ہندوستان

کشمیر میں اخبار کیوں بند ہیں؟

رویش کمار

کشمیر میں اخبار بند ہے. انڈین ایکسپریس کے مطابق آج دوسرا دن ہے جب وہاں کسی کو اخبار نہیں ملا ہے. ریاستی حکومت نے چھاپنے اور تقسیم کرنے پر روک لگا دی ہے. دہلی میڈیا میں اطلاعات آئی ہیں کہ کرفیو کی وجہ سے تقسیم روکی گئی ہے. شائع شدہ کاپیاں ضبط کر لی گئی ہیں. سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ بھی بند ہیں. کرفیو کے کئی دن گزر جانے کے بعد خیال آیا کہ اخباروں کو بند کیا جائے. کیا کرفیو میں دودھ، پانی سب بند ہے …؟ مریضوں کا علاج بھی بند ہے …؟ معاصر انسان کے رہنے کے لئے کھانے اور پانی کے ساتھ اخبار بھی چاہئے. خبر نہ ملے تو اور بھی اندھیرا ہو جاتا ہے، افواہیں خبر بن جاتی ہیں اور پھر حالات تو بگڑتے ہی ہیں، دل بھی بگڑ جاتے ہیں، کھٹاس آ جاتی ہے.

وہاں پہلے بھی حالات کے بگڑنے پر اخبارات کے شائع ہونے پر روک لگتی رہی ہے، لیکن پہلے کے نام پر کب تک آج وہی سب ہوتا رہے گا. کیا وہاں دہشت گردی اخباروں کی وجہ سے پھیلی تھی …؟ کیا برہان وہاں کے میڈیا کی دین ہے …؟ کیا موجودہ حالات کے لئے مقامی میڈیا ذمہ دار ہے …؟ کیا وہاں مسئلہ کی وجہ کو ڈھونڈ لیا گیا ہے …؟ ان ہی اخبارات سے تو خبر آئی تھی کہ اننت ناگ تیرتھ یاترا راستے میں مقامی مسلمانوں نے کرفیو توڑکر مسافروں کی مدد کی. یہ بھی خبر آئی کہ مسلمانوں نے اپنے پڑوسی کشمیری پنڈت کی ماں کے جنازے کو کندھا دیا ہے. یہ بھی خبر آئی کہ بہت سے کشمیری پنڈت دوبارہ بھاگ آئے ہیں. ان خبروں سے لوگ وہاں کے تنوع کو دیکھ پا رہے تھے. اخبارات پر پابندی لگا کر باقی ہندوستان کے لوگوں سے بھی یہ موقع چھین لیا گیا ہے.

کشمیر کے اخباروں کو کشمیر کے لئے بند کیا گیا ہے یا باقی ہندوستان کے لیے …؟ پہلے بھی وہاں ایسا کشیدہ ماحول رہا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ پہلی بار لوگ کشمیر کی خبروں کے بارے میں گہرائی سے دلچسپی لے رہے تھے. کشمیر کی ویب سائٹ کی خبریں پڑھی جا رہی تھیں اور شیئر ہو رہی تھیں. دعوی سے تو نہیں کہہ سکتا، لیکن پہلی بار لگا کہ کشمیری میڈیا کی خبریں باقی ہندوستان تک پہنچ رہی ہیں. دہلی سے چلنے والی کئی ویب سائٹ پر کشمیری میڈیا اور دہلی کی میڈیا کوریج کا تقابلی مطالعہ ہو رہا تھا. کشمیری اخبارات کے نام بھارت میں جانے جا رہے تھے. ان کے ایڈیٹر نام نہاد قومی چینلوں میں آکر بولنے لگے. مقامی میڈیا کی خبروں کو لوگ شیئر کر رہے تھے. اس سے دونوں جگہوں کے قارئین کے درمیان ایک بہترسمجھ بن رہی تھی. ایک قسم کا بہتر ڈائیلاگ بن رہا تھا. کشمیر کی پیچیدگی سے بھاگنے والے میرے جیسے قارئین کے پاس بھی تقابلی مطالعہ کا ذریعہ دستیاب تھا. کشمیر کے لوگوں کو بھی لگا ہوگا کہ ان کی بات کہی جا رہی ہے. لکھی جا رہی ہے. اخبار بند کرنے سے یہ پیغام جائے گا کہ صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے اور حکومت وہاں کے لوگوں سے بات چیت نہیں کرنا چاہتی ہے. آخر حکومت اپنا موقف کن ذرائع کے ذریعہ لوگوں کے درمیان رکھے گی.

کئی بار مقامی اور دہلی میڈیا کی خبروں میں یکسانیت بھی ہوتی تھی اور کئی بار اختلاف بھی. اس سے خبروں کا تنوع بنا رہا. پھر بھی مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ان خبروں میں ایسا کیا تھا جو وہاں کے لوگ نہیں جانتے ہیں اور جو وہاں سے باہر کے لوگ نہیں جانتے ہیں …؟ کیا ابلتا کشمیر لکھ دینے سے حالات میں ابال آجاتا ہے …؟ اگر یہ صحیح ہے اور یہ حساس خبر نہیں ہے، تو اسے شائع ہونے میں کیا دشواری ہے. اگر کشمیری میڈیا مبینہ طور پر پروپیگنڈہ کر رہا تھا تو کیا ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ دہلی کا میڈیا یہ کام نہیں کر رہا ہوگا؟ کیا یہی تاثر دہلی میڈیا کی خبروں اور ادارتی تحریروں میں نہیں ہے …؟ فرضی خبروں کے سہارے کیرانہ کو کشمیر بتا کر کون کسے ابال رہا تھا، اس پر بھی وقت نکال کر سوچنا چاہئے.

کشمیر کے کئی حلقوں سے آواز آئی کہ دہلی کے کچھ میڈیا جھوٹی باتوں کی تشہیر کرکے ماحول بگاڑ رہے ہیں۔ کشمیر کے آئی اے ایس افسران سے لے کر باقی ہندوستان کے تمام لوگ دہلی کی میڈیا پر سوال اٹھا رہے تھے کہ کچھ اینکر ایسے باولے ہو گئے ہیں، جن کی وجہ سے حالات اور خراب ہو سکتے ہیں. آئی اے ایس شاہ فیصل نے صاف صاف نام لے کر لکھا کہ کون کون سے چینل ہیں جو افواہیں پھیلا رہے ہیں.ایک افسر نے تو باقاعدہ نام لے کر لکھا ہے کہ ایک چینل ماحول بگاڑ رہا ہے .میں نہیں کہتا کہ اس بنیاد پر چینل کے بارے میں کوئی فیصلہ کر ہی لینا چاہئے لیکن اس پر خاموشی بھی بتا رہی ہے کہ کون کس طرف ہے. اگر حکومت کی فکرمندی ماحول نہ بگڑنے دینے کی ہے تو کیا اس نے وہاں کے لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ دہلی میڈیا کے کچھ عناصر کی بھی پڑتال کرے گی. اول تو یہ کام حکومت کا ہے نہیں پھر بھی اسے یہ خیال رکھنا چاہئے کہ اس پر جانبداری کا الزام نہ لگے. پھر بھی پابندی کا کوئی تک نہیں بنتا. نہ یہاں، نہ وہاں. ایک فرق اور دکھا. کشمیری میڈیا کشمیر سے بات کر رہا تھا اور دہلی کا میڈیا کشمیر کے بہانے شمالی بھارت میں پھیلے تعصبات کو لے کر بات کر رہا تھا. ان ہی پرانے مفروضات کو بھڑکا رہا تھا جو ٹرکوں پر لکھے ہوتے ہیں – ‘دودھ ماںگوگے تو کھیر دیں گے، کشمیر ماںگوگے تو چیر دیں گے …’ لیکن پابندی کشمیری میڈیا پر لگائی گئی. کہیں کے میڈیا کو روکنے کا فیصلہ منطقی نہیں لگتا. اس سے تو ہم کہیں نہیں پہنچیں گے. ٹرک تو اوور لوڈنگ کے جرمانے سے بچنے کے لئے محصول پر رشوت دے کر نکل جائے گا اور ہمیں دے گا دو ٹكيا قوم پرستی. جیسے کشمیر کا سوال دودھ چاول کا سوال ہو.

ہر دوسرا تجزیہ نگار لکھ رہا ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو کشمیر کے لوگوں سے بات کرنی چاہئے، تو پھر وہاں کے اخباروں کو کشمیر سے بات کرنے کی سزا کیوں دی گئی …؟ وہاں کے اخبار وہاں کے لوگوں سے ہی تو بات کر رہے تھے. عام قاری کس طرح جانے گا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے. وہاں کے لوگوں میں بھی بھروسہ بنتا کہ ان کی باتیں باقی ہندوستان تک پہنچ رہی ہیں اور لوگ ان کے بارے میں بات کر رہے ہیں. تشدد کے راستے سے کشمیر کو لوٹانے کے لئے سب یہی تو کہتے ہیں کہ بات چیت ہوتی رہے. تھوڑے دنوں بعد سارے ڈاکٹر اپنی پرچی پر یہی لکھیں گے کہ حکومت بات کرے.

اس وقت حکومت کا کام اخبار کررہے ہیں. وہاں کے لوگوں سے وہاں کی بات کر رہے ہیں. اس سے ایک ڈائیلاگ قائم ہوتا ہے. صحیح اور مختلف اطلاعات لوگوں میں اعتماد پیدا کرتی ہیں. جمہوریت کے تئیں اس یقین کو زندہ رکھتی ہیں کہ بولا سنا جا رہا ہے. پریس پر پابندی ہے اور پریس خاموش ہے. ہم سب کو چپ رہنا اب آسان لگتا ہے. اس سوشل میڈیا میں بھی خاموشی ہے جو بن بلائے جمہوریت کی بارات میں ناچنے آ گیا ہے کہ ہم ہی اب اس کے محافظ ہیں. وہ بھی خاموش ہے. بولنے کی پابندی کے خلاف سب کو بولنا چاہئے. واجپئی جی کے الفاظ میں یہ اچھی بات نہیں ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close