ہندوستان

کشمیر۔ ۔ ۔  سراپاماتم !

کیا آگ بجھے گی نرمی سے یا گرمی سے

ابراہیم جمال بٹ

        8؍جولائی 2016ء سے تاحال وادیٔ کشمیر میں عوامی مزاحمت جاری ہے۔  اس دوران کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی ظاہر کر نے لئے بھارت کی کئی ریاستوں میں لوگوں کے جلسے جلوس نکلے۔  ان میں شرکاء نے انسانیت کے ناطے کشمیری مظلومین کے ساتھ ہمدردی اور دلی تعزیت کا اظہار کر نے کے ساتھ ساتھ بھارت کی مرکزی حکومت پر زورد یا کہ وہ کشمیر کے تنازعے کا حل مزید التواء میں نہ ڈالے کیوں کہ ایسا کر نے سے کشمیر میں اول امن وامان بحال ہو نا دیوانے کی بڑ ہے، دوم اس سے کشمیریوں کو مزید ہلاکتوں اور تباہیوں کے جاں گسل حالات سے گزرنا پڑے گا، سوم ہندوستان کی شبیہ ایک جمہوری ملک کے بجائے بہت ہی ظالم و غاصب اور انسانی حقو ق کے مخالف کے طور عالمی برادری میں اُبھر رہی ہے۔  عوام کی یہ سوچ پہلی بارمنظر عام پر آرہی ہے اور یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ البتہ حکومتی سطح پر ابھی تک کوئی تبدیلی ٔ ذہن کا کوئی تاثر نہیں مل رہاہے۔  حکومت ِ ہند کشمیری عوام میں آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف ناراضگی اور احساس ِ بے گانگی کا نیا لاوا پھوٹ پڑنے کے وجوہ سمجھنے اور اپنا موقف انہی بنیادوں پر ترتیب دینے کے برعکس نامساعد حالات کا ملبہ پاکستان کے سر ڈال کرشتر مرغ کی چال چل رہی ہے۔  اس طرزِ سیاست سے اصل مرض وہیں کا وہیں رہنا طے ہے۔  اصل مرض یہ ہے کہ کشمیر کے دردسر کا علاج ڈھونڈاجائے لیکن جب اس کے الٹ میں اس سر کو ہی سنگینیوں کے بل پر پھوڑا جائے، تو یہ گویا قتل عام کو سرکاری طور توثیق کے برابر ہے۔  ہم نے دیکھا کہ کشمیر جب بری طرح اُبل پڑا توکئی دن تک حکومتِ ہند کی بے فکری کا عالم یہ رہا کہ ا س نے وادی کی آتشیں صورت حال کا کوئی نوٹس تک نہ لیا، پھر جب گڑبڑی والے حالات کا پانی سر سے اوپر گیا۔  لوگوں کی ہلاکتیں بڑھتی گئیں اور پوری دنیا میں کشمیر میں حالات کی ا بتری پر غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تو مودی حکومت کو یاد آیا کہ کشمیر کے حالات کا جائزہ لیا جائے اور وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ سرینگر پدھارے۔  انہوں نے دودن کا دورہ مکمل کیا تو دورے کے اختتام پرمبصرین یہ محسوس کر کے دم بخود رہے کہ وادی میں اتنی ساری ماردھاڑ اور اتنی بڑی عوامی ا یجی ٹیشن کے باوجود بھارت کے وزیر داخلہ نے کشمیر کے موضوع پر کسی روایتی نرم روی، مکالمہ آرائی یا رسمی سیاسی اقدامات کا کوئی اشارہ بھی نہ دیا بلکہ لوگوں سے یہ مذاق کیا کہ پیلٹ گن کے استعمال پر تکنیکی آراء دوماہ کے ا ندر متعلقین سے طلب کی جائیں گی، اور رپورٹ آنے کے بعد اس بارے میں سرکار کا عندیہ سامنے آنے کی توقع ہے۔  چنانچہ ابھی ر اجناتھ سنگھ دلی لوٹے بھی نہ تھے کہ مزید کشمیری پیلٹ گن کے شکارہوئے اور حالات کے متاثرین کی تعداد تاحال مسلسل بڑھ رہی ہے۔  دریں اثناء عالمی برادری کی کشمیر یوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کے علاوہ یواین سیکر ٹری جنرل بانکی مون، چین، جاپان ا ورا مر یکہ کشمیر میں ہورہے ظلم وتشدد پر سرکاری طور فکر وتشویش سامنے آیا مگر اس کے باوصف کشمیری مظاہرین کے خلاف متواتر سی آرپی ایف، فوج اور پولیس آتش بداماں ہیں، گولیوں، پیلٹ گنوں، لاٹھیوں کا آزادانہ ا ستعمال اور تو ڑپھوڑ کی کارروائیاں اور گرفتاریاں بدستور اپنی جوبن پر ہیں۔  اس بیچ بھارت کے وزیرمملکت برائے خارجہ امور جنرل وی کے سنگھ نے پونا میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران اہل کشمیر کے ساتھ مذاکرات کا مشورہ دیا لیکن وزیردفاع منوہر پاریکر نے بر ملا کہا کہ’’ آرمی کو لاٹھی نہیں بلکہ گولی چلانی ہوتی ہے۔ ‘‘ ان متضاد بیانات سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ مرکز اپنی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کی روا دار نہیں۔

