ہندوستان

کشمیر : اچھل رہا ہے زمانے میں نامِ آزادی

ڈاکٹر سلیم خان

اس سال جب سارا ملک یوم آزادی منائے گا وادی ٔکشمیر کے لوگ آزادی کے چہلم کا اہتمام کررہے ہوں گے۔ اگر کشمیر کا کرفیو جاری رہا تو تقریباً چالیس دن ہوچکے ہوں گے۔ سابق وزیراعلیٰ مفتی  محمد سعید کے جنازے میں  سرکاردربار کے باوجود  نہایت قلیل تعداد میں عوام کی شرکت  نے ظاہر کردیا تھا کہ کشمیری  عوام پی ڈی پی کے بی جے پی سے ہاتھ ملا لینے کو اپنی پیٹھ میں چھرا گھونپ دینے  کے مترادف سمجھتے ہیں۔ پی ڈی پی کو چاہئے تھا کہ اس  ایک اشارے کو تازیانۂ عبرت سمجھتی اور بی جے پی سے دامن جھٹک کر کسی اور کے ساتھ حکومت بناتی یا انتخاب کروادیتی لیکن محبوبہ مفتی نےطویل  پس و پیش کے بعد بی جے پی کے ساتھ پھر سے حکومت بنالی۔ پی ڈی پی کے ایک وزیر کے مطابق  بی جے پی نے محبوبہ مفتی کو اعتماد میں لئے بغیر ایک ایسی فاش غلطی کردی کہ جس نے خوداس کا اپنا اورساتھ ہی پی ڈی پی کا بیڑہ غرق کردیا۔

وزیراعلیٰ  محبوبہ مفتی  کی اب یہ حالت ہے کہ انہیں اپنے گھر میں دبکے ہوئے ارکان اسمبلی سے کہنا پڑرہا ہے کہ وہ اپنے گھر سے نکلیں  لیکن  جب  وہ بادلإ ناخواستہ عوام میں جاتے ہیں تو ان کو دیکھ کر وہ لوگ مشتعل ہوجاتے ہیں۔ پی ڈی پی رہنماوں پر حملے کی خبریں آچکی ہیں۔ اس کی شریک کار بی جے پی کے رہنما تو خیر وادی کی عوام میں جاکر ان  کا اعتماد بحال کرنے کا  خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ حکومت میں ہونے کے باوجود یہ معذوری اور مجبوری قابل شرم ہے۔ وزیراعظم مودی سری نگر تو دور ایوان پارلیمان سے بھی چھپتے پھر رہے ہیں۔ مانسون کے حالیہ اجلاس میں دو مرتبہ کشمیر پر بحث ہوئی لیکن دونوں مرتبہ انہوں نے ڈنڈی مارکر اپنےآپ کو خول میں بند کرلیا۔ جو رہنما اپنے ارکان پارلیمان کو اعتماد میں لے کر حزب اختلاف کو مطمئن نہیں کرسکتا وہ بھلا عوام کو کیسے مطمئن کرکے اعتماد میں لے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی یہ بھول گئے ہیں کہ انہیں قوم نے پارلیمان  میں حکومت کرنے کیلئے منتخب کیا ہے۔ ان کی ذمہ داری محض بی جے پی کو مختلف ریاستی انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار کرنے کی نہیں ہے یہ تو پارٹی کے صدر اور صوبائی رہنماوں کا کام ہے۔ اگر وہ لوگ اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے سے قاصر ہیں تو انہیں تبدیل کریں یا اپنے عہدے سے سبکدوش ہو کر پارٹی کی کمان سنبھالیں۔ وزیراعظم کا فرض منصبی ساری دنیا کی سیر کرنا، رٹی رٹائی تقریریں کرکے فوٹو کھنچوانا نہیں بلکہ قوم  کو درپیش  سنگین مسائل حل کرنا ہے۔ اس کے بغیر یوم آزادی کے دن لال قلعہ سے پرچم کشائی اور اس کے بعد کہی جانے والی چکنی چپڑی باتیں بے معنیٰ ہیں۔ کشمیر کے مسئلہ 33 بعد اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے مودی جی نے مدھیہ پردیش کے ایک عوامی جلسہ کا  انتخاب کیا  جو مضحکہ خیز ہے۔ یہ کام یا تو لوک سبھا میں ہوتا یاکم ازکم  جلسۂ عام کو سرینگر میں ہو نا چاہئے تھا ۔

