ہندوستان

کشمیر : لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے

ڈاکٹر تسلیم احمدرحمانی
8 جولائی 2016سے کشمیر ایک با پھر آگ کی لپیٹ میں ہے مبینہ دہشت گرد برہان الدین کو ایک انکائونٹر میں مارنے جانے کے خلاف سراپا احتجاج کشمیری عوام سڑکوں پر نکل آئے اور آج تقریباُ دو ماہ کے بعد بھی احتجاج کے شعلے سرد نہیں ہوپارہے ہیں اس دوران تقریباً 70 کشمیری ہلاک ہوچکے ہیں جن میں دو فوجی بھی ہیں اور تقریباً چار ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ وادی کے اکثر ضلعو ں میں احتجاج جاری ہے ریاستی سرکار اور مرکزی سرکار کے پاس اس احتجاج کو دبانے کا طریقہ پولیس فوج اور مہلک ہتھیاروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ پیلٹ گولیوں کے نام سے مشہور چھرے دار گولیاں بےدریغ استعمال کی جارہی ہیں یہ وہ گولیاں ہیں جو اسرائیل سے درآمد کی گئی ہیں اورجن کا استعمال پہلے فلسطینیوں کے خلاف ہوا کرتا تھا لیکن عالمی اداروں کی سختی کے بعد اسرائیل میں ان گولیوں کا استعمال بند کردیا گیاتھا اور ان کا پورا اسٹاک اٹھ کر اب ہندوستان آگیا ہے اورہندوستان میں بھی یہ گولیاں کشمیر کے سوا کسی بھی دوسری ریاست میں استعمال نہیں ہوتی ہیں۔ ملک کے اندر اور باہر ہر طرف سے یہ دبائو موجود ہے کے اس معاملے کو جلد ازجلد حل کیا جائے اور تشدد کی اس سلسلے کو بند کیا جائے تقریباً دو مہینے سے تقریباً پوری وادی کرفیو کا شکار ہے۔ اور کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ ہے اس دوران دومرتبہ ملک کے وزیر داخلہ نے کشمیر کا دورہ بھی کیا ان کے دورے کے بعد بھی حالات میں کوئی نمایا ں تبدیلی پیدا نہ ہوسکی۔ اب تیسری مرتبہ4 ستمبر کو پھر ایک کل جماعتی وفد کے ساتھ جانے والے ہیں۔ کشمیر کی وزیر اعلیٰ کے پل پل بدلتے بیانات کشمیری عوام کو مطمئن نہیں کر پائے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل جیسے عا لمی ادارے کشمیر میں حقوق انسانی کے خلاف وزری کے دہائی دے رہے ہیں میر واعظ مولوی عمر فاروق نے اقوام متحدہ میں شکایت بھی درج کردی ہے لیکن مسئلہ اپنی جگہ برقرار ہے۔ پنٹھر س پارٹی کے رہنما بھیم سنگھ نے بھی تین روز قبل یہ کہا کہ گذشتہ سو سال میں کشمیر میں اس طرح کے حالات پہلے کبھی رونما نہیں ہوئے تھے۔ ادھر ملک کے وزیر اعظم باربار تو یہ اعلان کر رہے ہیں کہ کشمیری ہمارے ہیں اور ہر ایک مرنے والا کشمیری میرا بھائی ہے لیکن عملاً کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتہ وزیر داخلہ نے سری نگر میں یہ اعلان کیا کہ وہ پیلٹ گن کا متبادل تلاش کریں گے گویا مسئلے کو ہتھیاروں سے ہی حل کرنے کی بات کی جارہی ہے اس پر طرہ یہ کہ وزیر داخلہ کے بیان کے بعد بھی فیصلہ یہی ہے کی ان گولیوں کا استعمال جاری رہے گا مرچ والی گولیوں کا اضافہ کیا جائے گا یعنی یک نہ شد دو شد۔ پھر یہ کیسے مانا جاسکتا ہے کہ ہر مرنے والا کشمیری ہمارا ہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کے مستقبل کے ساتھ ہندوستان کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ یہ بڑا معنی خیز جملہ ہے اس کا ایک مطلب یہ سمجھا جاسکتاہے کہ خدانخواستہ اگر کشمیر ٹوٹا تو ملک کے بہت سے وہ صوبے جو علاحدگی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں ان کو بھی علاحدگی کیلئے ایک نظیر ہاتھ آجائے گی جس کے نتیجہ میں پورے ملک کی سالمیت معرض خطر میں پڑ سکتی ہے۔ اصل میں یہی وہ خوف ہے جس نے حکومت ہند کو مجبور کر رکھا ہے کہ وہ انسانیت جمہوریت اور کشمیر یت کی بات تو کرتی رہے لیکن سوا کروڑ کشمیریوں کی 68 فیصد مسلم آبادی کو 8 لاکھ فوجیوں کے حوالے کرکے بزور بندوق قابو میں رکھے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک مبینہ دہشت گرد کے انکائونٹر کے خلاف اتنی بڑی تعداد میں کشمیری عوام سڑکوں پر آئے ہیں کشمیر میں انکائونٹر ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے احتجاجوں کا سلسلہ بھی دراز رہا ہے۔ پتھر ہاتھ میں لیکر فوج سے مقابلہ کرنے کی روایت نئی نہیں ہے۔ لیکن اس مرتبہ جو کچھ ہورہا ہے وہ بالکل نیا ہے۔ ایک واقعہ میں نہ تو کبھی اتنے عرصے تک کرفیو رہا نہ ہی اتنے سارے لوگ شہید اور زخمی ہوئے وادی کی تقریباً پوری آبادی سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ اس کا جواب کشمیر کی تاریخ میں مضمر ہے۔ کشمیر میں علاحدگی پسندی کی تحریک 1945 سے ہی جاری ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحریک کا آغاز شیخ عبداللہ نے کیا تھا اس زمانے میں انہوں نے اس غرض سے مسلم کانفرنس کے نام سے ایک تنظیم بنائی تھی جسے جواہر لال نہرو کی ایما پر بعد میں بدل کر نیشنل کانفرنس کر دیا گیا۔ شیخ عبداللہ پہلے تو آزاد کشمیر کی بات کرتے رہے اور اس نام پر متعدد بار جیل بھی گئے لیکن بعد میں انہوں نے اپنا رخ بدل لیا یہی پالیسی فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ اپنا تے رہے بعد کے قیادت میں مفتی محمد سعید کی پارٹی پی ڈ ی پی جو اب ان کی بیٹی محبوبہ مفتی کی قیادت میں بر سرحکومت ہے وہ پہلے تو علاحد گی پسندو ں کے ساتھ کھڑے رہے لیکن اب بی جے پی کے ساتھ حکومت بنا کر ان کے موقف میں بھی واضح تبدیلی ہے۔ اس قسم کی پالیسی عام کشمیر یوں کے نفسیات سے کبھی ہم آہنگ نہیں ہوسکی۔ موقف کی اسی تبدیلی کا نتیجہ 1947۔ 1945 اور  1971کی جنگوں میں ہم دیکھ چکے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی واضح ہونا ضروری ہے کہ جس وقت ملک مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہوا اس وقت مسلم اکثریتی ریاست کے ہندو راجہ ہری سنگھ نے ہندوستان پاکستان کسی بھی ملک کے ساتھ جانے سے انکار کردیا تھا۔ اسی طرح گجرات کی ہندواکثریتی ریاست جونا گڑھ کے مسلم راجہ نے بھی ہندوستان کے ساتھ الحاق کو بدل نخواستہ تسلیم کیا تھا ریاست حیدر آباد الحاق کا یکسر انکار کردیاتھا لیکن آزادی کی تاریخ شاہد ہے کہ جونا گڑھ کو سیاسی دبائو کے ذریعے اور حیدر آباد کو پولیس ایکشن کے ذریعے قابو میں کرلیا گیا۔ لیکن کشمیر میں جاری عوامی تحریک اور پاکستانی فوج کی دراندازی کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوسکا۔ مزید برآں جواہر لال نہرو اور وٹھل بھائی پٹیل نے اس وقت کے کشمیر کے وزیر اعظم جسٹس مہاجن کے ساتھ مل کر کسی صورت راجہ ہری سنگھ کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کے لیے آمادہ کرلیا تھا جس کی توثیق انہوں نے آزادی کے دو مہینے بعد 26 اکتوبر1947 میں کی تھی۔ جسے کشمیری عوام نے پسند نہیں کیا۔ اس وقت بھی وہاں اس الحاق کے خلاف اندورونی طورپر بھی بغاوت ہوئی اورپاکستانی فوج نے بھی جنگ کی اور مسئلہ اقوام متحدہ تک پہنچا۔ یہاں دونوں ملکوں نے یہ طے کیا وہ اپنی اپنی فوجیں واپس بلائیں گی اور کشمیر ی عوام کے مرضی کے مطابق الحاق کا فیصلہ کیا جائے گا جس کے لئے ریفرنڈم یعنی (استصواب رائے )کرایاجائے گا۔ لیکن یہ استصواب رائے آج تک نہیں ہوسکا۔ یعنی مسئلہ ابتدا ہی میں عالمی ادارے تک جا پہونچا تھا۔ واضح رہے کہ راجہ ہری سنگھ نے بھی الحاق کی توثیق عارضی طور پر اسی بنیاد پر کی تھی کہ کشمیری عوام کے رائے مطابق ہی آخری فیصلہ کیا جائے گا۔ تب سے لے کر اب تک کے حالات بار بار بتاتے رہے ہیں کہ کشمیری عوام حریت پسند ہیں اور وہ ہندوستان اور پاکستان کسی بھی جانب جانا نہیں چاہتے ہیں۔ 1980 کے بعد ایک دور ایسا ضرور آیا تھا کہ جب کشمیر عوام کی بڑی تعداد ہندوستان کے ساتھ رہنے پر آمادہ ہو گئی تھی لیکن اس کے فوراً بعد حالات پھر خراب ہوئے تو وہاں افسپا لگا دیا گیا جس کے تحت فوج کو لامحدود اختیارات دے دئے گئے اور نتیجتاً وہاں عوام کا جینا دوبھر ہوگیا دسیوں ہزار لوگ پر اسرار طریقے سے غائب کر دیئے گئے نصف بیوائوں کی پوری ایک نسل کھڑی ہوگئی بڑی تعداد میں بچے یتیم ہوگئے اور ہر عالمی تنظیم یہ چلانے پر مجبور ہو گئی کہ کشمیر میں انسانی حقوق نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہے یہی وہ حالات ہیں جنہوں نے ایک بار پھر عام کشمیریوں کو حریت پسندی کی جانب واپس دھکیل دیا۔
کشمیر کا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی فریق نےکشمیریوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا اس سلسلہ میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تقسیم کا جو نقشہ بنایا گیا اس کا انداز ہی کچھ ایسا تھا کہ کشمیر ہمیشہ ایک متنازعہ معاملہ رہے۔ تقسیم کی بائونڈری لائن بنانے کے لئے جو کمیشن طے کیا گیا تھا اسے ریڈ کلف کمیشن کہا جاتا ہے سر ریڈ کلف جو اس کمیشن کے چیئرمین تھے ان کا ہندوستان سے کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا تھا۔ اسکے باوجود خط تقسیم بھیجنے کے لیے انہیں برطانیہ سے ہندوستان بھیجا گیا وہ جولائی 1947 کے آخر میں یہاں پہنچے تھے اور انہیں 15 اگست سے پہلے تقسیم کا اپنا نقشہ پیش کرنا تھا یہ بات اپنے آپ میں عجیب ہے کہ غیر معروف اور ناواقف انسان کو وہ ذمہ داری سونپی گئی جس کے ذریعہ کروڑوں لو گوں کے مقدر کا فیصلہ ہونا تھا۔ اس معاملے میں یہ حقیقت بھی پر اسرار ہے کہ ملک کی تقسیم کا اعلان تو ۱۵اگست 1947 کو کر دیا گیا لیکن تقسیم کا نقشہ 17 اگست 1947 کو عام کیاگیا۔ جبکہ ریڈکلف اس نقشے کی اشاعت سے دو روز قبل 15 اگست کو ہی ہندوستان سے واپس روانہ ہو گئے تھے۔ معلوم زرائع یہ بتاتے ہیں کہ یہ نقشہ  9 اگست کو ہی تیار ہوگیا تھا اور اس وقت کےوائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نیز ریڈ کلف کے سکریٹری کے ذریعہ اس خفیہ نقشے کے اطلاع جواہر لال نہرو اور وٹھل بھائی پٹیل کو مل چکی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالکل آخر وقت میں پنجاب کے کچھ ضلع جن کے پاکستان میں جانے کی توقع تھی انہیں ہندوستان میں جوڑ دیا گیا۔ گرداسپور، اجنالہ اور امرتسر انہیں ضلعوں میں سے چند ہیں۔ ریڈ کلف کے نقشے میں اس تبدیلی کا سیدھا اثر کشمیر کی صورت حال پر پڑتا ہے۔ یہ ضلع اگر پاکستان کے جانب چلے جاتے تو پاکستان کے لیے جموں اور سری نگر کی راہ داری جغرافیائی طورپر بہت آسان ہوجاتی اور شاید پھر کشمیر متنازعہ نہ رہتا۔ لیکن اب ان اضلاع کے ہندوستان میں شریک ہوجانے کے بعد پاکستان کو جموں اور سری نگر تک وہ رسائی حاصل نہیں رہی۔ جس نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔
اس ضمن میں دوسری اہم پیش رفت شملہ معاہد ہ ہے جو دو جولائی 1971 میں پاکستان کی شکست کے بعد وہاں کے صدر ذوالفقار علی بھٹو اور ہماری وزیر اعظم اندار گاندھی کے مابین ہماچل کی راجدھانی شملہ میں ہوا تھا اس معاہد ہ کی رو سے جہاں قیدیوں کے تبادلے کا مسئلہ اور دونوں کے ملکوں کے تعلقات اور خوشگوار اور آپسی ہم آہنگی کے معاملات طے ہوئے وہی یہ بھی طے ہو ا تھا کہ دونوں فریق 71 کے بعد سرحدوں کی پاسداری کریں گے اور ان سرحدوں میں کوئی فوجی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہ ہوسکا۔ سیاچن کی جنگ اور کارگل کی جنگیں اس کا ثبوت ہیں۔ آج کسی جانب سے اگریہ کہا جائے کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان کا داخلی مسئلہ ہے تو یہ حقائق سے سر اسرچشم پوشی ہوگا۔ جس سے یہ عندیہ ظاہر ہوگا کہ کچھ لوگ مسئلے کو سلجھا نے کے بجائے طول دینا چاہتے ہیں ہم نےاپنی قومی پالیسی کے تحت ہمیشہ کشمیر کو اپنا حصہ مانا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوسکتا ہے کہ یہ حصہ غیر متنازعہ بھی ہے۔ اور اگر یہ ایک تنازعہ ہے تو اس کا حل بندوق نہیں ہوسکتا سیاسی مفاہمت سےہی ہوسکتا ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ گذشتہ 35 سال سے جمہوریت کی آڑ میں کشمیر کے اندر افسپا کے ہتھیار کے ساتھ فوج کی حکمرانی ہے جس نے کشمیریت کو کچل ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ عالمی اداروں کی تمام رپورٹیں بھی یہ بتاتی ہیں ہے کہ فوجی اقدامات نے جمہوریت کے ساتھ انسانیت کو بھی شرمسار کردیا ہے۔ ایسے میں کشمیریت جمہوریت اور انسانیت کا جملہ اپنی معنویت سے بے نیاز محسوس ہوتاہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ نعرہ لگانے والے لوگ پاک مقبوضہ کشمیر پر دعویٰ پیش کرکے اس تنازعہ کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ 1962 کی ہند۔ چین جنگ میں ہمارے ہاتھ سے نکلے کشمیری حصے اکساٰ چن کے واپسی کا ہم کوئی ذکر تک نہیں کرتے یہ تلخ حقیقت ہے کہ چین کے ساتھ اس جنگ میں کشمیر کا یہ مشرقی کنارہ جو تقریبا 37 ہزار مربع کلو مٹر پر محیط ہے ہمارے ہاتھ سے نکل کر چین کے قبضے میں چلا گیا او رہم نے اس کی واپسی کی ابھی تک کوئی قرار واقعی کوشش نہیں کی ہے ان حالات میں بلوچستان اور پا ک مقبوضہ کشمیر کی باتیں کرنا اوراپنے کشمیروں بھائیو ں کو فوجی بوٹوں کے تلے دبائے رکھنا کیا مسئلہ کشمیر کو حل کردے گا۔ اس وقت کشمیری عوام کو محبت اخوت اور اظہار ہمدردی کی ضرورت ہے۔ سیاسی جملے بازیو ں سے دور عملی اقدامات کا مرہم لگائے جانے کی ضرورت ہے۔ اس غرض سے پہلا قدم یہ ضروری ہے کہ افسپا ہٹا کر فوج کی تعداد میں کمی کر کے جمہوری حکومت کے اختیارات کو بحال کیا جائے۔ ہتھیارو ں کا متبادل تلاش کرنے کے بجائے عوام دوستوں کے گروہوں کو کشمیری نوجوانوں سے بات چیت کے لیے بھیجا جائے۔ دہکتے چناروں کی آگ کو سرد کرنے کے لیے مخلص اور ایماندار سماجی روابط کو استوار کرکے ہی کشمیریت کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنایا جاسکتاہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

تسلیم احمد رحمانی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی معروف قلم کار اور مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں۔

متعلقہ

Close