         آگ بھڑک رہی ہو تو اس کے شعلوں پر پانی ڈالنے کا مطلب آگ کو قابوکرنے کی کوشش ہوتاہے، لیکن اگر اسی آگ پر پانی ڈالنے کے بجائے پیٹرول کا چھڑکا ئو کیا جائے تو یہی آگ بے قابو ہو کر پورے علاقے کو خاکستر میں تبدیل کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔  آج برابر یہی صورت حال جموں کشمیر کی ہے۔  بے لگام فورسز اور پولیس کے ہاتھوں پے در پے نوجوان نسل کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کر کے، ان کے ساتھ بے دردی سے پیش آکر، ان پر اندھا دھند گولیاں برسا کر، انہیں موت کی آغوش میں پہنچاکر، انہیں نابینا ئیاں دے کر وردی پوش اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں یا آگ بھڑکارہے ہیں ؟ان کے ہاتھوں یہ سب کچھ وادی میں آئے روز کا کھیل اور معمول بن چکا ہے۔  بجائے اس کے کہ اس پر قابو پانے کے لیے فورسز اور پولیس کو خصوصی اختیارات چھین کر انہیں لگام دی جائے، اس کے برعکس کرسی والے انہیں مزید بے لگام چھوڑ رہے ہیں۔ اس وجہ سے ہی موجودہ ناگفتہ بہ صورت حا ل نے جنم لیا ہے۔ پوری وادیٔ کشمیر میں آج آگ اور خون کی ہو لی کھیلی جا رہی ہے، اور اس آگ اور خون کی ہولی کو لگام دینے کے لیے پوری وادی کو مسلسل کرفیو اور ہڑتال کی نذرکر دیا گیا ہے۔  پوری ریاست محصور ہو کر رہ گئی ہے جس کے باعث یہاں کا پورا نظام درہم برہم ہو کے رہ گیا ہے۔  تجارت سے لے کر مزدوری تک، سرکاری وغیر سرکاری ملازمین سے لے کر تعلیمی نظام تک، سب کچھ درہم برہم اور الٹ پلٹ ہو چکا ہے۔  اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو کر عوام کو مشکلات سے دوچار کر دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یہاں کی نوجوان نسل کے ساتھ ناانصافیاں کر کے ان کے جذبۂ حریت کو گویا تقویت دی جارہی ہے۔  وہ اب کھل کرمزاحمت کاری پر اُتر آئے ہیں، جب کہ ان کی پرامن مزاحمت کے جواب میں وادی میں تعینات فورسز اور پولیس ان پر اس طرح ٹوٹ پڑتی ہے  گویا وہ انسان نہیں جانور ہوں۔ جس سے انہیں مشتعل کر کے حالات مزید خراب ہونے کا سلسلہ بڑ ھ رہاہے۔  بلا شبہ فورسز اہلکار بندوقوں سے پُرامن مظاہروں پر گولیاں برسا کر آگ کو پانی کے بجائے پیٹرول چھڑکنے کا کام کر رہے ہیں۔  8جولائی سے لے کر آج تک پرامن مظاہروں پر بے جا طاقت کا استعمال کر کے ساٹھ کے قریب نوجوانوں کو موت کی آغوش میں پہنچا دیا گیا۔  ہزاروں نوجوانوں کو چھاپوں کے دوران گرفتار کر کے پولیس تھانوں اور مختلف جیلوں کی نذرکر دیا گیا، جن میں طالب علموں کے ساتھ ساتھ کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔  حریت لیڈران کی ایک بڑی تعداد کو حراست میں لیا گیا جن میں بزرگ رہنما حریت (گ) کے چیرمین سید علی گیلانی، حریت (ع) کے چیرمین میر واعظ عمر فاروق، لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک، تحریک حریت کے جنرل سیکرٹری محمد اشرف صحرائی، فریڈم پارٹی کے چیرمین شبیر احمد شاہ کے علاوہ نعیم خان، ایاز اکبر، وغیرہ قابل ذکر ہیں، جنہیں پولیس تھانوں میں یا تو نظر بند کر کے رکھا گیا ہے یااپنے ہی گھروں میں انہیں محصور کر کے رکھ دیا گیا ہے۔  سیکورٹی کی آڑ میں پری پیڈ موبائل سروس پر اب بھی پابندی عائد ہے۔  ابتدائً کئی روز تک پرنٹ میڈیا کو بھی اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی سے دور رکھا گیااور اخبار ات شائع نہ ہو سکے۔  اس جنگی صورت حال سے پوری ریاست میں جیسے آگ لگ چکی ہے، ہر طرف احتجاج ہی ا حتجاج نظر آرہا ہے۔  سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کی طرف سے مشترکہ دئے گئے احتجاجی پروگرام پر پوری قوم یک زبان ہو کر عمل پیرا ہے، مگر کہیں کہیں پروگرام سے ہٹ کر بھی لوگ اپنے غم وغصہ کر نے سے نہیں چوکتے۔

