ہندوستان

کہانی اپنے ہندوستان کی قسط (۱) – تاریخی حقائق

رمیض احمد تقی

Rameez
ہمارا ملک ہندوستان 3.288ملین مربع کلو میٹر پرمحیط ہے،اس کے نو ہمسایہ ممالک ہیں اور آبادی کے اعتبار سے یہ دنیا کا دوسرا اور رقبہ کے اعتبار سے دنیا کا ساتواں عظیم ترین ملک ہے۔اس ملک کی کل آبادی1,283,470,000 یعنی 9 1.2بلین ہے اور ہر منٹ میں یہاں تقریباً 51 بچے مزید پیدا ہوتے ،تو اس لحاظ سے اس کی کل آبادی کا اندازہ کرنا بھی انتہائی مشکل امر ہے،ان میں مردتقریباً 668,760,678 کروڑیعنی 668 ملین ہیں، جبکہ عورتوں کی تعداد626,283,237 کروڑ یعنی 626 ملین ہے ، یعنی 943 خواتین ایک ہزار مرد کے مقابلے میں۔ اس ملک کے ستر فیصد لوگ زراعت پر منحصر ہیں، جبکہ اس کی پوری معیشت کاپچہتر فیصد تو صرف زراعت سے آتا ہے۔یہ ملک سماجی، معاشرتی، لسانی اور مذہبی لحاظ سے دنیا کا واحد ملک ہے، جس کا دامن گلہائے رنگا رنگ سے مزین ہے، بہ الفاظِ دیگر یہ اوتاروں ، رشیوں اور خدا ترس لوگوں کا ملک ہے ، اس ملک میں تقریباً اناسی مذاہب اور سات سو تین ذات و برادری اور قبائل کے لوگ آباد ہیں اور یہی وہ ملک ہے جہاں کئی مذاہب تو معرض وجود میں آئے، کئی مذہبی پیشواؤں کو اسی سرزمین میں علم ومعرفت حاصل ہوئی ، یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگوں میں فطرتاً تقابلی مزاج پایا جاتا ہے،بلکہ تفاوت اور برتری کا مزاج؛ قدیم ہندوستا ن میں ہندوستانی انسانوں کی تقسیم ذاتیات اور طاقتوں کی بنیاد پر تھی،ان میں برہمن اور راجپوت سب سے اعلیٰ تھے، تمام لوگوں پر ان کی اطاعت وفرمان برداری فرض تھی، یہی تمام مذہبی امور میں دخیل وسہیم سمجھے جاتے تھے، بلکہ مندر اور معبد گاہوں کے بھی یہی بڑے پروہت اور کرتا دھرتا ہوا کرتے تھے، جبکہ کھشتری کو ہندوستان میں دوسرا مقام حاصل تھا، یہ برادری انتہائی طاقتور اور تلوار بازتصور کی جاتی تھی، اس لیے اسے ہندو سماج کا سپاہی کہا جاتا تھا،بلکہ سیاسی سارے اختیارا ت انہی کے ذمہ تھے اور یہ کھشتری اپنی طاقت کے بل بوتے دوسری حکومتوں کے تخت تارج کرتے اور برہمن ان پر حکومت کا من چاہی لگام کستے ، ان کے علاوہ پوری عوام انہی دونوں برادریوں کی غلام ہوتی اورجو نچلی ذات کے لوگ ہوتے وہ اس معاشرے میں غلیظ جانور بنام انسان اچھوت تصور کیے جاتے تھے اور کسی برہمن کا سب سے بڑاجرم یہ ہوتاتھاکہ وہ کسی شودر کو انسان سمجھنے کی بھول کردے، ان مظلوموں کو نہ تو مندروں میں جانے کی اجازت تھی اور نہ ہی برہمنوں کے علاوہ ان کا کوئی اورتصوراتی خدا ہوسکتا تھا، جب کوئی شودر گناہ کرتا ،تو برہمنی خود ساختہ قانون ان پر برقِ بے اماں بن کر ٹوتتا اور اگر وہی گناہ کسی برہمن یا کسی بڑی ذاتی کے کسی فرد سے سرزد ہوجاتا ،تو اپنی دیوں کو خوش کرنے کے لیے انہی مظلوم قوم کی جواں عمر بہو بیٹیوں کی بلی چڑھائی جاتی تھیں،الغرض قدیم ہندو سماج میں عجیب وغریب انسانیت سوز خود ساختہ قوانین رائج تھے، انسانوں کے درمیان عدمِ انسانیت کا ایک باغیانہ نظام تھا، شودر اور نچلی ذات کے لوگوں کا یہ سوچ لینا بھی کسی جرمِ عظیم کے ارتکاب سے کم نہیں سمجھاجاتا تھا کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو انسان سمجھیں ، انسان تو درکنار اگر کبھی ان کے دلوں میں اس کا خیال بھی آتا، تووہ کانپ اٹھتے کہ کہیں دیوی ماتا ان کے گھر بار کو ویرانۂ وخراباں نہ کردے ۔اللہ کی پناہ!!
