ہندوستان

کشمیر : آگ و لہو کے 34؍ دن 

افتخاررحمانی 

پورا ملک اس وقت جہاں گائے کے الطاف، عنایات، نوازش، شاخسانہ، ستم رانی اور ظلم کیشیوں میں پس رہا ہے تو وہیں کشمیر اور کشمیری عوام "مستعد فوجیوں ” کے نشانہ پر ہیں، پیلٹ گن کے دہانے دفعتاً کھول دیئے جاتے ہیں اور آن واحد میں سیکڑوں افراد شکار ہوکر مرغ بسمل و گریہ کی طرح تڑپ اٹھتے ہیں، ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کی تمیز کئے بغیر ہندوستانی فوج "دھرم یدھ ” میں مصروف ہے۔ کل گذشتہ فیس بک پر کسی متشدد بھگوا کا کمنٹ نظروں سے گذرا جو "آج تک نیوز ” کے کشمیر کے متعلق ایک پوسٹ پر کیا تھا، کمنٹ میں لکھا تھا "لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں بھاگتے جب تک انہیں پورے طور سے مٹا نہیں دیا جاتا یہ آتنک واد (دہشت گرد) یونہی آرمی پر پتھراؤ کریں گے ” سوشل میڈیا یوں تو آزادی اظہار کے لئے ہی تھا؛ لیکن اب بے دریغ طوطاچشمی، کور فہمی اور منافرت کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے قول کے حرف حرف سے انتہا پسندی، فکری پستی، عناد اور جہالت کا برملا اظہار ہو رہا ہے۔ جب جبر اور ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو ایک نہتا فلسطینی اسرائیلی ٹینک کے سامنے کھڑا ہوکر پتھر لئے ڈٹ جاتا ہے اس کی دلآوری اور بے جگری اور اعتماد دیدنی ہے کہ اگر ٹینک کے دہانے کھول دیئے گئے تو مزاحم کی بوٹی بھی نہ ملے؛ لیکن پھر بھی کھڑا ہے اور ظالم و غاصب کو للکار رہا ہے۔ ٹھیک اسی طرح کشمیری عوام بھی ہیں جو ایٹمی طاقتور فوج کے سامنے نہتا کھڑے ہیں اور صدیوں سے ہو رہے ظلم و بربریت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال للکار رہے ہیں ؛ کیوں کہ ان  کے پاس کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے مگر پانے کیلئے زندگی ہے اور اس زندگی کے تمام تر کی تعیشات ہیں۔

برہان وانی (برداللہ مضجعہ)  جسے بغاوت اور ہتھیار اٹھانے پر ہندوستانی دوہری پالیسی اور آرمی کی مبینہ عادات نے مجبور کیا ہے، نے انکاؤنٹر میں جاں بحق ہوتے ہوئے جو پیغام اس بدنصیب غم آشام قوم کو دیا تھا درحقیقت وہ پیغام ہر ایک قوم و ملک کے بقا اور عروج کا پنہاں راز ہے؛ کیوں کہ جب  تک ظلم کو ظلم نہ کہا جائے اس وقت بزدلی اور کوتاہ ہمتی مسلسل تازیانہ بنی رہتی ہے۔ برہان وانی کے جنازہ پر جو ہجوم اور بھیڑ اکٹھی ہوئی انتظامیہ اور سیاسی جبر کو اس سے بھی کچھ سیکھ لینا چاہیے کہ کرفیو اور بندش کی پرواہ کئے بغیر عوام اس طرح  جنازہ میں شریک ہو رہے ہیں جیسے ان کا کوئی محبوب لیڈر ان سے ہمیشہ کیلئے جدا ہوگیا ہو، وادی میں اس سے قبل بھی جنازوں میں شرکت دیکھی گئی ہے؛ البتہ اتنی بڑی تعداد میں شرکت کرنے والے عنقا ہی رہے ہیں !  آخر عوام نے اتنی بڑی تعداد میں شرکت کیوں کی؟  ظاہر ہے اس کا جواب خود انتظامیہ کے پاس نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو اخفائے حال کی ناکام کوشش کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ مرکزی قیادت خود کشمیری مراعات کی بدترین مخالف ہے؛ کیوں کہ گوالکر اور دوسرے یرقانی آقاؤں کے ایماء و ارشادات پر عمل آوری لازم ہے۔ بناء بریں آج کشمیر اور وادی میں کرفیو، مزاحمت اور احتجاج کے اس آگ و خون کے کھیل کو ایک ماہ کا عرصہ ہوگیا اور تادم تحریر جاری ہے، عوام اپنا لہو نذر کر رہے ہیں تو انتظامیہ بھی اپنی بھوک مٹا رہی ہے۔ داستانیں اس خوں فشار سانحہ کی ایسی ہیں کہ اگر لکھا جائے تو ادب کے گریہ و ماتم کے ایک اور باب کا مزید اضافہ ہوگا؛ لیکن قوم وملت کیلئے یہ وقت ماتم و گریہ کا نہیں ہے؛ بلکہ سرفروشیوں اور کامجوئیوں کی تکمیل کا ہے اور یہی اس قوم کی سرفرازی بھی ہے۔

 گذشتہ تحریر "کشمیر: حرف حرف لہو لہو ” میں راقم نے جو کچھ بھی لکھا اور جن نکات پر گفتگو کی یقیناً اس کی صدائے باز گشت ظلم اور بربریت کیلئے مانع نہیں ہوسکتی؛ لیکن ان ہزاروں اور لاکھوں شہداء کیلئے خراج عقیدت ہوسکتی ہے جنھوں نے کشمیر میں امن و آشتی کی بحالی اور قیام انصاف کی جدوجہد کے مختلف مواقع پر اپنی قربانیاں نذر کی ہیں۔ ہندوستانی انتظامیہ اور بالخصوص مرکزی قیادت بشمول آرمی ان کو دہشت گرد قرار دیتی ہے، تاہم جو افراد آرمی کے تشدد محض کی وجہ سے جنت سدھار گئے اور جنھیں جرم بیداد کی پاداش میں ابد تک کیلئے پابند سلاسل کردیا گیا ہے انھیں ہندوستانی انتظامیہ کن لفظوں اور کس منھ سے دہشت گرد کہتی ہے، خفت و ندامت کی بات ہے۔

 کرفیو، بھوک، زخم اور آہ و فغاں کے تیس دن ہوگئے، پارلیامنٹ میں اس مسئلہ پر آواز بھی اٹھائی گئی ممبران نے اس پر توجہ بھی دی؛ لیکن وہ آواز "اہرمن کی آنت ” میں ہی الجھ کر رہ گئی۔ راج ناتھ وزیر داخلہ ہوا کرتے ہیں اور مودی ملک کے وزیر اعظم، راج ناتھ سنگھ یوں فرماتے ہیں "امن قائم ہو تو مذاکرات کیلئے تیار ہیں ” کبھی یوں سخن سرا ہوتے ہیں ” پیلٹ گن کا استعمال نہ کیا جائے ” لیکن راج ناتھ ذہول میں مبتلا ہوگئے کہ ان کے منع و نہی کے باوجود  بھی ان کے "ویر” معصوموں کو تشدد اور اپنی مشق ستم ایجاد کیلئے موزوں ترین خیال کرتے ہیں، آرمی کا فعل اور عوامی مزاحمت نمایاں فرق واضح کرتی ہے کہ کون کس پر سبقت حاصل کر رہا ہے اس کے اشارے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور پھر جس امن کے قیام کی بحالی کی بات کی گئی ہے اس کیلئے کوششوں کی کمیت و کیفیت کیا ہے، سوالیہ نشان بھی ہے۔ عوامی مزاحمت میں جو شدت ہے 56 سے زائد شہادتیں ہزاروں زخمیوں کی تڑپ اور لاکھوں اشکباری نیز سیاسی جبر و دہشت اسے متزلزل نہیں کرسکی ہے، قوم نے اسی کو مسئلہ کا حل سمجھ رکھا ہے خدا رحمت کند بر حال آں۔

کشمیر مستقل ایک ماہ سے جلتا، سلگتا، تڑپتا اور فنا کے گھاٹ اترتا رہا، مودی نے اس مسئلہ پر خاص گفتگو نہیں کی؛ کیوں کہ چانکیہ کی برہمنی روح حلول کرگئی تھی جس نے "چانکیہ نیتی”  میں صاف کہا ہے کہ” داس (مرید) کیلئے لازم ہے کہ وہ گرو (مرشد) کی بات پر عمل کرے؛ کیوں کہ گرو برہما ہے ” مودی اس وقت ناگپور کی اجازت کے منتظر تھے اور اجازت بھی ملی تو ایسی جو ان کے طبقاتی تعصب کو یکلخت فاش کردیتی ہے ؛ لیکن جب احمدآباد میں گئو رکھشکوں نے دلت پر حملہ کیا تو پتھر میں بھی جونک لگ گئے اور بیقراری دل و سوزش جگر اتنی بڑھی کہ مواخات بھی قائم کرکے دم لی، صورتحال عجیب کشاکش کی ہے کہ کشمیر میں ایک ماہ سے کرفیو ہے 56 سے زائد جاں بحق ہوئے، ہزاروں زخمی ہیں، پیلٹ گن کی تباہ کاری نے ہزاروں کی بینائی  چھین لی مودی خاموش رہے، دادری میں اخلاق کو شہید کردیا گیا، لوہردگا میں دو جوانوں کو پھانسی پر چڑھایا گیا، راجستھان میں مسلم تاجروں کیساتھ انسانیت سوز سلوک کیا گیا اور مدھیہ پردیش میں بھی دو مسلم خاتون کو بیف کے شبہ میں بری طرح  زدوکوب کیا مگر  "مون برت ” رکھے رہے۔ اب جب کہ دلت پر گائے کی کرامت کا ظہور ہوا مودی بلبلا اٹھے اور جو کچھ بھی کہا وہ بیان از خود موجب ننگ و عار ہے۔ اب سوال یہ کہ جب ملک میں مسلمانوں پر ظلم اور زیادتی کرکے ان کے حامی بشکل گئو رکھشک انتہا پسندی اور دہشت گردی پھیلا کر قانون و انتظام اپنے ہاتھ لے رہے تھے تو اس وقت مودی جی کی برہمنی روح کیوں خفتہ تھی؟ کشمیر چکی کے دونوں پاٹ میں پس رہا ہے تو وزیراعظم کہاں ہیں ؟  کیا زی نیوز کے ذریعہ کشمیر میں کرفیو، پیلٹ گن کے استعمال اور تشدد کی خبریں موصول نہیں ہورہی تھیں ؟ وزیراعظم کی کرسی پر براجمان شخص کی ایسی تساہلی نااہلیت کی بین دلیل ہے، مطمح نظر منصفانہ اور عادلانہ ہونا چاہیے! اور اب  تباہ کاریاں بڑھ چکی ہیں ؛ بلکہ عروج کو پہنچ گئیں تو کہتے ہیں "جن ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہونا چاہیے ان ہاتھوں میں پتھر اچھے نہیں لگتے ” درست کہا؛ لیکن جہاں جنت کے لوازمات ہونے چاہیے وہاں روزافزوں فوجیوں کی بڑھتی تعداد، پیلٹ گن، خون، آگ اچھے نہیں لگتے۔ وزیر اعظم جی سوچیں لیپ ٹاپ کی جگہ پتھر ان ہاتھوں میں کیوں آئے؟ کیوں آپ کی انتظامیہ نے انہیں مجبور کیا کہ وہ پتھر اٹھائیں۔

رابعہ بصریہ سے کسی نے عبادت کے بارے پوچھا کہنے لگیں ” جب تک اپنے گرم گرم لہو سے وضو نہ کر لیا جائے تب تک نماز عشق کی تکمیل نہیں ہوتی‘‘کشمیری عوام ایک ماہ سے اپنے گرم گرم لہو سے نماز عشق کیلئے وضو کر رہے ہیں، جوان بچوں کو کندھا دے رہے ہیں۔ یقیناً امامت و اقامت کے بھی خوش گوار نتائج منتج ہوں گے! اے ارض کشمیر…گل لالہ و نسیمِ صبح کی زمیں …اٹھتے طوفاں میں لہو کی سرخیاں …خون، فغاں، درد، کرب اور چبھن…تھمیں گے یہ، کتنی لاشوں کے بعد… جو خون گرے ہیں تیرے دامن پر…ہاں اس…”خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد "۔

(مضمون نگار بصیرت میڈیاگروپ کے سب ایڈیٹر ہیں )

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close