے کی خاطر ہمارے آباواجداد نے پاکستان کو ٹھکرایا تھا، کیا انہی دنوں کی خاطر ہمارے بزرگوں نے اپنا خون بہایا، تاج محل، لال قلعہ جیسے میراث کو ملک کے سر کا تاج بنایا؟

نہیں ہرگز نہیں !

ہمارے بزرگوں نے اتنی ساری قربانیاں ایسے دنوں کے لئے نہیں دی تھیں اور نہ ہی ہمیں انکے وارثوں کو کیڑے مکوڑوں جیسی بھیک میں ملی زندگی گوارہ ہے اسلئے آج ہم خاموش نہیں رہیں گے، اپنے حق کے لئے لڑتے رہینگے بھلے سر قلم ہوجائے، آخری سانس تک سچ کہینگے اور ڈنکے کی چوٹ پہ کہینگے، کیونکہ موجودہ حالات کے مدنظر دہشت کے سیاہ بادل ہمارے اردگرد منڈرا رہے ہیں،جو آنے والے بہت بڑے طوفان کی علامت ہے اور ہمارے چاروں طرف نفرت کی ایسی چنگاریاں سلگ چکی ہیں جو کبھی بھی شعلہ بن کر سارے ملک کو خاک بنا سکتی ہے، کیونکہ آج اس کی زد میں صرف ہم مسلمان، ہمارے مدارس، مساجد اور ہمارے گھر ہیں، کل کو یہی نفرت کی آگ دیگر اقلیتی مذاہب کو بھی اپنی چپیٹ میں لے لیگی اور جس طرح سے آئے دن ہماری مسجدوں میں گھس کر ہمارے اماموں کو شہید کیا جارہا ہے، مدارس کے آنگن میں کھیلنے والے ننھے پھولوں کو روندا جارہا ہے، ہمارے نوجوانوں کا قتل و عام کیا جارہا ہے، اسی طرح کل کو انکی گندی نظریں چرچ، گردوارہ جیسے دیگر مذہبی عبادت گاہوں پہ پڑے گی، سکھوں کی پگڑی، دلتوں کو خودداری اور عیسائیوں کی زندگی کو پیروں تلے روند کے رکھ دے گی، دراصل ان بھگوادھاریوں کا مقصد ہی یہی ہے کہ ہندوستان میں سکیولرزم کو ختم کر صرف اور صرف ہندوتوا کو قائم کرنا، جس کے لئے وہ سام، دام، ڈنڈ، بھید جیسے ہر طرح کے پینترے آزمائینگے، اور فی الحال جس طرح سے جابجا مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں وہ بھی بیشک سیاسی چالبازیاں ہیں جنہیں منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا جارہا ہے اور ان پانچ سالوں کے درمیان ملک میں جس قدر ظلم وستم، حق تلفی حد سے تجاوز کرچکی ہے اور کھلے عام دھمکیوں کے ساتھ انسانی لاشیں گراتے ہوئے ہمیں اس بات کا احساس دلانا چاہتے ہیں کہ وہ جب چاہیں کسی کے بھی ساتھ کچھ بھی کرسکتے ہیں اور ہمیں نقوی، رضوی جیسے منافقوں کی طرح دبا کر اپنا غلام بنا سکتے ہیں یا کبھی نہ جاگنے والی نیند سلاسکتے ہیں جس کے لئے مسلمانوں کے خلاف اسطرح کے بےبنیادی سازشیں رچی جارہی ہیں، ورنہ محض گھروں میں استعمال ہونے والے سامان اور دیوالی کے پٹاخوں کو دہشت گردی کا سامان کہہ کر نوجوانوں کو ہراست میں لینا یہ بات ہضم کرپانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے کیونکہ اے بی پی نیوز کے مطابق حال ہی میں جب اترپردیش کے امروہہ میں سادات تھانہ علاقہ کے سید پور ایما گاؤں کو صبح اچانک چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا اور وہاں پہ مقیم لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں قید کر حبیب کے گھر میں تلاشی مہم چلائی گئی جبکہ پہلے ہی حبیب کے دو بیٹوں رئیس اور سعید کو این آئی اے نے دہشتگردی کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا اور جب تلاشی کے لئے دوبارہ حبیب کے گھر پہنچی این آئی اے کی ٹیم نے وہاں پہ شک کے بنا پر برآمد شدہ سامان کو سیل کر اپنے ساتھ لے آئی جس کے بارے میں جان کرتصور میں این آئی اے کا کردار فلم انداز اپنا اپنا کےکرائم ماسٹر گوگو جیسا لگ رہا ہے جسکا تکیہ کلام کچھ یوں تھا “آیا ہوں تو کچھ تو لے کر جاؤنگا کرائم ماسٹر گوگو گوگا” بالکل اسی گوگو کی طرح ہندوستان کی سب سے ہائی پروفائل انٹیلیجنس کہلانے والی این آئی اے نے اُس گھر سے جو چیزیں ثبوت کے طور پہ جمع کی ہیں وہ سن کر کوئی بھی باشعور انسان این آئی اے کی قابلیت پہ سوال ضرور اٹھائیگا، کیونکہ تلاشی کے دوران پہلے تو سارا گھر کھنگال دیا گیا پھر جب کوئی پختہ ثبوت نہیں ملا تو گھر کی دیوار پہ 8 سالہ بچے نے اپنے نام کے شروعاتی دو حرف لکھے ہوئے تھے آئی ایس یعنی اسرار سدیقی، این آئی اے کی ٹیم نے اُس دیوار کی تصویر کھینچ لی اور اس آئی ایس کو آئی ایس آئی ایس داعش سے جوڑنے کی احمقانہ کوشش کررہے ہیں اور تو اور گھروں میں عموماً مصالحہ پیسنے والی سل، گوبر اٹھانے والے لوہے کے تسلے بھی اٹھاکر اپنے ساتھ لے گئے۔

کاش کوئی اسی تسلے سے انکے سروں میں بھرے گوبر کی بھی صفائی کردیتا جو گھریلو اشیاء کو دہشت گردی کا سامان کہہ رہے ہیں اور جہاں ایک طرف این آئی اے کہتی ہے کہ لڑکوں کے پاس جو ملا وہ اسلحہ بارود اور راکیٹ لانچر ہے لیکن وہیں دفع میں کھڑے وکیل اور گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ یہ محظ ٹریکٹر کا پاور روزر ہے جسے پلانٹ کرکے روکیٹ لانچر کا نام دیا جارہا ہے اور جسے اسلحہ بارود کہا جارہا ہے وہ دیوالی کے پٹاخے ہیں جس میں بم ستلی وغیرہ شامل ہیں اور جن دیسی تمنچوں و پستول کی بات کی جارہی ہے شاید وہ بھی بچوں کی چرکولی مارنے کی گن ہوگی اور اگر ان تمام چیزوں کا کسی گھر میں پایا جانا دہشت گرد ہونے کے لئے کافی ہے تو اس لحاظ سے ہندوستان کا ہر ہندو گھردہشت گردی کا اڈا اور ہر رمیش، سریش دہشت گرد کہلائیگا ویسے بھی آئے دن سوشیل میڈیا پہ یہ خبریں گشت کھارہی ہیں کہ کتنے آفیسر اور آرمی کے نوجوان چند پیسوں اور شراب و شباب کے چکر میں پڑ کر ملک کے غدار بن چکے ہیں مگر گوڈی میڈیا کو وہ خبریں نظر ہی نہیں آتی آئینگی بھی کیسے انہونے تو مودی کا چشمہ پہنا ہوا ہے۔

خیر ویسے بھی کشمیر سے کنیاکماری تک جتنے بھی مسلم نوجوان کو شک کی بنا پر دہشت گردی کا الزام لگا کر سزا سنائی جاتی ہے یا انکا جھوٹا انکاؤنٹر کیا جاتا ہے اکثر وہ نوجوان بےگناہ ثابت ہوتے ہیں سالوں کی قید گزارنے کے بعد وہ باعزت رہا ہوتے ہیں مگر افسوس انکی زندگی کا طویل عرصہ بےبنیادی شک کے چلتے تباہ و برباد ہوچکا ہوتا ہے اور یہ تباہی صرف اُس ایک نوجوان کے حصے میں نہیں بلکہ اُس کے پورے خاندان کے حصے میں آتی ہے اور اس الزام کی آگ میں ہنستے کھیلتے کئی خاندان تباہ ہوجاتے ہیں، جیسے نثار کا پورا خاندان برباد ہوگیا۔

انڈین ایکسپریس کے صحافی مزمل جلیل صاحب کی رپورٹ کے مطابق 20 سالہ نثار جو فارمیسی کا طالب علم تھا 15 جنوری 1994 کو حیدرآباد کی پولس نے کرناٹک پولس کو بنا اطلاع کئے کرناٹک سے نثار کو اٹھا لے گئ، پھر نثار کو اے پی ایکسپریس میں ہوئے بم دھماکے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ساتھ ہی نثار کے بعد اُنکے بھائی ظہیر جو کہ پیشے سے سویل انجنئیر تھے اور ممبئی میں کام کررہے تھے انہیں بھی پولس نے 5 ٹرینوں میں بم دھماکے کے الزام میں گرفتار کرلیا پھر کئی سالوں تک قانونی کاروائی چلی اور ایک لمبے عرصے کے بعد سپریم کورٹ میں تمام الزامات بےبنیاد ہونے کی وجہ سے خارج ہوگئے اور نثار 23 سالہ قید کے بعد بےگناہ ثابت ہوئے، مگر اس دوران نثار کی زندگی کے 23 سال قربان ہوچکے تھے، جیل کی چار دیواری میں نثار کی پوری زندگی برباد ہوچکی تھی، اُس کا وجود زندہ لاش بن چکا تھا اور اس دوران اپنے جوان بیٹے کے درد میں تڑپتے ہوئے انکے والد کا انتقال ہوگیا، پورا خاندان برباد ہوگیا، سماج میں ذلت و رسوائی نے انکا جینا حرام کردیا تھا بوڑھی ماں کی آنکھیں آنسو بہاکر سوکھ چکی تھیں مگر یہاں پہ سب سے غمگین کردینے والی سچائی تو یہ تھی کہ وہ نوجوان بےگناہ ہونے کے باوجود ناکردہ گناہوں کی اتنی طویل سزا کاٹ کے آج خود کو زندہ لاش تصور کررہا ہے اور آج اس کی آنکھوں میں کئی سوال ہیں جو بےحس سماج اور ظالم حکومت سے پوچھ رہے ہیں کہ کس گناہ کے لئے اُس کی زندگی برباد کی گئی آخر اُس کا گناہ کیا تھا ؟

اور آج دوبارہ جن 10 لڑکوں کو حرکت الحرب نامی من گھڑت کہانی سے جوڑا جارہا ہے اُس میں قابل احترام مسجد کے امام، انجینئرنگ کا اسٹوڈنٹ اور محض 16سال کا نابالغ لڑکا بھی شامل ہے جنکے حسن سلوک اور کردار کی گواہی خود علاقائی لوگ دے رہے ہیں ناجانے اب ان بےگناہ معصوم نوجوانوں کو اپنی زندگی کا کتنا عرصہ ان الزامات کی آگ اور سماج کی بےرخی, تیکھی نظروں میں جھلسانا پڑیگا۔

 یہاں پہ غورطلب بات یہ ہے کہ جس طرح نثار کو یوم جمہوریہ کے قریب قریب گرفتار کیا گیا تھا، آج پھر سے 26 جنوری کے قریب حرکت الحرب کی افواہ پھیلا کر ان 10 نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے تاکہ ملک میں دوبارہ سنسنی پھیلے اور این آئی اے کو اس من گھڑت کہانی پہ شاباشی ملے۔

بھلے اس کی قیمت کسی معصوم کی زندگیوں سے کیوں نہ چکانی پڑے، کاش جن ضمیر فروش آفیسر پولس کی وجہ سے ان بےگناہ معصوموں اور انکے خاندانوں کو اذئیت سے گزرنا پڑا، اُن تمام آفیسر کو اسکی دوگنی سزا سناکر قید کیا جاتا تاکہ انہیں دیکھ اوروں کو عبرت حاصل ہو اور بےگناہ نوجوانوں پہ الزام لگانے سے پہلے ہزار بار سوچیں ……. اور ہماری ہندوستان کی عوام سے مخلصانہ گزارش ہے کہ جب تک کسی کا گناہ پوری طرح سے ثابت نہیں ہوجاتا اُس وقت تک اُس کو گنہگار نہ سمجھیں، اگر کل کو وہ بےگناہ نکلا تو آپ ظالموں کی فہرست میں شمار ہوجائینگے اور اُس کی بربادی کے ذمہ دار کہلائینگے اور یاد رہے آج جو اُن کے ساتھ ہورہا ہے کل کو کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ جو لوگ دیوالی کے پٹاخوں کو اسلح بارود کہہ سکتے ہیں وہ گھر میں رکھے نمک اور سوڈے کو بھی نشے کا پاؤڈر کہہ کر ہمارے گھروں میں گھس سکتے ہیں اسلئے وقت رہتے متحد ہوجائیں ایک دوسرے کی طاقت بن کر اپنے آج اور کل کو مضبوط بنائیں کیونکہ اللہ جانیں آنے والے دنوں میں یہ رشوت خور دلال بھگوادھاریوں سے مل کر عوام کو کس کس طرح ستائینگے اور کیا کیا حربہ آزمائینگے۔

آخر میں اُن احمقوں کو یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ

سچائی چھُپ نہیں سکتی جھوٹے ثبوتوں سے

مسلماں مٹ نہیں سکتا دیوالی کے پٹاخوں سے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

متعلقہ

Back to top button
Close