کشمیر پر مجرمانہ تاخیر کے بعد جو بیان دیا گیا وہ بھی نہایت ناعاقبت اندیشں تھا۔ وزیراعظم کو اس بات پر افسوس نہیں ہے کہ ۵۶ مظاہرین جان بحق ہوچکے ہیں۔ 100 سے زیادہ اپنی بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق 8 ہزار میں سے 5 ہزار حفاظتی دستے کے لوگ زخمی ہیں۔ کئی فوجی چھاونیاں نذرِ آتش کی جاچکی ہیں۔ اس طویل کرفیو نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ پاکستان کو ہمیں بدنام کرنے کا نادر موقع ہاتھ آگیا ہے۔ ساری دنیا اس پر تشویش کاا ظہار کررہی ہے۔ اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ پھر سے زندہ ہوگیا ہے۔ ان مسائل  پر اظہار خیال کرنے کے بجائےوزیراعظم نے کشمیری بچوں کے ہاتھوں  کتاب یا کمپیوٹر کے بجائے  پتھر پر افسوس کیا۔ دراصل مودی جی کو کشمیری بچوں کے ہاتھ میں پتھر تو نظر آتے ہیں لیکن حفاظتی کے ہاتھوں میں چھرے والی بندوق نظر نہیں آتی۔ انہیں چاہئےتھا کہ حفاظتی دستوں کو ہدایت دیتے۔ بقول سیتارام یچوری جس چھرے والی  بندوق سے دنیا کی سفاک ترین اسرائیلی فوج تک گریز  کرتی  ہے وہ کشمیر کے اندر دھڑلے سے استعمال ہورہی ہے۔

مودی جی نے فرمایا سارا ہندوستان کشمیر سے محبت کرتا ہے تو کیا محبت کے اظہار کا یہی طریقہ ہے؟ سارے ملک میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی یا پانی کی دھار کا استعمال ہوتا ہے کشمیر میں  پتھر کے جواب میں  گولی کی پالیسی اظہار محبت ہے یا نفرت۔ مودی جی نے یہ بھی فرمایا کہ ہم اٹل جی کے بتائے ہوئے کشمیریت اور انسانیت کی راہ پر گامزن ہیں  لیکن سپریم کورٹ نے  یہ کہہ دیا کہ انتظامیہ یعنی حفاظتی دستوں کے اندر انسانیت کا فقدان ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک جلسۂ عام میں کہے جانے والے جملہ پر یقین کریں یا عدالت کی کرسی پر براجمان جج کی بات مانیں۔ حفاظتی دستوں کا کہنا ہے کہ ہمیں جو اسلحہ دیا جاتا ہے ہم اس کو استعمال کرتے ہیں  تو سوال یہ ہے کہ یہ اسلحہ اور اس کو استعمال کرنے کا حکم کون دیتا ہے؟ ایک ماہ سے وزیراداخلہ چھرے والی بندوق کا متبادل تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ سی آرپی ایف کے سربراہ کے مطابق ان کے پاس صرف دو ہی متبادل ہیں ایک چھرے والی بندوق اور دوسرے اے کے 47۔ اس لئے چھرے والی بندوق بہتر متبادل ہے۔ کیا دنیا میں آج تک کسی  انسانیت نوازحکومت کے اہلکارکو اپنے ہی باشندوں  کے خلاف اے کے 47 استعمال  کرنے کا خیال آیا ہے؟

مودی جی نے کشمیر میں جس افسوس کا اظہار کیا ہے وہ دراصل الزام تراشی ہے۔ انہوں کشمیری بچوں کی حفاظتی دستوں کے ہاتھوں  ہلاکت کیلئے بلا واسطہ  ان لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرا دیا جنہوں نے پتھر تھمایا ہے حالانکہ پتھر اٹھانے کیلئے کسی  ہدایت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ظلم کے خلاف احتجاج اور تحفظ یہ انسانی فطرت ہے اور بچوں سے زیادہ فطرت سے  قریب کون ہے؟ مودی جی نے اس سے قبل ایوان پارلیمان میں  گئورکشا کی بحث سے بھی فرار کا راستہ اختیار کیا تھا لیکن جب گجرات کے اندر پانی سر سے اونچا ہوگیا تو آندھرا میں جاکر ایک اوٹ پٹانگ بیان دے دیا۔ بیان یہ تھا کہ اگر گولی مارنا ہو تو دلتوں کے بجائے مجھے گولی مارو۔ پہلی بات تو یہ مکالمہ کسی سربراہ مملکت کو زیب نہیں دیتا۔ اس کا کام تو یہ ہے لوگوں کو تشدد سے روکے اس کے بجائےزید پلس سیکیورٹی کے اند محصور ہوکر اپنے آپ پر تشدد کی دعوت دینا  بتاتا ہے کہ یہ محض جملہ بازی ہے۔

کشمیر کے پس منظر میں اگریہ بیان ہوتا تو اس کی معنویت بھی ہوتی اس لئے کہ گولیاں کشمیر میں چل رہی ہیں اور اس کا شکار دلت نہیں بلکہ کشمیری مسلم ہورہے ہیں۔ دلتوں کی بابت تو یہ بالکل بے معنیٰ بیان  ہے اس لئے کہ کسی دلت پر گولی کا کوئی واقعی پیش ہی نہیں آیا۔ ہاں گالی کا معاملہ ہوا ہے اگر مودی جی کہتے کہ گالی دینا ہے تو مجھے دو تب بھی کام چل جاتا لیکن ان کے بھکت تنہائی میں جو بھی کہیں کم از کم کھلے عام ان کو گالی دینے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ جہاں تک دوسرے لوگوں کا سوال ہے وہ تو یہ کارِ خیر کررہی رہے ہیں اس لئے شاید وزیراعظم نے اس کام کی ترغیب   نہیں دی۔ دلتوں پر لاٹھیوں سے، چاقو اور ترشول سے حملے ہورہے ہیں اس لئے گولی کے بجائے ان چیزوں کا ذکر ہونا چاہئے تھا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کشمیری بچوں کے ہاتھ میں پتھر دینے والے مجرم ہیں تو کیا گئو رکشکوں کے حوصلے بلند کرنے والے مجرم نہیں ہیں ؟ گئو رکشک مافیا کب، کیسے اور کس کی سرپرستی کے اندر وجود میں آیا ہے یہ اظہر من الشمس ہے۔

گئو رکشا کو لے کر تشدد کے واقعات پہلے شمالی ہندوستان کی ان ریاستوں تک محدود تھے جہاں بی جے پی برسرِ اقتدار ہے۔ مودی جی اس معاملے کو جنوبِ ہند میں لے گئے۔ آندھرا پردیش کےگولی والے بیان کی تعریف و توصیف کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ اسی صوبے میں دلتوں کی پٹائی کا دل دہلا دینے والا واقعہ رونما ہوگیا۔ مری ہوئی گائے کی کھال اتارنے والے دو دلت بھائیوں کو 100 لوگوں کے ہجوم نے برہنہ کرکے پیڑ سے باندھ کر زدو کوب کیا۔ لوگوں نے سوچا ہوگا کہ اگر ہمیں وزیراعظم کو گولی مار نے کی اجازت ہے تو یہ دلت کیا چیز ہیں ؟اس کے بعد اور بھی صوبوں میں ایسے واقعات رونما ہوئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ خود گئو رکشک بھی وزیراعظم کے پروچن پر کان نہیں دھرتے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ کوئی ان کی کوئی نہیں سنتا۔ وزیراعظم کے گولی والے بیان کے بعدپہلے تو پنجاب میں آرایس ایس کے نائب صدر پر گولی چلائی گئی اور پھر دہلی ہریانہ کی سرحد پر بی جے پی رہنما کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ اتفاق سے ان تمام ریاستوں میں بی جے پی برسرِ اقتدار ہے۔ دہلی میں اگر نہیں بھی ہے تو پولس عآپ کی تابع نہیں ہے۔ اس طرح جو گولی باری جو نکسلیوں اور کشمیر تک محدود تھی وہ پنجاب کے راستے دہلی تک پہنچ گئی۔

کشمیر میں موجودہ خلفشار کیلئے برہان وانی کے انکاونٹر سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے لیکن دراصل اس کی ابتداء 25 جون کو ہوئی جب  کشمیر ی عسکریت پسندوں نے پلواما ضلع میں پمپور مقام پر سی آر پی ایف کے دستے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ اس حملے میں 8 جوان ہلاک اور 22 زخمی ہوئے۔ دو عسکریت پسند بھی مارے گئے اور ایک فرار ہوگیا۔ اس حملے کی بابت وزیردفاع منوہر پریکر نے یہ تسلیم کیا کہ ان کے خیال میں کام کرنے کا معیاری طریقۂ کار( SOP) پر عملدرآمد میں کوتاہی ہوئی۔ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ  نےدونفری  تفتیشی وفد پمپور روانہ کرنے  کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے بعد صورتحال واضح ہوجائے گی۔ حملے کے خطرات کے باوجود بس بغیر اسکارٹ کے جارہی تھی  اور سڑک صاف کرنے والا ہراول دستہ عسکریت پسندوں کی شناخت میں ناکام رہاتھا۔ ایک ماہ کے اندر حفاظتی دستوں پر وہ چوتھا حملہ تھا گزشتہ ۳ حملوں میں 17 جوان ہلاک اور کئی زخمی ہوچکے تھے۔

