ہندوستان

کشمیر مودی کی طرف دیکھ رہا ہے

حفیظ نعمانی

            اس وقت ملک میں جس بات پر سب سے زیادہ شور ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ یا تو بولتے نہیں اور بولتے ہیں تو ملک کے الگ الگ صوبوں میں ہر مسئلہ پر بول دیتے ہیں، وزیر اعظم چار دن پہلے کہہ چکے ہیں کہ ہر معاملہ میں لوگ وزیر اعظم سے ہی کیوں کہتے ہیں کہ وہ بولیں ؟ اور ہم اس کا جواب بھی دے چکے ہیں کہ پہلے لوک سبھا کے الیکشن میں اس کے بعد ہریانہ، مہاراشٹر، دہلی، بہار، بنگال، کیرالہ، آسام اور تمل ناڈو کے الیکشن میں صرف وہی بول رہے تھے، دوسرے پاس بیٹھے تو تھے لیکن آپ نے انھیں بولنے کا موقع ہی نہیں دیا، وہ تو قوال کی سنگت میں تالی بجا رہے تھے، اس لیے سب وزیر اعظم کی طرف دیکھتے ہیں۔

            وزیر اعظم نے دلتوں پرہونے والے مظالم کے خلاف دل کھول کر باتیں کیں، انھیں دلت بھائی کہا اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر تمہیں غصہ آئے تو مجھے مار لینا، دلت بھائیوں کو نہ مارنا اور زیادہ غصہ آئے تو ان کو نہیں مجھ کو گولی مار دینا۔ اسے پڑھے لکھوں کی زبان میں شاعری کہتے ہیں، اس لیے کہ انہیں یہ کہنا چاہئے تھا کہ ہر ریاستی حکومت کا فرض ہے کہ جو کوئی دلتوں کو مارے وہ انہیں ان سے زیادہ پٹوائیں، اور ان ہاتھوں کو توڑ دیں جو قانون اپنے ہاتھ میں لیں، وزیر اعظم نے تین تقریروں میں سے ایک میں بھی نہیں کہا کہ قانون بڑی نازک چیز ہے، اسے صرف باوردی پولیس کے ذریعہ عدالت کے ہاتھوں میں رہنا چاہیے اور جیسے گجرات میں قانون ہاتھ میں لیا گیا یا دادری میں قانون ہاتھ میں لے کر سنگھی ہندوئوں نے اخلاق کو شہید کیا یا مدھیہ پردیش کے ایک ریلوے اسٹیشن پر دو مسلم خواتین کو قانون ہاتھ میں لے کر مارا، بے عزت کیا اور کہا کہ عورت ہو اس لیے چھوڑدیا ورنہ جان سے مار دیتے، آخر یہ کون لوگ ہیں اور یہ اتنے طاقت ور کیوں ہیں ؟کیوں وزیر اعظم ان سے ڈرتے ہیں، اور یہ تو کہتے ہیں کہ مجھے گولی مار دو، یہ نہیں کہتے کہ جو قانون ہاتھ میں لے پولیس والے اسے دیکھتے ہی گولی ماردیں۔

            وزیر اعظم نے پھر وہی کہا کہ وہ کشمیر جو اس وقت دھوئیں میں گھٹ رہا ہے، ایک مہینہ سے زیادہ ہوگیا کہ وہ کرفیو میں بند ہے اور ہر دل میں درد رکھنے والا کشمیر پر بول رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ وزیر اعظم کو مداخلت کرنا چاہیے، لیکن مودی صاحب نہ تو خود جاتے ہیں اور نہ پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہیں، مدھیہ پردیش کے اس گائوں میں جہاں آزادی کے ایک سپاہی چندر شیکھر آزادؔ  پیدا ہوئے تھے، وہاں بے ڈھنگی پگڑی باندھ کر اور پھول دار کلابی باسکٹ پہن کر کشمیر کو جنت بتاتے رہے اور کہتے رہے کہ ہر ہندوستانی ایک دفعہ ضرور کشمیر دیکھنا اور وہاں کے سیب کھانا چاہتا ہے، وزیر اعظم نے کہہ دیا کہ میں آج کشمیر کے بھائیوں، بہنوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ملک کی آزادی کے دیوانوں نے جو طاقت ہندوستان کو دی ہے وہی کشمیر کو دی ہے اور کشمیری بھائی بہنوں کو یہ شکایت ہے کہ وزیر اعظم کشمیر کو کہتے تو ہیں کہ یہ ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے لیکن مانتے نہیں، اٹوٹ انگ تو دانت آنکھ اور انگلی بھی ہے، جب اس میں درد ہوتا ہے تو وہ منہ بند کرکے لیٹ جاتا ہے یا چیخ چیخ کر سب کو جگا دیتا ہے، یہ کیسا اٹوٹ انگ ہے جس کو ۵۰ گولیاں لگی ہیں اور سو سے زیادہ بچے اندھے ہوگئے ہیں اور سیکڑوں زخمی، لیکن وہ ہندوستان گھوم گھوم کر تقریریں کرتا پھر رہا ہے۔

            آج کی صورت حال کی ذمہ داری وزیر اعظم مودی پر ہے، بات وہی ہے کہ فوج یا پولیس کو یہ اختیار کیوں دیا گیا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ دہشت گرد کون ہے؟ اور اسے گولی مار کر انکائونٹر بتادے، اسے گرفتار کیا جاتا، عدالت میں ثابت کیا جاتا کہ اس نے کہاں کہاں دہشت گردی کی ہے، وہ صفائی دیتا کہ غلط فہمی کہاں ہورہی ہے؟پھر عدالت فیصلہ کردیتی، ہم نے ابتداء قانون کو ہاتھ میں لینے سے کی ہے، وہی بات یہاں بھی ہے، اوریہی بات گجرات میں، جب مودی وزیراعلیٰ تھے، بحث تھی کہ جسے پولیس نے چاہا دہشت گرد کہہ دیا، الزام لگا دیا کہ مودی کو قتل کرنے آرہے تھے، اور ہم چیختے ہی رہ گئے کہ ملک میں درجنوں وزیر اعلی ہیں اور گجرات میں مودی سے پہلے بھی وزیر اعلیٰ رہے اور بعد میں بھی، دوسال آنندی بین وزیراعلیٰ رہیں کوئی انہیں مارنے نہیں آیا، نہ انکائونٹر ہوئے لیکن نہ مودی صاحب نے تسلیم کیا نہ امت شاہ نے۔

            اب بحث یہ ہے کہ جسے دہشت گرد کہہ کر مارا گیا اسے کشمیری شہید کہہ رہے ہیں اور اب جموں کے ایک ہندو ایم ایل اے بھی مرحوم کو دہشت گرد نہیں مانتے لیکن فوج نے اگر غلطی بھی کردی ہے تو حکومت اس لیے ان کی حمایت کرتی رہے گی کہ فوج کا موریل نہ گر جائے، ایک طرف فوج کاموریل ہے اور دوسری طرف وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ ہم کشمیر کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہ رہے ہیں، ہم کشمیر کی ہر روایت کو طاقت دینا چاہتے ہیں، ہم کشمیر کے نوجوانوں کو روزگار دینا چاہتے ہیں، ہم کیسے کہہ دیں کہ یہ غلط ہے؟

            لیکن ہمارے سامنے ۲۰۱۵ء میں سیلاب کی تباہی ہے ا ور وزیر اعظم کے دعوے اور اعلانات ہیں اور کشمیریوں کے وہ تأثرات ہیں جووہ ہمارے مضمون پڑھ پڑ ھ کر ہمیں بھیجتے ہیں، ہر کشمیری کو وہ چاہے کتنا ہی تعلیم یافتہ اور سنجیدہ ہو یہ شکایت ہے کہ ہر ہندوستانی کو کشمیر سے محبت ہے مگر کشمیری سے نفرت ہے، اس بات کی سچائی جو دیکھنا چاہے وہ ملک کی ہر اس یونیورسٹی میں دیکھ سکتا ہے جہاں کشمیری لڑکے داخلہ لیتے ہیں۔

            میرے ساتھ بیٹوں جیسی محبت کرنے والے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے جب جب ملاقات ہوئی ہے انھوں نے یہی کہا ہے کہ ہندوستان کے لیڈر جتنی محبت کشمیر سے کرتے ہیں اس سے آدھی بھی کشمیریوں سے کرنے لگیں اورکشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے والے کشمیریوں کو کسی بھی درجہ میں رشتہ دار سمجھنے لگیں تو کشمیر کے سیبوں کی مٹھاس بڑھ جائے گی اور کشمیری ہر ہندوستانی لیڈر کو اپنا بزرگ ماننے لگے گا۔

            وزیر اعظم کو شکایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نوجوانوں کے ہاتھ میں پتھر دے دئے ہیں جبکہ انھیں شکر ادا کرنا چاہیے کہ کسی کے ہاتھ میں اے کے 47یا کلا شنکوف نہیں ہے، اگر وہ پاکستان نواز ہوتے تو اس طرح ان کے ہاتھوں میں جدید ترین ہتھیار ہوتے جیسے ملک کے کئی صوبوں میں نکسلیوں اور مائو وادیوں کے ہاتھ میں چین کے بنے ہوئے ہتھیار ہیں، اور جب ہم خبر چھاپتے ہیں تو لکھنا پڑتا ہے کہ ہمارے دس جوان شہید ہوگئے اور دو نکسلی مارے گئے، ملک سے محبت اور وفاداری کا نمونہ دیکھنا ہو تو وہ کشمیر میں نظر آتا ہے اور بغاوت یا مقابلہ دیکھنا ہو تو چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، بنگال، تلنگانہ اور مدھیہ پردیش میں دیکھ لو، کشمیر میں کشمیریوں کی لاشیں گرتی ہیں اوران ریاستوں میں نیم فوجی دستوں کے جوانوں کی، جبکہ چین جتنا کشمیر اور مقبوضہ کشمیر سے قریب ہے اتنا ان نکسلی ریاستوں سے نہیں ہے، لیکن جگہ جگہ نکسلیوں نے باغی حکومت قائم کررکھی ہے، یہ سب صرف اس لیے برداشت کیا جارہاہے کہ وہ جیسے بھی ہیں ہندو ہیں اور مودی سرکار کے جتنے بھی ترجمان ہیں اگر ان کے سامنے کوئی کشمیر کی صورت حال پر تشویش ظاہر کردے تو ان کے چہرے کی کمانیں کھنچ جاتی ہیں اور خود وہ گر وہ کشمیری پنڈتوں کا پاٹھ پڑھنے لگتے ہیں اور کسی کی زبان سے نہیں نکلتا کہ راجہ کی ڈوگرہ فوج نے کشمیری مسلمانوں کو دسیوں ہزار کی تعداد میں گولیوں سے بھون دیا، اور ملک میں ہندوئوں کے ہاتھوں سے جو مسلمان شہید ہوئے وہ ایک لاکھ سے زیادہ ہیں لیکن ہندو صرف ہندو کی موت کو یاد رکھتا ہے کیونکہ وہ اپنے کو ملک کا مالک سمجھتا ہے، اوریہ انصاف نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close