اس بات کی صحیح تاریخ تو نہیں ملتی کہ اس قوم کی پیشانی پر کب ’’اچھوت ‘‘ کا بد نما داغ لگا، تاہم یہ لاریب حقیقت ہے کہ ان برہمنوں نے اس قوم کو کبھی انسان بننے ہی نہیں دیا، یہاں تک کہ جب ہندوستان میں اسلام کی پَو پھٹی ،تو جو لوگ برہمنوں کے ظلم وجور کی چکیوں میں پستے چلے آرہے تھے جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے اور یہ کہنا کوئی غلط نہیں ہوگا کہ موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کی اکثریت انہی بے نورآفتاب کی شعلہ بار کرنیں ہیں ، جن کو برہمنوں نے کفروالحاد کے گھنگھور بادل سے بے نور کرنے کی سعی کی تھی،مگر یہ کہنا بھی بالکل غلط اور بے بنیادہوگا کہ ہندوستان کے سارے ہی مسلمان نچلی ذاتی کے ہیں اور کسی بھی دوسری بڑی ذات کے لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا،تو تاریخ گواہ ہے کہ سیکڑوں راجپوتوں اور برہمنوں نے بھی مسلمان نوازی اور اسلامی پیغامات سے متاثر ہوکر پہلے بھی دامن اسلام کے اسیر ہوئے اور ان سے نسلیں بھی چلیں جو ملک کے مختلف حصے میں آ بادہیں اور آج تو بڑی ذات کے لوگ ہی زیادہ اسلام قبول کررہے ہیں۔البتہ تفریق وتنفر کے جس رنگ میں انہوں نے انسانیت کو رنگا تھا ، آج کے اس جمہوری ہندوستان میں اس کاوہ رنگ پھیکا نہیں پڑا اور کہنے کو تو ہندوستان دنیا کا عظیم ترین جمہوری ملک ہے، تنوع میں وحدت اس کی شان ہے ، مگرہنوز ان بڑی ذات کے لوگوں کی رگوں میں تفاوت وبرتری کا خون اسی طرح گردش کرہا ہے، ان کے ذہنوں میں آج تک انہی دقیانوسی خیالات اور انسانیت سوزبھید بھاؤ کا عنصر موجود ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ترقی یافتہ دور میں انسان ترقی کرکے چاند تک کا سفر طے کرچکا ہے ، مگر یہاں کے نام نہاد برہمن آج بھی انہی دقیانوسی خیالات کے متحمل ہیں اور ان کی عقلیں انہی قدیم خلقِ رذیلہ کی بھول بھلیوں میں گم گشتہ ہیں، اس معاشرہ میں کل بھی شودر، چماراور اس طرح کی دوسری ذات کے لوگ اچھوت تھے،تو آج بھی انہیں انسان ہونے کا پورا حق نہیں دیا جاتا، کل تک جس طرح مندوں میں ان کی آمد پر پابندیاں عاید تھیں اور ان کی خوبصورت دلہنیں ان کے گناہوں کی بلی چڑھائی جاتی تھیں،توآج بھی انہی کے خون سے ان کے مندروں کا فرش لالہ زار ہے۔ آج بھی ہندوستان کے بعض علاقوں میں اگر کوئی دلت کا بچہ مندر میں چلاجائے ، تو اس کومار دیا جاتا ہے ، خانہ خراب کردیے جاتے ہیں، البتہ اب اتنی راحت ہوگئی ہے کہ جب انہیں ان سے کوئی کام پڑتا ہے ، تو کچھ تخفیف ہوجاتی ہے، تاہم سال کے پورے دن وہ اچھوت کے اچھوت ہی رہتے ہیں۔اورہندوستان کی موجودہ سیاست میں دلتوں کا جوحال ہے، وہ تو اور زیادہ خطرناک ہے، سیاسی، سماجی اور معاشرتی تمام سطحوں پر دوغلی پالیسیوں اور ناپاک سیاستوں کابول بالا ہے ،مہنگائی، بے روزگاری، مفلسی اور بدعنوانی طاعون کی طرح تیزی سے بڑھنے لگے ہیں ، مہنگائی کی مار کو نہ جھیل پانے والے مزدوروں اور کسانوں کے لیے اس ملک میں جینا اب ایک خواب معلوم ہونے لگا ہے، غریبوں کے بچے اسکولوں ، کالجوں اور مدرسوں میں کم، گلی کوچوں اور سڑکوں کا طواف زیادہ کرنے لگے ہیں ،اس ملک کا مستقبل اورنوجوان نوکری نہ ملنے کی پاداش میں افیم، چرس اور ہیروئن جیسی زہریلی اور نشیلی چیزوں کے عادی ہونے لگے ہیں،بوڑھوں کو ان کے وقت سے پہلے ہی قبریں اچھی لگنے لگی ہیں، ہر طرف بے چینی اور کس مپرسی کا عالم ہے، قتل وغارت گری پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئے ہیں، حالانکہ یہ ملک ہر طرح کے قدرتی وسائل اورذرائع سے مالا مال ہے، یہ ملک کسی بھی چیز میں دنیا کے کسی بھی ملک کا محتاج نہیں،بلکہ آپ کو تعجب ہوگا کہ گذشتہ دہائیوں میں ہندوستان سعودی عرب کو تیل تیار کرکے دیتا تھا، زراعت میں ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ بعض چیزوں میں ہندوستان کا اول مقام ہے اور پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہندوستان ہی چاول سپلائی کرتا ہے، البتہ کمی ہے تو صرف صحیح قیادت کی،یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہندوستان کوکوئی حفیظ وامین قائد مل جاتا ، تو یہ ملک اپنی آزادی کی نصف صدی بعد کسی ترقی پذیر ملکوں کی فہرست میں نہیں ہوتا، بلکہ اس کا شمار ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں ہوتا، مگر افسوس کہ جس پر بھی لوگوں نے اعتماد کیا اس نے پہلے والے سے بھی زیادہ ملک وملت کا خسارہ کیا!!!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Close