        یہ سب کچھ نتیجہ ہے مرکزی سرکار کے ساتھ ساتھ یہاں کی نالائق اور ناہل مخلوط ریاستی سرکار کی ہٹ دھرمی اور غلط پالیسیوں کا۔  ان لوگوں نے وادی کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں فوج کو تعینات کر کے عملاً اسے فوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ فی الوقت پوری وادی پر افسپا(AFSPA) نام کا راج تاج ہے جس کی وجہ سے انسانی حقو ق کی پامالیوں کی آگ دن بدن مزید پھیلتی جا رہی ہے۔  اگر یہی جنگی صورت حال قائم رہی تو کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کب کیا ہو۔  فی الحال یہ محسوس ہورہا ہے کہ حکومت ہند حقیقت سے آنکھیں موندھ کر ہلچل اا ور بے چینی کا سیاسی انداز میں تدارک کر نے میں کوئی عملی اقدامات اٹھانے کی حامی نہیں بھررہی ہے بلکہ وہ آگ کو مزید بھڑکانے ااورپھیلانے کی کاوشوں میں مست ہوتی جا رہی ہے۔  نتیجہ یہ کہ فورسز اور پولیس کارروائیوں سے ہر روز کوئی نہ کوئی ایسا دلدوزواقعہ رونما ہو رہا ہے کہ نوجوانوں کے جذبات از سر نوبھڑک اٹھتے ہیں۔  علاج ڈھونڈنے کے بجائے زخموں پر مرہم پٹی کے نام پر نمک پاشی کی جارہی ہو تو یہی ہوگا۔  اس وجہ سے عوام کے درد وکرب میں اضافہ ہو تا جارہا ہے، اور بدلے میں حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔  مسلسل کرفیو لگانا اس مسئلے کا حل اور علاج نہیں بلکہ اس کا علاج ریاست کی متنازعہ حیثیت تسلیم کر کے متعلقین سے اس پر معنی خیز بات چیت کرنے میں مضمر ہے۔  اس کا علاج جموں وکشمیر کے ذی حس اور باشعور آزادی پسند لوگوں اور حریت لیڈروں کی گرفتاریوں، پاکستان کے ساتھ تو تو میں میں کر نے میں بھی نہیں بلکہ اسلام آباد کے ساتھ نتیجہ خیزمذاکرات کرنے میں ہے۔  یہاں کی نوجوان نسل کو گولیوں سے چھلنی کرنا اس مسئلے کا حل نہیں، اس کا حل تو نوجوانوں کے بلند حوصلوں کا فہم پیدا کر کے ان کے حقیقی جذبات سمجھ کر اصل مسئلہ حل کرنے میں ہے۔  کشمیری قوم کی دیر ینہ خواہش کو سمجھ کر جب تک انہیں حق خودا رادیت نہ دیا جائے گا تب تک جموں کشمیر کے حالات سدھر نہیں سکتے۔  آگ کو قابو میں کرنے کے لیے پانی کا استعمال کرنا ہو گا، نہ کہ تیل اور پیٹرول کا۔  پانی سے زندگی ملتی ہے اور پیٹرول سے آگ، اور آگ پر جتنا تیل اور پیٹرول چھڑکا جائے، اتنا ہی معاملہ بے قابوہو جاتا ہے۔

        مرکزی حکومت کی لیڈرشپ کو جاننا چاہیے کہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی سے آگ بڑھنے کا خطرہ ہی نہیں بلکہ اس کے پھیلنے کا بھی اندیشہ ہے۔  اگر بھاجپا حکومت برابر اپنی رعونت وسخت گیریت پر قائم رہی تومعاملہ بگڑ جائے گا۔  اسے اپنی کشمیر نیتی ہی نہیں بلکہ اپنا ’’مائند سیٹ‘‘ بد لنا ہوگا۔ اسے چاہیے کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بن جائے مگر یہ مختلف بہانوں سے فرقہ پرستی کی آگ کو ہوا دینے میں لگی ہے۔  بہر صورت جموں وکشمیر کے موجودہ ابترحالات نے ایک بار پھر بھارت واسیوں خاص کر وہاں کے ذی حس و باشعور لوگوں کو پیغام دیا کہ کشمیر نہ بھارت کا ہے اور نہ ہوگا۔  اس لئے اس کاحل بھارت کے استحکام کے ساتھ جموں وکشمیر کا امن وآشتی  کے لئے لازم وملزوم ہے، ا س لئے بھارت خود اپنے قومی مفاد میں مسئلہ کشمیر کا حل جلد از جلد نکالنے کی کوشش کرے۔  عقل مند وہ نہیں جو عقل سے صرف اپنے لیے ہی فائدے ڈھونڈے بلکہ اصل عاقل تو وہ کہلاتا ہے جو دوسروں کی کامیابی میں اپنا رول ادا کرے، نہ کہ وہ جونری جذباتیت سے کام لے کرہی اپنی بربادی کا سامان کر بیٹھے۔ بھارتی حکومت کو اگر قوم وملک کی بھلائی کی فکر نہیں تو وہاں کے ذی حس و باشعور لوگوں کو سامنے آکر اس دیرینہ مسئلے کے تئیں آگے آنا چاہیے، کیوں کہ وقت پر اگر عقل سلیم سے کام لیا جائے تو کیا کچھ نہیں ہوسکتا۔  دانائی اسے کہتے ہیں کہ وقت پر بھڑکتی آگ کو کنٹرول کیا جائے تاکہ آگ کے شعلے پوری عمارت کو ہی بھسم نہ کرڈالے کہ ’’معاملہ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘ والا ہوجائے۔  کشمیر کی آگ بجھانے کے لئے اولین قدم یہ ہے کہ جموں وکشمیر سے افسپا ہٹایا جائے، یہاں آٹھ لاکھ سے زائد فوج کو بیرکوں میں واپس بھرا جائے اور پولیس کو نہ صرف لگام دی جائے بلکہ انہیں قانون کی خوراکیں پلائی جائیں۔  اس کے ساتھ ہی آزادی پسند قیادت کے علاوہ پاکستان کے ساتھ اس کے پائیدار حل کے لیے بات کی جائے۔  حقیقت بہرحال حقیقت ہے کہ ا ب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دلی بدلنے کو تیار ہے۔  اس کے لئے ایک طرف ملک کی خوش حالی اورترقی ہے اور دوسری طرف کشمیر کی صورت میں آگ اور خون کی برساتیں ہیں جو اس کے مالی وسائل کو اڑا کر ملک کو غریبی، ناخواندگی، بیماری اور پسماندگی کی طرف لے جاتی ہے۔ اب یہ اس کاکام ہے کہ اسے دو میں سے کون سا راستہ پسند ہے۔  ہماری دانست میں کشمیر کے پُرامن ا ور منصفانہ حل میں اس کی بہتری اور ترقی مضمر ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close