کشمیر مذاکرات: وقت گزاری کا بہترین مشغلہ!

واحد بشیر

کشمیر حل طلب مسئلہ ہے اور جنوبی ایشیائی خطے کا امن براہ راست مسئلہ کشمیر کے ساتھ منسلک ہے۔یہ مسئلہ پچھلے ستر سال سے لٹکتا آرہا ہے اور دن بہ دن اس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی جارہی ہیں ۔ مسئلے کے تین بنیادی فریق ہیں اور آئے روز ہر کوئی فریق اپنے مؤقف کی وکالت میں دلائل فراہم کرتا رہتا ہے۔ 2016 ء میں برپا ہونے والی عوامی احتجاجی مہم کے بعد عوامی جذبات اور حریت پسندی کے جذبے کو طاقت کے ذریعے سے دبانے کی بھارتی پالیسی میں اب بظاہر تبدیلی محسوس ہورہی ہے۔ حال ہی میں بھارت کی مرکزی سرکار کی طرف سے آئی بی کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو ریاست جموں و کشمیر کے لئے مذاکرات کار نامزد کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے متعلق مختلف حلقوں میں مختلف النّوع تجزیے اور اندازے لگائے جارہے ہیں ۔

2001ء سے لے کر اب تک پانچ مرتبہ مذاکرات کاروں کا تقرر کر کے بات چیت کا ڈھونگ رچایا گیا اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وقت گذاری کی مرکزی پالیسی پرعملدرآمد کیا گیا۔ ریاست کے حوالے سے اس غیر سنجیدہ طرز عمل میں بھارت کی جملہ سیاسی جماعتیں ایک ہی طرح کی ذہنیت کی حامل ہیں ۔ اس معاملے میں دائیں ، بائیں اور درمیانی بازو کی سبھی جماعتیں ایک ہی قسم کی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رٹی رٹائی بولی بولتے ہیں ۔2001ء میں کے۔ سی۔ پنت ( ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن) کو ریاست میں مذاکرات کار مقرر کیا گیا، چھ ماہ پر محیط سرگردانی کے بعد زمینی سطح پر کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔ پنت کے بعد کشمیر کمیٹی کو مشہور وکیل رام جیٹھ ملانی کی قیادت میں تاریں ہلانے کا کام سونپا گیا۔ مذکورہ کمیٹی نے کئی برس پر محیط آوارہ گردی کرکے جب بوریا بسترا سمیٹا تو یہ کام 2003ء میں موجودہ ریاستی گورنر این این ووہرا نے سنبھالالیکن زمینی صورتحال میں پھر بھی کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔ اس کے بعد ہندوستان کی مرکزی حکومت نے ورکنگ کمیٹیز کا ڈول ڈالا۔

2008ء اور 2010ء کی گھمبیر صورتحال کے بعد سہ رکنی مذاکراتی ٹیم نے وادی وارد ہوکر مٹر گشتیاں کرنے کے بعد رپورٹ تحریر فرمائی جو ہنوز سرد خانے میں پڑی ہوئی ہے اوراس کا حشر کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ حالیہ ہفتوں میں آئی بی کے سابق سربراہ کو مذاکرات کار مقرر کر کے ریاست جموں و کشمیر میں بھیجا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ اور فوراً بعد دلی کے گلیاروں میں بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملیں ۔وزیر اعظم آفس میں موجود وزیر مملکت جتندر سنگھ کے بیان نے دنیشور شرما کے میدان کی فوری نشاندہی کرکے سارے ابہام رفع کردئے۔ بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کھلے ڈھلے منڈیٹ کا تذکرہ کرنے کے بعد ’’ ریاستی عوام کی جائز خواہشات کو سمجھنے‘‘ کا غبارہ ہوا میں چھوڑ کر دراصل دنیشور شرما نامی مذاکراتی غبارے سے ہوا نکال دی اور رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔بھارتی سرکار کی سنجیدگی کا سرسری اندازہ سابق وزیر داخلہ و خزانہ پی چدمبرم کے 28اکتوبر کو دئے گئے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ’ شرما کی تقرری(ریاستی) حالات سے انحراف پر مبنی فیصلہ‘ ہے اور کشمیریوں کا آزادی سے مراد ’گریٹر اٹانومی‘ ہے۔

