طنزو مزاحہندوستان

کل یگ کا چانکیہ

ڈاکٹر سلیم خان

کیوں بھئی کلن بہت پریشان نظر آرہے ہو ؟ کیا بات ہے؟

کلن بولا کچھ نہیں بھائی کوئی خاص بات نہیں۔ رات ایک سپنا دیکھ لیا۔ اسی سے سارا موڈچوپٹ ہوگیا۔

ارے بھائی خواب تو خواب ہے۔ سپنوں سے بھی کہیں  مزاج بگڑتا  ہے؟

کیوں نہیں؟ جب سپنے دیکھنے سے طبیعت بحال ہوجاتی ہے تو ناساز کیوں نہیں ہوسکتی؟

للن نے کہا یہ تو ٹھیک ہےخیر کیا دیکھ لیا سپنے میں؟ کوئی جن بھوت تو نہیں آگیا تھا؟

ارے بھائی کیسی بات کرتے ہیں آپ؟ ہم شریف آدمی ہیں ایسے ویسے سپنے نہیں دیکھتے۔

اچھا تو کیا تم اپنی مرضی سے خواب دیکھتے ہوکیا؟ ہم تو بھائی بے اختیار دیکھتے ہیں۔

تب بھی ہم سپنے میں بھوت، چڑیل یا شاہ اور سیتارامن جیسے لوگوں کو نہیں دیکھتے؟

اچھا تو کس کو دیکھ لیا ؟

کلن بولا بھائی میں نے  چانکیہ مہاراج کو اپنے خواب میں دیکھا ہے؟

ابھی کہہ رہے تھے کہ شاہ کو نہیں دیکھتے اور ابھی کہہ رہے تھے چانکیہ کو کو دیکھا ہے۔ بات سمجھ میں نہیں آئی۔

ارے بھائی میں نے اصلی چانکیہ کو دیکھا تھا۔ وہ  منہ لٹکا  کر شکایت کررہے تھے کہ ہم لوگوں نے شاہ جی کو کل یگ کا چانکیہ کیوں کہنا شروع کردیا؟

کیوں وہ کانگریس میں تو شامل نہیں  ہوگئے ؟ بریکنگ نیوز پھیلا دوں کیا؟؟

جی نہیں ایسی بات نہیں ان کو امیت شاہ کی پرچم کشائی پر اعتراض تھا۔

ارے بھائی جھنڈا لہرانے کا حق تو ہندوستانی آئین نے ہرللو پنجو کو دے رکھا ہے اور  پھر شاہ جی تو بہت خاص آدمی ہیں۔

کلن بولا پرچم کشائی الگ چیز ہے اور اس کی پامالی مختلف شئے ہے۔ ایسالگتا ہے انہوں نے امیت شاہ کی ۱۵ اگست والی ویڈیو دیکھ لی ہے۔

یار کمال ہے کیا  سوشیل میڈیا کا جال پرلوک تک پھیل گیا ہے؟  لیکن رسی پکڑنے میں تو خود چانکیہ بھی کنفیوز ہوسکتے ہیں۔

میں نے بھی ان سےیہی کہا کہ گروجی یہ قدرت کا عجیب اصول ہے کہ  ایک رسی جھنڈے کو اوپر لے کر جاتی اور دوسری نیچے لے آتی ہے۔

انہوں نے کہا مجھے پتہ ہے اور دونوں ایک جیسی نظر آتی ہیں۔مجھے اس سے پریشانی نہیں ہے۔

للن نے حیرت سے سوال کیا اچھا تب وہ کیوں رورہے تھے ؟

وہ شاہ جی کی بعد والی حرکت پر ماتم کناں تھے۔

بعد میں کیا ہوا؟ میرے پاس جو ویڈیو آئی وہ تو بس  جھنڈے کے زمین پر آنے تک تھی۔کیا اس کے بعد بھی کچھ  ہوا؟

جی ہاں اسی نے چانکیہ مہاراج کو بے چین کردیا۔

ارے بھائی ہمیں بھی تو بتاو کہ آگے کیا ہوا؟ للن نے سوال کیا

کلن بولا  ہوا یہ کہ امیت شاہ نے پرچم کی جانب    پیٹھ  پھیر کرجھنڈے کے بجائے اپنے بھکتوں کو سلامی دے دی۔

للن بولا میرے خیال میں امیت جی نے ٹھیک ہی کیا اس لیے کہ  جھنڈا  ووٹ دے کر کانگریس مکت بھارت نہیں بناسکتے لیکن بھکت یہ چمتکار کرسکتاہے۔

کلن نے کہا وہ تو اچھا ہوا کہ چانکیہ میرے خواب آگئے تمہارے سپنے میں نہیں آئے ورنہ تو بیچارے خودکشی کرکے امر ہوجاتے!

ارے بھائی کلن خوابوں کے جہان  سے نکل حقیقت کی دنیا میں آو۔ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ مودی جی نے ۲۰۱۹؁ کی کمان پھر سے  شاہ جی کو سونپ دی ہے؟

کلن بولا پھر سے کیا مطلب؟ پچھلے قومی انتخابات کے وقت پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ اور مودی جی پارٹی کے امیدوار تھے ۔ شاہ جی کہاں تھے؟

وہ اتر پردیش کے نگراں تھے  اورکیا تم نہیں جانتے کہ  اسی صوبے نے بی جے پی کی تقدیر بدل کے رکھ دی تھی۔

اگر ایسا ہے تو پھر سے شاہ جی کو یوپی کا نگراں بنا دیتے۔

نہیں بھائی ایسا کیونکر ممکن ہے۔ پردھان جی کو شاہ جی کے سوا اور پر اعتماد ہی نہیں ہے۔ اس لیے پھر پارٹی کا صدر کس کو بنایا جاتا ؟

بی جے پی میں فی الحال دو دو سابق صدور موجود ہیں راجناتھ اور گڈکری ان میں سے کسی کو بھی بنایا جاسکتا ہے؟

للن بولا یہ نہیں ہوسکتا۔

کیوں نہیں ہوسکتا؟

اس لیے وزیر کی حیثیت سے جو سہولیات ملتی ہیں اور کمانے دھمانے کے جو مواقع میسر آتے ہیں وہ بھلا صدر کو کیسے ملیں گے؟

تم کس زمانے کی بات کررہے ہو کلن؟ یہ بتاو کہ شاہ جی بیٹے سے زیادہ آمدنی میں اضافہ کسی وزیر کے بیٹے کی کمائی میں ہوا؟

جی ہاں لیکن وہ دونوں خطرناک قسم کے حریف بھی تو ہیں۔

خطرناک ؟ میں نہیں سمجھا۔

کلن بھیا تم بہت بھولے ہو۔ ان دونوں کے سنگھ سے بہت اچھے تعلقات ہیں اس لیے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

کچھ بھی ؟ اس کا کیا مطلب ؟؟

یہی کہ اگر مودی جی کمزور ہوجائیں  تو سنگھ اپنے پسندیدہ آدمی کو پردھان سیوک بناسکتا ہے۔

اچھا!  تو وہ اب ایسا  کیوں نہیں کرسکتا ؟

اس لیے کہ فی الحال مودی جی سنگھ سے زیادہ طاقتور ہیں۔

تو  کیا سنگھ اپنے آدمی کو لانے کے لیے ان کے کمزور ہونے کا منتظر ہے؟

اس میں کیا شک ہے۔

کہیں اگلے انتخاب میں سنگھ کے سویم سیوک  مودی جی کو کمزور کرنے کے لیے بی جے پی کی جڑ نہ کھودنے لگ جائیں۔

سنگھ اتنا بڑا خطرہ کیسے مول  لے سکتاہے؟

جی ہاں سنگھ پریوار کی ہوشیار و بیدار لیڈر شپ ایسا احمقانہ اقدام کبھی نہیں  کرسکتی ہے۔

لیکن سنسکرت میں ایک محاورہ بھی تو ہے۔ ’وناش کالِ ویپریت بدھیّ‘

بھائی ہم کو آکاش وانی کی ہندی بھی نہیں آتی آپ سنسکرت بگھارنے لگے۔

ارے وہی ’برے وقت میں انسان کی مت ماری جاتی ہے‘ اور کیا۔ یہ تو کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

اگر ایسا ہوگیا تو انتخاب کے بعد بھی شاہ جی کے ہاتھوں سے پرچم اوپر جانے کے بجائے نیچے آجائے گا۔

جی ہاں، اور وہ مودی جی کو سلام کرکے اپنا راستہ ناپ لیں گے۔

لیکن وہ بیچارے کہاں جائیں گے ؟

کہیں بھی جاسکتے ہیں گاندھی جی کے سابرمتی آشرم سے لے کر تہاڑ جیل تک کے سارے دروازے ان کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔

لیکن چانکیہ جیل نہیں جاتا وہ توراج  محل میں رہتا ہے۔

جی ہاں ست یگ کا چانکیہ محل میں رہتا تھا لیکن کل یگ کے چانکیہ کا کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ لوک تنتر میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close