کشمیر میں تشددکی وجہ محض غلط بیانی!

مظہراقبال خان

آئے دنوں پورے ملک سے جموں و کشمیری کی حصوصی حیثیت یعنی آیئن ہند کے دفعہ370اور 35A کو ختم کرنے یا،ختم ہونی چاہے اور کشمیر کو پوری طرح سے ہندوستان کے ساتھ جوڑے جانے کی آواز یں آرہی ہیں کشمیریوں کو غیرانسانی طریقے سے کچلنے کا پرچار کیا جا رہا ہے، لیکن کیوں ملک کے لوگوں کو یہ کیوں نہیں بتایا جارہا ہے کہ حکومت ہند کا ایک فیصلہ یہ بھی تھا کہ کشمیرہندوستان کا کھبی حصہّ نہیں رہا اور کشمیرکو جب 1947ء میں اپنے ساتھ ملایا تو دو فریقین کے درمیان معاہدہ کیا تھاکشمیر ہندوستان کا آینی حصہ نہیں ہے لیکن ہندوستان کے آئینی نظام میں حق خود داری کے لئے دفعہ 370حصوصی حیثیت کے ساتھ دیا گیا جس کی وجہ بھارتی نظام حکومت امور خارجہ، کرنسی اور فوج کے علاوہ کشمیر کی حکومت میں کس طرح کی مداخلت نہیں کر سکتا۔

لیکن 65سال سے دہلی کی حکومت نے کشمیر میں کیا نہیں فوج جو سرحدوں کی خفاظت کے لئے ہے کشمیر کی اندرونی معاملات پر فائز کر دیا گیا اندازہ لگائے کہ ہندوستان میں اتنا بڑا جاٹ آندولن ہوا، گوجر ا ٓندولن ہوا، کاویری کو لے کر کرناٹک اور بنگلور میں اتنا بڑا آندولن ہوا،ان میں کوئی گولی نہیں چلائی گئی، فوج کے دستوں کوتعینات نہیں کیا گیا، پولیس کی طرف سے کوئی بھی کاروائی نہیں کی گئی، کسی کو بھی دہشت گرد نہیں کہا گیا، اس کی نسبت جب کشمیری عوام اپنے حق خود واریت کی مانگ کرتے ہیں تو اُن کو دہشت گرد کہا جاتا ہے، اُن پر بھارت کی تمام طرح کی فوجیں لگادی جاتیں ہیں، پیلٹ کا استمال ہوتا ہے، گلی گلی چورا ہے ، چوک، سڑک، بازار، قصبہ، محلہ میں دفعہ 144لگا دیا جاتا ہے، حق کی آواز کو دبانے کے لئے طرح طرح کے حربے کے جاتے ہیں اور اب تو کشمیریوں کو پاکستانی کہا جا رہا ہے، کیوں ؟بہت کشمیری شہید ہوتے ہیں سکورٹی فورسز کے جوان شہید ہوتے ہیں، لاکھوں زخمی ہوتے ہیں، ہزاروں بے اولاد ہوتے ہیں، بے شمار عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں، بہت سارے یتیم ہو جاتے ہیں غر ضکہ کشمیر میں کوئی ایسا فرد نہیں جس کا کشمیر کی اس تحریک میں کوئی گزر نہ چکا ہو جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کی حق داو رادیت کی مانگ آزادی کی مانگ میں بدل گئی اور آج کشمیر کے 6 سال کے بچہّ سے لے کر قریب از مرگ بزرگ کی زبان پر آزادی کی مانگ ہے آخر ایسا کیوں ہے اگر وہ خود مختاری مانگتے ہیں تو اُنہیں دہشت گرد اور پاکستانی کیوں کہا جارہا ہے؟