گویا ان باتوں سے صحیح اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مذاکرات کے نام پر پوری کشمیری قوم کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ بھارتی سیاست کے کل پرزوں کو جیسے اس بات کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے کہ کشمیر جنوبی ایشیا کا سب سے خطرناک حل طلب مسئلہ ہے جس کی وجہ سے پورے خطے کا امن ڈانواڈول ہورہا ہے۔ پچھلی لگ بھگ ایک دہائی سے ریاست جموں و کشمیر میں چار بار اب تک کی سب سے بڑی پر امن عوامی احتجاجی تحریکیں برپا ہوئیں ۔ اگرچہ بھارتی انتظامیہ کے خلاف کشمیری عوام میں غصے کے جذبات انتہائی گہرے ہیں لیکن فوری اسباب کے تحت وقفے وقفے سے حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آجاتی ہے۔

 2008ء میں امرناتھ شرائن بورڈ کو ریاستی حکومت کی طرف سے 99  ایکڑ پر مشتمل رقبہ اراضی منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ عوامی احتجاج کو دبانے کے لئے حکومتی فورسز نے طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرتے ہوئے ایک سو کے قریب لوگوں کو موت کی ابدی نیند سلایا۔ اسی طرح2010ء میں تین بے گناہ کشمیری نوجوانوں کوجنگجو ظاہر کرکے بھارتی افواج نے سرحدی ضلع کپواڑہ میں جعلی انکاؤنٹر کے دوران جان بحق کیا جس کے بعد حریت کانفرنس کی کال پر ایک بڑی احتجاجی تحریک برپا ہوئی۔ ریاست سے مکمل فوجی انخلاء کے لئے ا ور انسانی حقوق کی مستقل پامالیوں کے خلاف حریت قیادت کے تحت اس عوامی احتجاج کو بھی حکومت نے طاقت کے بل پر دبانے کی کوشش کی اور 112عام شہری مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہلاک کئے گئے۔ جب کہ سینکڑوں لوگ مضروب بھی ہوئے۔سال گزشتہ سے قتل و غارت کی ایک نئی لہر شروع کی گئی ہے۔ بھارت کے مکمل فوجی انخلاء، حقوق انسانی کی کھلی خلاف ورزیوں کے علاوہ بھارت سے مکمل آزادی کے مطالبات کو لے کر ریاستی عوام نے بھر پور احتجاجی مہم چلائی۔

 یہ اب تک کی سب سے بڑی احتجاجی تحریک رہی جو کہ مسلسل چھ مہینو ں تک جاری رہی۔ اس تحریک کے دوران100سے زائد عام شہریوں کی بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے علاوہ 15000سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ ان مضروبین میں 4500سے زیادہ لوگ پیلٹ شاٹ گن کے شکار ہوئے ہیں جن میں سے 1000 سے زائد لوگوں کی آنکھیں جزوی یا مکمل طور پر ناکارہ ہوگئی ہیں ۔ اس سارے عرصے کے دوران 10000کے قریب لوگوں کوحبس بے جا میں رکھا گیا اور پی ایس اے  (Public Safety Act) جیسے کالے قوانین کے تحت لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے ایک بڑی تعداد ابھی تک نظر بند ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ، ماورائے عدالت قتل، غیر قانونی گرفتاریاں ،ٹارچر، عوامی پراپرٹی کو نقصان، جبری آبروریزیاں ، مذہبی اجتماعات پر پابندیاں ، اخبارات اور انٹرنیٹ سہولیات پر پابندی ریاست کشمیر میں حکومت کی مستقل پالیسی ہے اور یہ اب ریاستی ماحول کا حصہ بن گیا ہے۔ اس سارے ظلم اور زیادتی کے خلاف مزاحمتی قیادت اور عوام بھر پور اور پر امن مظاہروں کے ذریعے اپنی بات کو عالمی رائے عامہ تک پہچانے کی کوشش کررہی ہے، تاکہ مسئلہ کشمیر کا پر امن حل تلاش کیا جائے۔ مزاحمتی قیادت کا مؤقف جس کو ریاست میں بھر پور عوامی تائید بھی حاصل ہے، یہ ہے کہ اقوام متحدہ میں پاس شدہ قراردادوں کے تحت ریاستی عوام کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کے لئے  بنیادی حق خود اردیت فراہم کیا جائے۔

