ہندوستان

کہانی اپنے ہندوستان کی:قسط(4)- بے روزگاری

رمیض احمد تقی

Rameez

ہمارا ملک ہندوستان آبادی کے لحاظ سے گو دنیا کا دوسراعظیم ترین ملک ہے، مگر کیا اس کا ہر شہری برسرِ روزگار ہے اور کیااس ملک میں رہنے والے ہر شخص کو روٹی کپڑا اور مکان آسانی سے دستیاب ہے؟تو اس ملک میں آج ہر ایک کو اسی کا رونا ہے، روز بروز بڑھتی بے روزگاری اور آسمان کو چھوتی مہنگائی نے ہندوستانی عوام کو بالکل لاچار وبے بس کر دیا ہے، یہاں ہر شخص کوملازمت مل جانا تو دور کی بات، اگر ملک کے سارے تعلیم یافتہ ہی برسرِ روزگار ہوجائیں ، تو ملک کی شرحِ بے روزگاری میں گراں قدر کمی واقع ہو، کیونکہ جن لوگوں کے پاس ملک کی اعلیٰ تعلیمی اسناد ہیں، وہ خود بھی عاشقِ جوالہ کی طرح ملک کی منڈیوں میں مارا مارا پھر رہے ہیں اور جوناخواندہ ہیں ان کا کیا پوچھنا ، لاکھوں لوگ نوکری نہ ملنے یا اپنے لیے ملک میں کوئی بھی ذریعۂ معاش تلاش نہ کرپانے کی پاداش میں احساسِ کمتریں کا شکار ہوکر کبھی توخودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں،تو کبھی ان کی بھوک مری انہیں غلط کام اورغلط دھندھا کرنے پر اکساتی ہیں۔یہ تو ان پرائیویٹ کل کارخانوں اورتجارتی کمپنیوں کی کرم نوازی ہے جو حکومت کی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے موقع بہ موقع ملک کی عوام کے لیے مواقع فراہم کرتی ہیں ، ورنہ تو آزادی کے بعد سے آج تک ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو دورکرنے میں ہندوستانی حکومت نے کبھی بھی کوئی ٹھوس اور قابلِ ستائش اقدام نہیں کیا ، اگر آپ غیر جانب دارانہ ملک میں اندراج شدہ سرکاری ، یا غیر اندراج شدہ غیر سرکاری اداروں اور کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد کا تجزیہ کریں، تو آپ کویہ یقین نہیں آئے گا کہ ہماراملک بے روزگاری کو لے کر اس قدر غیر ذمہ دار ہے؟چنانچہ سن 2012 کے سروے کے مطابق پورے ملک میں برسرِ روزگار لوگوں کی تعدادتقریباً 487 ملین تھی اور اس وقت ملک کی آبادی تقریباً 1220 ملین تھی ،جن میں سے 94 فیصد لوگوں کوحکومت کی طرف سے کوئی اعانت حاصل نہیں تھی، البتہ ان لوگوں نے نانِ شبینہ کے لیے خود کا کوئی نہ کوئی ذریعۂ معاش ضرور تلاش کرلیا تھا۔ اگر ہم ذریعۂ معاش کو دو خانوں میں رکھ کرسونچیں تو اس کی دو صورتیں نکلتی ہیں ،ایک ’or Organised Sectors Formal ‘یعنی وہ ادارے اور کمپنیاں جو سرکاری رکارڈ میں درج ہوں اور حکومت نے ان کو تجارت کرنے کا لائسنس دے رکھا ہو،جس کی بنیاد پر وہ حکومت کو سیلس ٹیکس اور انکم ٹیکس وغیرہ دیتی ہوں، جیسے کہ بڑی تجارتی کمپنیاں،کل کارخانے، شاپنگ مال اور ہوٹل وغیرہ اور دوسرے کو ہم ’Unorganized or Informal Sectors ‘ سے تعبیر کر سکتے ہیںیعنی غیر اندراج شدہ وہ کاروبار جن کا حکومت کے کھاتے میں کوئی رکارڈ نہ ہو اور نا ہی حکومت کی طرف سے انہیں کوئی تجارتی لائسنس ملا ہو، جیسے کہ کھیتی گھرستی، دوکان دوری اور دیگر غیر اندراج شدہ معاشی سرگرمیاں، لہذااب اگر اس نظریہ سے مذکورہ بالا سروے کاجائزہ لیاجائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان 94 فیصد لوگوں کو ذریعۂ معاش کے لیے کوئی بھی حکومتی اعانت حاصل نہیں تھی ۔ اسی طرح جب 2008 میں رجسٹرڈ اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کا سروے کیا گیا تو ان کی تعداد 27.5 ملین تھی، جن میں سے 17.3 ملین لوگ تو حکومت اور ان سے منسلک اداروں میں کام کررہے تھے، جبکہ 10.2ملین لوگ اس وقت بھی پرائیویٹ سیکٹروں کا حصہ تھے۔مجموعی طور پر 1983 سے لے کر 2015 تک ملک میں بے روزگاری کی شرح اوسطاً 7.32 فیصدرہی ہے، جبکہ سب سے زیادہ بے روزگاری 9.40 فیصدکے ساتھ 2009 میں رہی اور سب سے کم 4.90 فیصد بے روزگاری 2013 میں تھی ۔
یہ توملک کی بے روزگاری پرایک عمومی تبصرہ تھا، تاہم اگر تعلیم یافتہ طبقہ میں بے روزگاری کی بات جائے، تو آپ کو تعجب ہوگا کہ ملک میں غیر تعلیم یافتہ کے بالمقابل تعلیم یافتہ لوگ زیادہ بے روزگار ہیں، چنانچہ وزارتِ عمل وروزگار کی رپورٹ کے مطابق سن 2011 میں گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور دیگر تکنکی ڈگریاں والے دس ملین تعلیم یافتہ بے روز گار تھے۔ اس وقت ملک کی کل آبادی تقریباً 1210 ملین تھی، جن میں تقریباً 116 ملین لوگ بے روزگار تھے اور ’دَ ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق ان116 ملینوں میں سے صرف بتیس ملین لوگ ہی غیرتعلیم یافتہ تھے، جبکہ 84 ملین لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ ملک کی بے روزگاری کی صورتِ حال کو آئینہ دکھانے کے لیے اس کے صرف ایک صوبہ ہی کی مثال کافی ہوگی کہ سالِ گذشتہ یوپی میں چپڑاسی کی نوکری کے لیے کل 368 آسامیوں پر بھرتی کے لیے خواہش مندامید واروں کی درخواستیں طلب کی گئیں، جن کے لیے یہ شرط تھی کہ وہ کم از کم پرائمری پاس ہوں اور انہیں سائیکل چلانا آتی ہو ، تو’دَ ہندو ‘کی رپورٹ کے مطابق اس نوکری کو پانے کے لیے2.3 ملین درخواستیں موصول ہوئیں اور طرفہ کی بات یہ ہے کہ ان میں دو لاکھ بائیس ہزار گریجویٹ اور 255 ایسے امیدوار تھے جن کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تھیں اور تنخواہ صرف سولہ ہزار..!اب آپ ہی اندازہ لگاسکتے ہیں جس ملک کے صرف ایک صوبہ میں بے روزگاری کی صورتِ حال اس قدر سنگین ہو، تو پھر پورے ملک کا کیا عالم ہوگا؟
ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو لے کریقیناًہر انصاف پسند شخص فکر مند ہے اور اس تعلق سے کئی باتیں سامنے آئی ہیں، چنانچہ IIM (Indian Institute of Management)بنگلورکے سابق ڈائریکٹر جناب جے فلپ نے ٹائمس آف انڈیا کے صحافیوں سے بات چیت کے درمیان ملک کی بے روزگاری کے تعلق سے جو بات کہی وہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے،انہوں نے کہا:’ ایک تو ہمارے طلبا میں گلوبل ہنر کی کمی ہے‘ چنانچہ اگر سروے کی مانیں، تو ہمارے گریجویٹ میں سے تقریباً 34 فیصد لوگ ہی ملازمت کے قابل ہوتے ہیں، بلکہ سن 2013 میں جب ہمارے انجینئروں کاجائزہ لیاگیا، تو ان میں سے تقریباً 90 فیصد لوگ ناقابلِ ملازمت تھے … ’اُف‘! اور دوسری بات جو انہوں نے بتائی وہ بھی واقعی بہت اہم ہے کہ ہمارے ملک میں مواقع بہت کم اورامیدوار بہت زیادہ ہیں، اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا کہ ہر سال ملک میں لاکھوں کی تعداد میں طلبا مینجمینٹ کالجوں سے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں، مگرمعاملہ یہ ہے کہ پورے ملک کی منڈیوں میں ہر سال صرف تین سے چار ہزار کے درمیان ہی منتظمانہ امیدواروں کی ضرورت ہوتی ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ جب پیداوار زیادہ اور سپلائی کم ہوگی، تو بے روزگاری بڑھے گی ہی‘۔کچھ لوگ ہماری اس بے روزگاری کے پیچھے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو بتاتے ہیں، تو اس سے کوئی انکار نہیں ،مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان ہی پوری دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے ؟ چائینہ پوری دنیا میں آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے ، مگر اس کی بے روزگاری کاتناسب اوسطاً 4.30 فیصدسے کبھی تجاوز نہیں کیا ، بلکہ اس قدر آبادی والا ملک ہونے کے باوجود آپ بہت کم ہی کسی چینی کو کسی دوسرے ملک میں نوکری کرتے ہوئے پائیں گے، جبکہ ہمارے ملک سے ملینوں لوگ ہرسال کسبِ معاش کے لیے بیرونِ ممالک کا سفرکرتے ہیں۔ اگر ہندوستان کا جاپان کا ساتھ موازنہ کیا جائے تو تقریباً دونوں کی آبادی کازمانہ ایک ہی ساتھ شروع ہوتا ہے 1947 میں ہندوستان آزاد ہوا اور 1945میں امریکہ نے جاپان میں ایٹم بم گراکر اس ملک کو بالکل نیست ونابود کردیا تھا، مگر اس کے بعد سے اس نے جو کوشش کی وہ یقیناًلائقِ صد تحسین ومبارک باد ہے، آج تمام ایشیائی ممالک میں صرف جاپان ہی واحد ایسا ملک ہے جو ترقی یافتہ ہے اورہمارے ملک کا کیا مقام ہے، یہ توہر کوئی اچھی طرح جانتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ آخر اس انحطاط اوربے روزگاری کا ذمہ دار کون ہے؟ ظاہر سی بات ہے کہ حکومت اور سیاست دانوں کے علاوہ کون ہوسکتاہے، جاپان کے حکمرانوں نے تو عوام کے ساتھ مل کر اپنے ملک کو چوٹی تک پہنچا دیا اور ہمارے سیاست دانوں نے عوام اور ملک کو دھوکہ دے کر ملک کو تحت الثریٰ میں پہنچا دیا ، ہمارے پی ایم صاحب جب کسی ملک کا دورہ کرکے تشریف لاتے ہیں، تو یوں محسوس ہوتا کہ شاید وہ ہندوستان کا رقبہ دراز کرکے آرہے ہیں ، ہردورے کے بعد ایک نیا اعلان، ایسا لگتا ہے کہ پورے دورے میں وہ صرف یہی سوچتے رہتے ہیں کہ اب کی بار کیا وعدہ کرنا ہے، تو وعدہ تو ہوجاتا ہے ، مگر اس کا نفاذ اللہ بھروسے، مودی حکومت نے الیکشن جتنے کے بعد سے لے کر اب تک اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا ،البتہ وفائے عہد کے نام پر انہوں نے ہر بار ملک کا نقصان ہی کیا ہے ، بلکہ مودی حکومت میں ملک کی کرنسی پل پل لمحہ بہ لمحہ ڈاؤن ہی ہوتی جارہی ہے اور جب ملک کی معیشت ہی کا جنازہ نکل رہا ہو تو وہاں بے روزگاری بڑھے گی نہیں توکیا کم ہوگی؟؟؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Close