کشمیر کے لوگوں گزشتہ 65 برسوں سے نظام کی چوک لا پرواہی یا مجرمانہ چشم پوشی کی وجہ سے یاد آگیا ہے کہ کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ شامل کرنے کا سمھجوتا ہوا تھا۔مہاراجہ ہری سنگھ اور آزاد ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ مونٹبیٹن کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جس کے گواہ مہاراجہ ہری سنگھ کے صاحبزادے مہا راجہ کرن سنگھ ابھی موجود ہیں اُس میں صاف لکھا ہے کہ کشمیرکو ہندوستان کے ساتھ جوڑنے کے لئے آئین ہند کے دفعہ 370 کو خصوصی حیثیت کے ساتھ نافذ کیا جائے گا اور instrument of  accession  میں شامل معاہدات کو دفعہ 370کی حصوصی درجہ کے ساتھ ریاست جموں و کشمیر میں عملا یا جائے گا اور کشمیر میں امور خارجہ، فوج اور کرنسی صرف تین معاملات کے علاوہ حکومت ہند کس بھی معاملہ میں دخل نہیں دے گیا۔اور آئین ہند کا یہ دفعہ تب تک کشمیر کو اندرونی خود مختاری دے گا جب تک کشمیر کی عوام خود اپنے مستقبل کولے کر فیصلہ ریفر نڈم کے ذریعے نہیں کرتے ۔کشمیر کے لوگوں کو ریفرنڈم چار پانچ سال میں بھول گے۔ اور شیخ محمدعبداللہ کا کامیابی کے ساتھ حکومت کر رہے تھے۔

لیکن بھارت کے پہلے وزیر اعظم نے شیخ محمد عبداللہ کو جیل میں ڈالایا جس کی وجہ سے کشمیر میں ہندوستان کے تیئس عدم اعتمادی پیدا ہوئی ۔1974میں شیخ عبداللہ اور ہند کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے درمیان معاہدہ ہوا جس کی بنا پر شیخ صاحب کو ریاست کا وزیرا علٰی بنا دیا گیا اور انہوں نے اس معاہدہ کے دوران بھی حکومت چلائی انہوں نے حکومت ہند سے جن جن چیزوں کی مانگ کی تھی اُن کو سرکار نے پس پشت ڈالایا اور ایک بار پھر سے کشمیر ی عوام کے دلوں میں زخم ڈالئے کئی مرتبہ کشمیر یوں کی مانگوں کو ٹھکرا دیا گیا اور کشمیر کو آیئن ہند کی طرف سے دی گئی حصوصی حیثیت کو کم کرتے کرتے آج اُس کو ختم کرنے کے دھانے پر آپہنچے۔

قابل ذکر بات ہے کہ آئے دنوں کشمیریوں کو دہشت گرد کہنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی بھی کہا جا رہا ہے کہ کشمیر ی نوجوان پاکستانی ہیں ؟ کیا وہ دہشت گرد ہیں ان باتوں کا جواب یہی ہے کہ اگر ایک آدمی چوری نہیں کرتا ہے لیکن پھر بھی ہر کوئی اُس کو چور کہے گا تو وہ چوری ضرور کرے گا، حالانکہ وہ چور نہیں تھا ایسا ہی ہو رہا ہے، کشمیری نوجوانوں کے ساتھ۔ آپ مشاہدہ کیجئے اور کرتے بھی ہوں پورے بھارت میں عام شہری بھی مسلمانوں کو حصوصا ًکشمیری جوانوں کو دہشت گرد کہتے ہیں اتنا ہی آئین کا ستون میدیابھی کم نہیں ہے وہ ہر بات کے ساتھ پانچ مرتبہ مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے ہیں خاص طور سے الیکڑانک میڈیاکے مباحثوں (Debates)میں مسلمانوں کو بلا یا جاتا ہے، بے عزتی کی جاتی ہے، کچھ دن پہلے ایک ڈیبیٹ میں ایک صحافی تو سیدھا کیہ رہا تھا کہ کشمیر ی پتھر باز پاکستانی ہیں پاکستان چلے جائیں شاید انہی وجہوہات سے کشمیر کے نوجوان پتھر اُٹھا رہے ہو نگے اور پاکستان کے جھنڈے لہراتے ہوں گے ۔جیسا کہ میں اوپر ذکر کر چکا ہوں کہ کشمریوں کی تحریک خود داریت کی مانگ کی تحریک تھی شاہد اسی وجہ سے یہ آزادی کی مانگ میں بدل گئی ہو۔

ریاست کے موجودہ حالات کتنے اچھے ہیں اور ان کو سدھارنے کی کتنی کوششیں کی جا رہی ہیں اوران کا ذمہ دار کون ہے یہ تو سب جانتے ہیں لیکن اس کے باوجود دفعہ 35Aپر ایک نئی بحث چھیڑلینا کون سی عقلمندی ہے۔ یہ تو ریاستی عوام کے پیلٹ کے زخم پر پھر سے گولی مارنے کے مترادف ہے، ایسے  میں کسی کشمیری یا کسی مسلمانوں کو پاکستانی کہنا بھی کوئی عقلمندی نہیں ۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے دوسری طرف وادی کے شہریوں کو پاکستانی کہا جا رہا ہے۔ یاد رہے کس مسئلہ کا حل تشدد گالی گلوچ غلط بیان بازی سے نہیں ہو سکتا اور نہ ہی پولیس تھا نوں، جیلوں اور ڈنڈے بندوق ، پیلٹ ، فوج اور پولیس سے کیسی معاملہ کا حل نہیں ہو سکتا، ہر مسئلہ کا حل محض بات چیت عدالت اور پنچائت سے ہی ہو سکتا ہے۔

15اگست کی تقریب لال قلعہ سے مور عاجی اپنی تقریر میں کشمیر ی عوام کو ایک خاص جگہ دی اور اُمید ہے کہ وہ دل میں بھی کشمیر کو جگہ دیں گے اُنہوں نے کہا نہ گالی سے، نہ گولی سے، پر یورتن ہو گا گلے لگانے سے، سمسیا کا حل ہو گا ہر کشمیری کو گلے لگانے سے، اُن کا یہ بیان خوش آئیند تب ثابت ہو گا جب وہ اس کو عمی طور پر اپنا ئیں گے۔ریاست کی مخلوط حکومت نے بھی یقین دہانی کرائی کہ وادی کی حصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی لیکن اگر دیکھا جائے تو موجود مخلوط حکومت جس کی قیادت بی جے پی اور پی ڈی پی کر رہی ہیں جن میں بی جے پی ریاست کو حصوصی پوزیشن دینے والے دفعات کو ختم کرنا چاہتی ہے جبکہ پی ڈی پی اُس کا دفع کر رہی ہے۔ دونوں پارٹیوں کی سوچ بھی الگ الگ ہے یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک سانپ کے دو منہ ۔ریاستی حکومت کو حصوصی درجہ کے متعلق اپنا موقف ظاہر کر دینا چائیے تاکہ وادی کی عوام کو مزید رنج و الم اور فکر اندیشہ کا سامنانہ کرناپڑے۔ضرورت ہے کہ موجودہ مسائل و حالات کو مِد نظر رکھتے ہوئے اور ریاست کی حصوصی حیثیت ک بغیر چھیڑے براہ راست کشمیری عوام کی امنگوں اور خواشہات کو دریافت کیا جائے۔میں تو یہاں تک کہوں گا کہ کشمیر اصل میں مہا راجہ ہری سنگھ کی وراثت تھی اور اُن کے صاحزادے مہا راجہ کرن سنگھ آج بھی زندہ موجود ہیں موصوف مہاراجہ کو چاہے کہ موقع کی مناسبت سے وہ ریاست کی تحریک آذادی کی قیادت کر رہے حریت کا نفر نس کے قائدین سے بذات خود بات چیت کریں ہو سکتا ہے کہ ایسا کرنے سے اس مسئلے کا کوئی حل نکل سکے۔



⋆ مظہر اقبال خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے