کہانی اپنے ہندوستان کی:قسط (8)-اسیرِ بت گراں

رمیض احمد تقی

Rameez
اس حقیقت سے کسی کو مجالِ انکار نہیں کہ ہندوستان دنیائے جمہوریت کاسب سے عظیم جمہوری ملک ہے،مگر کیا ہر ہندوستانی کو مکمل جمہوری حقوق حاصل ہیں؟ کیاملک میں اقلیت و اکثریت کو برابر کے حقوق دیے جاتے ہیں؟ کیا قانون کی ترازو میں دونوں کے گناہوں کو یکساں تولا جاتا ہے؟بلکہ قانون کے عینک کیاان دونوں کے گناہوں کو یکساں دیکھ پاتے ہیں؟تو جمہوریت میں سب سے بڑا المیہ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ہی کاتو ہے،گو کہنے کو تو جمہوریت میں ہرشخص کو برابری کا حق حاصل ہوتا ہے، مگر اسی جمہوریت میں کمزوروں کو دبایاجاتاہے، اقلیتوں کے ارمانوں اور تمناؤں کا جنازہ بھی اسی جمہوریت سے اٹھتا ہے ۔ہمارے ملک ہندوستان میں بھی اسی جمہوریت کی آڑ میں ہمیشہ اقلیتوں کی آزادی پر قدغن لگایا گیا، ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے اور پھر انہی جرم کی پاداش میں انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔(Gulf Daily News and Associated Press via the Daily Times and the International Herald Tribune ) کی رپورٹ میں واضح طور پر اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ جب راجندر سچر کمیٹی نے 2006 میں مسلم ویلفیئرکے حکومتی مطالعہ کا تجزیہ کیا تو ملک میں ہندوؤں کی آبادی84 فیصد تھی، مسلمان تقریباً 14 فیصد تھے ، توعیسائی کوئی 2.4 فیصد ، مگر جب ملک کے جیلوں میں قیدیوں کے اعداد و شمار کاجائزہ لیا ، تومسلمانوں کی لاچارگی کی ایک الگ داستان تھی ؛ اقلیت اکثریت میں بدل چکی تھی،ہندوستان کے تمام جیلوں میں مسلم قیدیوں کی شرح دوسرے قیدیوں کے بالمقابل دو گنی تھی ، چنانچہ کالم نگار روہن پریم کمار انڈین ایکسپریس ( 3/10/2015) کے اپنے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں کہ بہت ممکن ہے کہ آپ پابہ سلاسل جیلوں میں ڈال دیے جائیں، اگر آپ مسلمان ہیں،یا تخسوچت ذات (ایس سی)، تخسوچت جنجاتی (ST) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) سے تعلق رکھتے ہیں تو، چنانچہ نیشنل کرائم رکارڈس کے اعداد و شمار کے مطابق 20015 میں 53 فیصدقیدی مسلم، دلت اور قبائلی تھے، حالانکہ ہندوستانی آبادی میں ان تینوں برادریوں کی شراکت صرف 39 فیصدہی ہے، یعنی نصف فیصد سے زائد قیدی انہی تینوں برادریوں میں سے تھے،تاہم اس 53 فیصد قیدیوں میں بھی 26.4 فیصد قیدی صرف مسلمان تھے، جبکہ ملک میں ان کی کل آبادی تقریباً 14.2 فیصدہی ہے۔اس صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ آپ اس سے بھی لگاسکتے ہیں کہ 2013 میں قیدیوں کی تعداد تقریباً 420000 لاکھ تھی ، جن میں20 فیصدیعنی 84000 ہزارقیدی صرف مسلمان تھے، بلکہ حالیہ اعداد شمار کے مطابق ان مسلمان قیدیوں کی تعدادتقریباً 102,652 کو پہنچ چکی ہے۔
اگر صوبائی سطح پر بھی ان قیدیوں کو شمار کیا جائے، تو ان میں بھی مسلم قیدی ہی زیادہ ہیں ،تاہم زیادہ تر مسلمان صوبۂ مہاراشٹرا،گجرات اور کیرل کے جیلوں میں قید ہیں؛مہاراشٹرا میں مسلمان تقریباً 10.6 فیصد ہیں،تومہاراشٹرا کے مجموعی قیدیوں میں 32.4 فیصد مسلمان ہیں، بلکہ اگران مسلم قیدیوں کوبھی شمار کیا جائے، جو صرف ایک سال یا اس سے کم مدت کے لیے جیلوں میں ڈالے جاتے ہیں، تو پھر ایسے مسلم قیدیوں کی تعداد تقریباً 42 فیصد ہوجاتی ہے۔گجرات میں مسلمانوں کی آبادی 9.06 فیصد ہے ،تووہاں کے جیلوں کی جو آبادی ہے ان میں 25 فیصد مسلمان ہیں۔ آسام 30.9 فیصد کے ساتھ مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے جمو کشمیر کے بعدہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا صوبہ ہے ،یہاں بھی جیلوں میں 28.1 فیصد مسلم قیدی ہیں۔ ریاستِ کرناٹک میں مسلمانوں کی آبادی 12.23 فیصد ہے ، تو وہاں کی جیل آبادی کا 17.5 فیصد بھی مسلمان ہی ہیں۔اسی طرح انڈر ٹرائل قیدیوں میں بھی زیادہ تر مسلمان ہی نظرآتے ہیں،چنانچہ این سی آر بی(نیشنل کرائم رکارڈس بیورو)کے قیدی ڈیٹا تجزیہ نگاروں کے مطابق جن انڈر ٹرائلس قیدیوں کو ہندوستان کے مختلف جیلوں کے لیے بک کیا جاتا ہے ،ان میں 21فیصد سے زائد مسلمان ہوتے ہیں، مغربی بنگال، مہاراشٹرا، گجرات اور راجستھان جیسی ریاستوں کے جیلوں میں انڈر ٹرائل مسلم قیدیوں کی تعداد ان کی مجموعی آبادی سے دو گنی زیادہ ہے ،چنانچہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق بنگال میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 27 فیصدتھی، جبکہ انڈر ٹرائل جیلوں میں 47 فیصد مسلم قیدی تھے۔ مہاراشٹرا میں تقریباً 12 فیصد مسلمان تھے، تو انڈر ٹرائل جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً26 فیصد تھی۔ گجرات میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی تقریباً 10 فیصد تھی، تو وہیں انڈر ٹرائل جیلوں میں 23 فیصد مسلمان تھے ۔صوبۂ راجستھان کا کیا پوچھنااگر یہاں نو فیصد مسلم آبادی تھی، تو اس کی آبادی کا دوگنہ یعنی اٹھارہ فیصد انڈر ٹرائل جیلوں میں مسلم قیدی تھے ۔ کیرل کے27 فیصد انڈر ٹرائل قیدیوں میں 23 فیصدتو صرف مسلمان تھے ۔کرناٹک میں اگر مسلمانوں کی آبادی 12 فیصد تھی، تو جیلوں میں 13 فیصد مسلمان انڈر ٹرائل قیدی تھے، آندھرا پردیش میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 10 فیصدتھی ،تو انڈر ٹرائل قیدیوں میں مسلمان15 فیصد تھے اور دیش کی دارالحکومت دہلی میں مسلمان 13 فیصد ہیں ، مگر افسوس کہ 22 فیصد یعنی اپنی آبادی کے اعتبار سے تقریباًدو گنا وہاں مسلم قیدی تھے۔جھارکھنڈ اور یوپی ان دونوں ریاستوں میں بھی مسلمان اپنی آبادی کے لحاظ سے دوگنا جیلوں میں ہیں، البتہ بہارمیں اگر 17 فیصد مسلمان تھے،تووہاں قیدیوں کی آبادی میں ان کی شراکت صرف18 فیصد تھی جو تمام صوبوں کے بالمقابل یقیناًکم ہے ۔
یہاں ایک بات ذہنوں میں ضرور کلبلاتی ہے کہ آخر اقلیت جیلوں میں اکثریت کیوں بن جاتی ہی؟ تواس کاکئی لوگوں نے اپنے اپنے ظرف کے اعتبار سے کئی جوابات دیے ہیں، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ان قیدیوں میں سے زیادہ تر لوگ غریب اور ناخواندہ ہوتے ہیں اور ان کی انہی مفلسی اور حقیقت ناشناسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہماری پولیس ان کے خلاف داستانِ ظلم لکھتی ہے ، چنانچہ زیادہ تر ماہرینِ سماجیات کا یہی کہنا ہے کہ قیدی گرچہ ان برادریوں میں سے زیادہ ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ زیادہ جرائم کرتے ہیں، بلکہ یہ معاشی اور سماجی سطح پر بہت غریب ہیں ، جو مہنگے ترین مقدمات نہیں لڑ سکتے ، بلکہ اکثرو بیشتر ضمانت کے لیے بیل کی رقم ادانہیں کرپاتے ، اسی لیے جیل ان کا مقدر بن جاتا ہے ، تو کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان لوگوں کو اکثر جھوٹے کیسوں میں ہدف بناکر جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، جیسا کہ اقلیتی سیاسی اور سماجی تنظیمیں اس تعلق سے اکثر پولیس کی عصبیت کو دوس دیتی ہیں ، نیز حقوقِ انسانی کے سرگرم رکن اور وکیل ’ Colin Gonsalves ‘کا کہنا ہے کہ ہمارے نظام میں فرقہ واریت اور ذاتی وادبالکل جڑ تک سرایت کیے ہوئے ہیں اور ان تینوں برادریوں کے لوگ چونکہ پولیس اور عدالتی شعبوں میں بہت کم تعداد میں ہیں ، پولیس عصبیت کی بنیاد پر انہیں گرفتار کرتی ہے، توعدالت میں ان کے معاملات بھی اتنے ملتوی ہوتے چلے جاتے ہیں جوبے چارے ملزم کو جیل تک کھینچ لے جاتے ہیں، نیزسچر کمیٹی کے رکن’ ابولیث شریف‘کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان کے جیلوں میں زیادہ دن رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان میں اپنے مقدمات از خود لڑنے اور اس پر گفت و شنید کرنے کی اہلیت نہیں ہوتی ،چونکہ غربت کے باعث یہ کسی کو معاوضہ پربھی نہیں رکھ سکتے، اس لیے جس پر الزام لگتا ہے وہ بے چارہ مجرم بنتاچلا جاتا ہے ۔ انڈین ایکسپریس کے صحافیوں سے بات چیت کے دوران حقوقِ انسانی کے سرگرم کارکن اور تنظیمِ حقوقِ انسانی کے نیشنل کنفیڈریشن کے صدر ’اے مارکس‘ نے کہا کہ ہمارا مجرمانہ نظامِ عدل موروثی طور پر پسماندہ طبقوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف تعصب کا رویہ اختیار کرتا آیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ 1980 کے بعد سے ہی جب پولیس مسلم نوجوانوں کو ناحق گرفتار کرنے لگی، تو یہ مطالبہ کیا گیاکہ انڈر ٹرائل مسلم قیدیوں کے مقدمات کو حل کرنے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں، تاکہ جلد از جلدبے گناہوں کی رہائی ممکن ہو اور آفیسروں کی لاپروہی پر انہیں فواراًسزا دی جائے اور حکومت ان بے گناہوں کا ہرجانہ دے ،مگر افسوس کہ فاسٹ ٹریک کا وجود تو ہوا،مگر ظالمین کے لیے نہ کہ مظلوموں کے لیے۔منی تھانیا مکل کاچی(Manithaneya Makkal Katchi)کے سینئر رہنماایم ایچ جواہراللہ نے گذشتہ چندسالوں کے واقعات بشمول 2008 میں ہوئے مالیگاؤں بم بلاسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بلاسٹ کے بعد بلا تحقیق مسلم نوجوانوں کو صرف شک کی بنیاد پر گرفتار کرلیا گیا، مگرجب حقیقت کھل کر سامنے آئی، تو پتہ چلا کہ یہ تو ہندو کٹر پنکھیوں کی شاطرانہ چال کا ایک نمونہ تھا ، انہوں نے مزید کہا کہ جن رپورٹس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جیلوں میں مسلمان قیدی بہت زیادہ ہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان میں جرائم زیادہ ہیں،یا وہ دہشت پسند ہیں بلکہ ہماری پولیس کے نظام میں ہی تعصب ہے، جو صرف ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو گرفتار کرتی ہے اور ناحق انہیں جیل میں قید ہونے پر مجبور کرتی ہے ۔
درحقیقت آزادی کے بعد سے ہی کچھ لوگوں نے مسلمانوں کو ٹارگیٹ بنا کر ہندوستان میں ان پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کی ناکام کوششیں کیں اور جب امریکہ نے دہشت گردی کی آڑمیں نام نہاد’ امنِ عالم‘ کا پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹا، تو سنگھیوں، بنام ’دیش بھگتوں‘ کو اچھا موقع ملا اور انہوں نے اسی صدا پر لبیک کہتے ہوئے ہندوستان میں مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لیے دہشت گردی کا جھوٹاناٹک رچایا، چونکہ ہندوستانی حکومت ہمیشہ سے انہی کے اشاروں پر ناچتی آئی ہے، اسی لیے بلا کسی حتمی ثبوت ودلیل کے مسلم نوجوانوں کو دھر نے پکڑنے اور جیلوں میں قید کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ’نوبت بایں جارسید‘ کہ ہندوستانی جیلوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگئی؛ جن نوجوانوں کا کام ملک وملت کو ثریا کی بلندی دینا تھا، افسوس کہ جیل کی کالی کوٹھریوں نے ان کے پرواز کے پر ہی کو کاٹ دیا،نوجوانوں کے کندھے ہی پر ملک وملت کا پورا بوجھ ہوتا ہے،و ہی اپنے ملک وملت کی تقدیرعلم وہنر اور شجاعت وبہادری کے سنہرے حروف سے تحریر کرتے ہیں ، کیونکہ یہ وہی درخشندہ ستارے اور شعلہ بار کرنیں ہیں جن کی روشنی میں قوم اپنے مقصدکی بلندیوں کو پاتی ہے ، لیکن اگر یہی آفتاب بے نور کردیے جائیں، تو اس قوم اور ملک کا مستقبل یقیناتاریک ہی ہوگا!!!



⋆ رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی
رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

جمہوریت: ایک طلسماتی دنیا

 عشرت جہاں کو کہاں تک کامیابی ملی،یا اس کی آڑ میں بی جے پی کہاں تک ملک کے عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب رہی،یہ ایک ا لگ موضوع ِ بحث ہے،تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اس واقعے کے بعد عشرت جہاں کی شخصیت لوگوں کی نظروں میں کسی طلسماتی دنیا کی ٹوائے گرل کے طور پر توضرور ظاہر ہوگئی اورپھر ہفتوں اور مہینوں پردۂ سیمیں پراس کی آسیب زدہ کہانیاں دہرائی جاتی رہیں۔