اس سے قبل مرکز اور صوبے میں کانگریس کی حکومت کے دوران جب اس طرح کی وارادتیں رونما ہوتی تھیں تو بی جے پی والے خوب شور مچاتے تھے اورنہ صرف  جموں کے ہندو رائے دہندگان  بلکہ سارے ملک کے عوام سے یہ  کہتے پھر تے تھےکہ اگر حکومت کی زمامِ کار ہمارے ہاتھوں میں ہوتی تو ایسا ہرگز نہ ہوتا۔ اس بار اتفاق سے نہ صرف مرکزی حکومت بی جے پی کی ہے بلکہ صوبے کی حکومت میں بھی وہ برابر کی شریک ہے۔ اس کے باوجود وادیٔ کشمیر کی یہ دگر گوں صورتحال بی جے پی کے رائے دہندگان کو مایوس کررہی تھی۔ ان لوگوں نے بی جے پی سے بڑی توقعات وابستہ کررکھی ہیں۔ ان کو کانگریس کی جھولی میں جانے بچانے کی کوشش کا کوئی نہ کوئی  تعلق برہان وانی  کے انکاونٹر سے  ضرور ہے۔

 غالب گمان یہ ہے کہ اپنے حامیوں کی خوشنودی کیلئے برہان وانی کے انکاونٹر کا فیصلہ کیاگیا تاکہ اپنی دلیری کا ڈنکا بجا یاجاسکے حالانکہ لاکھوں فوجیوں کی موجودگی میں تین نوجوانوں کو گھیر کر ماردینے میں کوئی بہادری نہیں ہے۔ برہان وانی ایک 22 سالہ نوجوان تھا جس پر 150 نوجوانوں کو حزب المجاہدین میں شامل کرنے اور دہشت گردی کے چند واقعات میں ملوث   ہونے کا الزام تھا۔ کیا  ان الزامات کو عدالت میں ثابت کرنا ممکن نہیں تھا؟ کیاآزادی کے 70 سال بعد بھی  کسی عسکریت پسند باغی  گرفتار کرکے اس کو قرار واقعی سزا دینے سےہمارا دستور قاصر ہے؟ اگر نہیں تو آئینی  طریقۂ کار کو پامال کیوں کیا گیا؟ گجرات میں ہاردک پٹیل نے بھی  تلوار اٹھا کر بغاوت کا اعلان کیا تھا۔ اس پر بغاوت کا الزام  بھی لگا۔ وہ گرفتار بھی کیا گیا اور اب ضمانت بھی ہوگئی۔ اس کے انکاونٹر کا خیال کسی کو کیوں نہیں آیا جبکہ گجرات کی پولس عشرت جہاں سے لے کر سہراب الدین اور پرجاپتی کے انکاونٹر کے سبب بدنام ہے۔

حکومت کے اہلکار برہان وانی کی عسکریت پسندی کے پسِ پشت عوامل کا مطالعہ کرتے تو یہ اقدام ہرگز نہیں کرتے۔ برہان کے والد صدر مدرس اور والدہ پوسٹ گریجویٹ استانی ہیں۔ برہان اپنی جماعت کا ذہین ترین طالب علم تھا۔ اس کے ہاتھ میں پتھر نہیں کتاب تھی۔ لیکن جب  اس کے بے قصور  بھائی خالد  وانی کو آج سے 7 سال قبل فوجیوں نے بلاوجہ ہلاک کردیاتو اپنے بھائی کے قتل کا انتقام لینے کی خاطر برہان نےکتاب پھینک کربندوق اٹھائی۔ اگر خالد پر ظلم نہیں ہوتا یا اس کے قاتلوں کو حکومت پھانسی کے تختے پر پہنچا دیتی تو  برہان کمپیوٹر پر عسکریت کو ترغیب نہ دیتا۔ برہان کی عسکریت پسندی نے یہ خوش فہمی بھی دور کردی کہ  وادی کشمیر کے سارے باشندے علٰحیدگی کے خلاف ہیں اور عسکریت پسند صرف اور صرف پاکستان سے درآمد ہوتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق وادی میں کل 145  متحرک عسکریت پسند ہیں جن میں 91 کا تعلق وادی سے 54 پاکستان سے آئے ہیں۔ کیا ان 145 عسکریت پسندوں پر قابو پانے کیلئے لاکھوں کی تعداد میں  حفاظتی دستے ناکافی ہیں جو انکاونٹر کی ضرورت پیش آئی؟

برہان وانی کی ہلاکت نے اسے راتوں رات کشمیر کا ہیرو بنادیا اور بی جے پی کی سخت گیری نے اسے زیرو کرکے رکھ دیا۔ برہان کے تئیں یہ جو زبردست ہمدردی کا طوفان برپا ہوا ہے اس کا سہرہ صرف اور صرف حکومت کے سر بندھتا ہے۔ برہان کو مار کر حکومت نے علٰحیدگی پسند تحریک کے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔ برہان کی ویڈیو کے پس منظر میں چلنے والے ترانہ ’’  ہم نے رسم ِمحبت کو زندہ کیا، زخمِ دل جیت کر نقدِ جاں ہار کر‘‘ کی عملی تعبیر کا سامان خود حکومت نے کیا۔ برہان اگر سو سال بھی زندہ رہتا تو سوشیل میڈیا سے وہ نہ کرسکتا تو پلک جھپکتے ہوگیا اسی لئے عمر عبداللہ نے کہا قبر کے اندر برہان وانی  کی موجودگی ذرائع ابلاغ کی بہ نسبت کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ ان مظاہروں پر طاقت کا  بیجا استعمال  نے ہوا کو مخالف سمت میں  موڑ دیا ہے۔ اس سے بے قصوروں کی ہلاکت  اور ساری دنیا میں بدنامی کے علاوہ کچھ بھی ہاتھ نہ آیا۔

برہان وانی کے انکاونٹر کی ایک اور وجہ  کشمیری نوجوانوں کے اندر خوف و دہشت پیدا کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ جہاں تک کشمیریوں کو خوفزدہ کرنے کا سوال تھا اس واقعہ سے ان کا خوف دور ہوگیا بلکہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے ارکان اسمبلی گھر میں دبک کر بیٹھ گئے۔ یعنی ڈرانے والے خود ڈر گئے۔ امن کے قیام کیلئے حریت کے سامنے ہاتھ پسارنا پڑا جن کو کل تک سارے فساد کی جڑ کہا جاتا تھا۔ اخبارات اور ٹی وی نشریات پر پابندی۔ وزیرداخلہ کے امریکی  دورے کی  منسوخی اور پاکستان کا بے فائدہ دورہ حکومت کی نااہلی کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔ ایوان پارلیمان میں غلام نبی آزاد سے کھری کھوٹی سننے کے بعد وزیرداخلہ  16 دن بعد سرینگر پہنچے توحریت اور کانگریس نے ملاقات سے انکار کردیا۔ اس معاملے کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ فرانس اور جرمنی کے حملوں پر افسوس جتانے والے وزیراعظم نریندر مودی عرصۂ دراز تک خاموش رہے اور بولے بھی تو کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی ہی کی۔

کشمیر کی حالت نہایت سنگین ہوچکی ہے۔ اس بابت حزب اختلاف کے رہنما فاروق عبداللہ نے چشم کشا  بیان دیا  ہے۔ ان کے مطابق افسوس برہان نہ تو بندوق اٹھانے والا پہلا (کشمیری)  اور نہ آخری۔ مودی سرکار کوجو اٹل جی کے نقش قدم پر چلنے کا دم بھرتی ہے  ندیم خان کے ذریعہ ڈی این اے اخبار کے حوالے سےپیش کردہ  انکشاف پر غور کرنا چاہئے۔ وہ لکھتے ہیں اٹل جی کی این ڈی اے نے تو 2003 میں کشمیری نوجوانوں کو عسکریت پسندی  سے روکنے کیلئے ڈاکٹر ذاکر نائک کی خدمات حاصل کی تھیں۔ موجودہ این ڈی اے  نے ذاکر نائک کو جعلی  میڈیا  ٹرائل کے ذریعہ تقریباً دہشت گرد قراردے دیا۔ ایک زمانے تک سنگھ پریوار کے لوگ آئے دن یہ نعرہ لگاتے ہوئے کشمیر پہنچ جاتے تھے کہ ’’جہاں ہوئے بلیدان مکھرجی، وہ کشمیر ہمارا ہے‘‘ کیا اس سال بھی وہ 15 اگست کے دن سرینگر کے لال چوک پر جاکر قومی پر چم لہرانے کی جرأت کریں گے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close