اس کے علاوہ مسئلے کے تینوں بنیادی فریق (کشمیری، پاکستان اور بھارت)  بامعنی مذاکرات اور گفت و شنید کے ذریعے ایک متفقہ حل بھی تلاش کرسکتے ہیں ۔ لیکن سابق سراغرسان کو مذاکرات کار مقرر کرنے سے بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کا رویہ مزید ابھر کر سامنے آیا ہے۔ بھارت، ریاست میں طاقت کی بولی بول کر عوامی جذبات کو دبانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ریاست میں ہورہی انسانی حقوق کی زیادتیوں ، غیرقانونی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں کے خلاف موجود غم و غصہ ہی عوامی احتجاج کے لئے بنیادی وجہ اور ایندھن کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ مسئلے کے پائیدار حل تک پہنچنے کی کسی بھی ایسی غیر سنجیدہ پیش رفت کے کامیاب ہونے کے امکانات بہت کم ہیں ۔ بلکہ بعض حلقے تو کھل کر اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ سابق سراغرسان کو بھیج کر دراصل بھارت کی مرکزی سرکار محض معلومات اکٹھا (Information Gathering)کرنا چاہتی ہے تاکہ عوامی جذبے کو توڑنے کی کوئی نئی پالیسی ترتیب دینے میں انہی معلومات کو استعمال میں لایا جائے۔

 بھارت کی مرکزی سرکار سے متعلق لوگوں کے بیانات سامنے آنے  کے کئی دن بعد مزاحمتی قیادت نے ایسی کسی بھی لاحاصل اور غیر سنجیدہ کوشش میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔اس ساری صورتحال کے علی الرغم ریاست کی ناعاقبت اندیش ابن الوقتی قیادت بے وقت کی راگنیاں الاپنے کے لئے کبھی دلی کی گرم ہواؤں سے لطف اندوز ہونے کے لئے چلی جاتی ہے اور کبھی نصف رات کو مزاحمتی قیادت کے دروازے پر جاکر حاضر ہو جاتی ہے۔عوامی سطح پر بھی مذاکرات کاری کو محض ایک ڈھونگ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ این آئی اے کی تنگ طلب تحقیقات، فوجی سربراہ کا آپریشنز کو من و عن جاری رکھنے کا عندیہ، دلی کے مرکزی وزراء کے روایتی ہٹ دھرمی اور ضد پر مبنی بیانات صاف اشارہ کررہے ہیں کہ یہ محض وقت گزاری ہے اور مذاکرات کے نام پر ’’مذاق رات کا ڈرامہ‘‘ اسٹیج کیا جارہا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ مسئلہ سے متعلق جملہ فریقین باہمی طور پر مل کر بامعنی مذاکرات کا آغاز کریں اور اس مسئلے کا پائیدار حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں ۔اس ضمن میں سب سے بڑھ کر جس فریق کوپیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے وہ بلاشبہ بھارت ہے۔ بھارت کو روایتی خول سے باہر آکر زمینی صورتحال کا جائزہ لینا چاہئے اور عوامی خواہشات کا احترام کرنا چاہئے، اور اس بات کا اقرار کرنا چاہئے کہ’’ طاقت اور تشدد کا بے دریغ  استعمال ریاستی عوام میں مزید غم و غصے کوہوا دیتا ہے۔



⋆ واحد بشیر

واحد بشیر
بجبہاڈہ کشمیر سے تعلق ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے