صحافتہندوستان

کشمیری صحافیوں کو لال سنگھ کی دھمکی

لال سنگھ کی زہر افشانیاں صرف زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنی مسلم مخالف مہم کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ناپاک کوشش میں پورا زور لگا رہے ہیں۔

محمد شفیع میر

جموں  وکشمیر میں بی جے پی کے مسلم دشمن اشتعال انگیز بیانات آئے ورز کا رونا ہیں۔ان کے ذریعے مودی بھگت مسلمانوں کے خلاف زہر اُگل اُگل کر فسطائیوں اور بلوائیوں کو مسلمانوں کے خلاف پر تشدد اقدامات کی ترغیب دیتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور بی جے پی کے لاڈلے سابق وزریر لال سنگھ نے اپنی پریس کانفرنس میں کشمیری صحافیوں کو دھمکی دی کہ’’ اگر کشمیری صحافی نہیں سدھرے تو اُن کا حشر بھی شجاعت کے جیسا ہوگا‘‘۔

 لال سنگھ کی اس دھمکی میں نہ صرف مسلم دشمنی کی بو آتی ہے بلکہ تاثر یہ بنتا ہے جیسے شجاعت بخاری ہندتوا کے نشانے پر تھے۔ لال سنگھ کی زہر افشانیاں صرف زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنی مسلم مخالف مہم کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ناپاک کوشش میں پورا زور لگا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی مسلم بیزار پالیسیاں اور سازشیں ہر وقت ذلت آمیز شکستوں میں بدل جاتی رہی ہیں لیکن ان کے دل ودماغ میں بھرا زہر ختم نہیں ہو رہا جبھی تویہ بار بار مسلمانوں کے خلاف اناپ شناپ بکتے رہتے ہیں۔

کھٹوعہ عصمت دری و قتل معاملہ میں موصوف نے جس قدر طوفان ِ بدتمیزی کی مہم چلائی کیاوہ جموں و کشمیر میں ذات پات کی زنجیروں میں جکڑے مسلمانوں کو ایک جٹ کرانے کے لئے نا کافی تھی کہ انہیں شجاعت بخاری کانام لے کر کشمیری صحافیوں کو ڈرانادھمکانا پڑا؟ چونکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ آج کا مسلمان فرقوں، مسلکوں اور ذات برادریوں میں بٹ کر اپنی اصل پہچان مسخ کر چکا ہے اسی لئے لال سنگھ جیسے لوگ مسلمانوںکو کھلے عام دھمکا رہے ہیں۔

 اگر ہم اپنی اس عظیم پہچان کو مزید ختم کر نے کی بجائے ایک جٹ ہو جائیں توہم بلاشبہ ایسی فسطائی اور فسادی قوتوں کو سبق سکھاسکتے ہیں جو کھلے عام مسلمانوں کو جان سے مارنے کی گیدڑ بھبکیاں دیتے ہیں۔بحیثیت ایک ادنیٰ صحافی کے میں بی جے پی کے لاڈلے لال سنگھ سے کہہ دینا چاہوں گا کہ جموں و کشمیر میں لاکھوں مسلمان آباد ہیں اور اکثریت میں ہیں ۔

یہ ریاست کسی کے باپ کی جاگیر نہیں کہ کوئی مائی کالال کسی کومذہبی بنیادوں پر ڈرائے دھمکائے۔ جموں و کشمیرو طن کے تمام باشندوں کا گلدستہ ہے جو مذہب ، زبان، نسل، جغرافیہ اور دیگر تفرقات سے ماوراء ہوکر بھائی چارے کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ اتنا تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ وطن ِعزیز نے اپنی پاک دھرتی پر ایسے حیوانوں کو کبھی جنم ہی نہیںدیا جو ہندو مسلم بھائی چارے میں بھید بھاؤ اور نفرتوں کا زہر گھولنے کے مجرم ہوں۔

پوری دنیا جانتی ہے کہ آج مسلم صحافیوں کو فسطائی ذہن کے مالک جو فرقہ پرست ڈرانے دھمکانے کی ناپاک سازشیں کرتے ہیں یہ وشال دیش ایسے ہی صحافیوں کے ایثارو قربانی سے وجود میں ہے۔ یہ ملک شجاعت بخاری جیسے بہادر ، نڈر اور حقیقت پسند صحافیوں کی جنم بھومی ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ شجاعت جیسے سچے صحافیوں نے ہی اپنی جانیں نچھاور کر کے اس ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد دلائی جب کہ ہندوتو والے اس وقت  انگریزوں کے تلوے چاٹتے تھے۔صحافی وہ ہوتا ہے جو حق پر اپنی جان دیتا ہیں وہ صحافی ہر گز نہیں ہوتا جو سماج میں نفرتوں کو پروان چڑھائے۔ مقام شکر ہے کہ ریاست میں شجاعت جیسے صداقت شعار صحافی جوق درجوق موجود ہیں،اس لئے لال سنگھ کی دھمکیاں ان کو سچ بولنے سے روک سکتی ہیں نہ سچ لکھنے سے باز رکھ سکتی ہے۔ وہ ہرحال میں ریاستی مسلمانوں کا درد اُجاگر کر تے رہیں گے، ان کے حوصلے کبھی پست نہ ہوں گے چاہے فسطائی عناصر کتنا بھی بھونکیں۔

فسطائیوں کی لاکھ فتنہ پرورانہ کوششوں کے باجود ریاست کے حق گو صحافی حقائق کو سامنے لاتے رہیں گے بلکہ کڑوا سچ یہ ہے کہ صحافت کے میدان میں کام کرنا ان کی مادی ضرورت نہیں بلکہ مقصدزندگی بن چکا ہے۔ شجاعت کی موت نے نوجوان صحافیوں میں یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے کہ وہ تما م شر پسند اورسماج دشمن عناصر کو عوام کے سامنے ننگا کرنے کے لئے جان جھوکم میں ڈالیں گے اور حقائق کی جوت جگا کر ہی دم لیں گے۔ان کا یہ مردانہ کردار اور خلوص ضرور رنگ لائے گی اور صحافتی دنیا میں کشمیری صحافیوں کا نام  اس بابت سر فہر ست رقم ہوگا کہ ا نہوں نے جان کی پرواہ نہ کر تے ہوئے بھی سچائی کا دامن لمحہ بھر کے لئے بھی نہ چھوڑااورکشمیر کے درد وکرب کو اظہار کی زبان دی۔

 یہ بات غور طلب ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ شجاعت بخاری کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش کا شاخسانہ ہے لیکن اب قاتل کو ڈھونڈ نکالنے کی کیا گنجائش باقی رہتی ہے  جب لال سنگھ بغیر کسی ڈراور خوف کے کشمیری صحافیوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہے:’’ اگر اب بھی نہیں سدھرے تو آپ کا حشر بھی شجاعت جیسا ہوگا‘‘ ۔ یہ بیان اپنے اندر معانیوں کی وسیع کائنات رکھتا ہے مگر کیا پولیس کے لئے لال سنگھ کا یہ بیان کوئی معنی نہیں رکھتا ؟ کیا لال سنگھ کو ایسا بیانات دینے پر کوئی قدغن نہیں؟ کیا پولیس لال سنگھ سے خوف زدہ ہے؟؟ اگر ایسا ہے تو پھر شہیدشجاعت بخاری کے قتل کیس کی گتھی کو سلجھانے میں پولیس کس قدر کامیاب ہوسکتی ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close